1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

دل کے نگار خانہ سے باہر رکھا ہوا

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏12 نومبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,126
    موصول پسندیدگیاں:
    234
    ملک کا جھنڈا:
    دل کے نگار خانہ سے باہر رکھا ہوا
    اچّھا نہیں ہے خواب کا منظر رکھا ہوا
    بے رنگ ہو کے گر پڑا فوراً چراغِ حُسن
    تھا میں نے عشق ہاتھ کے اوپر رکھا ہوا
    خطرہ ہے جم نہ جائے کہیں ضبط کا غبار
    ہے دل کو ہم نے اس لیے اندر رکھا ہوا
    کب ہو گئے فگار مرے ہاتھ کیا خبر
    پہلو میں اُس نے تھا کہیں خنجر رکھا ہوا
    اِس احتیاط سے تمہیں چاہا کہ اے فلکؔ!
    اب تک زباں پہ چپ کا ہے پتھّر رکھا ہوا
    افتخار فلک​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں