1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

حضرت سید جمال الدین احمد ہانسوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

'عظیم بندگانِ الہی' میں موضوعات آغاز کردہ از ھارون رشید, ‏6 فروری 2019۔

  1. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,393
    موصول پسندیدگیاں:
    16,801
    ملک کا جھنڈا:
    حضرت سید جمال الدین احمد ہانسوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ خواجہ فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ خاص تھے، آپ کا خطاب خطیب اور قطب تھا۔ آپ کا نسب نامہ چند واسطوں سے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ شیخ فریدالدین گنج شکر نے آپ کی روحانی تربیت میں اتنی توجہ فرمائی کہ خود بارہ سال تک ہانسی میں قیام فرمایا اور آپ کے حق میں فرمایا کرتے تھے کہ شیخِ جمال جمالِ مااست، آپ اکثر فرمایا کرتے جمال الدین میرا دل چاہتا ہے کہ تیرا طواف کروں، حضرت خواجہ گنج شکر جس کو خلافت نامہ تحریر کرکے دیتے تو اُسے شیخ جمال الدین کے پاس بھیجتے، اگر وہ منظور فرماکر دستخط کردیتے تو پھر اُس کو خلافت نامہ کی منظور ہوتی ورنہ شیخ فریدالدین بھی اسے رد فرمادیتے اور آپ فرماتے کہ جس خلافت نامہ کو جمال الدین نے پھاڑ دیا ہے فرید اُس کو نہیں سی سکتا۔ شیخ جمال الدین نے جس وقت یہ حدیث پڑھی تو عذابِ قبر سے بے پناہ ڈرنے لگے القبر روضۃ من ریاض الجنۃ ولحضرۃ من حضراۃ الیزان (قبر جنت کے باغوں سے ایک باغ ہے اور قبر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے) جس وقت آپ کا انتقال ہوا کچھ عرصے کے بعد آپ کی قبر پر گنبد تعمیر کرنے لگے، بنیاد کھود رہے تھے کہ مزار سے ایک روشن دان نمودار ہوا جس سے جنت کے باغوں کی خوشبو آ رہی تھی، لوگوں نے اُسے اُسی وقت بند کردیا۔ شیخ جمال الدین کی تصانیف میں سے چند رسالے ملتے ہیں اُن میں سے ایک رسالہ بڑی خوبصورت عربی میں لکھا ہوا ہے اس کا نام ملحمات تھا، اس کی عبارت نہیں ہی مرغوب اور پسندیدہ تھی۔ حضرت جمال الدین چھ سو اُنسٹھ ہجری میں فوت ہوئے آپ کا مزار گوہر بار ہانسی میں ہے وفات کے بعد حضرت شیخ کو لوگوں نے خواب میں دیکھا اور آپ کے احوال کے متعلق پوچھا فرمایا جب مجھے قبر میں دفنایا گیا تو عذاب کے دو فرشتے آئے وہ مجھے عذاب دینا چاہتے تھے تو اُن کے پیچھے دو اور فرشتے آئے انہوں نے اللہ کا فرمان پہنچایا کہ اس شخص کو بخش دیا گیا ہے۔ یہ شام کی سنتوں کے بعد دو رکعت نماز پڑھا کرتا تھا جس میں سورہ بروج اور والطارق پڑھا کرتا تھا پھر یہ فرض نماز کے بعد آیت الکرسی بھی پڑھا کرتا تھا۔ رفت چوں از جہاں بخلد بریں آں جمال و کمال دینِ نبی گفت سرور بسال رحلت او عارفِ حق جمال دینِ نبی ۶۵۹ھ حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی(رحمتہ اللہ علیہ) حضرت شیخ جمال الدین ہانسوی پیشوائے اہل تمکین ہیں۔ خاندانی حالات: آپ کاسلسلۂ نسب چندواسطوں سےحضرت امام ابوحنیفہ (رحمتہ اللہ علیہ)پرمنتہی ہوتاہے۔۱؎ نام: آپ کانام جمال الدین ہے۔ بیعت و خلافت: آپ حضرت بابافریدالدین مسعودگنج شکر(رحمتہ اللہ علیہ)کےمریداورخلیفہ ہیں۔ پیرومرشدکی شفقت: حضرت باباصاحب آپ سےبہت محبت کرتےتھے۔آپ کی خاطربارہ سال ہانسی میں رہے۔۲؎ کبھی آپ کےمتعلق فرماتےتھے۔۳؎ "جمال جمال ماست"(جمال ہماراجمال ہے) اورکبھی فرماتےتھےکہ۔ "جمال میخواہم کہ گردسرتوبگردم"۔ (جمال چاہتاہوں کہ تیرےگردطواف کروں) حضرت بابافریدالدین گنج شکر(رحمتہ اللہ علیہ)جب کسی کو خلافت نامہ عطافرماتے اس شخص کوتاکید فرماتےکہ ہانسی جاکرآپ(شیخ جمال رحمتہ اللہ علیہ)سےمہرلگواؤ،اگرآپ مہرلگادیتےتواس کا خلافت نامہ مستند سمجھاجاتااوراگرآپ مہر نہیں لگاتےتوحضرت باباصاحب بھی قبول نہ فرماتےاور صاف کہہ دیتے کہ۔۴؎ "پارہ کردۂ جمال رانتوانیم دوخت"۔ (جمال کےپارہ کئےہوئے کہ ہم نہیں سی سکتے) عبادت وریاضت: آپ کے یہاں ایک کنیزتھیں ۔۔وہ پاک دامن خاتون تھیں۔حضرت بابافریدالدین گنج شکر(رحمتہ اللہ علیہ)ان کو"مادرمومناں"کہہ کرپکارتےتھے،ایک مرتبہ وہ حضرت باباصاحب کے پاس ہانسی سےآئیں۔حضرت باباصاحب نے ان سے دریافت کیا۔ "مادرمومناں!جمال ماچہ می کند"۔ (مادرمومناں!ہماراجمال کیاکرتاہے) مادرمومناں نے عرض کیاکہ جس روزسےوہ ان(حضرت باباصاحب سےملےہیں،انہوں نے گاؤں، اسباب،جائیداداورشغل خطابت کوبالکل ترک کردیاہے۔فاقہ کشی اورمحنت پرکمرباندھی ہے۔ حضرت باباصاحب یہ سن کربہت خوش ہوئے،انہوں نےفرمایا۔۵؎ "الحمداللہ ،خوش می باشد"۔ (الحمدللہ،کیاہی اچھاہے) شادی اوراولاد: آپ کے ایک صاحب زادےدیوانےہوگئےتھے۔حضرت نظام الدین اولیاء فرماتےہیں، کبھی کبھی ہوش میں آتےاورایسی باتیں کرتے،گویابالکل اچھے ہیں،ایک دن جب ہوش میں آئے تو انہوں نے فرمایا۔ اَلعِلم حِجَابُ اللّٰہُ الاَکبَر (علم اللہ کابہت بڑاحجاب ہے) اس کلام کی وضاحت انہوں نے اس طرح کی کہ۔۶؎ "علم ودن حق است وہرچہ ودن حق است حجاب حق است"۔ (علم غیرحق ہےاورجوکچھ غیرحق ہے،وہی حجاب حق ہے) حضرت نظام الدین اولیاء(رحمتہ اللہ علیہ)فرماتے ہیں کہ۔ "میں سمجھ گیاکہ یہ حقیقی مجذوب ہیں"۔ دوسرےفرزندشیخ برہان الدین صوفی آپ کے وصال کےوقت کم سن تھے۔حضرت بابافریدالدین گنج شکر(رحمتہ اللہ علیہ)نےآپ کے حال پر نہایت لطف وکرم فرمایا۔نعمت فقرسےجوان کےوالد کو دی تھی،ان کو بھی سرفرازفرمایا۔ان کو خرقہ خلافت اورعصاعنایت فرمایااوران کو ہدایت فرمائی کہ کچھ مدت حضرت نظام الدین اولیاء(رحمتہ اللہ علیہ)کی خدمت بابرکت میں رہیں۔ وفات: آپ نے۶۵۹ھ میں وصال فرمایا۔مزارآپ کاہانسی میں واقع ہے۔ سیرت: آپ ایک اچھےخطیب تھے۔حضرت باباصاحب کی خدمت میں پیوست ہونےکےبعدخطابت چھوڑ دی تھی۔فقروفاقہ کوتاج وتخت پر فوقیت دیتےتھے۔علم ترک وتجرید آپ کاشعارتھا۔آپ کمالات ظاہری و باطنی میں بےنظیرتھے۔ بےقراری: ایک روزآپ نےحسب ذیل حدیث سنی۔ القبر روضۃ من ریاض الجنۃ واحفرۃ من حفرۃ النسیران (قبرجنت کےباغات میں سےایک باغ ہےاوردوزخ کےگڑھوں میں سے ایک گڑھا)۔ اس حدیث سےآپ بہت متاثرہوئے،آپ نےچین و بےقراررہنےلگے۔ علمی ذوق: آپ ایک اچھے عالم بھی تھے۔آپ نے کئی کتابیں لکھی ہیں،"ملہمات"آپ کی مشہورکتاب ہے۔ شعروشاعری: آپ شاعربھی تھے۔ تعلیم: آپ فرماتےہیں کہ فقیرکامل میں چندصفات کاہوناضروری ہے،جس میں وہ صفات نہ ہوں،وہ فقیر کامل نہیں کہاجاسکتا۔ان صفات کےمتعلق جن کافقیرکامل میں ہوناضروری ہے،آپ فرماتے ہیں۔ "فقیرایک خلق شریف ہے،جس سےصلاح،عفت،زہد،ورع،تقویٰ،طاعت،عبادت،جوع،فاقہ، مسکنت،قناعت،مروت،فتوت،دیانت،صیانت،قمانت،طاعت،خضوع،خشوع،تذلل،تواضع، افصال،صدق،صبر،سکوت،علم،رضا،حیا،بذل،جودوسخاوت،خشیت،خوف،رجا،ریا،رصنت، مجاہدہ،مراقبہ،موافقت،مرافقت،مداومت،معاملت،توحید،تہذیب،تجرید،تفرید،سکوت،وقار، مدارات،مواسات،عنایت،رعایت،شفقت،شفاعت،لطف،کرم،تفقد،شکر،فکر،ذکر،حرمت، ادب،اعتصام،احترام،طلب،رغبت،غیرت،عبرت،بصیرت،تیقظ،حکمت،جست،ہمت، معرفت،حقیقت،خدمت،تسلیم،تفویض،توکل،قبل،یقین،لقت،غنا،استقامت اورحسن خلق پیداہوتاہے،پس ان صفات کاہوناضروری ہے"۔ درود شریف: آپ نمازشام کی سنت سےمتصل دورکعت صلوٰۃ البروج پڑھتےتھےاورہرفرض سے متصل آیتہ الکرسی پڑھتےتھے۔۷؎ کرامت: ایک گاؤں میں آپ کی ایک شخص نےدعوت کی۔کھانےسےفارغ ہوکرآپ نےاجازت چاہی۔ میزبان نےکہا،جب تک بارش نہیں ہوگی نہ جانےدوں گا۔اس سال بارش نہیں ہوئ تھی اور قحط کےآثارنمایاں تھے۔میزبان کےاصرارپرآپ وہیں بیٹھ گئے۔اسی رات کوخوب بارش ہوئی۔آپ گھوڑےپرہانسی واپس تشریف لائے۔۸؎ حواشی ۱؎سیرالاولیاء(فارسی)ص۱۷۸ ۲؎سیرالاولیاء(فارسی)ص۱۷۸ ۳؎اخبارالاخیار(اردوترجمہ)ص۱۴۶ ۴؎سیرالاولیاء(فارسی)ص۱۷۹ ۵؎سیرالاولیاء(فارسی)ص۱۸۱ ۶؎سیرالاولیاء(فارسی)ص۱۸۴ ۷؎سیرالاولیاء(فارسی)ص۱۸۲ (تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند) آپ بہت بڑے خطیب و مقرر تھے، آپ کا سلسلہ نسب امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے ۔ شیخ فریدالدین گنج شکر کے بڑے خلفاء میں سے تھے، کمالات ظاہریہ اور باطنیہ کے حامل تھے۔ جمال ہمارا جمال ہے: شیخ فرید کو آپ سے بڑی محبت تھی اسی وجہ سے انہوں نے بارہ برس آپ کے پاس ہانسی میں گزار دیے، وہ آپ کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ ’’جمال ہمارا جمال ہے‘‘ اور کبھی یوں فرماتے کہ جمال، میری خواہش ہے کہ تمہارے اردگرد چکر لگایا کروں، شیخ فرید جس کسی کو خلافت دیتے اسے جمال کے پاس بھیج دیتے، اگر شیخ جمال اس کو قبول کرلیتے تو خلافت کو قائم رکھتے ور اگر شیخ جمال اس کو ناپسند کرتے تو اس کی خلافت ختم کردیتے تھے اور پھر شیخ فرید اسے دوبارہ قبول نہ فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ جس کو جمال پھاڑ دے اسے فرید نہیں سی سکتا۔ اللہ اکبر عزوجل ایک دن ایک آدمی ہانسی سے شیخ فرید کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اس سے دریافت کیا کہ ہمارے جمال کا کیا حال ہے؟ اس نے عرض کیا کہ ہمارے مخدوم (یعنی شیخ جمال) نے جس روز سے آپ سے تعلق قائم کیا ہے اس وقت سے ریاضت اور مجاہدہ میں مصروف رہتے ہیں، آنا جانا سب کچھ ترک کردیا ہے اور فاقے سہتے ہیں، شیخ فرید یہ سن کر خوش ہوئے اور کہا الحمدللہ عزوجل (اور پھر دعا دی کہ خدا انہیں) خوش رکھے، منقول ہے کہ ایک دن شیخ جمال احمد ہانسوی نے یہ حدیث سنی کہ (قبریں جنت کے باغوں میں سے باغ ہوتی ہیں یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا) تو بہت پریشان و حیران ہوئے اور (حدیث کی) اس تنبیہ کو سننے کے بعد بے قرار رہنے لگے، آپ کے انتقال کے بعد لوگوں نے کئی مرتبہ ارادہ کیا کہ آپ کی قبر پر گنبد بنادیں، آخر کار گنبد بنانے کے لیے کھدائی کی گئی، جب کھدائی کرتے کرتے لوگ لحد کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ قبلہ کی جانب ایک کھڑکی ہے جس میں سے جنت کی خوشبو آ رہی ہے، چنانچہ لوگوں نے اسی وقت اس کھڑکی کو بند کردیا اور وہاں سے ہٹ گئے، پھر قبر کو اوپر سے بند کرکے گنبد بنادیا مرقد میں بندوں کو تھپک کر میٹھی نیند سلاتے یہ ہیں (الاستمداد) فقیر کی صفات کا بیان: شیخ احمد ہانسوی کے متعدد رسالے اور اشعار ہیں، ایک رسالہ عربی میں بھی ہے جس میں مختلف کلمات کو بحیثیت سجع جمع کیا گیا ہے جس کا نام ’’ملہمات‘‘ ہے، آپ نے ایک جگہ اس میں لکھا ہے کہ فقر ایک عمدہ اور بہترین خصلت ہے جس سے یہ صفات معرض وجود میں آتی ہیں۔ صلاحیت، عفت، زہد، پاکیزگی، تقویٰ، طاعت، عبادت، فاقہ کشی، مسکنت و قناعت، مروت و جوان مردی، دیانت و حفاظت، امان و بیداری، تہجد و خضوع، خشوع و عاجزی، تواضع و تحمل، برداشت و عفو اور چشم پوشی، مہربانی و انفاق فی سبیل اللہ، ایثار و کھانا کھلانا، اکرام و احسان ، ماسویٰ اللہ سے نفرت اور خدا کی عبادت میں اخلاص، انقطاع و جدائی، سچائی و صبر، خاموشی و بربادی، رضا و حیاء، سخاوت و ناداری، خوف و امید، ریاضت و مجاہدہ اور مراقبہ، موافقت و دوستی اور مداومت علی العبادۃ اور معاملت، توحید و تہذیب، تجرید و تفرید، سکوت و وقار ، مدارات، محبت و الفت، عنایت، رعایت، شفقت، سفارش، لطف و کرم، مجاہدہ شکر، فکر، ذکر، عزت، ادب و احترام، طلب و رغبت، غیرت و عبرت، بصیرت و بیداری، حکمت، للہیت، ہمت و معرفت و حقیقت،خدمت و تسلیم، توکل، پریشانی یقین و اعتماد ، غناد و ثبات اور حسن خلق۔ (ہر وہ فقیر جس کے اندر یہ جملہ صفات ہوں گی وہ کامل فقیر ہوگا اور جس کے اندر یہ صفات نہ ہوں گی وہ فقیر کہلانے کا حقدار نہیں)۔ شیخ جمال احمد کا مزار ہانسی میں ہے جو اپنے تین بچوں سمیت ایک ہی گنبد میں آرام فرما رہے ہیں۔
     
    زنیرہ عقیل، پاکستانی55 اور آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,393
    موصول پسندیدگیاں:
    16,801
    ملک کا جھنڈا:
    منقول ہے کہ شیخ احمد ہانسوی کی وفات کے بعد لوگوں نے آپ کو خواب میں دیکھ کر حالات پوچھے تو آپ نے فرمایا کہ قبر میں دفن کرنے کے بعد عذاب کے دو فرشتے میرے پاس آئے اور ان کے بعد ہی فوراً دو فرشتے اور یہ حکم لائے کہ ہم نے اسے بخش دیا یہ مغرب کی نماز کے فوراً بعد ہی دو رکعت صلوۃ بروج جس میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ بروج اور سورۂ طارق ہے پڑھا کرتا تھا اور ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھتا تھا۔ اس بے کسی میں دل کو میرے ٹیک لگ گئی شہرہ سنا جو رحمت بے کس نواز کا (ذوقِ نعت) اخبار الاخیار شیخ با کرامت تکلف و بناوٹ سے بیزار شیخ جمال الملۃ والدّین ہانسوی ہیں جن کا دلِ مبارک غیر حق سے سلامت تھا اور جو اہل حقیقت کے جمال اور صاحبانِ اہل طریقت کے مقتدا تھے۔ علم و تقوی اور لطافتِ طبع میں بے نظیر اور درویشی کے ساتھ مخصوص تھے۔ آپ کی نظم جو عاشقانِ خدا کے لیے ایک قانوں ہے آپ کے کمالِ عشق پر دلالت کرتی ہے۔ یہ بزرگوار شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین قدس اللہ سرہ العزیز کے ایک نہایت ممتاز و اولعزم خلیفہ تھے اور مشائخ کبارے کے مرتبہ کو پہنچ گئے تھے۔ شیخ شیوخ العالم کامل بارہ سال تک آپ کی محبت میں ہانسی میں سکونت پزیر رہے آپ کی نسبت شیخ شیوخ العالم نے بہت دفعہ فرمایا ہے کہ جمال حقیقت میں ہمارا جمال ہے اور کبھی کبھی فرمایا کرتے تھے کہ جمال! میں چاہتا ہوں کہ تمہارے سر پر سے قربان ہو جاؤں شیخ شیوخ العالم کا یہ ارشاد صاف طور پر آپ کی بزرگی و عظمت پر دلالت کرتا ہے اور واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آپ شیخ شیوخ العالم کے نزدیک بہت کچھ قدر و منزلت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیخ شیوخ العالم نے ایک شخص کو خلافت نامہ دے کر فرمایا کہ جب تم ہانسی میں پہنچو تو اسے ہمارے جمال کو دکھا دینا چنانچہ جب وہ شخص ہانسی گیا اور شیخ شیوخ العالم کا عنایت کیا ہوا خلافت نامہ شیخ جمال الملۃ والدین کو دکھایا تو آپ نے اس خلافت نامہ کو پارہ پارہ کر ڈالا اور فرمایا کہ تو خلافت کے قابل نہیں ہے۔
    اصل بات یہ تھی کہ اس شخص نے التماس و اصرار کے ساتھ شیخ شیوخ العالم سے خلافت نامہ پایا تھا ورنہ حقیقت میں وہ اس قابل نہ تھا الغرض یہ شخص پھر ہانسی سے اجودھن آیا اور جس خلافت نامہ کو کہ شیخ جمال الدین نے چاک کردیا تھا شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں پیش کیا اس پر شیخ شیوخ العالم نے فرمایا کہ جمال کے چاک کیے ہوئے خلافت نامہ کو ہم جوڑ نہیں سکتے۔ شیخ جمال الدین ہانسوی کی عظمت و بزرگی اس قدر تھی کہ سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز فرماتے تھے کہ جب شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین قدس اللہ سرہ العزیز نے مجھے اپنی دولتِ خلافت سے سرفراز فرمایا تو ارشاد کیا کہ اس خلافت نامہ کو ہانسی میں مولانا جمال الدین کو دکھا دینا۔ چنانچہ یہ کیفیت نہایت بسط و شرح کے ساتھ سلطان المشائخ کے حالات میں لکھی جا چکی ہے سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ منصب خلافت کے عطا ہونے سے پیشتر جس وقت میں مولانا جمال الدین کی خدمت میں جایا کرتا تھا آپ میری تعظیم کے لیے سر و قد کھڑے ہو جایا کرتے تھے لیکن خلافت کا منصب پانے کے بعد جب میں ایک دن آپ کے پاس گیا تو آپ بیٹھے رہے۔ میرے دل میں فوراً کھٹکا ہوا کہ شاید میری خلافت آپ کے ناگوار خاطر ہے۔ شیخ جمال الدین نے نور باطن سے اس میرے خطرہ کو تاڑ لیا اور فرمایا۔ مولانا نظام الدین اس سے پیشتر جو میں تمہاری تعظیم کے لیے کھڑا ہو جایا کرتا تھا اس کا اور سبب تھا لیکن جب مجھ میں اور تم میں محبت ہوگئی تو میں اور تم ایک ہوگئے اب مجھے تمہارے آگے کھڑا ہونا کیونکر جائز ہوسکتا ہے۔ شیخ سعدی کہتے ہیں۔ قیام خواستمت گرد عقل مے گوید مکن کہ شرط ادب نیست پیش سر و قیام سلطان المشائخ یہ بھی فرماتے تھے کہ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ میں اور شیخ جمال الدین ہانسوی اور خواجہ شمس الدین دبیرا اور دیگر یاروں اور عزیزوں کی ایک جماعت جناب شیخ شیوخ العالم فرید الدین قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمت سے ایک ساتھ اپنے اپنے وطنوں کی طرف لوٹی رخصت کے وقت شیخ جمال الدین نے وصیت کی درخواست کی یہ اہل ارادت کا آداب ہے کہ جب سفر کا عزم کرتے ہیں اور شیخ سے رخصت ہوتے ہیں تو کوئی وصیت چاہتے ہیں اگر شیخ مرید کے سوال سے پیشتر ہی وصیت کر دے فہو المراد ورنہ مرید خود درخواست کرتے ہیں۔ الغرض شیخ شیوخ العالم نور اللہ مرقدہ نے شیخ جمال الدین کے سوال کے جواب میں فرمایا ہماری وصیت یہی ہے کہ فلاں شخص کو (اور میری جانب اشارہ فرمایا) اپنی اس مصاحبت میں خوش رکھنا چاہیے۔ مقصود توئی دگر بھانہ است شیخ جمال الدین وصیت کے بموجب مجھ پر بے حد مہربانیاں فرماتے تھے اور خواجہ شمس الدین دبیر بھی جو لطافت کی کان اور ظرافت کے سرچشمہ تھے بہت ہی تعظیم و تکریم سے پیش آتے تھے۔ غرضکہ اسی طرح لوگ اگر وہا کے قریب پہنچے شیخ جمال الدین کے دوستوں میں سے ایک عزیز جسے میران کہا جاتا تھا اور جو اس موضع کا حاکم تھا یاروں کے آنے کو باعث سعادت سمجھا اور نہایت جوش مسرت سے استقبال کر کے شیخ جمال الدین کو مع تمام یاروں کے اپنے گھر لے گیا۔ اور نہایت عزت و وقعت کے ساتھ مہمانی کی اور گراں بہا تحفے پیش کیے شیخ جمال الدین نے فرمایا کہ اے عزیز تو نے عجیب و غریب میز بانی کی اب ہمیں یہاں سے کب رخصت کرے گا کہ اپنے وطنوں کو روانہ ہوں کہا میں آپ کو اس وقت رخصت کروں گا جب مینہ برسے گا۔ اس زمانہ میں مینہ نہیں برسا تھا اور مخلوق قحط کی بلا میں گرفتار تھی شیخ جمال الدین نے بالفعل اس کا کوئی جواب نہیں دیا اور اس معاملہ میں باطن سے توجہ کی ابھی رات نہ گزری تھی کہ اس زور سے مینہ برسا کہ اس ولایت کے تمام اطراف کو سیراب کردیا۔ صبح کو ہر ایک شخص نہایت شاداں و فرحاں خدمت میں حاضر ہوا اور شیخ جمال الدین نیز آپ کے تمام یاروں کے لیے کسے کسائے گھوڑے حاضر کیے چنانچہ سب لوگ وہاں سے ہانسی تک گھوڑوں پر سوار ہوکر آئے۔ میری سواری کا گھوڑا بدلگام اور سرکش تھا اور سب سے پیچھے رہتا تھا اور یار تو آگے بڑھ گئے اور میں تنہا رہ گیا جس کی وجہ سے مجھے کچھ مشقت چھیلنی پڑی انجام کار میں بے طاقت ہوکر گھوڑے سے اتر آیا اور پیدل رستہ چلنے لگا۔
    صفرا غالب ہوا اور میں بے ہوش ہوکر گر پڑا لیکن اس حالت میں بھی شیخ شیوخ العالم کی یاد میری زبان پر جاری تھی جب میں ہوش میں آیا تو مجھے اپنے اوپر بھروسہ ہوگیا کہ دم واپسین میں بھی میں آپ ہی کی یاد پر جاؤں گا۔ خوش آن رفتن کہ بریادت رود جانم سلطان المشائخ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اجودھن جاتا تھا رستہ میں خیال آیا کہ ہانسی ہوتا چلوں چنانچہ میں ہانسی پہنچا اور شیخ جمال الدین سے ملاقات کی آپ نے فرمایا تم شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں میری طرف سے عرض کرنا کہ جمال الدین کو خرچ میں بہت عسرت و تنگی رہتی ہے۔ شیخ شیوخ العالم اس کے حق میں دعا فرمائیں جب شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں پہنچا تو ان کا پیام عرض کیا۔ فرمایا اس سے کہہ دینا کہ جب کسی شخص کو ولایت دی جاتی ہے تو اسے ولایت کی استمالت واجب ہے۔ شیخ نصیر الدین محمود رحمۃ اللہ علیہ سے لوگوں نے دریافت کیا کہ دنیاوی بادشاہوں کی استمالت خدا کی طرف دل کو من کل الوجہ متوجہ کرنا ہے۔ سائل نے دوبارہ عرض کیا کہ شیخ جمال الدین ہانسوی کی مشغولی اور کرامت مشہور ہے فرمایا ہاں ایسا ہی ہے لیکن انبیاء علیہم السلام کے سوا اور کوئی شخص معصوم نہیں ہے۔
     
    زنیرہ عقیل، پاکستانی55 اور آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,393
    موصول پسندیدگیاں:
    16,801
    ملک کا جھنڈا:
    ورنہ اس بزرگ کا یہ پیام اور شیخ شیوخ العالم کا جواب دلیل کرتا ہے۔ منقول ہے کہ شیخ جمال الدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک کنیزک تھی خادمہ اور نہایت صالحہ۔ ہانسی سے شیخ جمال الدین کے عرائض شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں بھی لے جایا کرتی تھی اور شیخ شیوخ العالم اسے ام المومنین کہتے تھے۔ ایک دن شیخ شیوخ العالم نے فرمایا۔ کہ اے مومنوں کی مان ہمارا جمال کیا کرتا ہے۔ ام المومنین نے عرض کیا کہ ہمارے خواجہ نے جس روز سے شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں پیوندگی کی ہے گاؤن اور اسباب اور کتابت کے شغل کو کلیۃً ترک کر دیا ہے اور بھوک اور سخت سخت مصیبتیں جھیلتا ہے۔
    شیخ شیوخ العالم یہ حکایت سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ الحمد اللہ ہمیشہ خوش رہے گا۔ سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ جاڑے کے موسم میں میں شیخ جمال الدین ہانسوی کی خدمت میں بیٹھا تھا اسی اثناء میں شیخ جمال الدین نے یہ نظم زبانِ مبارک پر جاری کی۔ بار و غن گاؤ اندریں روز خنک نیکو باشد ھر یسہ و نان تنک میں نے کہا مولانا ذکر الغائب غیبتہ یعنی غائب کا ذکر کرنا غیبت ہے۔ شیخ نے مسکرا کر فرمایا۔ اول میں نے اسے موجود کر لیا ہے پھر اس کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد جیسا آپ نے ذکر کیا تھا مجلس میں حاضر کیا گیا۔ منقول ہے کہ شیخ جمال الدین ہانسوی شیخ ابو بکر طوسی حیدری سے بہت محبت کرتے تھے جو جون ندی کے کنارے اندر پت کے متصل ایک نہایت خوش منظر پر فضا خانقاہ رکھتے تھے جو بہشت کے دعوایدار تھی اسی خانقاہ میں آپ مدفون تھی ہیں یہ ایک نہایت عزیز درویش تھے اور ان کا معاملہ حیدریوں سے کوئی نسبت نہیں رکھتا تھا خلاصہ یہ کہ شیخ جمال الدین اور شیخ ابو بکر طوسی رحمۃ اللہ علیہما کے ما بین انتہا درجہ کی محبت تھی اور اس باہمی محبت کا واسطہ و ذریعہ مولانا حسام الدین اندر پتی قاضیوں اور واعظوں کے شیخ تھے۔ مولانا حسام الدین شیخ جمال الدین رحمۃ اللہ سے بیعت تھے جس وقت شیخ جمال الدین جناب شیخ الاسلام قطب الدین بختیار قدس اللہ سرہ العزیز کی زیارت کو آتے تھے تو شیخ ابو بکر طوسی سے ملاقات کرتے تھے اور مولانا حسام الدین شیخ جمال الدین کے آنے کو بہت ہی غنیمت شمار کرتے تھے اور بڑی بڑی عمدہ دعوتیں کیا کرتے تھے جن میں سلطان المشائخ بھی موجود ہوتے تھے۔ ایک دفعہ شیخ جمال الدین رحمۃ اللہ علیہ ہانسی سے آتے تھے مولانا حسام الدین نے استقبال کیا۔ جس وقت مولانا حسام الدین استقبال کے ارادہ سے باہر نکلے تو شیخ ابو بکر طوسی نے مولانا حسام الدین سے کہا کہ تم شیخ جمال الدین سے کہہ دینا کہ ابو بکر حج کو جاتا ہے چنانچہ جب مولانا حسام الدین موضع کلو کھری میں جون ندی کے کنارے پہنچے تو شیخ جمال الدین پر لے کنارے پر آپہنچے تھے۔

    اس کنارے پر مولانا حسام الدین کھڑے اور اس کنارے پر شیخ جمال الدین موجود تھے اور جون ندی بیچ میں تھی مولانا جمال الدین نے شیخ حسام الدین سے بآواز بلند کہا کہ ہمارا سفید باز یعنی شیخ ابو بکر طوسی کہاں ہے مولانا حسام الدین کے کہا کہ شیخ ابو بکر حج کو جاتے ہیں شیخ جمال الدین نے اسی کنارہ سے مولانا حسام الدین سے فرمایا کہ تم بھی یہیں سے ان کے پیچھے جاؤ اور یہ بیت پڑھو۔ ہم بھی تمہارے تعاقب کرتے ہوئے پہنچتے ہیں ابیات یہ ہیں۔ مر پائے تر اسرم نثار اولیٰ تر در نمار وطن ساز چو بوبکر از انکہ یک سرچہ بود ھزار سر اولٰی تر بو بکر محمدی بغار اولٰی تر شیخ قطب الدین منور جناب شیخ جمال الدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے سے منقول ہے کہ جس روز شیخ جمال الدین کے مبارک کان یہ حدیث پہنچی تھی قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم القبر روضۃ من ریاض الجنۃ او حفرۃ من حفر لنیران۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے اس روز سے آپ نہایت متفکر اور اس وعید کی ہیبت سے سخت بے قرار رہتے تھے حتیٰ کہ جب آپ نے سفر آخرت قبول کیا اور خدا تعالیٰ کی جوار رحمت میں جا پہنچے تو آپ کے یاروں عزیز بھی اس وجہ سے قلق و اضطراب میں تھے کہ شیخ کا حال قبر میں کیسا ہوگا چنانچہ چند روز کے بعد لوگوں نے آپ کی قبر پر گنبد تعمیر کرنا چاہا اور گنبد کی بنیادیں کھودنی شروع کیں۔ جب لحد کے نزدیک پہنچے تو قبلہ کی جانب سے آپ کے منہ مبارک کے سامنے ایک کھڑکی ظاہر ہوئی جس میں سے بہشت کی خوشبو آتی تھی یہ دیکھتے ہی وہاں سے ہٹ گئے اور اس موضع کوڈہا دیا۔ سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ جب شیخ جمال الدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوا تو لوگوں نے آپ کو خواب میں دیکھ کر حال دریافت کیا فرمایا۔ جوں ہی لوگوں نے مجھے قبر میں اتارا عذاب کے دو فرشتے آئے اور ان ہی کے عقب میں ایک اور فرشتہ آیا جس نے فرمان پہنچایا کہ ہم نے اسے صلوۃ البروج کی ان دو رکعت کی وجہ سے بخش دیا جو نماز مغرب کی سنتوں کے متصل پڑھا کرتا تھا اور آیتہ الکرسی کی بدولت اس کے سر پر مغفرت کا تاج رکھا جو ہر فرض کے متصل پڑھا کرتا تھا۔ منقول ہے کہ شیخ جمال الدین وفات پاگئے تو ام المومنین نے جو شیخ جمال الدین کی خادمہ تھیں شیخ جمال الدین کا عصا اور مصلا جو آپ نے شیخ شیوخ العالم کی خدمت سے پایا تھا شیخ جمال الدین کے چھوٹے صاحبزادے مولانا برہان الدین صوفی کو دیا جو شیخ قطب الدین منور کے والد بزرگوار تھے اور چونکہ مولانا برہان الدین ابھی صغیر لسن ہی تھے اس لیے ام المومنین انہیں شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں لے گئیں شیخ شیوخ العالم نے نہایت مہربانی و شفقت سے مولانا بدر الدین کی تعظیم و تکریم میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا اور اپنی بیعت وارادت کے شرف سے مشرف و ممتاز کیا اور چند روز اپنے پاس رکھ کر رخصت کیا۔ مراجعت کے وقت خلافت نامہ اور وہ عصا و مصلا جو مولانا جمال الدین کو عطا ہوا تھا مولانا برہان الدین صوفی کو بخشا اور فرمایا۔ برہان الدین! جس طرح جمال الدین کو ہماری طرف اجازت حاصل تھی اسی طرح تم بھی مجاز ہو اور یہ بھی فرمایا کہ تمہیں چند روز مولانا نظام الدین یعنی سلطان المشائخ کی صحبت میں رہنا چاہیے۔ اس وقت ام المومنین نے شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں بزبان ہندی عرض کیا کہ خوجا برہان الدین بالا ہے۔یعنی کم عمر ہے اس بار گراں کی طاقت نہیں رکھ سکتا۔ شیخ شیوخ العالم قدس اللہ سرہ العزیز نے بھی ہندی میں فرمایا کہ مادر مومناں! پونوں کا چاند بھی بالا ہوتا ہے یعنی چودہویں رات کا چاند بھی پہلی شب کو چھوٹا ہی ہوتا ہے جو تدریجاً کمال کو پہنچتا ہے۔ خواجہ سنائی کہتے ہیں۔ برگ توت است کہ گشتہ است بتدریج اطلس اس کے بعد شیخ شیوخ العالم نے مولانا برہان الدین کو رخصت کیا۔ مولانا برہان الدین جناب شیخ شیوخ العالم کے فرمان کے بموجب ہر سال سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوکر تربیت حاصل کرتے۔ الغرض جب مولانا برہان الدین مرتبۂ کمال کو پہنچے اور شیخ شیوخ العالم کی نظر کی برکت اور سلطان المشائخ کی صحبت کی وجہ سے مشائخ کبار کے اوصاف آپ میں جمع ہوگئے تو بھی آپ نے کوئی مرید نہیں کیا۔ اگر کوئی شخص بیعت کی غرض سے آتا اور آپ کی طرف متوجہ ہوکر با صرار بیعت کرنا چاہتا تھا تو آپ فرماتے کہ باوجود سلطان المشائخ شیخ شیخ زمانہ حضرت سید نظام الدین محمد کے مجھ جیسے کو کلاہ ارادت دینا اور بیعت لینا جائز نہیں ہے مولانا برہان الدین کی یہ تقریر سلطان المشائخ کے کان مبارک میں پہنچ چکی تھی۔ جب مولانا برہان الدین حسب معمول سلطان المشائخ کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا۔ مولانا! جس طرح یہ ضعیف شیخ شیوخ العالم سے اجازت رکھتا ہے اسی طرح تم بھی مجاز ہو اور جب یہ ہے تو لوگوں کو کلاہ ارادت کیوں نہیں دیتے۔ مولانا برہان الدین نے کہا کہ آپ جیسے بزرگ کے ہوتے مجھے جائز نہیں ہے کہ کسی کو کلاہ ارادت دوں۔ مولانا برہان الدین صافی اعتقاد کے ساتھ دل سے سلطان المشائخ کی محبت رکھتے تھے آپ جس سال ہانسی سے سلطان المشائخ کی خدمت میں دہلی آتے تو سلطان المشائخ فرماتے کہ مولانا کے لیے جماعت خانہ میں چار پائی بچھادو۔ چونکہ توضع و انکسار کے اوصاف مولانا برہان الدین کے ساتھ خصوصیت کے ساتھ مختص تھے لہذا آپ ترک ادب کی وجہ سے جماعت خانہ میں چار پائی پر نہیں سوتے تھے۔ آپ جس وقت سلطان المشائخ کی خدمت میں جانا چاہتے تو اول اپنے پاکیزہ کپڑوں کو عود اور دوسرے عطر سے معطر کرتے پھر سلطان المشائخ کی خدمت میں جاتے اگرچہ دن میں کئی مرتبے آپ بلائے جاتے۔ جب اس کی وجہ حکمت لوگوں نے اس بزرگ سے دریافت کی تو فرمایا جب کسی بزرگ کی خدمت میں جائیں تو خوشبو مل کر جائیں اور یہ بزرگ جمال با کمال رکھتے اور اپنا ظاہر حال آراستہ اور باطن معمور رکھتے تھے۔ سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ جمال الدین ہانسوی کے ایک صاحبزادے نہایت بزرگ اور دانشمند تھے مگر دیوانے ہوگئے تھے کبھی کبھی ہوش میں آتے اور دانشمندانہ باتیں کرتے تھے۔ اگرچہ دیوانے لیکن جو باتیں میں نے ان سے سنی ہیں ہزار ہوشیاروں عقلمندوں سے نہیں سنی۔ اکثر کہا کرتے تھے العلم حجاب اللہ الاکبر۔ اس وقت مجھے معلوم ہوگیا کہ یہ معنوی دیوانے ہیں۔ ایک دن میں اس جملہ کے معنے ان سے دریافت کیے۔ جواب دیا کہ علم۔ حق کے دَرے ہے اور جو چیز حق کے دَرے ہے حجاب حق ہے۔
     
    زنیرہ عقیل، پاکستانی55 اور آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    جزاک اللہ بہت اعلی
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. زنیرہ عقیل
    آن لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    ماشاء اللہ بہت خوبصورت لڑی ہے

    صلاح، عفت، زہد، ورع، تقویٰ،طاعت،عبادت،جوع،فاقہ، مسکنت،قناعت،مروت،فتوت،دیانت،صیانت،قمانت،طاعت،خضوع،خشوع،تذلل،تواضع، افصال،صدق،صبر،سکوت،علم،رضا،حیا،بذل،جودوسخاوت،خشیت،خوف،رجا،ریا،رصنت، مجاہدہ،مراقبہ،موافقت،مرافقت،مداومت،معاملت،توحید،تہذیب،تجرید،تفرید،سکوت،وقار، مدارات،مواسات،عنایت،رعایت،شفقت،شفاعت،لطف،کرم،تفقد،شکر،فکر،ذکر،حرمت، ادب،اعتصام،احترام،طلب،رغبت،غیرت،عبرت،بصیرت،تیقظ،حکمت،جست،ہمت، معرفت،حقیقت،خدمت،تسلیم،تفویض،توکل،قبل،یقین،لقت،غنا،استقامت اورحسن خلق جیسی صفات انسان میں پیدا ہوں تو فقیر کامل ہونا یقینی ہے اور اللہ کے کرم کا متمنی ہو سکتا ہے

    اللہ آپ کو جزائے خیر دے
    آمین
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. زاھرا
    آف لائن

    زاھرا ممبر

    شمولیت:
    ‏22 جنوری 2019
    پیغامات:
    54
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    ملک کا جھنڈا:
    nice sharing amazing keep sharing
     
    زنیرہ عقیل اور ھارون رشید .نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,393
    موصول پسندیدگیاں:
    16,801
    ملک کا جھنڈا:
    شکریہ سلامت رہیں
     

اس صفحے کو مشتہر کریں