1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جب والد کا سایہ سر پر نہیں رہا! قتیل شفائی کی زندگی کا ایک ورق

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏5 دسمبر 2019 at 1:56 AM۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,126
    موصول پسندیدگیاں:
    234
    ملک کا جھنڈا:
    جب والد کا سایہ سر پر نہیں رہا! قتیل شفائی کی زندگی کا ایک ورق
    upload_2019-12-5_1-56-33.jpeg
    قتیل شفائی کا شمار اردو کے مقبول ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ ممتاز فلم نغمہ نگار تھے۔ انہوں کے اشعار جب بھی پڑھے جائیں، دل پر اثر کرتے ہیں، جیسے؛ آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں وہ اپنی آپ بیتی میں اپنے ابتدائی حالات کچھ یوں بیان کرتے ہیں: میں جب پیدا ہوا تو اس وقت مجھ سے پہلے گھر میں کوئی اولاد نہیں تھی۔ معاملہ یہ تھا کہ میرے باپ نے جب پہلی شادی کی تو کافی عرصہ تک کوئی اولاد نہ ہوئی۔ خاندان کے اور گھریلو مشورے سے انہیں مجبوراً دوسری شادی کرنا پڑی جس سے 24 دسمبر 1919ء کو میں اپنے آبادی گاؤں ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوا۔ چونکہ یہ میرے والد کی پہلی اولاد تھی اس لیے میری پیدائش پر بہت جشن منایا گیا۔ میری تولید کے تین سال بعد میری بہن پیدا ہوئی اور خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اسی دوران پہلی ماں سے بھی ایک بچہ ہوگیا اور وہ ہمارے گھر میں آخری بچہ تھا۔ گویا ایک ماں سے دو اولادیں ہوئیں اور دوسری ماں سے ایک جن کی کل تعداد تین بنتی ہے۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ میرے والد کی دو شادیوں میں کوئی معاملہ معاشقے، آوارہ گردی یا عیاشی کا نہیں تھا بلکہ ایک ضرورت کے تحت میرے والد نے دو شادیاں کی تھیں، اس لیے گھریلو ماحول پُرسکون رہا اور دونوں مائیں ایک دوسرے کا احترام کرتی تھیں اور ایک دوسرے کے بچوں سے بھی پیار کرتی تھیں۔ اس کے باوجود ظاہر ہے کہ دو شادیوں کی قباحتیں اپنی جگہ ہیں۔ کبھی کبھی وہ پہلو بھی سامنے آ جاتا تھا لیکن عام طور پر حالات خوشگوار ہی رہے، سوائے اس کے کہ میرے والد گھریلو اخراجات اور ضرورتوں کے بڑھنے کی وجہ سے کاروبار اور محنت کا سلسلہ بڑھانے پر مجبور تھے اور اس کے علاوہ انہیں ایک اور طرف جانا پڑ گیا جسے ہم شرفا کی زبان میں ایک اچھا کام نہیں کہہ سکتے اور وہ کام تھا کارنیوال۔ میرے والد کا حلقہ احباب متحدہ ہندوستان کے بڑے بڑے روسا کا تھا جو اپنے وقت میں بہت بڑے سرمائے کے ساتھ شغف کرتے تھے۔ ان کے ساتھ جنہوں نے کارنیوال کا کاروبار شروع کیا، اس میں میرے والد سمیت پارٹنرز تھے۔ اس کاروبار میں انہیں اچھی خاصی آمدنی ہوتی تھی۔ اس صورت میں میری پرورش ایک امیرانہ ماحول میں ہوئی اور میں نازو نعم میں پلا لیکن یہ ساری چیزیں ہونے کے باوجود راستے میں ایک قسم کی دیوار بھی ہوتی ہے۔ بچپن ہی میں والد رخصت ہو گئے جن کے بل بوتے پر یہ ساری عیش و عشرت کی فضا قائم تھی، جب تک وہ زندہ رہے، انہوں نے میری ہر خواہش پوری کی۔ پانچویں جماعت میں جب میں سکول کی بزم ادب کا سیکرٹری بن گیاتو انہوں نے میری پوری کلاس اور متعلقہ اساتذہ کو ایک اچھی خاصی دعوت دے ڈالی جیسے آج کل کوئی کونسلر منتخب ہو جائے۔ اسی طرح اس زمانے میں مجھے موسیقی کا شوق تھا تو انہوں نے ایک گرامو فون اور اس سے متعلقہ چیزیں مجھے فراوانی سے مہیا کر دیں۔ پھر سیاحت کا شوق ہوا تو جہاں میں نے جانا چاہا، انہوں نے اس ہدایت کے ساتھ کہ اچھی کلاس میں سفر کرنا مجھے دوستوں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ ابتدا ہی سے میرے لیے مشہور تھا کہ میں خوش لباس، خوش گفتار اور خوش خوراک ہوں۔ یہ سب چیزیں مجھے اپنے والد کی طرف سے ملی ہوئی تھیں۔ انہوں نے میری تربیت کچھ اس رنگ میں غیر محسوس طور پر کی تھی کہ انہوں نے مجھے زندگی کا قرینہ اور مجلسی آداب سکھائے۔ جب انہیں محسوس ہوا کہ میرے اندر تھوڑا سا ادب کا شائبہ بھی ہے تو انہوں نے بہت سی ادبی کتابیں بھی مجھے مہیا کر دیں حالانکہ اس دور میں ادبی کتابیں بہت کم ہوتی تھیں۔ وہ الف لیلیٰ اور حاتم طائی وغیرہ کی کہانیاں اس بہانے سے مجھ سے پڑھاتے تھے کہ خود بہت کم پڑھے ہوئے تھے۔ اکثر مجھے کہتے کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لیے یہ کتاب پڑھ کر سناؤ اور یوں سننے کے بہانے وہ مجھے پڑھاتے تھے۔ شاعری کی صرف وہی کتابیں میرے ہاتھ آتی تھیں جو گورنمنٹ ہائی سکول ہری پوری کی لائبریری میں میسر تھیں۔ اس زمانے کے گراموفون ریکارڈوں میں آج کی طرح گھٹیا شاعری نہیں ہوتی تھی بلکہ اساتذہ کا کلام ہی ہوتا تھا۔ میرے پاس جو ریکارڈ تھے ان میں زیادہ تر غالب، امیر مینائی اور ذوق کا کلام تھا۔ زیادہ تر گانے والے اساتذہ ہی کا کلام گاتے تھے۔ میرے والد مجھے چن چن کر ایسے ریکارڈ مہیا کرتے تھے جن میں شاعری کا ایک معیار ہوتا تھا اور یوں میری ذہنی پرورش ہوتی رہی۔ جب میں چھٹی کلاس میں تھا اور بزم ادب کا سیکرٹری بھی تھا تو سکول میں مضمون نویسی اور شاعری کا مقابلہ ہوا۔ اس مقابلے میں مجھے اپنی نظم پر انعام میں ایک کتاب ’’سوز بیدل‘‘ ملی۔ بیدل پشاور کے شاعر تھے۔ سکول کے ہیڈماسٹر خواجہ محمد اشرف تھے۔ وہ ہمارے کرایہ دار بھی تھے اور ان سے ہمارے گھریلو تعلقات بھی تھے۔ ان کی مجھ پر بڑی توجہ تھی اس لیے مجھے انعام ملنے پر وہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی۔ میرے والد کی وفات کے وقت ہماری پوری فیملی میں پڑھے لکھے لوگ نہیں تھے اور انہیں بالکل احساس نہیں ہوا کہ اس لڑکے کو آگے جینا بھی ہے۔ انہوں نے میری ماں کو مشورہ دیا کہ اب باپ کا سایہ سر پر نہیں ہے، اس لیے لڑکے کو کاروبار کروا دو۔ اس وقت میرے دو تایا موجود تھے۔ ایک تایا فاترالعقل تھے اور بڑی مدت سے پاگل چلے آ رہے تھے۔ وہ گویا ایک سرپرست کے فرائض ادا نہ کر سکتے تھے۔ دوسرے تایا بھی اکثر بیمار رہتے تھے۔ یہ دونوں ایک طرح سے ہماری فیملی کی ذمہ داری بن چکے تھے اور ان کی نگہداشت بھی ہمیں کرنا پڑتی تھی۔ میری ماں بہت سادہ عورت تھی اور بالکل اَن پڑھ تھی۔ وہ بھی اس سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی جس میں باقی ساری فیملی۔ اس وقت میری عمر تقریباً 16 برس تھی۔ مجھے کہا گیا کہ کاروبار کرو۔ کاروبار کے بارے میں مجھے کوئی تجربہ یا ٹریننگ نہ تھی۔ سب سے پہلے مجھے فٹ بال یا سپورٹس کی دکان کھول کر دی گئی اس لیے کہ سپورٹس سے میرا تعلق تھا۔ اس کاروبار میں کوئی فائدہ ہوا نہ ہونا تھا کیونکہ مجھے دکانداری کا کوئی تجربہ ہی نہیں تھا۔ تمام کاروبار پرانے کاروباریوں کے ہاتھ میں تھا، بلکہ سکول کے لڑکے آتے تھے اور چائے وغیرہ پی کر چلے جاتے تھے۔ جب اس کاروبار میں نقصان ہوا تو بچا ہوا مال کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیا گیا۔ اس کے بعد مجھے سائیکلوں کی دکان کھول کر دی گئی۔ اس لیے کہ نئی سائیکلیں فروخت کی جا سکیں گی اور پرانی کرایہ پر دی جا سکیں گی۔ مگر اس دکان کا بھی پہلی دکان جیسا حشر ہوا۔ اس کے بعد کچھ رشتہ داروں نے مشورہ دیا کہ ایبٹ آباد میں بزازی کی دکان کھولنی چاہیے۔ اب اس طرح کے کام بڑی ٹریننگ چاہتے ہیں بلکہ اگر فیملی میں یہ کام پیچھے سے چلا آتا ہو تو یہ کاروبار ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ایبٹ آباد میں بزازی کی دکان میری 13 دن چلی اور اس کے بعد بند ہو گئی کیونکہ اس تمام عرصے میں ایک گاہک بھی نہ آیا تھا۔ (’’گھنگھرو ٹوٹ گئے‘‘ سے اقتباس)
     

اس صفحے کو مشتہر کریں