1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

دنیا کے چند بڑے ’’قاتل‘‘ ۔۔۔۔۔۔ تحریر : انجینئر رحمیٰ فیصل

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏18 ستمبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,895
    موصول پسندیدگیاں:
    751
    ملک کا جھنڈا:
    دنیا کے چند بڑے ’’قاتل‘‘ ۔۔۔۔۔۔ تحریر : انجینئر رحمیٰ فیصل

    کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ہلاکو خان اور چنگیز خان کے علاوہ بھی ظالم ترین حکمران گزرے ہیں جن کے ہاتھ لاکھوں افراد کے خون سے رنگے ہیں۔چینی نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ چیانگ کائی شیک بھی ان میںسے ایک ہیں۔اس کے ظلم کی انتہا دیکھئے،زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی خاطر اپنے ہی عوام کے لئے اناج کی فراہمی روک دی،قحط جیسی صورتحال پیدا ہونے سے 17لاکھ سے 25لاکھ تک چینی ہلاک ہو گئے تھے۔ چینی عوام اس کے جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ،مگر جاپانی فوجی ظالم سابق چینی حکمرانوں کے ساتھ تھے ۔ جاپان نے بھی چین کی آمرانہ حکومت کے ساتھ مل کر چینی عوام کیخلاف کارروائیاں کیں ۔ جس سے چین کا سماجی ڈھانچہ تباہ ہو گیا۔ اس خوفناک جنگ میں لاکھوں قتل ہوئے ،لہو لہان ہونے والے افراد نقل مکانی پر مجبور ہو ئے، بے شمارچینی مختلف امراض میں مبتلا ہو کر آزادی کا سورج دیکھے بغیر چل بسے، چین کوبدترین قحط کا الگ سے سامنا کرنا پڑ ا۔ المناک پہلو یہ تھا کہ حکمران نیشنلسٹ پارٹی شہریوں پر ظلم ڈھانے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتی تھی۔ابتدا ء میں بے بس عوام ریاستی جبر کا نشانہ بنتے رہے ،ظالم اورغا صب حکمرانوں کاکم ہی نقصان ہوا،لیکن دوسری جنگ عظیم میں پسپائی کے بعد روسی اور جاپانی فوجیوں کے چھوڑے ہوئے ہتھیاروں سے چینی عوام نے آمرانہ حکومت کیخلاف زبردست جنگ لڑی۔ صرف پانچ سال کے اندر اندر حکومتی عناصر جنوب مشرقی ایشیاء میں تائیوان تک محدود ہوکررہ گئے۔ دیگر علاقوں پر عوام کا قبضہ ہوگیا۔کہا جاتا ہے کہ اس دوران جنگ،قحط ،بیماریوں اوردیگر اسباب کی بدولت 60لاکھ سے1.85کروڑ تک ہلاکتیں ہوئیں۔ یوں چیانگ کائی شیک کا نام ظالم حکمرانوں کی فہرست میں نمایاں ہے۔
    منگولوں کی فتوحات
    سینٹرل ایشیاء میں منگول قوم جنگجو تصور کی جاتی ہے۔ انہوں نے یورپ اور ایشیاء کے مختلف حصوں پر قبضہ کرنے کا قصد کیا ،یہ گھڑ سوار جنگجو سینٹرل ایشیاء سے 13ویں صدی سے نکلے اور یورو ایشیا میں اپنی سلطنت قائم کرنے لگے۔ ان کے زیر قبضہ علاقے چین ، روس، برما تمام سینٹرل ایشیاء ، بھارت ، ایران ، عراق ، ترکی ، بلغاریہ ، ہنگری اور پولینڈ شامل تھے۔ ہزاروں گھڑ سوار جنگجو منگولوں نے تقریباً آدھی دنیا پر قبضہ جمالیا تھا اسلامی ممالک اور موجودہ پاکستان میں یہ قدم جمانے میں ناکام رہے یورپ بھی ان کے تسلط سے کافی حد تک محفوظ رہا۔
    تہذیب و انسانیت منگولوں کی سرشت میں شامل نہ تھی۔ وحشت و بربریت ان کے پورے دور میں چھائی رہی۔ بلکہ یہ ان کے مزاج کا حصہ تھی۔ 1211ء سے 1337ء تک انہوں نے1کروڑ 37لاکھ شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگے ۔ معروف محقق ایان فریزیر کی ایک تحریر کے مطابق منگولوں کے راستے میں آنے والے ترقی یافتہ شہر اور سرسبز و شاداب کھیت ایسے اجڑ گئے جیسے کسی ستارے کے ٹکرائو سے برباد ہوئے ہوں۔منگولوں کی وحشت کا منہ بولتا ثبوت تباہی اور کھنڈر کا منظر پیش کرنے والافارس کا شہر نیشا پور ہے۔ اس شہر سے گزرتے ہوئے 1221ء میں منگولوں نے 17لاکھ لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگے۔ تقریباً تمام شہری مارے گئے۔ عباسی خلیفہ کے دارالحکومت بغداد پر قبضہ کے دوران 7دن قتل عام جاری رہا۔ 2لاکھ سے 10لاکھ تک شہری ہلاک ہوئے۔ مؤرخین چنگیز خان، ہلاکو خان کی ہلاکتوں کا صحیح اندازہ لگانے سے قاصر ہیں کچھ اعداد و شمار بڑا چڑھا کر بیان کیے گئے مگر کچھ کم بھی ہو سکتے ہیں۔منگولوں نے نہ صرف ان اعداد و شمار کی کبھی تردید نہیں کی بلکہ خود بھی انہوں نے اسی قسم کے اعدا د و شمار بیان کیے ۔ ایک اندازے کے مطابق اور چنگیزوں کی رپورٹ کے مطابق ہلاکو اور چنگیز خان نے 4لاکھ لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگے مورخین کی تحقیق کے مطابق منگولوں کی120سالہ تاریخ کے مطابق 1کروڑ 20لاکھ شہری ہلاک ہوئے۔
    پہلی جنگ عظیم میں 70لاکھ شہری اور 90لاکھ فوجی مارے گئے۔گولہ بارو دترقی یافتہ نہ تھا۔ افرادی قوت بہت تھی اور براہ راست لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا تھا چنانچہ جانی نقصان 1کروڑ60لاکھ تک پہنچ گیا۔ صنعتی انقلاب کے زمانے میں مشین گنوں، توپوں اور ٹینکوں نے معمولی ہتھیاروں کی جگہ لے لی۔ اس سے زیادہ تر دفاعی مقاصدکے لیے استعمال کیا گیا۔لہٰذا اسی لیے فرسٹ بیٹل آف مارلے میں صرف 2.50لاکھ فرانسیسی ہلاک ہوئے خیال کیا جاتا ہے کہ اتنی تعداد میں جرمن باشندے بھی ہلاک ہوئے۔ ایک اور خون ریز جنگ بیٹل آف ورڈن تھی ۔3سو دنوں تک جاری رہنے والی اس جنگ میں اندازََ 7.25لاکھ لوگ ہلاک ہوئے۔بیٹل آف سومین میں ہلاکتوں کا تخمینہ 7لاکھ سے 11لاکھ تک لگایاگیا ہے۔مشرقی محاظ پر زیادہ نقصان ہوا اس میں 3لاکھ جرمن اور 24لاکھ روسی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اکثریت کی موت کا سبب میدان جنگ میں پیدا شدہ اثرا ت تھے۔ یہ جنگ اگرچہ سرزمین فرانس پر لڑی گئی مگر فرانسیسی شہری صرف 40ہزار ہلا ک ہوئے۔
    دوسری جنگ عظیم 6سالوں پر محیط 1939ء سے 1945 ء تک جاری رہنے والی اس جنگ میں 21لاکھ سے 25لاکھ فوجی ہلاک ہوئے باقی جانی نقصان شہریوں کا ہوا۔ پہلی جنگ عظیم کے برعکس دوسری جنگ عظیم صحیح معنوں میں عالمی جنگ تھی جس میں تمام دنیا شریک تھی اس جنگ میں 2کروڑ70لاکھ روسی فوجی اور شہری مارے گئے۔ کسی بھی جنگ میں کسی ایک ملک کا سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔ 2کروڑ چینی 70لاکھ جرمن اور 25لاکھ جاپانی مارے گئے۔10ہزار فوجی اور 4.25لاکھ جاپانی بھی ہلاک ہوئے۔
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں