1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

بیماری اور تیمارداری ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق احمد یوسفی

'ادبی طنز و مزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏13 فروری 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,911
    موصول پسندیدگیاں:
    569
    ملک کا جھنڈا:
    بیماری اور تیمارداری ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق احمد یوسفی

    تو کوئی نہ ہو تیمار دار؟جی نہیں ! بھلا کوئی تیمار دار نہ ہو تو بیمار پڑنے سے فائدہ؟ اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو؟ توبہ کیجئے !مرنے کا یہ اکل کھرادقیانوسی انداز مجھے کبھی پسندنہ آیا۔ ہو سکتا ہے غالب کے طرفدار یہ کہیں کہ مغرب کو محض جینے کا قرینہ آتا ہے، مرنے کاسلیقہ نہیں آتا۔ اورسچ پوچھئے تو مرنے کاسلیقہ کچھ مشرق ہی کا حصہ ہے۔ اسی بنا پر غالب کی نفاست پسندطبیعت نے حج میں وبائے عام میں مرنا اپنے لائق نہ سمجھاکہ اس میں ان کی کسر شان تھی۔ حالانکہ اپنی پیش گوئی کو صحیح ثابت کرنے کی غرض سے وہ اسی سال مرنے کے آرزو مند تھے۔اس میں شک نہیں کہ ہمارے ہاں با عزت طریقے سے مرنا ایک حادثہ نہیں، ہنر ہے جس کے لیے عمر بھر ریاض کرنا پڑتا ہے۔ اور اللہ اگر توفیق نہ دے تو یہ ہر ایک کے بس کا روگ نہیں۔ بالخصوص پیشہ ورسیاستدان اس کے فنی آداب سے واقف نہیں ہوتے۔ بہت کم لیڈرایسے گزرے ہیں جنھیں صحیح دقت پر مرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ میرا خیال ہے کہ ہر لیڈر کی زندگی میں، خواہ کتنا ہی گیا گزرا کیوں نہ ہو، ایک وقت ضرور آتا ہے جب وہ ذرا جی کڑا کر کے مر جائے یا اپنے سیاسی دشمنوں کو رشوت دے کر اپنے آپ کو شہید کرا لے تو وہ لوگ سال کے سال نہ سہی، ہر الیکشن پر ضرور دھوم دھام سے اس کاعرس منایا کریں۔ البتہ وقت یہ ہے کہ اس قسم کی سعادت دوسرے کے زور بازو پر منحصر ہے۔ اورسعدیؒ کہہ گئے ہیں کہ دوسرے کے بل بوتے پر جنت میں جانا عقوبت دوزخ کے برابر ہے۔ پھراس کا کیا علاج کہ انسان کو موت ہمیشہ قبل از وقت اور شادی بعد از وقت معلوم ہوتی ہے۔بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔ ورنہ سردست مجھے ان خوش نصیب جواں مرگوں سے سروکارنہیں جو جینے کے قرینے اور مرنے کے آداب سے واقف ہیں۔ میرا تعلق تواس مظلوم اکثریت سے ہے جس کو بقول شاعرجینے کی ادا یاد ، نہ مرنے کی ادا یادچنانچہ اس وقت میں اس بے زبان طبقہ کی ترجمانی کرنا چاہتا ہوں جو اس درمیانی کیفیت سے گزر رہا ہے جو موت اور زندگی دونوں سے زیادہ تکلیف دہ اور صبر آزما ہے۔ یعنی بیماری! میرا اشارہ اس طبقہ کی طرف ہے جسےسب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے صحت کے سوامیں اس جسمانی تکلیف سے بالکل نہیں گھبراتا جو لازمہ علالت ہے۔ اسپرین کی صرف ایک گولی یا مارفیا کا ایک انجکشن اس سے نجات دلانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن اس روحانی اذیت کا کوئی علاج نہیں جو عیادت کرنے والوں سے مسلسل پہنچتی رہتی ہے۔ ایک دائم المرض کی حیثیت سے جو اس درد لادواکی لذت سے آشنا ہے، میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مارفیا کے انجکشن مریض کے بجائے مزاج پرسی کرنے والوں کے لگائے جائیں تو مریض کو بہت جلد سکون آ جائے۔اردو شاعری کے بیان کو باور کیا جائے تو پچھلے زمانے میں علالت کی غایت ’’تقریب بہر ملاقات‘‘ کے سواکچھ نہ تھی۔ محبوب عیادت کے بہانے غیر کے گھرجاتااورہرسمجھ دار آدمی اسی امید میں بیمار پڑتا تھا کہ شاید کوئی بھولا بھٹکا مزاج پرسی کو آ نکلے۔علالت بے عیادت جلوہ پیدا کر نہیں سکتیاس زمانے کے انداز عیادت میں کوئی دل نوازی ہو تو ہو، میں تو ان لوگوں سے ہوں جو محض عیادت کے خوف سے تندرست رہنا چاہتے ہیں۔ ایک حساس دائم المرض کے لیے ’’مزاج اچھا ہے ؟‘‘ایک رسمی یا دعائیہ جملہ نہیں بلکہ ذاتی حملہ ہے جوہرباراسے احساس کمتری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ میں تو آئے دن کی پرسش حال سے اس قدر بے زار ہو چکا ہوں کہ احباب کو آگاہ کر دیا ہے کہ جب تک میں بقلم خود یہ اطلاع نہ کر دوں کہ آج اچھا ہوں۔ مجھے حسب معمول بیمار ہی سمجھیں اور مزاج پرسی کر کے شرمندہ ہونے کا موقع نہ دیں۔سناہے کہ شائستہ آدمی کی یہ پہچان ہے کہ اگر آپ اس سے کہیں کہ مجھے فلاں بیماری ہے تو وہ کوئی آزمودہ دوا نہ بتائے۔ شائستگی کا یہ سخت معیارتسلیم کر لیا جائے تو ہمارے ملک میں سوائے ڈاکٹروں کے کوئی اللہ کا بندہ شائستہ کہلانے کامستحق نہ نکلے۔ یقین نہ آئے تو جھوٹ موٹ کسی سے کہہ دیجئے گا کہ مجھے زکام ہو گیا ہے۔ پھر دیکھئے، کیسے کیسے مجرب نسخے، خاندانی چٹکلے اور فقیری ٹوٹکے آپ کو بتائے جاتے ہیں۔ میں آج تک یہ فیصلہ نہ کرسکاکہ اس کی اصل وجہ طبی معلومات کی زیادتی ہے یا مذاق سلیم کی کمی۔ بہرحال بیمار کو مشورہ دینا ہر تندرست آدمی اپنا خوش گوار فرض سمجھتا ہے اور انصاف کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ننانوے فی صد لوگ ایک دوسرے کو مشورے کے علاوہ اور دے بھی کیا سکتے ہیں ؟بعض اوقات احباب اس بات سے بہت آزردہ ہوتے ہیں کہ میں ان کے مشوروں پر عمل نہیں کرتا۔ حالانکہ ان پر عمل پیرانہ ہونے کا واحد سبب یہ ہے کہ میں نہیں چاہتا کہ میرا خون کسی عزیزدوست کی گردن پر ہو۔ اس وقت میرا منشا صلاح و مشورہ کے نقصانات گنوانا نہیں (اس لیے کہ میں دماغی صحت کے لیے یہ ضروری سمجھتاہوں کہ انسان کو پابندی سے صحیح غذا اور غلط مشورہ ملتا رہے۔ اسی سے ذہنی توازن قائم رہتا ہے)نہ یہاں ستم ہائے عزیزاں کا شکوہ مقصود ہے۔ مدعا صرف اپنے ان بہی خواہوں کو متعارف کرانا ہے جو میرے مزمن امراض کے اسباب و علل پر غور کرتے اور اپنے مشورے سے وقتاًفوقتاً مجھے مستفیدفرماتے رہتے ہیں۔ اگراس غول میں آپ کو کچھ جانی پہچانی صورتیں نظر آئیں تو میری خستگی کی داد دینے کی کوشش نہ کیجئے، آپ خود لائق ہمدردی ہیں۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں