1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جریکو کی قدیم فصیلیں

'زراعت' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏28 نومبر 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,126
    موصول پسندیدگیاں:
    234
    ملک کا جھنڈا:
    جریکو کی قدیم فصیلیں
    upload_2019-11-27_3-3-42.jpeg
    اخلاق احمد قادری
    جدید اثریاتی (آرکیالوجیکل) انکشافات میں ایک اہم دریافت دریائے اردن کے مغربی کنارے پر واقع قدیم شہر اریحا یا جیریکو کے گرد فصیلوں کی تعمیر ہے جو اثریاتی کھدائیوں کے مطابق تقریباً آٹھ ہزار قبل مسیح میں ہوئی۔ جیریکو ان کھدائیوں کے بعد پہلی قدیم ترین انسانی آبادیوں میں شمار ہونے لگا ہے جو انسانی تہذیب و تمدن کی جانب انسان کا پہلا قدم تھیں۔ ایک اثریاتی اندازے کے مطابق پہلے پہل شکاری انسان نے یہاں تقریباً نو ہزار قبل مسیح میں انسانی آبادی قائم کی۔ محققین کے مطابق تقریباً آٹھ ہزار قبل مسیح کے قریب اس اولین انسانی آبادی نے ایک منظم انسانی معاشرے کی شکل اختیار کر لی جس نے حفاظت کے مقصد کے لیے اپنی آبادی کے گرد پتھروں کی فصیل تعمیر کی۔ اس فصیل کی طوالت سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس زمانے میں شکاریوں کی اس بستی نے ایک شہر کی حیثیت اختیار کر لی تھی جس کے ارتقائی عمل میں کم از کم ایک ہزار سال لگے۔ کھدائیوں میں ملنے والے آثار سے پتہ چلتا ہے کہ اس انسانی آبادی کے مکین گندم، مکئی اور جَو کی کاشت بھی کرتے تھے۔ سات ہزار قبل مسیح میں آباد یہاں ایک ایسے معاشرے کے آثار ملے ہیں جو اپنے ابتدائی تہذیب و تمدن کی وجہ سے اس وقت تک نو حجری دور سے تعلق رکھتا تھا اور اس معاشرے سے تعلق رکھنے والے افراد کو ابھی برتن بنانے کا فن نہیں آیا تھا۔ خیال ہے کہ یہ نووارد یہاں شمالی شام سے آئے تھے۔ جیریکو کا یہ دوسرا نو حجری دور، جس کے باشندوں کا انحصار صرف زراعت پر تھا، تقریباً چھ ہزار قبل مسیح میں اختتام پذیر ہوا۔ پانچ ہزار قبل مسیح کے لگ بھگ یہاں جو لوگ آباد تھے وہ برتن سازی کے فن سے آشنا تھے مگر ان کا طرز زندگی نو حجری دور سے زیادہ مختلف نہیں تھا۔ اگلے دو ہزار سال تک یہاں کی زندگی ٹھہراؤ کا شکار رہی۔ تقریباً تین ہزار قبل مسیح کے اختتام تک یہاں باقی فلسطین کی طرح ایک شہری تہذیب کا آغاز ہوا اور یہ ایک بار پھر فصیل دار شہر بن گیا۔ اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ بنی اسرائیل کے حملے کے وقت جیریکو کے گرد فصیل موجود تھی۔ 23 سو قبل مسیح میں یہاں کی شہری زندگی میں ایک بار پھر زوال آیا جس کی وجہ سے یہاں بہت سے خانہ بدوش قبائل کی آمد تھی جو آموری تھے۔ 1900 قبل مسیح میں ان کے جانشین کنعانی بنے جن کی ثقافت بحیرہ روم کے خطے کی ثقافت سے مماثلت رکھتی تھی۔ کنعانیوں نے یہاں ایک بار پھر خالص شہری زندگی متعارف کرائی۔ اثریاتی کھدائیوں سے پتہ چلا ہے کہ ان کے مکانات پختہ اور باقاعدہ فرنیچر کے حامل تھے۔ یہ لوگ حیات بعدازموت پر یقین رکھتے تھے۔ بائبل کے مطابق جیریکو پر بنی اسرائیل نے ارض مقدس پر داخلے کے بعد حملہ کیا تھا اور یہاں انسانی آبادی متروک ہو گئی تھی۔ پھر کہیں نویں صدی قبل مسیح میں یہ شہر دوبارہ آباد کیا گیا۔ 1952ء سے 1958ء تک یہاں اثریاتی کھدائیاں ہوئیں جن کا مقصد اسرائیلوں کے ہاتھوں ہونے والی تباہی کا معین کرنا تھا۔ ماہرین اثریات کے مطابق یہ تباہی 14ویں صدی قبل مسیح میں رونما ہوئی تھی جس کے بعد لوہے کے زمانے تک یہ شہر ویران پڑا رہا۔ ساتویں صدی قبل مسیح میں یہاں دوبارہ خاصی تعداد میں انسان آباد ہو چکے تھے۔ یہ انسانی آبادی 586 قبل مسیح میں بابلیوں کے ہاتھوں اہل یہود کی جلاوطنی تک قائم رہی۔ انہیں کھدائیوں سے ہمیں پہلی صدی قبل مسیح کے فلسطینی بادشاہ ہیرود اعظم کے عہد کے جیریکو کے بارے میں بھی اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اس شہر میں ہیرود اعظم نے اپنا سرمائی محل تعمیر کروایا۔ عہدنامہ عتیق میں ذکر کیے گئے جیریکو سے تقریباً ایک میل دور وادی القلت کے ساتھ ایک بے حد شاندار عمارت کے آثار ملے ہیں جو غالباً ہیروداعظم کے محل کا حصہ تھی۔ اس عمارت کا طرزتعمیر رومن ہے جو ہیروداعظم کی رومیوں سے رغبت اور میلان کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی علاقے میں بہت سی اور شاندار عمارتوں کی موجودگی کے شواہد بھی ملے ہیں جو غالباً رومن جیریکو کا مرکز تھیں۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں