1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

بچوں میں اعتماد کی کمی کی وجوہات ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر : روہاب لطیف

'جنرل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏1 فروری 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,132
    موصول پسندیدگیاں:
    652
    ملک کا جھنڈا:
    بچوں میں اعتماد کی کمی کی وجوہات
    تحریر : روہاب لطیف
    کہا جاتا ہے کہ بچے فرشتوں کا روپ ہوتے ہیں ان کے چہرے پر معصومیت اور تازگی سے ہر کسی کو ان کی طرف کشش ہوتی ہے کہ وہ ہر کسی سے پیار اور محبت حاصل کرتے ہیں ۔جس کی وجہ سے وہ ملنے والے پیار اور اور پیار دینے والے کو اپنا سمجھتے ہیں ۔

    جس کی وجہ سے وہ ملنے والے پیار اور اور پیار دینے والے کو اپنا سمجھتے ہیں ۔ لیکن آج کل اسی پیار کو ایک الگ شکل میں بھی دیکھا جا رہا ہے جو بڑھتے بڑھتے اس حد تک چلا جاتا ہے کہ بچہ اس پیار کی وجہ سے زیادتی کا شکار ہو جاتا ہے اور یہ زیادتی جسمانی اور ذہنی دونوں طرح سے ہوتی ہے جیسا کہ ماں باپ اکثر غصے کی حالت میں بچوں کو ایسے نازیبا الفاظ کہہ جاتے ہیں جوبچے کی شخصیت کو مسخ کردیتے ہیں ۔ ذہنی زیادتی میں صرف ماں باپ ہی نہیں بلکہ بہن بھائی ، اساتذہ اور دوست احباب بھی شامل ہوتے ہیں مثال کے طور پر اگر ایک بچہ بالکل نہیں پڑھتا تو استاد اسے نکما اور نالائق کہہ کر پکارتے ہیں ۔حد تو یہ ہے کہ سب کے سامنے اس کو نالائق کہہ کر پکارا جاتا ہے ۔ اس طرح اس بچے کی دوسروں کے سامنے جگ ہنسائی ہوتی ہے جو اسے ذہنی طور پر ہلا کر رکھ دیتی ہے اسی طرح وہ دوست احباب میں جا کر بیٹھے تو اسے دوست بھی طعنہ دیتے ہیں کہ تم تو نکمے ہو ہمارے ساتھ نہ بیٹھا کرو وہ تنہا رہتا ہے اور گھر میں ماں باپ اسے دوسرے بہن بھائیوں اور رشتے داروں کے ساتھ اس کا موازنہ کرتے ہیں جو اس کو ذہنی طور پر بہت متاثر کرتی ہیں کوئی اس کے نہ پڑھنے کی وجہ معلوم نہیں کرتا کہ آخر اسے کیا مسئلہ درپیش ہے جس کی وجہ سے وہ پڑھائی پر دھیان نہیں دے پا رہا ہے۔

    ذہنی زیادتی کی وجہ سے اس کے جذبات اور احساسات بہت حد تک متاثر ہوتے ہیں۔ زیادتی آج کل کالے دھوئیں کی طرح پھیلتی جا رہی ہے ۔ہر دن بچوں کے ساتھ زیادتی کی خبریں اور اس سے ہونے والی اموات کا ذکر بھی ہر کسی کی زبان پر جاری ہے، چاہے چھوٹی سی معصوم بچی ہو یا بچہ ، حیوانیت سے وہ بھی محفوظ نہیں ۔

    جسمانی زیادتی کا شکار ہونے والے بچے یا تو موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں یا پھر انہیں اتنی درندگی سے زخمی کیا جاتا ہے کہ وہ بچہ ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ذہنی اور جسمانی طور پر سے اپنی جان کھو دیتا ہے ۔ زیادتی کا شکار پہلے بچوں کو باہر گلی محلوں سے اغواء کر کے کیا جاتا تھا جس کی روک تھام کے لیے کسی بھی طور پر کوئی مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔ اس جرم کی شرح بڑھتے بڑھتے گھروں تک آپہنچی ۔جس میں بچے کے عزیزو اقارب خاص طور پر اس کے سگے رشتہ داروں کا ہاتھ شامل رہا ہے ۔زیادتی کی وجہ سے بچے ذہنی طور پر بھی معذور ہو کر رہ جاتے ہیں ۔

    ایک بات ذہن نشین ہونی چائیے کہ جسمانی زیادتی اور ذہنی زیادتی ان پھول جیسے بچوں کے لیے قیامت سے کم نہیں کیونکہ خوب صورت پھولوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ کچلا جا رہا ہے جس میں ان کے پیدا ہونے یا باغوں میں کھلنے کا تو قصورنہیں، کیونکہ یہ ایسے پھول ہیں جنہیں کھلنے سے پہلے ہی توڑ دیے جاتے ہیں ۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں