1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

دنیا کی کشادگی اور زینت پر مغرور مت ہو

'سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏12 مارچ 2018۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    18,222
    موصول پسندیدگیاں:
    8,707
    ملک کا جھنڈا:
    صحیح مسلم

    كِتَاب الزَّكَاةِ
    زکاۃ کے احکام و مسائل

    41- باب التَّحزِيرِ مِنَ الاِ غتِرَارِ بِزِينَةِ الدُّنيَا وَمَا يَبسُطُ مِنهَا
    باب: دنیا کی کشادگی اور زینت پر مغرور مت ہو۔


    حدیث نمبر: 2421
    وحدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا الليث بن سعد . ح وحدثنا قتيبة بن سعيد وتقاربا في اللفظ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حدثنا ليث ، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري ، عن عياض بن عبد الله بن سعد ، انه سمع ابا سعيد الخدري ، يقول:‏‏‏‏ قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فخطب الناس، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ " لا والله ما اخشى عليكم ايها الناس إلا ما يخرج الله لكم من زهرة الدنيا "، ‏‏‏‏‏‏فقال رجل:‏‏‏‏ يا رسول الله اياتي الخير بالشر؟، ‏‏‏‏‏‏فصمت رسول الله صلى الله عليه وسلم ساعة، ‏‏‏‏‏‏ثم قال:‏‏‏‏ " كيف قلت "، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قلت يا رسول الله اياتي الخير بالشر؟، ‏‏‏‏‏‏فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " إن الخير لا ياتي إلا بخير او خير هو، ‏‏‏‏‏‏إن كل ما ينبت الربيع يقتل حبطا او يلم، ‏‏‏‏‏‏إلا آكلة الخضر اكلت حتى إذا امتلات خاصرتاها، ‏‏‏‏‏‏استقبلت الشمس ثلطت او بالت، ‏‏‏‏‏‏ثم اجترت فعادت فاكلت، ‏‏‏‏‏‏فمن ياخذ مالا بحقه يبارك له فيه، ‏‏‏‏‏‏ومن ياخذ مالا بغير حقه، ‏‏‏‏‏‏فمثله كمثل الذي ياكل ولا يشبع ".

    سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں میں وعظ کہا اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! اے لوگو! میں تمہارے لئے کسی اور چیز سے نہیں ڈرتا ہوں مگر اس سے جو اللہ تعالیٰ نکالتا ہے تمہارے لئے دنیا کی زینت۔“ تو ایک شخص نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! کیا خیر کا نتیجہ شر بھی ہوتا ہے؟ (یعنی دنیا کی دولت اور حکومت آنا اور اسلام کی ترقی ہونا تو خیر ہے اس کا نتیجہ برا کیوں کر ہو گا) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے تھوڑی دیر۔ پھر فرمایا: ”تم نے کیا کہا؟“ (پھر اس کے سوال کو پوچھ لیا کہ کہیں بھول نہ گیا ہو تو مطابقت جواب کی سوال کے ساتھ اس کی سمجھ میں نہ آئے) اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول! کیا خیر کا نتیجہ شر بھی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں خیر کا نتیجہ تو خیر ہی ہوتا ہے مگر اتنی بات ہے کہ بہار کے دنوں جو سبزہ اگتا ہے (اور اسے تم خیر بھی جانتے ہو) وہ نہیں مارتا ہے ہیضہ سے اور نہ قریب المرگ کرتا ہے مگر ہرا چرنے والے کو کہ وہ کھا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی کوکھیں پھول جاتی ہیں اور سورج کے سامنے ہو کر پتلا ہگنے لگتا ہے یا موتنے لگتا ہے پھر جگالی کرنے لگتا ہے اور پھر چرنے جاتا ہے (یہاں تک کہ اسی لوٹ پوٹ میں مر جاتا ہے) یہی حال اس مال کا ہے جو اس کو حق کے ساتھ لیتا ہے اس کو برکت ہوتی ہے اور جو ناحق طور پر لیتا ہے اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے کہ کھا جاتا ہے اور پیٹ نہیں بھرتا۔“
    (جیسے اس ہری چرنے والے کا)۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں