1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جعلی ادویات کا مکروہ دھندہ

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏20 دسمبر 2018۔

  1. کنعان
    آف لائن

    کنعان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 جولائی 2009
    پیغامات:
    729
    موصول پسندیدگیاں:
    977
    ملک کا جھنڈا:
    جعلی ادویات کا مکروہ دھندہ

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ
    • صحت کی کم سہولتوں کے حوالے سے پاکستان سب سے پسماندہ ملک ہے جہاں ادویات اور غذا کی قلت کے باعث روزانہ 1184 بچے وفات پا جاتے ہیں
    • 45 فیصد بچوں کی اسی وجہ سے ذہنی اور جسمانی گروتھ مکمل نہیں ہو پاتی اور وہ وقت سے پہلے ہی موت کی نیند سو جاتے ہیں۔
    وطن عزیز جہاں غذا تعلیم، رہائش، ہر طرح کی آلودگی، صاف پانی کی عدم فراہمی سمیت دیگر بہت سے بنیادی مسائل زندگی کو مسرت اور راحت فراہم کرنے کی بجائے ساری عمر روزی روٹی پوری کرنے والا جانور بنا دیتے ہیں وہیں پر حیرت انگیز طور پر صحت کے حوالے سے جنم لینے والی بیماری کے علاج پر پاکستان کا ہر شہری اپنے آمدن کا اوسطاً 37 فیصد ادویات کی خریداری اور ڈاکٹرز کی فیسوں کی مد میں ادا کر دیتا ہے اس پر ظلم کی انتہاء یہ ہے کہ پاکستان کے اندر فروخت کی جانیوالی ادویات ناصرف انتہائی مہنگی ہیں بلکہ خوفناک حقیقت یہ ہے کہ فروخت ہونیوالی ان ادویات میں سے ستر فیصد دوائیں جعلی اور جان لیوا ہوتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق پاکستان میں بھی جعلی ادویات سے ہر سال اربوں روپے کمائے جاتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ جرم ہر سال ہزارہا انسانوں کو وقت سے پہلے قبروں میں اتار رہا ہے ۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں جعلی و غیر معیاری ادویات کے کاروبار کا سالانہ حجم دو سو ارب ڈالر کے قریب ہے۔

    کئی اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں جتنے بھی کاروباری شعبوں میں قانونی اور معیاری مصنوعات کی غیر قانونی اور غیر معیاری نقل تیار کر کے جتنا بھی منافع کمایا جاتا ہے، ان میں جعلی ادویات سے ہونے والا منافع سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔ لیکن بین الاقوامی سطح پر مجرمانہ منافع کی یہی ہوس لاکھوں انسانوں کی موت کی وجہ بھی بنتی ہے اور ایسی لاکھوں ہلاکتیں ہر سال پاکستان میں بھی ہوتی ہیں۔

    پاکستان میں معیاری ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے اور جعلی اور غیر معیاری ادویات کی روک تھام کا کام ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان یا ڈریپ نامی ادارہ کرتا ہے۔ لیکن بے تحاشا منافع کی خاطر مریضوں کی جانوں سے کھیلنے والے غیر قانونی دوا ساز اور دوا فروش آج بھی اتنے پاکستانیوں کی ناحق موت کی وجہ بنتے ہیں کہ یہ سالانہ تعداد سینکڑوں یا ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں بنتی ہے۔ ڈرگ کنٹرول کے شعبے کے کئی اعلیٰ پاکستانی اہلکار تو سرے سے اس بات سے انکار بھی کر دیتے ہیں کہ پاکستان میں جعلی ادویات کا کاروبار بہت پھیلا ہوا ہے، ان کی وجہ سے مریض ہلاک بھی ہو جاتے ہیں اور کئی شہروں میں جعلی ادویات بنانے کی فیکٹریاں بھی قائم ہیں۔ ایسے اہلکاروں کے ان دعووں کی تردید کے لیے محض چند بڑے حقائق کی طرف اشارہ کرنا ہی کافی ہو گا۔

    2012ء میں پاکستان کے دو شہروں میں کھانسی کا شربت پینے کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ وجہ یہ تھی کہ شربت تو کھانسی کے علاج کے لیے تھا مگر پینے والوں نے اسے نشے کے لیے بہت زیادہ مقدار میں پیا تھا اور کھانسی کے اس شربت میں ایک ایسا زہریلا مادہ بھی تھا، جو نہیں ہونا چاہیے تھا اور جو مارفین سے بھی پانچ گنا زیادہ خطرناک تھا اسی طرح درجنوں کئی جعلی ادویات بھی مارکیٹ میں موجود ہیں جو مریضوں کی بیماری میں طوالت حتیٰ کہ ان کی موت تک کی وجہ بن جاتی ہیں۔

    اس کے علاوہ کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستان کی ایک ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے اعلیٰ حکام نے صوبہ پنجاب کے چیف ڈرگ کنٹرولر کو لکھا کہ 50 کے قریب دوا ساز اداروں کی بنائی ہوئی 91 اینٹی بائیوٹک ادویات غیر معیاری نکلی تھیں۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق اس خط میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ صوبائی محکمہ صحت نے تب تک اس بارے میں کوئی ایسے اقدامات نہیں کیے تھے جو اسے فوری طور پر کرنا چاہئیں تھے۔

    اسی طرح صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں کوالٹی کنٹرول بورڈ نے کچھ عرصہ قبل سترہ ایسے میڈیکل سٹوروں کے کیس ڈرگ کورٹس میں بھیج دینے کا فیصلہ کیا، جو غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کی فروخت میں ملوث تھے ۔

    پاکستان میں دوا سازی کی صنعت کے غیر جانبدار ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک کی تعداد 191 ہے ۔ ان میں سے صرف 20 فیصد ریاستوں کے پاس فارما انڈسٹری سے متعلق کوالٹی کنٹرول کا بہترین نظام موجود ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے ، ’آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے‘۔ چند حلقے تو یہ دعوے بھی کرتے ہیں کہ اس جنوبی ایشیائی ملک میں کچھ ’رجسٹرڈ دوا ساز ادارے ‘ ایسے بھی ہیں، جو فارماسیوٹیکل فیکٹریوں کے طور پر ’دو دو کمروں کے گھروں‘ میں کام کر رہے ہیں۔

    اسلام آباد کی ایک دوا ساز کمپنی انتظامیہ کے اہم رکن کا کہنا ہے کہ ”کچھ پرائیویٹ کمپنیاں بھی اور مقامی پروڈیوسرز بھی جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت میں ملوث ہیں۔ ڈرگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے آئے دن کے چھاپوں کے باوجود بڑی مقدار میں ایسی ادویات کھلے عام دستیاب ہیں۔ لیبارٹریوں کی قلت کے باعث جعلی ادویات کی بروقت جانچ پڑتال کا بھی فقدان ہے ۔ ایسی ادویات بنانے والے کئی افراد ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر کروڑوں کا منافع کما رہے ہیں۔ جو ڈاکٹر ایسا کرتے ہیں یا محض کسی خاص کمپنی کی تیار کردہ ادویات ہی مریضوں کے لیے نسخے میں لکھتے ہیں، انہیں بیش قیمت تحائف ملتے ہیں یا بیرون ملک دورے کرائے جاتے ہیں۔“

    ان کے مطابق ”پاکستان میں ڈرگ ریگولیشن کی صورت حال کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بہت سے افراد اور سرکاری اور نجی ادارے اپنے فرائض اور پیشہ ورانہ ذمے داریاں پوری کرتے تو ہیں، لیکن بحیثیت مجموعی آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ کئی جعلی ادویات تو ایسی ہوتی ہیں، جو مریضوں کی بیماری میں طوالت حتیٰ کہ ان کی موت تک کی وجہ بن جاتی ہیں۔ میں نے قریب تین دہائیوں میں یہی دیکھا ہے کہ اس ناجائز کاروبار میں دوا ساز، ڈاکٹر، ڈرگ کنٹرولر اور دوا فروش، ہر فرد واحد تو نہیں لیکن ہر شعبے کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔

    محکمہ صحت سے وابستہ ڈاکٹر محمد اعظم کے بقول جعلی ادویات کے باعث کئی بار مریض صحت یاب ہونے کے بجائے مزید بیمار ہو جاتے ہیں۔ جعلی اینٹی بائیوٹکس کے استعمال سے مریض کے جسم میں انفیکشن پھیل جائے تو اس کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اگر صرف گائناکالوجی کی بات کی جائے تو غیر معیاری ادویات زچہ اور بچہ دونوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ جعلی یا غیر معیاری ادویات کی فروخت پر تو کڑی سزا ہونی چاہیے تاکہ یہ جان لیوا رجحان کسی طرح ختم تو ہو۔“

    ان کا کہنا ہے کہ ”یہ صرف ہمارے ہی معاشرے کا المیہ نہیں، پوری دنیا کا مسئلہ ہے ۔ ابھی حال ہی میں لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن اور ہارورڈ گلوبل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ نے ایک مشترکہ اپیل بھی جاری کی تھی کہ غیرمعیاری ادویات کی روک تھام کے لیے فوری لیکن بہت سخت اقدامات کیے جائیں۔ دوسری صورت میں یہ مسئلہ مزید ہلاکت خیز ہو جائے گا۔

    امریکا جیسے ملک میں ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کا کہنا ہے کہ 2016ء میں وہاں روزانہ اوسطاً 174 افراد اس لیے موت کے منہ میں چلے گئے تھے کہ انہوں نے جعلی، غیر معیاری یا نشہ آور ادویات استعمال کی تھیں۔ یہ تعداد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہونے والوں یا خود کشی کر لینے والے امریکی شہریوں کی اوسط روزانہ تعداد سے کہیں زیادہ تھی۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں نشے کے ٹیکے بھی کیمسٹ ہی غیر قانونی طور پر بیچتے ہیں، اصل صورت حال کتنی پریشان کن ہو گی۔“

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں جعلی اور غیر معیاری ادویات کی تیاری اور فروخت کی صورتحال ڈرا دینے والی ہے ۔ لاہور اور پشاور جیسے شہروں میں بھی جعلی ادویات بنانے والے خاصے فعال ہیں۔ جو نقلی دوا بیس روپے کی لاگت سے بنتی ہے ، وہ ڈھائی تین سو روپے میں بیچی جاتی ہے ، جس میں ہر کسی کا حصہ ہوتا ہے ۔ دو دو کمروں کے گھروں کو فیکٹری بنا کر رجسٹرڈ کیا جاتا ہے ۔ وہاں جو کچھ بنتا ہے ، اس میں موت تو ہو سکتی ہے ، زندگی نہیں۔ ایسی کئی ادویات اپنی خراب پیکنگ سے بھی پہچانی جا سکتی ہیں۔

    ڈاکٹر مریض کو جو دوائی تجویز کرتا ہے ، کبھی کبھی کیمسٹ کوئی دوسری دوائی بیچنے کے لیے مجوزہ دوائی اپنی مرضی سے تبدیل بھی کر دیتا ہے ۔

    پاکستان فیڈرل ڈرگ کی ایک ذمے دار آفیسر نے بتایا کہ ”پاکستان میں ریگو لیشن آف میڈیسن بنیادی طور پر دو سطحوں پر کام کرتی ہے ۔ درآمد، برآمد، تیاری اور کوالٹی کنٹرول، یہ تمام شعبے وفاق کی عمل داری میں آتے ہیں۔ یہ کام ڈریپ نامی وفاقی ادارہ کرتا ہے ۔ اس کے بعد ادویات کی سٹوریج، ہینڈلنگ اور ڈسٹری بیوشن سے متعلق معاملات صوبوں کی عمل داری میں آتے ہیں۔ جہاں کیمسٹ کی کسی دکان پر ایک چوتھائی سے لے کر نصف تک ادویات جعلی یا غیر معیاری ہی ہوتی ہیں“۔

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈیٹا جمع کرنے کا کوئی رواج نہیں اور نہ ہی سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے وسائل دستیاب ہیں۔ اس وقت ملک میں قریب 37 ہزار ادویات رجسٹرڈ ہیں، جن کے استعمال سے انسانی اموات کا تو کسی کو کوئی علم نہیں لیکن ان کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ یقیناً اپنا خون نچوڑکر پیسہ کمانے والے پاکستان کے سفید پوش اور غریب حلقوں کے لاکھوں پیاروں کو ہر سال موت کی نیند سلا دیتے ہیں یا پھر انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لاعلاج مریض بنا دیتے ہیں ۔

    جاوید ملک …. مساوات
    December 19, 2018 asif azam
    (کالم نگار سیاسی و سماجی ایشوز پر لکھتے ہیں)

    ٭….٭….٭
     
    زنیرہ عقیل، پاکستانی55 اور ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,683
    موصول پسندیدگیاں:
    16,916
    ملک کا جھنڈا:
    اس کام میں ارباب اختیار شامل ہیں
     
    پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. پاکستانی55
    آف لائن

    پاکستانی55 ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2012
    پیغامات:
    98,397
    موصول پسندیدگیاں:
    24,234
    ملک کا جھنڈا:
    ارباب اختیار کی شمولیت کے بغیر یہ کام چل ہی نہیں سکتا۔بہت مکروہ اور گھناؤنا کام ہے
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں