1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

حضرت سلطان باہو رحمتہ الله علیہ کا مکمل پنجابی کلام معنی اور ترجمہ کے سا تھ

'صوفیانہ کلام' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف سلطان, ‏15 مارچ 2016۔

  1. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ب
    04

    ب- باجھ حضوری نہیں منظوری،توڑے پڑھن بانگ صلاتاں ھو ۔
    روزے نفل نماز گزارن،توڑے جاگن ساریاں راتاں ھو ۔
    باجھوں قلب حضور نہ ہووے،توڑے کڈھن سَے زکاتاں ھو ۔
    باجھ فنا ربّ حاصل ناہیںباہو،ناں تاثیر جماعتاں ھو ۔
    باجھ: بغیر۔ سواۓ
    حضوری: باطنی تور پر متوجہ اِلا اللہ ہونا (یہاں حضورِ قلب مراد ہے)
    منظوری: قبولیت
    توڑے : خواہ
    پڑھن: پڑھیں ۔ ادا کریں
    بانگ: اذان
    صلاتاں: نمازیں
    گزارن: ادا کریں
    جاگن: بیدار رہیں
    ساریاں۔ راتاں: تمام ۔ راتیں
    کڈھن: نکالیں ۔ ادا کریں
    سَے: سینکڑوں
    زکاتاں: زکوٰۃ کی جمع
    فنا: فنافی ھو ، فنافی اللہ بقا باللہ
    ناہیں: نہیں ھو سکتا
    ناں: نہ
    جماعتاں: مراد باجماعت نماز ادا کرنا یا باجماعت کوئی کام کرنا


    ترجمہ:
    حدیث شریف ہے لاَ صَلوٰۃَ اِلاَّ بِحُضُوْرِالْقَلْب "حضورِ قلب کے بغیرنماز نہیں ہوتی" بلکہ حضورِ قلب کے بغیر کوئی بھی عبادت مقبولِ بارگاہِ الہیٰ نہیں ہے۔ حضرت سخی سلطان باہو رحمتہ الله علیہ اس بیت میں اس حدیث پاک کی شرح فرما رہے ہیں:
    حضورِ حق تعالیٰ کے بغیر اذان، نماز اور زکوٰۃ قبول نہیں ہوتی خواہ دن کو روزے رکھیں اور رات بھر بیدار رہ کر نوافل ادا کرتے رہیں اور تزکیہء نفس، تصفیہء قلب کے بغیر حضوری حاصل نہیں ہو سکتی،اپنی ذات کو فنا کیے بغیر وصالِ حق تعالیٰ اور دیدارِالہیٰ حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی عبادات میں حضوری حاصل ہوتی ہے۔
    26
    Last edited: ‏23 مارچ 2016
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ب
    05

    ب- بے ادباں ناں سار ادب دی،گئے ادباں توں وانجے ھو ۔
    جیہڑے ہون مٹی دے بھانڈے،کدی نہ ہوندے کانجے ھو ۔
    جیہڑے مڈھ قدیم دے کھیڑے،کدی نہ ہوندے رانجھے ھو ۔
    جیںدل حضور نہ منگیا باہو،گئے دوہیں جہانیں وانجے ھو
    ۔​
    بے ادباں: بے ادب
    ناں: نہیں
    سار: خیال ، خبر
    دی: کی
    ادباں۔ توں : ادب ۔ سے
    وانجے: محروم
    جیہڑے ۔ ہون: جو ۔ ہوں
    دے۔ بھانڈے: کے ۔ برتن
    کدی: کبھی
    ہوندے: ہوتے
    کانجے: شیشے کے برتن
    مڈھ قدیم: ازل سے
    کھیڑے: شقی ، بد بخت
    رانجھے: سعید ، خوش بخت
    جیں: جس نے
    دوہیں۔ جہانیں: دونوں ۔ جہانوں سے
    وانجے: محروم ، خالی ہاتھ


    ترجمہ :
    بےادب لوگوں كو مقامِ ادب كى خبر ، پہچان اور شعور نہيں ہےيہ وه بدنصيب ہيں جو اپنى بے ادبى اور شقاوت كى وجہ سے وه مقام و مرتبہ حاصل نہيں كر سكتے جو باادب حاصل كر ليتے ہيں اور پھر ذكر اور تصورِ اسمِ اللهُ ذات اور بغير مرشد كامل اكمل كى راہبرى اور راہنمائی كے ازلى فطرت كبھى تبديل نہيں ہوتى۔ جو ازلى كھيڑے(شقى) ہيں وه كبھى رانجھے(سعيد) نہيں بن سكتے اور مٹى كے برتنوں كو كبھى بھی كانچ كے برتن نہيں بنايا جاسكتا۔ بے ادب لوگ(خواه وه بے ادب ہوں الله تعالىٰ يا رسول كريم صلى الله عليه وسلم،صحابہ کرام٘ ،اہلِ بيت٘،اولياءكرام٘،فقرا ء يا مرشد كامل كے) دونوں جہانوں ميں معرفتِ الہٰى سے محروم رہتے ہيں جيسا كے مشہور ہے "باادب با نصيب،بےادب بے نصيب"اور جس نے حق تعا لىٰ كى حضورى طلب نہ كى وه دونوں جہانوں ميں خالى ہاتھ ہو گيا۔

    27
    Last edited: ‏24 مارچ 2016
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ب
    06

    ب- بزرگی نوں گَھت وہن لوڑھایئے،کریئے رَجّ مُکالا ھو ۔
    لاَ اِلٰہَ گل گہناں مڑھیا،مذہب کی لگدا سالا ھو ۔
    اِلّا اﷲ گھر میرے آیا،جیں آن اٹھایا پالا ھو،
    اساں بھر پیالا خضروں پیتا باہو،آب حیاتی والا ھو ۔

    بزرگی : بڑائی،برتری
    گَھت: ڈال کر
    وہن: ندی
    لوڑھایئے: بہائیے ، بہا دیں
    رجّ: بہت زیادہ ، اچھی طرح
    مُکالا : منہ کالا کرنا ، سیاہی یا کالک ملنا
    لاَ اِلٰہَ: نفی ، نہیں ہے کوئی معبود
    گل: گلا
    گہناں : زیور
    مڑھیا: پہنایا
    لگدا : لگتا ہے
    اِلّا اﷲ: اثبات ، مگر اللہ
    جیں ۔آن: جس نے ۔ آ کر
    پالا : سردی ، ڈر،خوف
    اساں: ہم نے
    پیالا۔ پیتا: پیالہ ۔ پیا


    ترجمہ :
    راهِ فقر ميں بزرگى،كشف وكرامات اور شہرت كى كوئی حیثيت نہيں ،راهِ عشق ميں تو بدنامياں اور برائياں ہيں۔ اس لئيےراهِ فقرميں لوگوں كى لعنت اور ملامت سے بالكل نہيں ڈرنا چاہيے اور استقامت سے راهِ عشق پر چلتے رہنا چاہيے۔جب سے لاَ اِلٰهَ (نفى۔ نہيں ہے كوئى معبود) كا راز ہم پرعياں ہوا ہے كسى فرقہ اور مسلک سےكوئی تعلق نہيں رہا اور اثبات (اِلاَّ الله)كى حقيقت يہ ہےكہ الله تعالىٰ كے سوا كوئی موجود نہيں اوراس حقيقت كو پا كرہمارے اندرسے ہرڈراور خوف نكل گيا ہے اورہم وصالِ حق تعالىٰ كا آبِ حيات پى كرزنده وجاويد ہو گئے ہيں۔
    28
    Last edited: ‏24 مارچ 2016
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ب
    07

    ب- بِسْمِ اللہ اِسم اﷲ دا،ایہہ وی گہناں بھارا ھو ۔
    نال شفاعت سرور عالم،چُھٹسی عالم سارا ھو ۔
    حدوں بے حد درود نبی نوں،جنیدا ایڈ پسارا ھو ۔
    میں قربان تنہاں توں باہو،جنہاں ملیا نبی سوہارا ھو ۔
    دا: کا
    وی: بھی
    گہناں : زیور
    چُھٹسی: نجات پاےگا
    جنیدا: جس کا
    ایڈ :اتنا۔اس قدر
    پسارا:وسعت،عظمت
    تنہاں توں:ان پر
    ملیا:ملا
    سوہارا :صاحبِ عظمت وبرکت ورحمت


    ترجمہ:
    بِسْم الله ميں"اِسم الله" ذات پوشيده ہے اور يہ وه بھارى امانت ہے روزِازل جس كو اٹھانے ميں انسان كے سوا ہر شے اور مخلوق نے عاجزى ظاہر كر دى تھى اور يہ امانت ہميں نبى كريم صلى الله عليه وسلم كے وسيلہ سے نصيب ہوئی ہے۔ روزِ قيامت رسول كريم صلى الله عليه وسلم كى شفاعت سے ہى تمام عالم كو نجات حاصل ہو گٸ اس ليےرسول كريم صلى الله عليه وسلم پر بے حد و بے حساب درود سلام بھيجنا چاہيے كہ ہم ايسےصاحبِ بركت،صاحبِ عظمت اور صاحبِ رحمت نبى صلى الله عليه وسلم كى امت سے ہيں اور آپ صلى الله عليه وسلم ايسے عظيم المرتبت نبى ہيں كہ "فقر" كى عظيم نعمت آپ صلى الله عليه وسلم كے وسيلہ سے ہى نصيب ہوٸى ہے۔
    29
    Last edited: ‏24 مارچ 2016
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ب
    08

    ب- بنھ چلایا طرف زمیں دے،عرشوں فرش ٹکایا ھو ۔
    گھر تھیں مِلیا دیس نکالا،اساں لکھیا جھولی پایا ھو ۔
    رہ نی دنیاں نہ کر جھیڑا،ساڈا اَ گّے دل گھبرایا ھو ۔
    اسیں پردیسی ساڈا وطن دوراڈھا، باہودم دم غم سوایا ھو ۔
    بنھ چلایا: باندھ کر بھیجا
    طرف زمیں دے: زمین پر
    ٹکایا : لا رکھا
    گھر: مراد عالمِ لا هُوت
    تھیں : سے
    دیس نکالا: جلا وطنی
    لکھیا : تقدیر میں جو لکھا تھا ، نوشتۂ تقدیر
    جھولی:دامن
    رہ نی دنیاں: ہمارا پیچھا چھوڑ دے دنیا
    نہ کر جھیڑا: جھگڑا نہ کر
    ساڈا ،اَگّے: پہلے ہی
    دوراڈھا: بہت دور
    دم دم: ہر لمحہ
    سوایا: پہلے سے زیادہ

    ترجمہ:
    طالبِ مولیٰ کا اصل گھر تو عالمِ لا ھوت ہے جہاں پر اس نے دیدارِ الہیٰ کے سوا دنیا اور عقبیٰ کو ٹھکرا دیا تھا۔ آپ رحمتہ الله علیہ فرماتے ہیں یہ تو ہماری تقدیر ہے جس نے ہمیں جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر رکھا ہے اور ہمیں اپنے وطنِ ازلی، عالمِ لاھوت سے عالمِ خلق (نا سوت) میں لے آئی ہے۔ اے دنیا!ہمارا پیچھا چھوڑ دے اور ہمیں تنگ نہ کر ہمارا دل تو پہلے ہی فراقِ یار میں بے قرارو بے چین ہے۔ ہم تو اس دنیا میں پردیسی ہیں۔ ہمارا وطن تو محبوبِ حقیقی کے پاس ہے جو بہت دور ہے اوراِس تک جانے والی راہ میں بہت سی مشکلات اور مصائب ہیں جسے ہم نے دنیا کی محبت دل سے نکال کر عشق سےطے کرنا ہے۔ اورہرلمحہ یہ غم بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
    30
    Last edited: ‏24 مارچ 2016
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ب
    09

    ب- ب ت پڑھ کے فاضل ہوئے،ہک حرف نہ پڑھیا کِسّے ھو ۔
    جیں پڑھیا تیں شوہ نہ لدّھا،جاں پڑھیا کُجھ تِسّے ھو ۔
    چوداں طبق کَرن رُشنائی،اَنّھیاں کجھ نہ دِسے ھو ۔
    باجھ وصال اﷲ دے باہو،سبھ کہانیاں قِصے ھو ۔
    ب ت: اسمِ اللهُ ذات کے علاوہ دیگر ذکر ازکار اور دینی، دنیاوی علوم
    ہک حرف: ایک حرف (مراد اسمِ اللهُ ذات)
    کِسّے: کسی نے
    جیں : جس نے
    تیں: اس کو
    شوہ نہ لدّھا: اللہ تعالیٰ نہ ملا
    جاں : اگر
    کُجھ: کچھ
    تِسّے: اس نے ،اس کو
    چوداں طبق: چودہ طبق ، تمام کائنات
    کَرن۔ رُشنائی :کریں ۔ روشنی
    اَنّھیاں: اندھوں کو ، مراد دل کے اندھے ، نورِ بصیرت سے محروم
    دِسے: دکھائی دے
    باجھ: بغیر


    ترجمہ:
    زاہد اور علماء صفات،دیگر ذکرازکاراور تمام علوم کامطالعہ کرکےعالم فاضل بن چکے ہیں۔ مگرایک خرف الف یعنی "اسمِ اللهُ ذات"کی حقیقت اور اسرار سے بے خبر ہیں۔ اگراسمِ اللہُ کا ورد اور ذکر کیا بھی، تو وہ بھی مرشد کامل اور طلبِ صادق کے بغیر، پھر بھلا دیدارِ الہیٰ کیسے حاصل ہوتا۔ زمین اورآسمان اسمِ اللہُ ذات سے روشن ہیں مگران دل کے اندھوں کوکچھ نظرنہیں آتا۔ وصالِ الہیٰ (فنافی ھو)کے بغیرباقی سب مقامات اورمنازل بے کاراوربے فائدہ ہیں۔
    31
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ب
    10

    ب- بوہتی میں اؤگن ہاری،لاج پئی گل اس دے ھو ۔
    پڑھ پڑھ علم کَرن تکبر،شیطان جیہے اوتھے مسدے ھو ۔
    لکھاں نوں ہے بَھو دوزخ دا،ہکّ نت بہشتوں رُسدے ھو ۔
    عاشقاں دے گل چُھری ہمیشاں باہو،اگے محبوب دے کُسدے ھو ۔
    بوہتی : بہت زیادہ
    اؤگن ہاری: گناہ گار ، بد نصیب ، خطاکار
    لاج : شرم ، عزت
    پئی گل: گلے پڑی
    اس دے: اس کے
    کَرن ۔ جیہے ۔اوتھے: کریں۔ جیسے ۔ وہاں
    مسدے: محروم رہے
    لکھاں۔ نوں: لاکھوں ۔ کو
    بَھو:ڈر ، خوف
    دوزخ دا: دوزخ کا
    ہکّ ۔ نت: ایک ۔ روزانہ
    بہشتوں: جنت ، بہشت
    رُسدے: روٹھتے
    دے۔ گل: کے ۔ گلے
    محبوب : اللہ تعالیٰ ۔ مرشد کامل
    کُسدے: ذبح ہوتے


    ترجمہ :
    میں بہت ہی بدنصیب، گناہ گاراورخطا کارہوں لیکن مجھے فخرہےکہ میرےگلےمیں مرشد کی غلامی کی زنجیر ہےجومجھےخوش بخت لوگوں کےگروہ میں شامل کروادے گا۔ بہت سے لوگ شیطان کی طرح اپنےعلم پرتکبرکی وجہ سے وصالِ حق تعالیٰ سے محروم ہیں اورلاکھوں لوگوں کودوزخ کےعذاب کاخوف لاحق ہے لیکن کچھ ایسے ہیں جو بہشت کی نعمتوں کوٹھکراکردیدارِحق تعالیٰ کے لئے تڑپ رہے ہیں۔ عاشقِ حقیقی توہمیشہ اپنے محبوب کی رضا کے سامنے سرِتسلیم خم کیے رہتے ہیں ۔
    32
    Last edited: ‏8 اپریل 2016
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    پ
    01

    پ- پڑھ پڑھ علم ملوک رجھاون،کیا ہویا اِس پڑھیاں ھو ۔
    ہرگز مکھن مول نہ آوے،پھٹے ددّھ دے کڑھیاں ھو ۔
    آکھ چنڈورا ہتھ کے آئیو اِی،ایس انگوری چنیاں ھو ۔
    ہک دل خستہ رکھیں راضی باہو،لئیں عبادت وَرہیاں ھو ۔

    ملوک: مَلک کی جمع،بادشاہ،حکمران
    رجھاون: راضی کرتے ہیں ،خوشنودی حاصل کرتے ہیں
    مول۔آوے: باکل،ہرگز ۔ آئے
    پھٹے ددّھ: خراب دودھ ،پھٹا ہوا دودھ
    کڑھیاں: ابلنے پر
    آکھ: کہیں
    چنڈورا : ایک پرندہ ، مراد بے عقل ، بدبخت
    ہتھ ۔کے۔ آئیو: ہاتھ ۔ کیا ۔ آیا
    انگوری: فصل کاشت کرنے پر پہلی کونپل جو زمین سے نکلتی ہے
    چنیاں: اکھاڑنے ، تباہ کرنے
    ہک: ایک
    خستہ : دکھی،پُر درد
    رکھیں راضی: راضی رکھنا
    لئیں : لے لینا ، حاصل کر لینا
    وَرہیاں: سالہا سال کی


    ترجمہ :
    علماء اور تعليم يافتہ لوگ صرف حكمرانوں،امراء،روساء اور حكومتى اہل كاروں كو خوش كرنے يا حكومت ميں كوٸى عہده پانے كے ليئےعلم حاصل كرتےہيں اورمعرفتِ الہىٰ يا الله تعالىٰ كى رضا ان كا مقصود نہيں ہے۔ چونكہ ان كى نيت ميں ہى كھوٹ ہوتا ہے۔اس لیے يہ علم كى كنہہ اورحقيقت اورالله تعالىٰ كى نظرِرحمت سے محروم رہتے ہيں۔ يہ تو وه لوگ ہيں جو علم كا مغزحاصل كرنے كى بجائے ہڈيوں كوبھنبھوڑرہے ہيں۔ آپ رحمتہ الله عليہ فرماتے ہيں اگرتوُ كسى ايسے صاحبِ دل فقيركو جو وصالِ الہىٰ پا چكاہو،خوش اورراضى كرلےتوتجھےكٸ برسوں كى عبادت كاثواب ملے گا۔
    33
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    پ
    02

    پ- پڑھ پڑھ عالِم کَرن تکبر،خافظ کرن وڈیائی ھو ۔
    گلیاں دے وچ پھرن نمانے،وَتن کتاباں چائی ھو ۔
    جتھے ویکھن چنگا چوکھا،اوتھے پڑھن کلام سوائی ھو ۔
    دوہیں جہانی سوئی مُٹھے باہو،جنہاں کھادھی ویچ کمائی ھو ۔

    کَرن۔ وڈیائی : کریں ۔ بڑھائی ،خود تعریفی
    دے : میں
    پھرن: چکر لگاتے یعنی ڈھنڈورا پیٹتے ہیں
    نمانے: بیچارے
    وَتن: پھرتے ہیں
    کتاباں: کتابیں
    چائی : اٹھائے ہوے
    جتھے۔ ویکھن: جہاں ۔ دیکھیں
    چنگا : اچھا ، پسندیدہ ، لذیذ ، مرغن کھانا ، مال و دولت
    چوکھا۔ پڑھن : زیادہ ۔ پڑھتے ہیں
    سوائی : زیادہ
    دوہیں جہانی : دونوں جہاں میں
    سوئی : وہی
    مُٹھے : محروم رہے ، لٹ گئے
    جنہاں۔ کھادی: جنہوں نے ۔ کھائی
    ویچ: بیچ کر ، فروخت کر کے


    ترجمہ:
    آپ رحمت الله عليہ ان علماء اورحفاظ كے رويہ پرحيرت كا اظہار فرما رہےجو حصولِ علم كے بعد تكبرميں مبتلا ہو جاتے ہيں اوراپنےعلم اور فضيلت كا ڈھنڈورا پيٹتے رہتے ہيں اور اپنى فضيلت كا خود ہى اظہاركرتے رہتے ہيں ليكن اُن كے باطن اورايمان كى يہ حالت ہےكہ مال ودولت كے لیے علم كى حقيقت كو فروخت كر ديتے هيں اوراس کے لیے ہر لمحہ تياررہتے ہيں پھر جب مال مل جائے تو طرح طرح كى تاويليں گھڑ كرحق كوچھپا ليتے ہيں۔ حكمرانوں اورمال يا عہده دينے والوں كى منشاء كے مطابق علم كى شرح بيان كرتے ہيں۔ ايسے بے ضميرعالم و تعليم يافتہ لوگ اورعلم كو فروخت كرنے والے علماء، دونوں جہانوں ميں روسياه اور خوار ہوں گئے۔
    34
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    پ
    03

    پ- پڑھ پڑھ علم مشائخ سداون،کرن عبادت دوہری ھو ۔
    اندر جھگی پئی لٹیوے،تن من خبر ناں موری ھو ۔
    مولٰی والی سدا سکھالی،دل توں لاہ تکوری ھو ۔
    باہو ربّ تنہاں نوں حاصل ،جنہاں جگ نہ کیتی چوری ھو
    ۔​
    مشائخ : شیخ کی جمع یعنی پیر یا مرشد
    سداون: کہلاتے ہیں
    کرن ۔ دوہری: کرتے ہیں ۔ دوگنی ،زیادہ
    جھگی: گھر
    لٹیوے: لٹ رہی ہے
    تن۔ من : جسم (ظاھر) ۔ باطن
    ناں۔موری :نہ ۔ نقب
    مولٰی والی: اللہ مالک ہے
    سدا سکھالی: سدا سوکھی یا ہمیشہ سکون
    دل توں : دل سے
    لاہ: اتار دے
    تکوری : سیاہی ، زنگ (تکوری دھوئیں کی تہہ کو کہتے ہیں)
    تنہاں نوں: اُن کو
    جنہاں ۔ کیتی: جنہوں نے ۔ کی


    ترجمہ:
    بہت سے لوگ ايسے ہيں جونہ كسى مرشدِ كامل سے علمِ حقيقت (علمِ باطن) حاصل كرتے ہيں اورنہ ہى انہيں حضوراكرم صلى الله عليہ وسلم كى بارگاه سے تلقين وارشاد كى اجازت ہو تى ہےبلكہ علمِ شريعت (علمِ ظاہر) حاصل كركےمشاٸخ كى مسند پر براجمان ہوجاتے ہيں اور لوگوں كو دكھانے كے لٸے خوب عبادت اور رياضت كرتے ہيں۔ ليكن ان كے دل كے اندر نفس اورشيطان نے سرنگ بنا ركھى ہوتى ہے اور خود اُن كا اپنا ايمان سلب ہوچكا ہوتا ہے۔اس ليےاےشيخ!تواپنى آنكھوں سے غفلت كا پرده اور دل سے زنگ اور سياہى اتاراور حقيقت كو پانے كے ليے كسى مرشد كامل اكمل كادامن پكڑ ۔ كيونكہ وصالِ الہٰى تو ان كو حاصل ہوتا ہےجوراهِ فقرميں عقل،چالاكى اورمكروفريب سے كام نہيں ليتے بلكہ دنيا سے منہ موڑ كراستقامت،خلوصِ نيت اوررضائے الہٰى كے مطابق راهِ فقر پر گامزن رہتے ہيں۔
    35
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    پ
    04

    پ- پڑھ پڑھ عِلم ہزار کتاباں،عالم ہوئے بھارے ھو ۔
    اِک حرف عشقَ دا پڑھن نہ جانن،بھلے پھرن بچارے ھو ۔
    لکھ نگاہ جے عالم ویکھے،کِسے نہ کدھی چاہڑے ھو
    اک نگاہ جے عاشق ویکھے،لکھاں کڑوراں تارے ھو ۔
    عشقَ عقل وِچ منزل بھاری،سَے کوہاں دے پاڑے ھو ۔
    جنہاں عشق خرید نہ کیتا باہو،اوہ دوہیں جہانیں مارے ھو ۔
    کتاباں: کتب،کتابیں
    بھارے: جیّد عالم،بہت بڑے
    دا ۔پڑھن ۔ جانن: کا۔ پڑھنا۔ جانتے ہیں
    بھلے پھرن: بھٹکتے پھرتے ہیں
    جے ۔ لکھاں ۔ کڑوراں: اگر۔ لاکھوں۔ کڑورں
    تارے: پار لگاے،منزل پرپہنچا دے
    وِچ:درمیان
    منزل بھاری: بہت فاصلہ،بہت فرق
    سَے کوہاں : سینکڑوں میل
    دے پاڑے: کے فاصلے
    ویکھے۔ کِسے: دیکھے ۔ کسی کو
    کدھی: کنارہ ، منزل
    چاہڑے: پار کرا دے ، پہنچا دے
    عشقَ خرید نہ کیتا: راہِ عشق پر نہ چلے
    اوہ ۔ دوہیں جہانیں: وہ ۔ دونوں جہانوں میں
    مارے: مر گئے،گھاٹے میں رہے ، نہ کم رہے


    ترجمہ:
    بہت سے لوگ ہزاروں كتب كے مطالعہ سےجيد عالم تو بن گئے ہيں ليكن راهِ عشق كا ایک حرف تک انہيں معلوم نہيں ہے اس ليےحقيقت سے دورظاہرى تاويلات ميں الجھے ہوئے ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہيں اور صراطِ مستقيم سے بھٹكے ہوئے ہيں۔اگرعالم كسى ایک طالب كى طرف لاكھ باربھى نگاه كرےتو اس كومعرفتِ حق تعالٰى تک نہيں پہنچاسكتاليكن اس کےبرعكس عاشق(مرشدكامل) لاكھوں لوگوں كوایک ہى نگاه سے معرفتِ الہٰى ميں غرق كرديتا ہے۔ عشق وعقل كا تو آپس ميں كوٸى واسطہ ہى نہيں ہے اور اِن دونوں كے درميان تو وسيع خليج حاٸل ہے۔ جنہوں نے جان و مال كے عوض عشق كا سودا نہ كيا وه دونوں جہانوں ميں نا كام ونامراد ہو گئے۔
    36
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    پ
    05

    پ- پڑھیا علم تے ودّھی مغروری،عقل بھی گیا تلوہاں ھو ۔
    بُھلا راہ ہدایت والا،نفع نہ کیتا دُوہاں ھو ۔
    سر دِتّیاں جے سِّر ہتھ آوے،سودا ہار نہ توہاں ھو ۔
    وڑیں بازار محبت والےباہو،راہبر لے کے سُوہاں ھو ۔
    تے:اور
    ودّھی: زیادہ ہو گئی ،بڑھ گئی
    مغروری: غرور،تکبر ،انانیت
    تلوہاں: نیچے کی طرف ،کمی ہونا
    بُھلا :بھول گیا
    کیتا۔ دُوہاں: کیا ۔ دونوں نے
    دِتّیاں: دینے سے
    سِّر : راز ،رازِ پنہاں
    ہتھ ۔آوے:ہاتھ ۔ آ جائے
    سودا ہار نہ : سودا ضائع نہ کرنا
    توہاں: تو خُود
    وڑیں:داخل ہونا ، جانا
    راہبر : مرشد کامل
    سُوہاں: واقفیت رکھنے والا،واقف کار


    ترجمہ :
    سلطان العارفين حضرت سخى سلطان باهو رحمته الله عليه اس بيت ميں اُن علماء كا ذكر فرما رہے ہيں جن ميں علم حاصل كرنے كے بعد غرور، تكبراوراكڑ پيدا ہو جاتى ہے۔آپ رحمته الله عليه اُن كو مخاطب كر كے فرماتے ہيں كہ علمِ ظاہر كے حصول كے بعد تُوغرور'تكبراورخودپسندى ميں مبتلا ہوگيا ہے جس سے تيرى عقل نے بھى تيرا ساتھ چھوڑ ديا ہے۔بجائے اس كےكہ علم حاصل كرنےسےتيرى عقل ميں اضافہ ہوتا اورتُوصراطِ مستقيم كوپہچان ليتا ليكن تُوتكبراورانانيت كى وجہ سےابليس كى طرح اپنى عقل بھى گنوابيٹھاہے۔علم اورعقل دونوں ميں سےكسى نے تجھے فاٸده نہيں ديااورتُواسى تكبراورانانيت كى وجہ سے"ہدايت كى راه"(صراطِ مستقيم) سے گمراه ہو چكا ہے۔اگر سر دينے سے سِّرِالہٰى ہاتھ آجاےتواس سودےسےدريغ نہيں كرنا چاہيےليكن عشق كہ بازار ميں مرشد كامل كى راہبرى ميں ہى داخل ہونا چاہيے كيونكہ وه اس راه كا واقف ہوتا ہےاور راہبر كے بغير منزل نہیں ملتی۔
    37
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    پ
    06

    پ- پاک پلیت نہ ہندے ہرگز،توڑے رہندے وِچ پلیتی ھو ۔
    وحدت دے دریا اُچھلے،ہکّ دل صحی نہ کیتی ھو ۔
    ہکّ بت خانیں واصل ہوئے،ہکّ پڑھ پڑھ رہن مسیتی ھو ۔
    فاضل سُٹ فضیلت بیٹھے باہو،عشقَ نماز جاں نیتی ھو ۔
    پلیت:پلید ،ناپاک، نجس
    ہندے: ہوتے
    توڑے:خواہ ، چاہے
    رہندے:رہتے ہوں
    وِچ ۔ پلیتی:درمیان ۔ ناپاکی ،پلیدی
    وحدت۔ دے: مرتبہءوحدت ۔ کے
    اُچھلے: ٹھاٹھیں مار رہے
    ہکّ ۔ صحی : ایک ۔ صحیح
    کیتی: کی ، کیا
    بت خانیں: بت خانوں میں ۔ عبادت گاہوں کے علاوہ دوسری جگہ۔مقامات
    واصل ہوئے: فنانی اللہ ہوئے
    رہن۔ مسیتی: رہیں ۔ مسجد میں
    سُٹ: پھینک کر ،چھوڑ کر
    جاں۔ نیتی: جب ۔ نیت کی


    ترجمہ :
    جوازلی طالبانِ مولیٰ ہیں وہ اگردنیا ' نفس اور شیطان کے جال میں پھنس جائیں تو سدا اُن کے پھندے میں نہیں رہتے اور کھبی نہ کھبی اپنی اصل (اللہ تعالیٰ ) کی طرف پلٹ ہی آتے ہیں۔ روحانی طورپر پاکیزہ لوگ اگر گناہ آلود، شرک، بے دینی اورلہوولہب والی جگہ پررہیں تو اس کا اُن کے باطن پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔وحدت کا دریا تو موجزن ہے اور ٹھاٹھیں ماررہا ہے لیکن دل کے اندھے اسے پہچان نہیں پا رہے اوراس نعمت سے یہ لوگ محروم ہیں۔ بعض لوگ بت خانہ جا کر (عبادت گاہوں کے علاوہ کہیں اور جگہ ) بھی معرفتِ حق تعالیٰ حاصل کر لیتے ہیں اور بعض مساجد میں بیٹھ کراپنے تکبر،عُجب،انانیت اور نورِ بصیرت سے محرومی کے سبب اس سے محروم رہتے ہیں اور پھر جب عشق دل پر قبضہ کر لیتا ہے تو کئی عالم فاضل اپنی فضیلت اورمراتب چھوڑکرعاشقِ ذات بن جاتے ہیں۔
    38
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  14. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    پ
    07

    پ- پیر ملیاں جے پیڑ ناں جاوے،اُس نُوں پیر کی دَھرناں ھو ۔
    مُرشد مِلیاں اِرشاد نہ مَن نوں،اوہ مرشد کی کرنا ھو ۔
    جس ہادی کولوں ہدایت ناہیں،اوہ ہادی کی پھڑناں ھو ۔
    جےسر دِتیاں حق حاصل ہووے باہو،اُسموتوں کی ڈرنا ھو ۔
    ملیاں: ملنے سے
    پیڑ: درد،دکھ،یعنی مقصود حاصل نہ ہونا
    ناں۔ جاوے:نہ ۔ جائے
    نُوں ۔ دَھرناں: کو ۔ رکھنا
    اِرشاد: ہدایت
    مَن : روح ، باطن
    اوہ ۔ کی: وہ ۔ کس لئے،کیونکر
    ہادی :ہدایت دینے والا یعنی مرشد کامل
    کولوں ۔ ناہیں : سے۔ نہ ہو
    پھڑناں: پکڑنا ،بیت کرنا
    جے۔ دِتیاں: اگر ۔ دینے سے
    حق : اللہ تعالیٰ
    ہووے : ہو جائے
    موتوں: موت سے
    ڈرنا: ڈرنا،خوف کھانا


    ترجمہ :
    طالبِ صادق کا اگر کسی مرشد کے دستِ بعیت ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کے وصال کا درد نہ جائے تو ایسے ناقص مرشد کو مرشد تسلیم کرنے سے ہی انکار کردینا چاہیے۔جس مرشد سے دل کو رُشد وہدایت حاصل نہ ہو اورمن کو سکون نہ ملے تو ایسے مرشد کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے اور جس ہادی(مرشد)سے ہدایت اور صراطِ مستقیم حاصل نہ ہو اس ہادی کی بیعت اور پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ ہاں اگر ایسا مرشد کامل مل جائے جہاں سر قربان کر کے دیدار الہیٰ حاصل ہو جائے تو ایسی موت سے گھبرانہ نہیں چاہیے۔
    39
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  15. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    پ
    08

    پ- پاٹا دامن ہویا پرانا،کچرک سیوے درزی ھو ۔
    دل دا محرم کوئی نہ مِلیا،جو مِلیا سو غرضی ھو ۔
    باجھ مُربّی کِسے نہ لدّھی،گَجھی رمز اندر دی ھو ۔
    اُوسے راہ وَل جائیے باہو،جس تھیں خلقت ڈردی ھو ۔
    پاٹا دامن: پٹھا ہوا،تار تار دامن
    ہویا : ہوا
    کچرک: کب تک
    سیوے: رفو کرنا ،سلائی کرنا
    دل دا محرم: وہ طالبِ صادق جس کو مرشد امانتِ الہٰیہ(روحانی ورثہ)مںتقل کرکے سلسلہ کاسربراہ بناتا ہے
    غرضی: مطلب پرست،غرض مند
    باجھ :بغیر
    مُربّی : مراد مرشدِ کامل
    کِسے : کسی
    لدّھی: پائی،حاصل کی
    گَجھی: پوشیدہ
    رمز:راز
    اندر: باطن
    اُوسے راہ وَل: اس راستے کی طرف
    جائیے۔ جس تھیں: جانا چاہیے۔جس سے
    خلقت۔ ڈردی: دنیا ۔ ڈرتی ہو


    ترجمہ:
    آپ رحمتہ اللہ علیہ فرما رہے ہیں کہ طالبِ صادق کو تلاش کرتے کرتے میرا دامن تار تار ہو چکا ہے۔ اب تک تو دل کا محرم (صادق طالب مولیٰ جس کو مرشد امانتِ الہٰیہ منتقل کرکے مسند تلقین وارشاد پر فائز کرتا ہے) نہیں ملا۔ اللہ تعالیٰ کی طلب دل میں لے کر کوئی بھی میرے پاس نہیں آیا کہ میں اسے اللہ سے ملا دوں جو بھی آیا اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے آیا۔ بغیرمرشد کامل اکمل کے'کوئی بھی دل کے اندر پوشیدہ رازِحق تعالیٰ کو نہیں پا سکتا۔دیدارِذات کے راستہ پر چلنا چاہیے لیکن لوگ اس راہ پر چلنے سے ڈرتے ہیں اور بعض تو خوف کی وجہ سے اس راہ کا ہی انکار کر دیتے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بعض کتب میں اس بیت کا دوسرا مصرعہ اس طرح سے ہے: حال دا محرم کوئی نہ ملیا جو ملیا سو غرضی ھو
    یہاں"دل دا محرم" درست ہے کیونکہ "دل دا محرم"وہ طالب ہوتا ہے جو مرشد کا فرزندِ حقیقی ہوتا ہے جس کو مرشد اپنا روحانی ورثہ منتقل کر کے سلسلہ کا سربراہ منتخب کرتا ہے۔ بیت 77 آپ رحمتہ اللہ علیہ نے "جیہڑے محرم نہ ہی دل دے ھو" اور بیت 78 میں "جو دل دا محرم ہووے" استعمال فرمایا ہے اس لئے اصل "دل دا محرم" ہے نا کہ حال دا محرم ۔
    ڈاکٹر سلطان الطاف علی نے یہ بیت سلطان الاولیاء حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ سے سماعت فرمایا اور انہوں نے " حال دا محرم" تحریر فرمایا ہے لیکن اس عاجز نے تصحیح کے لیے اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ سے اس بیت کی درستگی کے لیے فرمایا انہوں نے بھی یہ بیت اپنے والد اور مرشد سلطان الاولیاءحضرت سخی سلطان محمد عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ سے ہی سماعت فرمایا تھا تو انہوں نے "دل دا محرم" درست قرار دیا تھا۔

    40
    Last edited: ‏16 اپریل 2016
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    پ
    09

    پ- پنجے محل پنجاں وِچ چانن،ڈیوا کِت ول دھریئے ھو ۔
    پنجے مہر پنجے پٹواری،حاصل کِت ول بھریئے ھو ۔
    پنجے امام تے پنجے قبلے،سجدہ کِت ول کریئے ھو ۔
    باہوجے صاحب سر منگے ،ہرگز ڈِھلّ نہ کریئے ھو ۔
    پنجے: پانچوں
    محل: یہاں پنجتن پاک کا بشری وجود مراد ہے
    پنجاں ۔ وِچ: پانچوں ۔ میں
    چانن: روشنی ، نور
    ڈیوا : دیا،چراغ
    کِت ول: کدھر،کس جانب
    دھریئے: رکھیں
    مہر: سردار،چوہدری،مہرکا مطلب سورج بھی ہے جوہرایک کوبلا امتیازروشنی بخشتاہے
    حاصل : مالیہ
    بھریئے: بھریں،ادا کریں
    جے۔ صاحب : اگر ۔ اللہ تعالیٰ
    منگے : مانگے،طلب کرے
    ڈِھلّ :دیر،تاخیر
    کریئے:کریں


    ترجمہ:
    اس بيت ميں پنج(پانچ)كى تكرارہے اوراس كے بارےميں شارخين ميں كافى اختلاف پايا جاتا ہے۔
    • ڈاكٹرنزيراحمد كواس بيت كى بالكل بھى سمجھ نہ آئى اورانہوں نے اپنى طبيعت كے رخ كے مطابق اسے بجھارت لكھ ديا۔
    • محمد شريف صابرتحريركرتے ہيں"اس بيت كى بجھارت كا درست اورصحيح حل نہيں ملا "پھر انہوں نے محل كو ميحل ميں بدل كراس كے معنى حواسِ خمسہ يا شريعت، طريقت،حقيقت،معرفت اوروحدت لكھ كرجان چھڑالى۔
    •نورمحمد كلاچوى اورڈاكٹرسلطان الطاف على كےمطابق سلطان العارفين حضرت سخى سلطان باہو رحمتہ الله عليه نےاس بيت ميں ظاہرىاور باطنى حواسِ خمسہ كےبارےميں فرماياہے كيونكہ انسان تمام ظاہرى اورباطنى علوم انہى ظاہرى اورباطنى حواسِ خمسہ كے ذريعےحاصل كرتا ہےاوراس كوان باطنى حواسِ خمسہ ميں ذاتِ حق تعالٰى ديكھائى ديتی ہے۔
    •احمد سعيد ہمدانى گومگو كى كيفيت ميں رہےاورتحريركرتےہيں كہ يہ پانچ' حواسِ خمسہ بھى ہو سكتےہيں جن كےذريعےدماغ معلومات فراہم كرتا ہےاوريہ پانچ مقاماتِ قوت و شعور بھى ہوسكتے ہيں جن كوصوفياءكرام ،قلب ،روح ، سِرّ،خفى اوراخفٰى كا نام ديتےہيں جب يہ برٶے کارآتےہيں تو ان كےاندرروشنى نظرآتى ہےاوركئى بھيد كھلتےہيں صوفياءكرام انہيں لطائف كا نام ديتےہيں يہ لطائف باطنى علوم كا ذريعہ ہيں۔
    مندرجہ بالا شارحين كى شرح كا لبِ لباب يہ ہے كہ جب حواسِ خمسہ (پانچ حواس ) يا پانچ لطائف روشن ہو جاتے ہيں تو ہر ايک ميں ذاتِ حق كا جلوه نظرآتا ہےاور سالک كوپانچوںحواس يا لطائف ميں ذاتِ الہٰى كے سوا كچھ نظر نہيں آتا۔
    جہاں تک ظاہرى اورباطنى حواسِ خمسہ كاتعلق ہےتواس کاسلطان العارفين حضرت سخى سلطان باہو رحمتہ الله عليہ كى تعليمات ميں كہيں ذكرنہيں ملتااس ليے يہ شرح كچھ درست معلوم نہيں ہوتى۔
    جہاں تک لطائفِ ستہ" نفس،قلب،روح،سِرّ،خفی،اوراخفٰی"کا تعلق ہےتوان میںایک لطیفہ نفس ظاہری اورپانچ باطنی ہیں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ ان پانچ لطائف کے قائل ہی نہیں ہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ اخفٰی سے آگے یخفٰی اوریخفٰی سے آگے ایک اورمقام اَنا کا ذکر فرماتے ہیں۔
    کلید التوحید کلاں میں فرماتے ہیں:
    • معرفتِ توحیدِ الہیٰ تصدیق ہے،تصدیق قلب میں ہے،قلب روح میں ہے،روح سِرّمیں ہے او سِرّخفی میں اور خفی یخفٰی میں ہے۔
    مقامِ اَنا کے بارے میں عین الفقر میں فرماتے ہیں:
    • حدیثِ قدسی میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے"بیشک آدمی کے جسم میں ایک ٹکڑا ہےجو فواد میں ہے،فواد قلب میں ہے،قلب روح میں ہے،روح سِرّمیں ہےاورسِرّخفی میں ہے اورخفی انا میں ہے۔ جب کوئی فقیرمقامِ انا میں پہنچ جاتا ہےاس پرحالتِ سکروارد ہوجاتی ہے"(عین الفقر)
    • اَنا بھی دو قسم کی ہوتی ہے قُمْ باِذْنِ اللهِ اورقُمْ بِاِذْنِیِ۔ فقیراَنا کی انہی دوحالتوں سے منسلک رہتا ہے۔ (عین الفقر)
    • عین الفقرمیں فقیرِکامل کا ذکرکرتے ہوئے آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
    اس کانفس قلب بن جاتا ہے،قلب روح کی صورت اختیارکرلیتا ہے،روح سِرّبن جاتا ہے اورسِرّخفی بن جاتا ہےخفی انا میں تبدیل ہوجاتی ہےاورانا مخفی میں ڈھل جاتی ہےاوراسے توحیدِ مطلق کہتے ہیں۔

    سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ کثرت کے نہیں وحدت(وصالِ الہیٰ)کے قائل ہیں۔آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    باجھ وصال اللہ دے باہو،سب کہانیاں قصے ھُو
    مفہوم : وصالِ الہیٰ کے بغیر تمام مقامات اور منازل بے کارہیں۔
    آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    چار بُودم سہ شدم اکنوں دویم ، و ز دوئی بہ گزشتم و یکتا شدم
    ترجمہ:میں پہلے چار تھا پھر تین ہوااور جب دوئی سے بالکل نکل گیا تو یکتا ہو گیا۔
    آپ رحمتہ اللہ علیہ کے طریقہ سلوک میں یکتائی یعنی وصالِ الہیٰ کے بغیرتمام مقامات اورمنازل بے کاراورلا حاصل ہیں اس لیے پانچ حواس یا لطائف میں ذاتِ حق کا نظرآنا یا دیدار ہونے کے آپ قائل ہی نہیں ہیں۔
    اس بیت میں پنجے،پنجاں یعنی پنج کی تکرار ہے اور سب جانتے ہیں پنجابی میں جب پنج کا ذکرہو تو مراد پنجتن پاک یعنی اہل بیتؓ ہوتے ہیں حضرت سخی سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ بھی اسی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ پنجتن پاک کی معرفت حاصل کیے بغیرفقرکی انتہا تک رسائی ناممکن ہے۔
    پنجتن پاک (اہل بیتؓ ) کے بارے میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    • حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے"حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)تو بس میرے جسم کا ٹکڑا ہے'اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے"۔(مسلم ،نسائی)
    • حضرت مسوربن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے "حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بے شک فاطمہ(رضی اللہ عنہا) میری شاخ ہے،جس چیز سے اسے خوشی ہوتی ہے اس چیز سے مجھے بھی خوشی ہوتی ہے اور جس سے اُسے تکلیف پنہچتی ہے اس چیزسے مجھے بھی تکلیف پنہچتی ہے"۔ (امام احمد ۔حکام)
    • اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں"میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاسے بڑھ کر کسی کوعادات واطوار'سیرت و کرداراور نشست وبرخاست میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا"۔(امام ترمزی ۔ابوداؤد )
    • اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں"میں نے اندازِ گفتگو میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی اور کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا"۔ (بخاری ۔ نسائی ۔ابنِ حبان)
    • حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ فرماتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : علی( رضی اللہ عنہ) مجھ سے اور میں علی (رضی اللہ عنہ ) سے ہوں اور میری طرف سے میرے اور علیؓ کے سوا کوئی دوسرا ادا (ذمہ داری) نہیں کر سکتا"۔ (ترمذی ۔ ابنِ ماجہ ۔ احمد)
    • حضرت شعبہ رضی اللہ عنہ' سلمہ بن کبیل سے روایت فرماتے ہیں"میں نے ابوطفیل سے سناکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کا میں مولیٰ ہوں'اس کا علی مولیٰ ہے۔"(امام ترمذی)
    • حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ایک طویل روایت میں بیان فرماتے ہیں"حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بے شک علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔"(امام ترمزی ۔احمد )
    • حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے"حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیرخم کے دن فرمایا:جس کا میں مولیٰ ہوں'اس کا علی مولیٰ ہے۔"(امام احمد ۔ طبرانی)
    • حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں"حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:یہ علی بن ابن طالبؓ ہے اس کا گوشت میرا گوشت ہے اور اس کا خون میرا خون ہے اور یہ میرے لیے ایسے ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ لسلام کے لیے حضرت ہارون علیہ لسلام'مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔"(امام طبرانی)
    • حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ "امام حسن رضی اللہ عنہ سینہ سےسر تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل شبیہ ہیں اور امام حسین رضی اللہ عنہ سینہ سے نیچے پاؤں تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل شبیہہ ہیں۔"(امام ترمذی ۔احمد)
    • حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے "حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہم سے محبت کی 'اس نے درحقیقت مجھ سے ہی محبت کی اور جس نے حسن اور حسین (رضی اللہ عنہم)سے بغض رکھا اس نے مجھ ہی سے بغض رکھا۔"(ابن ماجہ ۔ نسائی ۔ احمد)
    • حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں۔"
    • حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت مبارکہ :"آپ فرما دیں کہ آ جاؤ ہم اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو لیتے ہیں" نازل ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمه ،حضرت حسن اور حضرت حسین کو بلایا'یا اللہ !یہ میرے اہل بیت ہیں۔"(مسلم ۔ ترمذی)
    • حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں" حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت حسن اور حسین( رضی اللہ عنہم) کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا :جس نے مجھ سے اوران دونوں سے محبت کی اوران کے والد سےاور ان کی والدہ سے محبت کی قیامت کے دن میرے ساتھ میرے ہی درجہ میں ہو گا۔"(ترمذی۔احمد)
    • حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے" حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمه ،حضرت حسن اور حضرت حسین سے فرمایا:جس سے تم لڑو گے میری بھی اس سے لڑائی ہو گی اور جس سے تم صلح کرو گے میری بھی اس سے صلح ہو گی۔"(ترمذی۔ابن ماجہ)-؎۱
    ___________________________________________________
    ؎۱ فضائل اہل بیت کے تفصیلی مطالعہ کے لئے راقم کی تصانیف "فضائل اہل بیت اور صحابہ کرام (قرآن اور حدیث کی روشنی میں)"اور "شمس الفقر"میں باب 16"فضائل اہل بیت"کا مطالعہ فرمائیں۔
    ____________________________________________________________
    حضرت شیخ احمد سر ہندی مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
    اللہ تعالیٰ سے وصل اوروصال کے دو طریقے اورراستے ہیں۔ایک نبوت کا طریقہ اور راستہ ہے اس طریق سے اصلی طور پر واصل اورموصل محض انبیاءعلیھم السلام ہیں اوریہ سلسلہ حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پرحتم ہوا۔ دوسرا طریقہ ولایت کا ہے اس طریق والے واسطے (وسیلہ)کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے واصل اورموصول ہوتے ہیں۔ یہ گروہ اقطاب ،اوتاد ،ابدال ،نجباء وغیرہ اورعام اولیاء پرمشتمل ہے اور اس طریقے کا راستہ اوروسیلہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ذاتِ گرامی ہے اور یہ منصبِ عالی آپ رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی سے متعلق ہے ۔ اس مقام میں حاتم الا انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک حضرت امیرکرم اللہ وجہہ کے سرپر ہےاور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اورحسنین کریمین رضی اللہ عنہم اس مقام پرحضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ شامل اور یکتا ہیں(مکتوب123 بنام نور محمد تہاری)
    حضرت سخی سلطان باہو اس حقیقت کو اس طرح بیان فرماتے ہیں :
    • حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فقر پایا۔(عین الفقر۔ محک الفقرکلاں)
    • آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو عطا فرمایا۔ (جامع الااسرار )
    • فقراء کے پیر حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں (جامع الااسرار )
    سیّدہ کائنات حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سلطان الفقرہیں۔آپ فقرکی پہلی سلطان ہیں اورآپ رضی اللہ عنہا کی منظوری کے بغیرفقرعطاہی نہیں ہوتا۔ حضرت سخی سلطان باہو جامع الااسرارمیں فرماتے ہیں :
    • حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہافقر کی پَلی ہوئی تھیںاورانہیں فقرحاصل تھا ۔ جو شخص فقرتک پہنچتا ہے ان ہی کے وسیلہ سے پہنچتا ہے۔
    حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے بارے میں سخی سلطان باہو رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:
    • اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ (فقر)میں کمال امامین حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ،اورحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو نصیب ہوا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اورخاتونِ جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں (محک الفقرکلاں)
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  17. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    مندرجہ بالا عبارات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ فقرکے کمال فنافی"ھو" کےمقام اورمرتبہ پریہ چاروں ہستیاں یکتا اورمتحد ہیں اوران میں کوئی فرق نہیں ہے جب تک ان چاروں ہستیوں کےمقام اورمرتبہ کے بارے میں طالبِ مولیٰ بھی یکتا نہیں ہو جاتا فقر کی خوشبو تک کو نہیں پا سکتا ۔
    کیونکہ :
    بیدم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات
    خیر النساء حسین و حسن مصطفیٰ علی
    ***

    لِیْ خَمْسَۃُُ اُطْفِیْ بِھَا حَرّالْوَ بَاءِالْحَاطِمَتہِ o
    اَلْمُصْطَفٰی والْمُرتَضٰی وَاَبْنَاھُمَاوَالْفَاطِمَۃ o
    ترجمہ: پنجتن پاک (اہل بیتؓ)حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت علی کرم اللہ وجہہ،حضرت فاطمه رضی اللہ عنہا اوران کے دونوں فرزند حضرت امام حسن اورامام حسین رضی اللہ عنہم ایسی ہستیاں ہیں جن کی وجہ سے ہرمہلک وبا (ظاہری و باطنی) کی آگ بوجھ جاتی ہے۔
    حضرت سلطان باہورحمتہ اللہ علیہ کی بیت مبارک کا واقعہ بھی پنجتن پاک کی محفل میں ہوا اور یہ حقیقت ہے حضرت سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ اہل بیتؓ کی محبت میں غرق تھےاورہر سال یکم محرم سے دس محرم تک شہدا کربلا کاعرس منایا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ آج تک تین سوسال گزرنے کے بعد بھی جاری ہے۔ عاشورہ محرم کے دس دنوں کےاندرزائرین کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔ ہزاروں آ رہے ہیں تو ہزاروں زیارت کر کے واپس جا رہے ہوتے ہیں۔عاشورہ کے آخری تین ایام میں تو تعداد لاکھوں سے تجاوزکرجاتی ہے۔اس طرح آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزارپاک پردو بڑھے اجتماعات ہوتے ہیں لاکھوں لوگ حاضری دیتے اور فیض پاتے ہیں۔
    حضرت سخی سلطان باہورحمتہ اللہ علیہ اس بیت میں اہل بیت کے باطن میں مرتبہ یکتائی اور کثرت میں مرتبہ اور مقام کے بارے میں بیان فرماتے ہیں ۔
    "پنجے محل"سے مراد پنجتن پاک کے پاک اورطَاہرمطاہر بشری وجود ہیںاور چنان سے مراد ان میں ھُو کا نور ہے جو واحد اوریکتا ہے اگران کی بشریت کو دیکھا جائے تو وہ مختلف صفاتِ کاملہ کے مظہرہیں اور اپنی اپنی جگہ کامل'اکمل اورنورالہدیٰ ہیں لیکن اگرباطن کی نگاہ سےاُن کی حقیقت کو دیکھا جائے تووہ ایک ہی ذات کے کامل مظہر ہیں لہٰذا وہ حقیقت میں واحد یکتا'اور بظاہرجداجدا ہیں یہ ظاہری کثرت اورباطنی وحدت ایک طالب کے لیےھُو کی معرفت کوبعض اوقات مشکل بنا دیتی ہے۔ اسی مشکل کا اظہار حضرت سلطان باہواس بیت میں فرما رہے ہیں۔ طالب اسی کشمکش میں رہتا ہے کہ وہ انہیں واحد' ایک اور یکتا سمجھے یا پانچ ۔اگروہ ایک ہی ذات هُوکے مظہر ہیں تو وہ هُو کوسجدہ کرنے کے لیے ظاہری طورپرکس کی طرف رخ کرے اوربوقتِ حساب مغفرت کے لیے کس کی طرف رجوع کرے۔هُو ہی قبلہ ہےاوروہ واحد'احد ہے۔ لیکن ظاہری طورپران پانچ بشری وجودوں میں اس کاہویدا ہونا ایک ایسا سِرّ ہے جس سے آشنائی صرف سَردے کرہی حاصل هو سکتی ہے اوریہ راز صرف انہی عارفین کو حاصل ہوا جو مُوْتُوْاقَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا(مرنے سے پہلے مر جاؤ) کے مقام سے گزرکر خود ذاتِ هُو میں فناہو کرفنافی هُوہوئے اورهُو کے محرم رازہو گئے۔
    41
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  18. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ت
    01

    ت- تارکِ دُنیا تد تھیوسے ،جداں فقرملیوسے خاصا ھو ۔
    راہ فقردا تد لدھیوسے،جداں ہتھ پکڑیوسے کاسا ھو ۔
    دریا وحدت دا نوش کیتوسے،اجاں وی جی پیاسا ھو ۔
    راہ فقررَتّ ہنَجھو رووَن باہو،لوکاں بھانے ہاسا ھو ۔
    تارکِ دُنیا: ترکِ دنیا کرنے والا
    تد ۔ جداں:تب ۔ جب
    تھیوسے :ہم ہوے،ہم ہوگئے
    ملیوسے :ہمیں ملا
    لدھیوسے:پایا،پانا
    ہتھ:ہاتھ
    پکڑیوسے: پکڑا،پکڑنا
    کاسا:پیالہ
    کیتوسے:ہم نے کیا
    اجاں وی:ابھی بھی
    رَتّ : خون
    ہنَجھو۔ رووَن: آنسو ۔ روئیں
    لوکاں :لوک کی جمع جس کے معنی لوگ کے ہیں،مراد لوگوں
    بھانے: کے لیے
    ہاسا: ٹھٹھا ، مذاق


    ترجمہ :
    ہم نے دنیا کی محبت ترک کی اورہرغیراللہ کو دل سے نکال کرجامِ عشق تھام لیا تو فقرِمحمدی صلی اللہ علیہ وسلم نصیب ہوا اور یہ اُس وقت ہواجب گھر بارسب اللہ کی راہ میں لوٹا بیٹھے۔ ہم نے دریائے وحدتِ الہیٰ پورا نوش کر لیا ہے لیکن تشنگی اور پیاس کم نہیں ہوئی۔ عاشق لوگ وصالِ الہیٰ کے لیے بےتاب ہو کر خون کے آنسو بہاتے رہتے ہیں مگرانجان اور نہ محرم لوگ اُن کی اِس حالت سے بے خبراُن کا ٹھٹھا اور مذاق اڑاتے ہیں۔
    42
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  19. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ت
    02

    ت- تُلّہ بَنھ توکّل والا،ہو مردانہ تریئے ھو ۔
    جس دُکھ تھیں سُکھ حاصل ہووے،اُس دُکھ تھیں نہ ڈریئے ھو ۔
    اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا آیا،چِت اُسے وَل دھریئے ھو ۔
    اوہ بے پرواہ درگاہ ہےباہو،اوتھے رو رو حاصل بھریئے ھو ۔

    تُلّہ :تیرنے کا آسرا،دریا کے کنارے رہنے والے لوگ گھاس پھوس اورلکڑیوں کوجوڑکرایک فرش نماکشتی بناتے ہیں اوراس کے آسرا سے تیر کا دریا عبورکرتے ہیں اس کو تُلّہ کہتے ہیں۔
    بَنھ :باندھ کر
    مردانہ :مردانہ وار،مردوں کی طرح،طالبِ مولیٰ کی طرح
    تریئے: تیریں
    تھیں: سے
    اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا: بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے (الم نشرح)
    چِت: دھیان ، توجہ
    اُسے ۔ وَل: اس ۔ طرف
    دھریئے: رکھیے ،لگائیے
    بے پرواہ درگاہ: بے نیاز ذات
    حاصل بھریئے: فائدہ اٹھائیں
    سکھ : آرام اورسکون

    ترجمہ:
    اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور توکّل کر کے مردانہ وار راہِ فقر میں چلنا چاہیے۔جس دکھ کے بعد سکھ حاصل ہونا ہو اس دکھ کا سامنا کرتے ہوئے ڈرنا نہیں چاہیے۔قرآنِ پاک کے اس حکم کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہر تکلیف کے ساتھ آرام اور سکون شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ تو بے نیاز اور بے پرواہ ہے اس سے رو رو کر "وصال"طلب کرنا چاہیے۔
    43
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  20. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ت
    03

    ت - تن مَن یار میں شہر بنایا،دل وِچ خاص محلّہ ھو ۔
    آن الف دل وَسوں کیتی،میری ہوئی خوب تسلّہ ھو ۔
    سبھ کچھ مینوں پیا سنیوے،جو بولے ماسویٰ اﷲ ھو ۔
    دردمنداں ایہہ رمز پچھاتی باہو،بے درداں سر کَھلّہ ھو۔
    تن مَن: ظاھرو باطن
    الف : اسمِ اَللہُ ذات
    آن : آ کر
    وَسوں : رہنے لگا
    تسلّہ : تسلی،تشفی
    پیا سنیوے: سنائی دے
    ماسویٰ اﷲ: اللہ تعالیٰ کے علاوہ باقی تمام کائنات اور موجودات
    دردمنداں: درد مند کی جمع،درد مند عاشق کو کہتے ہیں مراد عاشقوں
    بے درداں: طالبانِ ناقص ، طالبانِ دنیا وعقبٰی
    رمز : راز
    کَھلّہ : جوتا


    ترجمہ:
    میں نے ظاھروباطن کواپنے محبوبِ حقیقی کا شہر بنا لیا ہے اور دل میں اُس کے لیے ایک خاص محلّہ آباد کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آ کر میرے دل کے اس خانہ کو آباد کر کے میری تسکین و تشفی کر دی ہے۔ ماسویٰ اللہ مجھے سب کچھ سنائی دے رہا ہے۔ اس راز کا صرف درد مندوں ،عاشقوں کوپتہ ہے۔ بے درد (طالبِ دنیا و عقبٰی) اس رازاور مقام کونہیں سمجھتےاور مجھے اُن کی پرواہ بھی نہیں ہے۔
    44
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  21. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ت
    04

    ت- توڑے تنگ پُرانے ہووَن،گُجھے نہ رہندے تازی ھو ۔
    مار نقارہ دَل وچ وڑیا،کھیڈ گیا اِک بازی ھو ۔
    مار دلاں نوں جول دتونیں،جدوں تکے نین نیازی ھو ۔
    اونہاں نال کیہہ ہویا باہو،جنہاں یارنہ رکھیا راضی ھو ۔

    توڑے: خواہ
    تنگ : گھوڑے کی زین باندھنے والا پٹہ
    ہووَن: ہو جائیں
    گُجھے : خفیہ، پوشیدہ
    تازی: اصیل عربی گھوڑے
    دَل: میدان
    وڑیا: داخل ہوا
    کھیڈ گیا : کھیل گیا، جیت گیا
    جول دتونیں: ہلا دیا، ہلا کے رکھ دیا
    تکے:دیکھے
    نین۔ نیازی: آنکھیں ۔ عاشقانہ
    اونہاں نال:اُن کے ساتھ
    یار: مرشد کامل


    ترجمہ:
    ظاہری اسباب کتنے ہی تنگ کیوں نہ ہوں اور حالات کتنے ہی تکلیف دہ اور کشیدہ کیوں نہ ہوں طالبانِ مولیٰ اصلی عربی نسل کے گھوڑوں کے شہسواروں کی طرح پوشیدہ نہیں رہتے۔ یہ لوگ بڑھے جانبازانہ انداز میں میدانِ عشق میں داخل ہوتے ہیں اور عشق کی بازی کھیل جاتے ہیں یعنی اپنی زندگی اور ہر چیز داؤ پر لگا کر"گوہر" حاصل کر لیتے ہیں اور شانِ محبوبیت یہ ہوتی ہے کہ جدھرنگاہ اٹھاتے ہیں ہلچل مچ جاتی ہے۔ آخری مصرعہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ اُن لوگوں کی حالتِ زار پر افسوس کرتے ہیں جو اپنے مرشد کو راضی نہیں رکھ سکتے اور مرشد کو ناراض کر کے خوار ہوتے ہیں اور وصالِ حق تعالیٰ سے محروم رہ جاتے ہیں ۔
    45
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  22. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ت
    05

    ت- تسبی دا توں کسبی ہویوں،ماریں دَمّ وَلیاں ھو ۔
    من دا منکا اک نہ پھیریں،گل پائیں پنج وِیہاں ھو ۔
    دَین لگیاں گل گھوٹو آوِے،لین لگیاں جھٹ شِیہاں ھو ۔
    پتھر چِتّ جنہاںدے باہو،اوتھے زایا وَسنا مینہاں ھو ۔

    تسبی : تسبیح
    کسبی ۔ ہویوں: ماہر ۔ ہوا
    وَلیاں: ولیوں کی طرح
    من : روح ، باطن
    منکا : دانہ
    پھیریں: باطنی تبدیلی
    پنج وِیہاں: ایک سو کی تسبیح (20 ×5)
    دَین لگیاں: دیتے ہوئے
    گھوٹو: دل تنگ ہو جائے
    لین لگیاں : لیتے ہوئے
    شِیہاں: شیر کی طرح جھپٹ کر لینا
    چِتّ : دھیان
    زایا: ضائع
    وَسنا۔ مینہاں: برسنا ۔ بارش


    ترجمہ:
    تُو ورد وظائف میں بڑا ماہر ہو گیا ہے اور اپنے آپ کو ولی سمجھنے لگا ہے۔ گلے میں تُو نے سو دانوں والی تسبیح لٹکا رکھی ہے لیکن اِن ورد وظائف کا تیرے دل پر تو کوئی اثر ظاہرنہیں ہوا۔ وہاں تو ابھی تک شیطان' نفس اور دنیا کا بسیرا ہے۔ خدا کی راہ میں مال خرچ کرتے وقت تو کہیں نظر نہیں آتا مگر جہاں کہیں مال و زر نظر آتا ہے اُسے حاصل کرنے کے لئے بڑی پھرتی اور چستی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جن لوگوں کے دل منافقت اورہوسِ دنیا سے پتھر ہو چکے ہیں وہاں تجلیاتِ الہیٰ کا نزول نہیں ہوتا۔
    46
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  23. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ت
    06

    ت- تدوں فقیر شتابی بندا،جد جان عشقَ وِچ ہارے ھو ۔
    عاشق شیشہ تے نفس مربّی،جان جاناں توں وارے ھو ۔
    خود نفسی چھڈ ہستی جھیڑے،لاہ سِروں سب بھارے ھو ۔
    باہو باجھ مویاں نہیں حاصل تھیندا،توڑےسَے سَے سانگ اُتارے ھو
    تدوں : تب ، اس وقت
    شتابی :
    شتابی : فوراً،جلدی
    عاشق شیشہ: مومن رحمٰن کا آئینہ (حدیث)
    نفس مربّی: نفس مطمئنہ، ہدایت دینے والا نفس
    جاناں ۔ وارے: محبوب ۔ قربان کرے
    خود نفسی: خود پسندی
    چھڈ : چھوڑ
    جھیڑے: جھگڑے ، فضول کام
    لاہ: اتار دے
    بھارے: بوجھ ،ذمہ داریاں
    باجھ مویاں: مرے بغیر، ان الفاظ میں حدیث پاک "مرنے سے پہلے مر جاؤ" کی طرف اشارہ ہے
    تھیندا: ہوتا
    سَے سَے: سینکڑوں
    سانگ اُتارے: رنگ بدلے ، نقل اتارے


    ترجمہ:
    فقیر تب ہی کامل ہوتا ہے جب عشق میں اپنی جان قربان کر دیتا ہے اور "لا" کی تلوار سے خواہشاتِ نفس کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اپنا گھر بار،مال و متاع اور اپنی ہستی تک نیلام کر دیتا ہے پھر اپنے آپ کو عشق کی آگ میں جلا کر فنا کر لیتا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ طالب کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ خود پسندی اور فضولیات سے کنارہ کشی اختیار کر لے تا کہ یکسوئی کے ساتھ راہِ حق پر گامزن ہو سکے کیوں کے مرنے سے پہلے مرے بغیر وصالِ الہیٰ حاصل نہیں ہوتا خواہ ظاہری طور پر کتنی ہی عبادات اور مجاہدہ کیا جائے۔
    47
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  24. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ت
    07

    ت- توں تاں جاگ نہ جاگ فقیرا،اَنت نوں لوڑ جگایا ھو
    اکھیں میٹیاں نہ دل جاگے،جاگے جاں مطلب نوں پایا ھو ۔
    ایہہ نکتہ جداں کیتا پُختہ ،تاں ظاہر آکھ سنایا ھو ۔
    میں تاں بُھلی ویندی ساں باہو،مینوں مُرشد راہ وِکھایا ھو ۔
    توں تاں: توُ توَ
    اَنت : آخرکار
    اکھیں میٹیاں : آنکھیں بند کرنے سے ، حالت مراقبہ میں جانے سے
    میں تاں بُھلی: میں تو بھول چکا تھا
    ویندی ساں :فراموش کر چکا تھا
    وِکھایا : دکھایا


    ترجمہ:
    محض آنکھیں بند کرنے یا مراقبہ میں بیٹھنے سے دل بیدار نہیں ہوتا ایسا توتُو اپنی ضرورت کے لئے اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے کرتا ہے۔ دل تو تب بیدار ہوتا ہے جب ذکروتصورِ اسمِ اَللہُ ذات سے دیدارِ ذات ہوتا ہے۔ میں بھولا بھٹکا ہوا تھا اور محض ورد وظائف اور مراقبوں کو ہی حقیقت سمجھ بیٹھا تھایہ تو میرا مرشد کامل ہے جس نے مجھے حق کی راہ دکھائی اور جب میں نے یہ نکتہ پختہ کر لیا تو حقیقت کو پا لیا۔
    48
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  25. یوسف سلطان
    آف لائن

    یوسف سلطان ممبر

    شمولیت:
    ‏13 ستمبر 2015
    پیغامات:
    170
    موصول پسندیدگیاں:
    194
    ملک کا جھنڈا:
    ت
    08

    ت- تسبی پھری تے دل نہیں پھریا،کی لیناں تسبی پھڑ کے ھو ۔
    عِلم پڑھیا تےادب نہ سِکھیا،کی لیناں عِلم نوں پڑھ کے ھو ۔
    چِلّے کٹّے تےکُجھ نہ کھٹیا،کی لیناں چِلیاں وڑ کے ھو ۔
    جاگ بناں ددھ جمدے ناہیں باہو،بھاویںلال ہوون کڑھ کڑھ کے ھو ۔
    تسبی پھری: تسبیح پڑھنا
    دل نہیں پھریا: باطن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی
    سِکھیا: سیکھا
    چِلّے کٹّے: چلہ کشی کی
    کھٹیا: حاصل کیا ، پایا
    جاگ : دودھ جمانے کے لئے جو دہی یا لسی دودھ میں ڈالتے ہیں
    بناں : بغیر
    کڑھ کڑھ: پک پک کر

    ترجمہ:
    تُو ورد وظائف پڑھتا رہا اور تیری تسبیح بھی چلتی رہی لیکن اس کا کوئی اثر تیرے دل (باطن ) کے اندر ظاہر نہ ہوا ایسے ورد وظائف سے کیا حاصل؟ تُو نے علم بھی حاصل کر لیا لیکن تجھے " فقراء" کے ادب و حقیقت کا پتا نہ چل سکا ایسے علم کا کیا فائدہ؟ تو چلہ کشی بھی کی لیکن تجھے وصالِ الہیٰ نصیب نہ ہو سکا ایسے چِلّوں کا کیا فائدہ؟ یاد رکھ بغیر مرشد کامل کے اللہ تعالیٰ کا قرب و وصال حاصل نہیں ہو سکتا خواہ کتنی ہی عبادات اور وظائف کر لئے جائیں۔
    49
    جاری ہے۔۔۔۔
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  26. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    87,225
    موصول پسندیدگیاں:
    19,959
    ملک کا جھنڈا:
    جزاک اللہ ۔۔بہت زبردست کام کر رہے ہیں آپ ۔اسے جاری رکھیں
  27. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    125,704
    موصول پسندیدگیاں:
    14,182
    ملک کا جھنڈا:
    میں کوجی میرا دلبر سوہنا ، میں کیونکر اس نوں بھانواں ہُو
    ویہڑے ساڈے وڑدا ناہیں پئی لکھ وسیلے پانواں ہُو
    ناں میں سوہنی ناں دولت پلّے ، کیوں کر یار مناواں ہُو
    ایہہ دکھ ہمیشاں رہسی باہو روندڑی ہی مر جاواں ہُو

    میں بد صورت ہوں میرا محبوب نہائت حسین ہے ، میں کس طرح سے اس کو پسند آ سکتی ہوں
    میرے گھر میں وہ قدم نہیں رکھتا میں نے لاکھوں تدبیریں کیں ہیں
    نہ تو میں حوبصورت ہوں نہ ہی مال و دولت ہے میں کیسے محبوب کو مناوں
    باہو یہ دکھ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ رو رو کر مر جاؤں
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں