1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جلال بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمود, ‏26 جولائی 2006۔

  1. محمود
    آف لائن

    محمود ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جون 2006
    پیغامات:
    88
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    جلال بابا
    تحریر : پروفیسر محمد ظریف خان
    یہ 11 دسمبر 1957ء کی بات ہے۔ حسین شہید سہروردی پاکستان کی وزارتِ عُظمیٰ سے مستعفی ہو چکے ہیں اور اب دارالحکومت کراچی میں ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سر فیروز خان وزارتِ عُظمیٰ کا حلف اُٹھا رہے ہیں۔ اس موقع پر ان کی 13 رُکنی کابینہ نے بھی حلف اُٹھایا۔
    فیروز خان مغرب زدہ جاگیر دار ہیں،اس لئیے ان کی کابینہ کے بیشتر ارکان بھی یا تو مکمل صاحب بہادر،جاگیر دارانہ ذہنیت کے حامل اور بڑے زمیندار ہیں یا نوکر شاہی کے سبکدوش کل پرزے۔
    تا ہم مقامِ حیرت یہ ہے کہ انہی میں صوبہ سرحد کے ضلع ہزارہ سے تعلق رکھنے والا چھپن ستاون برس کا ادھیڑ عمر اور نیم خواندہ شخص محمد جلال الدین ترین بھی شامل ہے جسے وزارتِ داخلہ کا قلمدان عطا کیا گیا ہے۔ دراز قامت، سفید ریش،لٹھے کی سادہ سی شلوار قمیص میں ملبوس اور سر پر پگڑی باندھنے والا یہ شخص ان وزراء میں علیحدہ ہی تشخص رکھتا ہے۔
    وزارت اس کے لئیے کوئی نیا اعزاز نہیں،وہ اس سے قبل صوبہ سرحد میں خان عبدالقیوم خان کی کابینہ میں بھی وزیر رہ چکا ہے،جبکہ وحدتِ مغربی پا کستان (ون یونٹ) قائم ہونے کے بعد مغربی پاکستان کا وزیرِ داخلہ بھی رہا۔ لیکن یہ وزارتیں اس کی انسانیت،عجز و انکسار،عوام دوستی اور جذبہ ہمدردی و غم گساری پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ اسے جلال الدین خان کے بجائے پیار سے “جلال بابا“ کہہ کر یاد کرتے ہیں۔
    پاکستان کی نئی نسل کے بیشتر افراد اس کے نام،مقام اور کارناموں سے آشنا نہیں مگر نصف صدی سے زیادہ کی عمر رکھنے والوں کے دلوں میں وہ آج بھی زندہ ہے۔ وہ تحریکِ پاکستان کا عظیم سپاہی بھی تھا۔
    حلف اٹھانے کے بعد اگلے روز جب وہ دفتر پہنچا تو دروازے پر ایستادہ چپراسی سے گرم جوشی کے ساتھ معانقہ کرتا ہے۔ اس وقت دونوں کے مابین صرف یہ فرق دکھائی دیا کہ چپراسی بے ریش اور عمر میں اس سے قدرے کم ہے لیکن اس کا اور معزز مرکزی وزیر کا لباس،پگڑی اور کوہاٹی چپل بالکل ایک جیسے ہیں۔ چپراسی کچھ جھینپا جھینپا سا ہے۔ وہ شرما کر جب وزیر سےاپنی اس عزت افزائی کا سبب دریافت کرتا ہے تو،جلال بابا کہتے ہیں:
    “بچہ!تمہاری عزت کرنا مجھ پر لازم ہے۔ تمہاری نوکری پکی اور میری کچی ہے۔ تم 25 برس سے سرکاری ملازم ہو جبکہ میری وزارت سے دو بار چھٹی ہو چکی ہے اور یہ تیسرا موقع ہے۔ اللہ جانے یہ وزارت بھی کب تک چلتی ہے“۔
    اگلے ہی روز جلال بابا کے یہ الفاظ اخبارات کی سرخی بن گئے۔ ساتھ ہی فکاہی کالم نویسوں کو ایک دلچسپ موضوع ہاتھ لگ گیا۔ مگر تقریبًا ہر کالم نگار بابا جی کا ذکر عزت اور احترام کے ساتھ کرتا ہے۔ بعد ازاں پاکستان کی تاریخ میں کسی وزیر کاایسا رویہ صرف اس وقت دیکھنے میں آیا جب مارچ 1972 ء میں مولا نا مفتی محمود سرحد کے وزیرِ اعلیٰ نامزد ہوئے۔ مولا نا نے حلف برداری کے بعد جس عشائیے میں شرکت کی،وہ ایک ‘پانچ ستارہ‘ (فائیو سٹار) ہوٹل میں منعقد ہوا تھا۔ اس موقع پر مولانا کے دائیں جانب گورنر سرحدحیات محمد خان شیر پاؤ مرحوم بیٹھے تھے اور ان کی بائیں طرف مولانا کا سرکاری سائق (ڈرائیور)،جبکہ کھانے کی میزوں پر وزراء،افسرانِ اعلیٰ اور چپراسیوں کی کوئی تخصیص نہ تھی۔
    ×××××××
    محمد جلال الدین ترین جو عرفِ عام میں جلال بابا کہلاتے ہیں،5 جنوری1901ء کو ضلع ہزارہ کی تحصیل گڑھی حبیب اللہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد خان غلام محمد خان اوسط درجے کے زمیندار تھے۔ ابھی آپ درجہ متوسطہ (مڈل جماعت) میں زیرِ تعلیم تھے کہ برِصغیر میں تحریکِ خلافت کا غلغلہ اُٹھا۔ یہ 1915ء کا زمانہ تھا۔ جلال الدین خان بھی اس تحریک سے متاثر ہوئے اور ایک قافلے کے ساتھ افغانستان ہجرت کر گئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف 14 برس تھی۔
    ایک برس بعد افغانستان سے واپس آ کر انہوں نے دوبارہ تعلیمی سرگرمیاں شروع کیں مگر اب پڑھائی میں دل نہ لگا،اس لئیے اپنے والد کے ساتھ مل کر کاشت کاری کرنے لگے۔ آپ نے تحریکِ خلافت اور تحریکِ عدمِ تعاون میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ بعد ازاں 1920ء سے سیاسی سرگرمیاں ترک کر دیں اور ٹرانسپورٹ کا کاروبار شروع کیا۔ محنت اور دیانت کے باعث چند برس میں کئی بسوں،ٹرکوں اور ٹریکٹروں کے مالک بن گئے۔
    آپ کے مؤسسہ نقل (ٹرانسپورٹ کمپنی) کا صدر دفتر ایبٹ آباد میں تھا،یہی شہر بعد میں آپ کا مستقل مسکن بن گیا۔ 1937ء میں آپ نے کُل ہند مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ ایسا وقت تھا جب صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کے حامی یا کارکن انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے۔ اُس وقت انگریزی راج تھا اورصوبہ سرحد میں کانگریس اور سرخ پوشوں کی مخلوط حکومت قائم تھی۔ مخلوط حکومت تو اسے تبرکًا ہی کہا جا سکتا ہے، تھی وہ اصلی نسلی کانگریسی سرکار کیوں کہ سرخ پوشوں کا صرف جھکاؤ ہی کانگریس کی طرف نہ تھا بلکہ وہ بالقلب اور باالعمل کانگریس ہی سے وابستہ تھے۔
    جلال بابا نے مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد صوبہ سرحد میں اس کا پہلا دفتر بھی قائم کیا۔ ان سے چند ماہ قبل سردار اورنگ زیب خان اور سردار عبدالرب نشتر جیسے زعماء بھی کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ سے آ ملے تھے۔ بعد ازاں جب جلال بابا شامل ہوئے تو ان کی تحریک پر بیرسٹر سجاد احمد خان (بعد میں چیف جسٹس آف پاکستان اور سینیٹ پاکستان کے سابق سربراہ بیرسٹر وسیم سجاد کے والد گرامی)، خان غلام خان طاہر خیلی، حکیم عبدالعزیز چشتی نیز ہزاروں دیگر معروف اور غیر معروف لوگ مسلم لیگ کی زینت بنے۔
    آپ اور آپ کے رفقائے کار کی سعی کے باعث محض دو تین برس کے اندر صوبہ سرحد کا سب سے بڑا ضلع یعنی ہزارہ مسلم لیگ کا گڑھ بن گیا۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ جولائی 1947ء میں ہونے والے استصوابِ رائے میں ضلع ہزارہ کے 99 فی صد مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا جبکہ دیگر اضلاع میں تناسب 40 سے 60 فی صد کے درمیان رہا۔ چارسدہ میں تو پاکستان کے حق میں صرف 30 فی صد ووٹ ڈالے گئے تھے۔
    جلال بابا اور ان کے رفقائے کار کی جدوجہد رنگ لائی اور برصغیر میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر منعقد ہونے والے عام انتخابات میں ضلع ہزارہ میں مسلم لیگ کو فقید المثال کامیابی نصیب ہوئی۔ کانگریسی حکومت نے جلال بابا اور (جسٹس) سجاد احمد خان سمیت مسلم لیگ کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا تھا۔
    یہ لوگ جنوری 1946ء کو حراست میں لئیے گئے اور انہیں بغیر مقدمہ چلائے کم و بیش ڈیڑھ برس تک نظر بند رکھا گیا۔ انہیں 3 جون 1947ء کو قیامِ پاکستان کے اعلان کے بعد رہا کیا گیا۔ رہائی کے بعد ان حضرات نے استصوابِ رائے کے لئے جان توڑ کر کام کیااور سرخ رُو ہوئے۔ جلال بابا نے خصوصاً اپنے مؤسسہ نقل (ٹرانسپورٹ) کا پورا بیڑا استصوابِ رائے کی مہم کے لیے وقف کر دیا تھا۔
    قیامِ پاکستان کے بعد جب سرحد کی کانگریسی حکومت کو برطرف کر کے خان عبدالقیوم خان کی سربراہی میں مسلم لیگ کی حکومت قائم کی گئ تو جلال بابا بطور وزیرِ داخلہ اس میں شامل ہوئے۔ بعد ازاں آپ نے بوجوہ وزارت سے استعفیٰ دے دیا اور ایبٹ آباد کی میونسپل کمیٹی کی صدارت کا منصب سنبھالا۔ چند ماہ بعد آپ دوبارہ کابینہ میں اپنے سابقہ منصب کے ساتھ شامل ہوئے۔
    جلال بابا تمام عمر مسلم لیگ کے ساتھ وابستہ رہے۔ البتہ خان عبدالقیوم خان سے سنگین اختلافات کے باعث 6 ماہ کے لئے مسلم لیگ سے جُدا ہو گئے۔ اسی دوران آپ ری پبلکن کابینہ میں وزیرِ داخلہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ آپ نے اس ‘جاگیر دار‘ کابینہ کے عوامی رُکن کی حیثیت سے فقیدالمثال خدمات انجام دیں۔آپ کے دور میں پاکستان داخلی امن و سکون کا گہوارہ بنا رہا۔ سخت اور اصُولی حکمتِ عملی کی بدولت مُلک میں سنگین اور معمولی جُرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر رہ گئ۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں 6 ماہ کے دوران شدید قسم کے جُرائم کی تعداد صرف 670 تھی۔ یاد رہے اس وقت مشرقی اور مغربی بازو دونوں ایک مُلک تھے۔
    بابا جی قرونِ اُولیٰ کے مسلمانوں کی یادگار اور حضرت عمر فاروق اور حضرت عُمر بن عبدالعزیز جیسے خُلفائے اِسلام کے مقلّد تھے۔ آپ نے اکثر و بیشتر کراچی،لاہور،پشاور،ڈھاکہ،راولپنڈی اور چٹاگانگ میں بھیس بدل کر راتوں کو گشت کیا اور عوامی مسائل سے آگاہی حاصل کی۔ آپ نے کئ بد عنوان سرکاری افسروں اور پولیس والوں کو عین موقع پر ہی اپنے ہاتھوں سے سزا دی۔ وہ کوئی سفارش قبول کرنے کے روادار نہ تھے۔
    بابا جی کے مزاج میں بے انتہا سادگی اور عوامی پن تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ایک بار کراچی کی ایک غریب بستی کے مکینوں نے ان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ دورانِ راہ ان کی گاڑی خراب ہو گئ۔ اس وقت ان کے ہمراہ صرف سائقِ خاص (سرکاری ڈرائیور) اور ایک عدد مُحافظ تھا۔ بابا جی نے دوسری گاڑی کا انتظار کرنے کی بجائے سائق کو تو واپس اپنی رہائش گاہ روانہ کر دیا اور خود سرکاری کار سے اُتر کر ایک سائیکل رکشہ پر بیٹھے اور جلسہ گاہ کی طرف چل پڑے۔ انہوں نے مسلح محافظ کو بھی اپنے ساتھ بٹھایا البتہ اپنی وزارت کا نشان یعنی کار پر لگا قومی پرچم اتار کر اپنے دائیں ہاتھ میں تھام لیا۔ ان کا رکشہ جس طرف سے گزرتا،لوگ انہیں دیکھ کر بابا جی زندہ باد کے نعرہ ہائے تحسین بلند کرنے لگتے۔
    فطری سادگی اور کم علمی کی بدولت جلال بابا سے کچھ لطائف بھی سرزد ہو جایا کرتے تھے۔ اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ 1957 میں کراچی زبردست بارشوں اور شدید سیلاب کی زد میں آ گیا۔ شہر کے کئی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ غریب آبادیوں میں تو بہت تباہی مچی۔ نکاسی آب کے ناقص انتظامات کی بدولت شہر کی مرکزی شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہو گیا۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ ایک دن میں 4 انچ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
    بابا جی نے جب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور بیشتر مقامات پر کمر جتنا پانی کھڑا دیکھا تو صحافیوں کے سامنے متعلقہ محکمہ موسمیات پر خُوب گرجے برسے اور وزیرِ اعظم سے مطالبہ کیا کہ محکمے کے افسروں کو بر طرف کر دیا جائے۔ آُن کے بقول محکمہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ بارش صرف 4 انچ ہوئی ہے جبکہ یہاں تو 6،5 فٹ پانی کھڑا ہوا ہے۔ موسمیات والے جھُوٹے ہیں جو عوام کو غلط اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ بارش 6،5 فٹ ہوئی ہے! بعد میں بابا جی کو بدِقَّت تمام اس امر سے آگاہ کیا گیا کہ محکمہ موسمیات، برسنے والی بارش کو کس طرح ماپتا ہے۔
    بابا جی نے ایوب خان کے مارشل لاء سے قبل ہی استعفیٰ دے کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے خود کو ذِکرِ اِلٰہی اور عوامی خدمات کے لئیے وقف کر دیا۔ سالہا سال وہ مفقود الخَبر رہے۔
    1981ء میں کہیں جا کر اُن کے حوالے سے بعض اخبارات میں یہ چھوٹی سی خبر چھَپی کہ تحریکِ پاکستان کا یہ عظیم سپاہی، 3 بار وزارت کے منصب پر فائز رہنے والا راہ نما اور عوام کا بے لوث خادم کسمپُرسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ وہ اُن دنوں 81 برس کی عمر میں پیرانہ سالی اور ضعیفی کے باوجود ایبٹ آباد کی سڑکوں پر ٹیکسی چلا کر اپنا،اپنی بیوہ بیٹی اور اس کے بچوں کا پیٹ پال رہے تھے۔ اُن کا کاروبار تباہ ہو چکا تھا اور اب کُل سرمایہ ایک شکستہ آبائی مکان،پُرانی ٹیکسی کار، 2 گائیں اور ایک بَیل کے سوا کچھ نہ تھا۔ پھر گائیں بھی اُن کی نہ رہیں کیونکہ اُنہیں فروخت کر کے اُنہوں نے اپنی ایک نواسی کا جہیز تیار کر لیا۔
    یہ تھے جلال بابا۔ جنہوں نے اپنا سب کچھ پاکستان اور تحریکِ پاکستان پر قُربان کر دیا تھا۔ 1981ء ہی میں بابا جی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔

    خُدا رحمت کُند ایں عاشقان پاک طنیت را​

    کاش! پاکستانی قوم میں ایسے ہی،بابا، اور ہوتے۔

    و السلام
    محمود
     
    ناصر إقبال نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. چوہد ری فیضان
    آف لائن

    چوہد ری فیضان ممبر

    شمولیت:
    ‏29 جون 2006
    پیغامات:
    165
    موصول پسندیدگیاں:
    0
  3. عبدالجبار
    آف لائن

    عبدالجبار منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مئی 2006
    پیغامات:
    8,595
    موصول پسندیدگیاں:
    71
  4. موٹروے پولیس
    آف لائن

    موٹروے پولیس ممبر

    شمولیت:
    ‏26 مئی 2006
    پیغامات:
    1,041
    موصول پسندیدگیاں:
    2
  5. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,146
    ملک کا جھنڈا:
    اے کاش ہم بحثیتِ قوم اس قابل ہوجائیں کہ ہمیں ایسے بے لوث عوامی خدمتگار حکمران عطا کیے جائیں۔ آمین
     

اس صفحے کو مشتہر کریں