1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ایک غزل : ہر خاموشی ہاں نہیں ہوتی

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از ًمحمد سعید سعدی, ‏25 اپریل 2019۔

  1. ًمحمد سعید سعدی
    آف لائن

    ًمحمد سعید سعدی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 جون 2016
    پیغامات:
    153
    موصول پسندیدگیاں:
    178
    ملک کا جھنڈا:
    ہر خاموشی ہاں نہیں ہوتی
    بس ہونٹوں پر ناں نہیں ہوتی

    خوابوں میں ہم مل لیتے ہیں
    رات شبِ ہجراں نہیں ہوتی

    بچے جتنا شور مچا لیں
    ماں ان سے نالاں نہیں ہوتی

    جانے کیسے جیتے ہوں گے
    جن بچوں کی ماں نہیں ہوتی

    دن بھر کی بیگاری کر کے
    شام ، بدن میں جاں نہیں ہوتی

    کیوں رستوں سے گھبراتے ہو
    یوں منزل آساں نہیں ہوتی

    در در بھٹکیں عشق کے قیدی
    یہ قیدِ زنداں نہیں ہوتی

    چپ کا روزہ رکھ کر سعدی
    دل کی بات بیاں نہیں ہوتی
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,027
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب محترم بہت خوب ۔ ۔ ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔ ۔ ۔
     
    ًمحمد سعید سعدی نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ًمحمد سعید سعدی
    آف لائن

    ًمحمد سعید سعدی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 جون 2016
    پیغامات:
    153
    موصول پسندیدگیاں:
    178
    ملک کا جھنڈا:
    بہت بہت شکریہ آپ کی حوصلہ افزائی کا بھائی
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں