1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جنات ، ہمزاد ، مؤکلات ، اظمار اور نصابِ جفر کی حقیقت۔

'علوم مخفی و عملیات وظائف' میں موضوعات آغاز کردہ از ملک حبیب, ‏24 جون 2015۔

  1. ملک حبیب
    آف لائن

    ملک حبیب ممبر

    شمولیت:
    ‏20 مارچ 2015
    پیغامات:
    78
    موصول پسندیدگیاں:
    111
    ملک کا جھنڈا:
    جنات ہمزاد، مؤکلات، اظمار اور نصابِ جفر کی حقیقت،،،،،،

    در اصل جنات کی ایک قوم ہے جس میں خاص و عام، نیک و بد، عالم و جاہل سب موجود ہیں۔۔ یہ تخیل اور حقیقت صرف اسلام نے ہی بیان نہیں کی بلکہ اسلام سے ہزار ہا سال پہلے بھی آدمیوں میں یہ چرچا موجود تھا،، جنات کی کل آبادی اور حکومت کا ذِکر کرنے کے لئے ایک مستقل کتاب چاہئیے یہاں صرف ضروری معلومات ہی بیان کی جا رہی ہیں،،،،، تعریف جنات کی کچھ یوں ہے کہ

    ھُوَ جسم ناریُٗ وَ مُتشکِلُٗ بہِ اشکالِ المختلفہ۔۔۔

    یہ ناری عناصر کے غُلبہ میں پیدا شُدہ مخلوق ہے اور ہر شکل اختیار کر سکتی ہے اور ہر ملک میں ہر طرف آباد ہے ،،،یہ انسان کو بھی مختلف صورتوں میں نقصان پہنچاتے ہیں، کبھی مال کا نقصان، کبھی جان کا نقصان اور کبھی اولاد کا نقصان ۔۔
    چونکہ ان کو انسان دیکھ نہیں سکتا جب تک وہ دکھلانا نہ چاہئیں اس لئے بد کردار جن نقصان دہ ہوتے ہیں کبھی آدمی کی جان پر بھی اس کا اثر ہو جاتا ہے جیسے قرآن شریف میں ہے کہ

    یتخبطہُ الشیطٰنُ مِن المَس (البقرہ)
    (جیسے کسی کو لِپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو)

    اور کئی دوسرے موقعوں پر جنوں کی حرکات کا ذِکر کیا ہے اور حضرتِ سلیمانؑ کے قصہ میں اس کی تفصیل بھی ہے۔۔
    جنات کو تابع کرنے کے قانونی دو طریقے ہیں ایک نورانی اور دوسرا ظلمانی،،،
    نورانی اس طرح کہ اسماء اِلٰہی، آیاتِ قرآنی اور اس قِسم کے اذکار کی کثرت یا طریقہ سے جنوں پر اثر ہو اسطرح وہ حاضر ہوتے ہیں اور معاہدۂ تابعداری کرتے ہیں نیز ان کی پابندی سے جو جنوں کے مزاج کا مقتضا ہے اس پر کار بندی سے اُن کے ساتھ تعلق قائم رہتا ہے اور انسان اُن سے بعض کاموں میں امداد بھی حاصل کر سکتا ہے مگر جنات اس تابعداری کو پسند نہیں کرتے، اس لئے اُس عامل سے وہ دشمنی رکھتے ہیں اس کا مال خراب کرتے ہیں اس کی اولاد کو ضآئع کرتے ہیں اور نقصان پہنچاتے ہیں اور ایسے واقعات رونما ہوجاتے ہیں کہ اِنسان کی زندگی خراب ہو جاتی ہے،،،،،،
    دوسرا طریقہ ظلمانی طریقہ ہے یہ طریقہ اس طرح ہے کہ اسلام سے پہلے کے زمانے کے منتر اور ایسے کلمات مرتب شُدہ ہیں کہ جن کے باقاعدہ پڑھنے سے جنات اس عامل کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور خوش ہو کر حاضر ہوتے ہیں اور خِدمات بھی کرتے ہیں اور جو خدمت ان کو بتلائی جائے وہ بجا لاتے ہیں یہ طریقہ مِن قبیل جادو ہیں،،، اِن کے پڑھنے کے طریقے ،عمل کی تکمیل اور چِلے ایسے ہیں کہ جنات تابع ہو سکتے ہیں اور بعض طریقے ایسے ہیں کہ جنات کا بادشاہ بھی تابع ہو جاتا ہے،،، اِن اعمال کے علیحدہ علیحدہ طریقے ہیں ،،چالیس دِن ترکِ حیوانی کیساتھ ہر رات کو ویرانۂ جنگل میں بیٹھ کر پورا کرتا رہے،، اثنائے عمل میں جنات سانپ،اونٹ ،اور مست ہاتھی وغیرہ یعنی مختلف بہ صورت شکلوں میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں مگر عامل ایک لکیر (حِصار) اپنے گرد وظیفۂ متعینہ پڑھ کر کھینچ لیتا ہے اس لکیر سے اندر کوئی صورت اِن کی داخل نہیں ہوتی، اگرچہ لکیر کے قریب ہو کر بہت سخت ڈراتے ہیں،،، اکثر لوگ اس عمل سے ایسے وقت میں جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں،یا بیمار ہو جاتے ہیں،،،، ایک مولوی صاحب نے ایک شخص کو چِلے کی اِجازت دی وہ گوجر خان کا رہنے والا تھا اس بیوقوف نے مکان کی چھت پر بیٹھ کر وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا،، ایک دِن بیٹھا وظیفہ پڑھ رہا تھا کہ تھوڑی نیند آ گئی اور آنکھیں بند ہو گئیں تو کیا دیکھتا ہے کہ دریا کا پانی تیز آ گیا ہے اور اس کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے اس اضطراب میں وہ یہ سوچتا ہے کہ کود کر کشتی پر چڑھ جاؤں جب وہ کُودا تو مکان سے نیچے گِر پڑا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور اُس نے عمل سے توبہ کر لی۔۔
    جب چالیس روز تک روزانہ کا عملِ متعینہ پورا ہو جائے تو جنات اپنی اصلی شکل میں سامنے آویں گے اور سوال کریں گے کہ کیا چاہئیے اس حد تک پہنچ کر دوسرے دِن ایک قینچی لکیر سے باہر رکھ کر وظیفہ پڑھنتے رہنا چاہئیے جنات آویں تو اُن کو حُکم دے کہ اپنے بدن کے بال کاٹ کر عامل کو دے دیں اور یہ معاہدہ ہو کہ جب بُلاوے جائیں تو حاضر ہوں،،،اب حاضر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تنہا جگہ بیٹھ کر وہی معمول کا وظیفہ پڑھے اور سامنے آگ رکھ کر وہ بال آگ کے نزدیک لے جائے تو جنات کا قاصد آ جائے گا اس کو جو حُکم دیں گے وہ خدمت انجام دے گا مگر جب تک عامل اس عمل کو رکھنا چاہے وہ اسی اصول کا پابند رہے ورنہ ہر عمل باطل ہو جائے گا،،،،اس عمل کو پورا کرنا اسلامی، رسولی(ص) احکام کی خِلاف ورزی روگردانی بلکہ مخالفت پر مبنی ہے پڑھنے کہ الفاظ ایسے ہیں کہ جن کے پڑھنے سے انسان کا ایمان نہیں رہتا،،،،مثلاً ایک منتر کا مضمون یہ ہے کہ۔۔۔۔

    بہورا ہاتھی عمل عماری،،،،،جس چڑھ آئی پنج ہزاری
    پنج ہزاری دی دہائی ہے،،سر چاون چوکی تیری آئی ہے۔۔۔

    ہمزاد کیا ہیں،،،،،،!

    اب واضح ہو کہ جنات کے علاوہ ہمزاد ایک اور چیز ہے جو اِنسان کی خدمت بھی کر سکتی ہے اور تکلیف بھی دے سکتی ہے،، یہ معاملہ اس طرح ہے کہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو ایک ہوائی جسم اس کے ساتھ پیدا ہو جاتا ہے گویا دو جسم پیدا ہوتے ہیں ایک خاکی جسم اور دوسرا ہوائی جسم جو ہمزاد ہوتا ہے،،بچہ جس قدر بڑا ہوتا ہے وہ بھی اسی طرح بڑا ہوتا ہے جو کچھ لیاقت بچہ حاصل کرتا ہے اسی قدر ہمزاد بھی حاصل کرتا ہے پڑھتا ہے اور سب کچھ سیکھتا ہے جب انسان مر جاتا ہے تو تین روز تک وہ ہمزاد اُسکی قبر پر رہتا ہے اُس کے بعد ہوائی جماعت میں شامل یو جاتا ہے اگر کوئی شخص اُسکی قبر سے وہ ہمزاد پکڑے تو وہ اسکے تابع ہو کر خدمت کرتا ہے اور اسکے پکڑنے کا طریقہ یہ ہے کہ چالیس روز تک قبر پر ایک وظیفہ پڑھنا پڑتا ہے جو منتر کی قسم سے ہے اور ایک شیخ اس جماعت کا سردار ہے یا مجسمۂ متخیل ہے جب وہ ظہور پکڑتا ہے تو اس کی مدد سے ہر قبر پر سے تین روز کے اندر وہی وطیفہ پڑھ کر وہ ہمزاد قبضہ میں کر لیا جاتا ہے مگر ہمزاد ہر گز ہرگز خاموش نہیں بیٹھ سکتا ہر وقت کام میں لگا رہتا ہے اس لئے اس کو ہر وقت کسی مقررہ کام کا حُکم دیدیا جائے تو اس میں دوسرے حُکم تک مصروف رہتا ہے۔
    اس کے علاوہ دوسری صورت یہ ہے کہ انسان اپنا ہمزاد اپنے قابو میں کرے وہ بھی علیحدہ مشق ہے جس کے ذریعے اپنا ہمزاد زیرِ فرمان ہو جاتا ہے یہ ہمزاد بھی کبھی کبھی خدمت انجام دیتا ہے اور بعض وقت کوئی خبر بھی دے دیتا ہے اس کے علاوہ روحانیت میں بھی نوری اجسام ہیں جو خدمت اِن کی از روئے خلقت ہے وہ خدمت قرانی الفاظ اور اسمائے اِلٰہی ہے اگر کسی اسم یا حروف کو اسکے متعینہ طریقے پر پڑھنا شروع کرے اور ترکِ حیوانی ہو تو وہ روحانی جماعت اس کے لئے قضائے حوائج میں کام دیتی ہے اور اس کے اذکار میں سفارش بھی کرتی ہے اور سہولت بھی بہم پہنچاتی ہے بلکہ مخصوص طریقہ پر عمل کرنے سے وہ اسکی روحانی ضروریات مہیا کرتی ہے اس کے لئے بُخور (دھواں) بھی مخصوص ہیں اور حروف جو الفاظ بن کر ان کی روحانیت کی جماعت بن جاتی ہے اور ہر اسم کے لئے علیحدہ حروف اور علیحدہ بُخور ہیں اور بیت القمر معلوم ہونے پر اِن کی امداد مِل سکتی ہے۔

    مؤکلات،،،،،،،،،،،،!

    اس کے علاوہ مؤکلات ہیں یہ فرشتے ہیں یہ بھی اسمائے اِلٰہی کی خدمت کرتے ہیں اور قرآنی حروف کی بھی خدمت کرتے ہیں ،، اِن کے ذریعے سے جملہ امور طے ہوتے ہیں نظامِ عالم کا قیام ان کے ماتحت ہے ان کیساتھ متعلقہ الفاظ پڑھنے کا الگ طریقہ ہے اور الگ دعوت ہے ان سے استمداد اسی طرح ہو سکتی ہے کہ اس ملکوتی طہارت کو انسان اختیار کرے اور اسی طرح ترکِ حیوانی خوراک اور ترکِ حیوانی اعمال اور تعداد منازل قمر اور طالع کا عِلم ہو کہ دعا ( غرض) کو بھی اعداد میں منسلک کرے تو اسی صورت کی تکمیل پر جس کام کے لئے پڑھے وہ کام ضرور ہو جاتا ہے ۔۔۔

    اظمار۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

    اس کے علاوہ اظمار ہیں متعلقہ ملکوت ایک روحانی جماعت ہے ،، امورات کا انکشاف و اسناد اور دفینے خزینے معلوم کرنا وغیرہ،،، اِنکی امداد حاصل ہو سکتی ہے مگر ضروری ہے کہ اِن کے مقررہ اصول و شرائط پر عمل کیا جائے۔۔۔

    نصاب جفر۔۔۔۔۔۔۔!

    نصاب ِ جفر کا مقررہ وقت یا کورس اڑھائی سال میں پورا ہوتا ہے مگر یہ عرصہ ہر قسم کے گناہ اور لغو اشغال سے محفوظ رہ کر لکھنے کا کام ہے اس میں بھی روحانیت کی امداد خصوصاً امداد و ادعیہ کا اثر عموماً پیدا ہو جاتا ہے اور استفادہ لوگوں کی اغراض میں اور تسخیر بھی اس کا خاصہ ہے اس کے متعلقہ کئی خاص اصول اور طریقے بھی ہیں جن میں بلوغ المآرب مشہور ہے ،،،،،،
     
    محمد سعید, ھارون رشید, غوری اور مزید ایک رکن نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,119
    موصول پسندیدگیاں:
    7,363
    ملک کا جھنڈا:
    حیرت انگیز معلومات ہیں ملک حبیب جی ۔
    کیا یہ تحریر آپ کی ہے؟
     
  3. غوری
    آف لائن

    غوری ممبر

    شمولیت:
    ‏18 جنوری 2012
    پیغامات:
    38,242
    موصول پسندیدگیاں:
    11,521
    ملک کا جھنڈا:
    تحریر کے الفاظ سے ایسا لگتا ہے کہ پہلے وقتوں میں اسے لکھا گیا ہوگا۔ اور کسی عالم یا معروف عامل صاحب نے اسے زیب قرطاس کیا ہوگا۔
     
  4. ملک حبیب
    آف لائن

    ملک حبیب ممبر

    شمولیت:
    ‏20 مارچ 2015
    پیغامات:
    78
    موصول پسندیدگیاں:
    111
    ملک کا جھنڈا:
    نہیں ملک بلال یہ میری تحریر نہیں ہے بلکہ میری پُرانی ڈائری میں محفوظ تھی ،،، یہ تحریر حضرت پیر نظیر احمد صاحب موہڑہ شریف کی ہے جو خود بہت بڑے فاضل، شیخ، حکیم اور استاد تھے۔۔۔۔
     
    ملک بلال، دُعا اور ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,457
    موصول پسندیدگیاں:
    16,827
    ملک کا جھنڈا:
    واقعی حقیقت کو سمجھنے کا نیا رخ ملا ہے
     
    دُعا نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. دُعا
    آف لائن

    دُعا ممبر

    شمولیت:
    ‏31 مارچ 2015
    پیغامات:
    5,102
    موصول پسندیدگیاں:
    4,604
    ملک کا جھنڈا:
    رسالہ عبقری میں بھی ان کے بارے میں بہت کچھ بیان کیا جاتا ہے
    خاص کراس کے حصہ جنات کا پیدائشی دوست میں۔۔۔
     
    ھارون رشید اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. محمد سعید
    آف لائن

    محمد سعید ممبر

    شمولیت:
    ‏5 جولائی 2013
    پیغامات:
    47
    موصول پسندیدگیاں:
    42
    ملک کا جھنڈا:
    ًُٰٰٰٰبہت اعلئ
     
  8. ملک حبیب
    آف لائن

    ملک حبیب ممبر

    شمولیت:
    ‏20 مارچ 2015
    پیغامات:
    78
    موصول پسندیدگیاں:
    111
    ملک کا جھنڈا:
    شکر گزار ہوں۔
     
  9. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,093
    موصول پسندیدگیاں:
    11,136
    ملک کا جھنڈا:
    معلوماتی مضمون کے لیے شکریہ ملک حبیب صاحب۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن کیا مردانِ حق (سچے مومن) کے لیے سب سے سیدھا رستہ یہ نہیں کہ ان سب مخلوقات کے خالق و مالک ہی سے سچی یاری و تابعداری کا ناطہ جوڑ لیا جائے؟
    پھر خود خالقِ حقیقی جس بندے کو اپنا محبوب بندہ بنالے تو کائنات بھی اسکے تابع کردیتا ہے۔ پھر رب تعالیٰ منتظر رہتا ہے کہ کب وہ بندہ کچھ مانگنے کے لیے لب ہلائے تو رب تعالیٰ تقدیریں بدل کر اپنے اس محبوب بندے کی دعا پوری فرما دے۔ بلکہ فرمانِ رسول :drood: کے مطابق تو اللہ پاک خود اپنے محبوب بندے کی زبان بن جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے، اسکی آنکھیں بن جاتا ہے جس سے وہ بندہ دیکھتا ہے، اسکی سماعت بن جاتا ہے ، رب تعالی اس بندے کے ہاتھ بن جاتا ہے جس سے وہ بندہ گرفت کرتا ہے۔ (بحوالہ صحیح بخاری کتاب الرقاق رقم الحدیث 6502) پھر وہ بندہ کبھی سیدنا عمر فاروق :rda: بن کر ہزاروں میل دور لڑنے والے سپہ سالار کو "یا ساریہ الجبل" کی صدا پہنچا دیتا ہے۔ کبھی اللہ کی توفیق سے دریاؤں اور زلزلوں پر کنٹرول کرتا نظر آتا ہے۔ کبھی شیخ عبدالقادر جیلانی:rda: بن کر مردے زندہ کرتا نظر آتا ہے۔ کبھی فضیل بن عیاض بن کر کنکریوں کو ہیرے بنا دیتا ہے، کبھی علی ہجویری داتا گنج بخش :rda: بن کر لاہور میں کھڑے ہو کر کعبہ شریف دکھاتا ہے تو کبھی ہندوپنڈتوں کے سروں پر ہوا میں اپنے جوتےبرساتا ہے تو کبھی خواجہ معین الدین چشتی :rda: بن کر جھیل کے پانی کو کوزے میں بند کردیتا ہے کبھی بابافرید بن کر ریت کو شکر بنا دیتا ہے۔ بقول حضرت میاں محمد بخش رض

    ہر مشکل دی کنجی یارو ، ہتھ مرداں دے آئی
    مرد نگاہ کرے جس پاسے، مشکل رہے نہ کائی
     
    ملک بلال اور آصف احمد بھٹی .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں