1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

بیروزگار خواتین کرکٹرز کیلئے 3ماہ کے امدادی پیکج کا اعلان

'کھیل کے میدان' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏6 اگست 2020۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,049
    موصول پسندیدگیاں:
    9,689
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]

    پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے بے روزگار خواتین کرکٹرز کی مدد کے لیے تین ماہ کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت انہیں فی کس 25ہزار روپے ماہوار دیے جائیں گے۔

    بورڈ اپنی ڈیوٹی آف کیئر پاليسی کے تحت خواتين کرکٹرز کے لیے تين ماہ کے امدادی پيکج کا اعلان کیا ہے اور خواتین کرکٹرز کی مالی امداد کی یہ تجویز عروج ممتاز کی سربراہی میں کام کرنے والے ویمنز ونگ نے پيش کی تھی جسے چيئرمين پی سی بی احسان مانی نے منظور کر لیا۔

    اس اسکيم سے 25 خواتين کرکٹرز مستفید ہوں گی جنہیں اگست سے اکتوبرتک ماہانہ 25 ہزار روپے وظیفہ ملے گا۔

    ان 25 خواتين کرکٹرز کا اعلان کردہ اسکیم کے لیے انتخاب اہلیت کے مقررہ معیار پر پورا اترنے کے بعد کیا گیا ہے اور تین ماہ پر مشتمل اس اسکیم کے لیے اہلیت کا مقررہ معیار کچھ یوں ہے۔

    ڈوميسٹک سيزن 20-2019 کا حصہ ہونا، سيزن 21-2020 کے لیے کنٹريکٹ نہ ملنا اور فی الحال آمدن کا کوئی ذریعہ (نوکری، کنٹریکٹ یا کاروبار) نہ ہونا۔

    کورونا وائرس کی وبا سے کرکٹ کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں جس کے سبب پیدا شدہ موجودہ معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ان 25 خواتین کرکٹرز کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ جون ميں خواتين کرکٹرز کے لیے کنٹریکٹ کا اعلان بھی کرچکا ہے جس کے مطابق 9 سنٹرل کنٹريکٹ يافتہ اور اتنی ہی ایمرجنگ کھلاڑیوں کو دیے گئے 12 ماہ پر مشتمل کنٹريکٹ کا اطلاق يکم جولائی 2020 سے ہوچکا ہے۔

    حالیہ اعلان کے بعد اب پی سی بی فی الحال مجموعی طور پر 43 خواتین کرکٹرز کی امداد کررہا ہے۔

    پی سی بی کی ویمنز ونگ کی سربراہ عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ کووڈ-19 کے باعث دنيا بھر ميں خواتين کرکٹ کی سرگرمياں رکی ہوئی ہیں اور اس وبا سے ہماری خواتين کرکٹرز بھی بہت متاثر ہوئی ہيں جن ميں سے کچھ تو ایسی ہیں جو اپنے خاندان کی واحد کفيل ہیں۔

    عروج ممتاز نے کہا خواتين کرکٹ آہستہ آہستہ فروغ پارہی ہے لہٰذا یہ وقت کا تقاضہ تھا کہ پی سی بی اس اسکيم کے تحت ناصرف اپنے کھلاڑیوں کی حفاظت کرتا بلکہ انہيں يہ یقین دلانا بھی ضروری تھا کہ بورڈ ان کی قدر کرتا ہے اور ان مشکل لمحات ميں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ ڈوميسٹک سيزن 20-2019 ميں مجموعی طور پر 48 کھلاڑيوں نے حصہ ليا تھا جس ميں سے 25 کھلاڑی تو اس اسکيم سے مستفيد ہوں گی جبکہ باقی ماندہ خواتین کرکٹرز يا تو پی سی بی کے کنٹريکٹ پر ہيں يا پھر وہ کہيں اور ملازمت کر رہی ہيں۔

    عروج ممتاز نے کہا کہ وہ اپنی ٹيم کے ساتھ ساتھ پی سی بی کے چيئرمين اور چيف ايگزيکٹو کی بھی مشکور ہيں جنہوں نے اس معاملے کو سمجھا اور ایک ایسا فيصلہ کيا جو مستقبل ميں خواتين کرکٹ کی پذیرائی اور فروغ ميں معاونت کرے گا۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ اس سے قبل جون میں بھی ایسی ہی ایک اسکیم متعارف کرواچکا ہے جس میں سابق فرسٹ کلاس کرکٹرز، ميچ آفيشلز، اسکوررز اور کيوريٹرز سمیت 161 اسٹيک ہولڈرز مستفید ہوئے تھے، مذکورہ اسکیم کا مقصد کوويڈ 19 کے باعث پیدا شدہ حالات سے نمٹنے ميں اپنے اسٹیک ہولڈرز کی معاونت کرنا تھا۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں