1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

دوسروں کو کیسے متاثر کر سکتے ہیں!

'فروغِ علم و فن' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏27 اکتوبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    1,722
    موصول پسندیدگیاں:
    206
    ملک کا جھنڈا:
    دوسروں کو کیسے متاثر کر سکتے ہیں!
    upload_2019-10-27_2-33-16.jpeg
    عثمان غنی
    معمولاتِ حیات میں چاہے وہ کاروبار کی شدید مصروفیات ہوں یا دعوت و ضیافت کی سرگرمیاں، نجی افہام و تفہیم کی محفل ہو یا اجتماعی تقریبات، ہر انسان کے دل میں امتیازی حیثیت اور بلند منصب حاصل کرنے کی خواہش چھپی ہوتی ہے۔ معاشرے میں کسی فرد کی مقبولیت کے لیے بعض اوقات فیصلہ کن بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں دوسروں پر خوشگوار اثر ڈالنے کی کس حد تک صلاحیت موجود ہے۔ اگر ایک شخص دوسروں پر اچھا اثر ڈال سکتا ہے تو وہ یقینا زندگی کی ارتقائی منازل آسانی کے ساتھ طے کر سکتا ہے، وہ انفرادی اور مجلسی زندگی میں اپنی شخصیت کو زیادہ پُروقار بنا سکتا ہے۔ وہ نہ صرف ہر طرح کی پسندیدہ چیزیں اپنے لیے مہیا کر سکتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ کوئی شخص دوسروں پر بھرپور اثرات چھوڑنے میں ناکام ہے تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ کامیابی و کامرانی کی سرحدوں کو نہ چھو سکے۔ کاروباری زندگی میں چند فیصلہ کن عوامل ایسے ہیں جو اثر کو گہرا اور دیرپا بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں چنانچہ پہلی چیز یہ ہے کہ آپ ظاہری روپ اور وضع قطع میں موزونیت پیدا کریں۔ آپ کو جب کبھی کسی سے ملنے جلنے کا اتفاق ہو، آپ اپنے حسن ذوق سے اسے متاثر کر سکتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ آپ کے کپڑے استری کیے ہوئے اور صاف ستھرے ہونے کے علاوہ جسم کے ساتھ موزونیت رکھتے ہوں۔ بالوں کی تراش خراش ایسی ہو جو زیادہ سے زیادہ بھلی اور خوبصورت لگتی ہو۔ بال میل کچیل سے پاک اور باقاعدہ کنگھی کیے ہوئے ہوں۔ جوتے بھی لباس کا ایک حصہ ہیں، وہ گندے اور پالش کے بغیر نہ ہوں۔ اس بات کی احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے کہ لباس کا انتخاب مروجہ روایات سے بہت زیادہ مختلف نہ ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ کپڑے پہنے جائیں۔ اپنے آپ کو بانکوں جیسا نہ بنا لیں۔ عام طور پر اس بات کا زیادہ امکان ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کی ظاہری وضع قطع میں بے ڈھنگا پن پایا جاتا ہے تو وہ ہر کام میں بے ڈھنگے پن اور بدسلیقگی کا مظاہرہ کرے گا۔ یہی وہ چیز ہے جو اس کی کارکردگی میں بے اطمینانی اور بے یقینی پیدا کر دے گی۔ ظاہری وضع قطع کے بعد دوسری اہم چیز جو کسی پر اچھا تاثر قائم کرنے میں زیادہ سے زیادہ کارگر ثابت ہوتی ہے وہ انسان کی آواز کے علاوہ اس کا اندازِ تخاطب ہے کیونکہ آدمی کی ذہانت، اہلیت اور علم کا اندازہ تقریر سے لگاتے ہیں۔ عام بول چال میں اور مجلسی تقریر میں اگر کسی کا بیان مبہم، بے ربط اور سپاٹ ہے تو اس کے مخاطب جلد ہی اس کی گفتگو سے اکتا جائیں گے اور اس کی بات کو سمجھ بھی نہیں سکیں گے۔ تقریر کی طرح اس کی آواز بھی صاف، جاندار اور پُرکشش نہ ہو تو وہ کسی کو بھی اپنی طرح مائل نہ کر سکے گا۔ گلا بیٹھا ہوا اور بات سرگوشی کے انداز میں کی جائے یا آواز میں کرختگی ہو تو وہ شخص کسی کو متاثر نہیں کر سکے گا۔ وہ اکثر سنہری موقعے اپنے ہاتھ سے کھو بیٹھے گا کیونکہ لوگ اس کی طرف بہت کم متوجہ ہوں گے اور اس کی شخصیت کو نظرانداز کر دیں گے۔ ذہانت کے اعتبار سے اگر کوئی شخص اوسط درجے کا ہو تو بھی وہ بآسانی اپنی آواز، لب و لہجے اور تقریر کی اصلاح کر کے اپنی بے مائیگی کو سلیقے سے چھپا سکتا ہے۔ لوگ محسوس بھی نہ کریں گے کہ وہ کوئی غیر معمولی آدمی نہیں لیکن اس کے لیے صبر اور عزم کے ساتھ روزانہ 10 منٹ کے لیے نظمیں، مناسب اور متوازن آواز اور صحیح لب ولہجے سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہ مشق آواز کو پُرکشش بنانے میں بہت زیادہ معاون ثابت ہو گی اور آپ کے لب و لہجے میں کشش اور شگفتگی پیدا ہو جائے گی۔ الفاظ نہ صرف خوبصورت ہوتے ہیں بلکہ ہیرے کی طرح صاف شفاف، برقی رو کی طرح مؤثر اور فعال ہوتے ہیں۔ بس ذرا ان کو صحیح موقع محل اور متوازن لب و لہجے کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہے پھر آپ دیکھیں گے کہ لوگ کس ذوق اور شوق کے ساتھ آپ کی باتیں یا تقریریں سنیں گے اور ان کے دلوں میں آپ کی شخصیت اور آپ کے الفاظ کا جادو جوت جگا رہا ہو گا۔ متاثر کرنے کے سلسلے میں لباس اور آواز کے بعد تیسری چیز آداب اور اطوار ہیں۔ آداب اور اطوار تو برسوں کی تربیت کا قدرتی نتیجہ ہوتے ہیں اور ان کا انحصار بڑی حد تک لوگوں کے ساتھ ہمارے عام رویے اور نظریۂ زندگی پر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی جچی تُلی بات کہی جا سکتی ہے تو یہ کہ چال ڈھال، ذہنی روش، جسمانی توازن، مستعدی، سلیقہ شعاری، موقع شناسی، انکساری، مروت اور دوسروں کے جذبات و آرا کا لحاظ رکھنے سے انسان کے آداب و اطوار متوازن اور قابلِ قبول ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص محفل میں گفتگو پر اجارہ داری قائم رکھے یا امارت پرست، خوشامد پسند اور شیخی بھگارنے والا لب و لہجہ اختیار کرے اور خود پسند، بے فکر اور گنوار ہو تو وہ کبھی بھی کسی پر اچھا تاثر قائم نہیں رکھ سکے گا۔ یقین کیجیے کہ خوش مزاجی، شائستگی اور لطافتِ طبع ہی کہیں زیادہ کارگر ثابت ہوگی۔ بنیادی طور پر انسان میں برداشت، غوروفکر کی صلاحیت، ہمدردی کی عادت اور فہم و فراست ہو تو اس کے اطوار یقینا اس سے مختلف ہوں گے جو متعصب، غیرروادار، خودپسند، جاہل اور سنگدل ہونے کی صورت میں ہوتے ہیں۔ ذرا خیال کیجیے آپ خوداعتمادی کے بغیر دوسروں پر اچھا اثر ڈالنے کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں۔ یہاں ایک بات قابلِ ذکر ہے کہ انتہا سے زیادہ اور غیرمتوازن خوداعتمادی آدمی کے خلاف تعصب پیدا کر کے اس کی کامیابی کے مواقع کو بڑی حد تک ختم کر دیتی ہے۔ بے جا خوداعتمادی، ہٹ دھرمی کی سرحدوں کو چھو کر آدمی کو غیر مقبول بنا سکتی ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ آداب و اطوار کی طرح آدمی کا رویہ خوداعتمادی کے ہونے یا نہ ہونے کو متعین کر سکتا ہے۔ اپنے اندر خوداعتمادی کی خوبی پیدا کرنے کے لیے چند ضروری باتیں ذہن نشین کر لینی چاہئیں۔ یہ نہ بھولیے کہ آپ جسے متاثر کرنا چاہتے ہیں وہ بھی آپ ہی کی طرح گوشت پوست کا انسان ہے۔ اس کی بھی حدودوقیود ہیں۔ دوسری چیز یہ ہے کہ کوتاہی، کمی اور کم تری کے احساس کا تعلق بچپن کے کسی ناخوشگوار تجربے سے ہو سکتا ہے مگر اب تو آپ بچے نہیں رہے۔ پھر یہ احساس آپ اپنے اندر کیوں رکھیں۔ بحیثیت ایک انسان کے آپ کی کچھ نہ کچھ قدروقیمت ہے، یہ دوسری بات ہے کہ دوسروں کے پاس آپ سے زیادہ دولت اور صلاحیتیں ہوں مگر زندگی میں آپ کا اپنا بھی ایک حصہ اور فریضہ ہے جسے آپ ہی کو ادا کرنا ہے۔ اس فریضے کو آپ کامل اعتماد اور ہمت کے ساتھ ادا کیجیے۔ کامیابی کے حصول کا ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ہم جس شخص کو متاثر کرنا چاہتے ہیں، اس کی ذات اور اس کے پیشے میں گہری دلچسپی کا اظہار کریں۔ اس کی پسند کے مطابق سوالات کیجیے، اس کے پیشے کے بارے میں تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش کیجیے اور باتوں کے دوران یہ تاثر بھی دیتے جائیے کہ آپ اس کے فن یا پیشے کے متعلق بہت ہی کم معلومات رکھتے ہیں۔ جو لوگ چاق و چوبند، مستعد اور منچلے ہوتے ہیں ان کے اندر ہمیشہ کسی نہ کسی نئی مہم کے لیے ولولہ بے چین رہتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ان کی شخصیت، روادار، دلکش اور دلربا ہوتی ہے، ان کی ذہنی اُپچ نرالی اور حیات آفرین ہوتی ہے۔ وہ جو کام کرتے ہیں جذبے اور شوق کے ساتھ کرتے ہیں اور آخر تک کام کرنے کا جوش قائم و دائم رہتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے اندر فطری طور پر قیادت کی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں۔ جوشِ عمل کے ذریعے افراد زندگی کے کٹھن اور پُرخار راستے، صعوبتوں اور رنج و الم کے تندوتیز دھارے بڑی سرعت اور مستعدی سے طے کر جاتے ہیں۔ وہ زندگی کی روحانی مسرتوں اور حقیقی خوشیوں پر حاکمانہ دسترس رکھتے ہیں۔ اگر آپ میں بھی زندگی کی ایسی تڑپ موجود ہے تو مناسب انداز سے اس خوبی کا اظہار کیجیے۔ اس اہم اور دلفریب خصوصیت کو احساسِ خودی اورکم گوئی کے دبیز کمبل میں چھپائے نہ رکھیے۔ آپ ہر قسم کے حالات میں دوسروں پر اچھا تاثر چھوڑیں گے جس کی آپ کے اندر خواہش موجود ہے۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں