1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏22 اگست 2019۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    840
    موصول پسندیدگیاں:
    155
    ملک کا جھنڈا:
    تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
    ورنہ ہم کو بھی تمنّا تھی کہ چاہے جاتے
    دل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب
    درد بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے
    کاش اے ابرِ بہاری ترے بہکے سے قدم
    میری امیّد کے صحرا میں بھی گاہے جاتے
    ہم بھی کیوں دہر کی رفتار سے ہوتے پامال
    ہم بھی ہر لغزشِ مستی کو سراہے جاتے
    ہے ترے فتنۂ رفتار کا شہرہ کیا کیا
    گرچہ دیکھا نہ کسی نے سرِ راہے جاتے
    ہم نگاہی کی ہمیں خود بھی کہاں تھی توفیق
    کم نگاہی کے لئے عذر نہ چاہے جاتے
    لذّتِ درد سے آسودہ کہاں دل والے
    ہیں فقط درد کی حسرت میں کراہے جاتے
    دی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ
    اور کچھ دن غمِ ہستی سے نباہے جاتے
    (شان الحق حقّی)​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں