1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جیل

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از نظام الدین, ‏7 اگست 2015۔

  1. نظام الدین
    آف لائن

    نظام الدین ممبر

    شمولیت:
    ‏17 فروری 2015
    پیغامات:
    1,981
    موصول پسندیدگیاں:
    2,048
    ملک کا جھنڈا:
    گزشتہ دنوں میرے ایک دوست کو غلطی سے پولیس پکڑ کر لے گئی۔ یاد رہے یہ غلطی میرے دوست کی نہیں پولیس کی تھی، لہٰذا اسے فوراً تین دن بعد چھوڑ دیا گیا۔ مجھے اس کی خوش قسمتی پر رشک آرہا تھا جسے بلاوجہ جیل میں رہنے کی سعادت نصیب ہوئی ورنہ یہاں جانے کے لئے تو بڑے بڑے لوگوں کو بھی گھنٹوں تقریریں، توڑ پھوڑ، مارکٹائی اور نہ جانے کیا کیا ناپسندیدہ فعل کرنے پڑتے ہیں، پھر کہیں جاکر انہیں جیل جانے کا موقع ملتا ہے۔

    لیکن مجھے حیرانی ہوئی کہ لوگ اسے رہا ہونے کی مبارک باد دے رہے ہیں حالانکہ مبارک باد تو اسے اس بات کی دینی چاہئے تھی کہ اب وہ عام آدمی نہیں رہا کیونکہ جیل جانے والا انسانوں کے جم غفیر سے یکدم الگ ہوکر اپنی انفرادیت کا احساس دلاتا ہے۔ جیل جاتے ہی وہ اس قدر اہم ہوجاتا ہے کہ اس کی ملاقات کے لئے کئی کئی سفارشی رقعے لانا پڑتے ہیں، گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، تب کہیں وہ جھروکوں سے جھلک دکھاتا ہے۔ جسے کبھی کسی نے آنکھ بھر کر نہیں دیکھا ہوتا اسے دیکھتے ہی آنکھیں بھر آتی ہیں۔

    جیل جانا دراصل شریف ہونا ہے کہ شریف وہ ہوتا ہے جو جرم نہ کرے اور جرم ہمیشہ وہ کرتے ہیں جو جیل سے باہر ہوتے ہیں بلکہ جیل دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں سب سے کم چوریاں، ڈاکے اور قتل ہوتے ہیں۔

    یوں بھی اب ہمارے ہاں جیلوں میں اتنی جگہ نہیں، جتنے اس کے مستحق افراد۔ سو اب یہی حل ہے جو چند شریف شہری ہیں انہیں جیلوں میں بند کردیا جائے۔

    (ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب ’’شیطانیاں‘‘ سے اقتباس)
     
    نعیم اور ھارون رشید .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    130,988
    موصول پسندیدگیاں:
    16,673
    ملک کا جھنڈا:
    صحافیوں کی ایک ٹیم جیل کا دورہ کر رہی تھی۔ایک کوٹھری میں ایک ایسے صاحب بھی تھے جو شکل سے خاصے شریف اور مسکین دکھائی دے رہے تھے۔ایک صحافی نے ان کے بارے میں‌جیلر سے پوچھا:
    “ان صاحب نے کیا جرم کیا ہے؟“
    انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔“جیلر نے بتایا۔“انہوں نے مشہور ڈاکو حنیف ٹنڈے کو قتل کرتے دیکھا تھا،یہ اس قتل کے اکلوتے چشم دید گواہ ہیں۔انہیںحفاظت کے خاطر جیل میں‌رکھا گیا ہے۔“

    اور حنیف ٹنڈا کہاں‌ہے؟
    سحافی نے سوال کیا۔
    “وہ ضمانت پر رہا ہو چکا ہے۔“جیلر نے اطمینان سے کہا۔
     
    نعیم، نظام الدین اور پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    پرلطف
     
    نظام الدین نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں