1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏5 دسمبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    6,400
    موصول پسندیدگیاں:
    776
    ملک کا جھنڈا:

    تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
    ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

    کس کو خبر تھی سانولے بادل بن برسے اڑ جاتے ہیں
    ساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں

    ٹوٹ گیا جب دل تو پھر یہ سانس کا نغمہ کیا معنی
    گونج رہی ہے کیوں شہنائی جب کوئی بارات نہیں

    غم کے اندھیارے میں تجھ کو اپنا ساتھی کیوں سمجھوں
    تو پھر تو ہے میرا تو سایہ بھی میرے ساتھ نہیں

    مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے
    لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

    ختم ہوا میرا فسانہ اب یہ آنسو پونچھ بھی لو
    جس میں کوئی تارا چمکے آج کی رات وہ رات نہیں

    میرے غمگیں ہونے پر احباب ہیں یوں حیران قتیلؔ
    جیسے میں پتھر ہوں میرے سینے میں جذبات نہیں

    قتیلؔ شفائی​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں