1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ایک ستارے کا حجم کیسے معلوم ہوتا ہے؟

'جنرل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏18 فروری 2020۔

  1. intelligent086
    آن لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    4,132
    موصول پسندیدگیاں:
    652
    ملک کا جھنڈا:
    ایک ستارے کا حجم کیسے معلوم ہوتا ہے؟

    ماہرین فلکیات نے کچھ ستاروں کے حجم کا پتہ لگایا ہے
    تحریر : طیب رضا عابدی
    کائنات میں موجود قریباً ہر شے مادے پر مشتمل ہے جو ایٹمی ذرات سے بنا ہے۔ ابھی تک سائنس دانوں کو یہ علم ہوا ہے کہ صرف فوٹونز اور گلواونز مادے پر مشتمل نہیں۔ مادے کے بارے میں جاننا اہم ہے لیکن آسمان پر جو اشیا ہیں وہ بہت دور ہیں۔ ہم انہیں چھو نہیں سکتے اور یقینی طور پر ہم روایتی طریقوں سے ان کا وزن معلوم نہیں کر سکتے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ماہرین فلکیات کائنات میں اشیا کے وزن کے بارے میں کیسے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ یہ خاصی پیچیدہ بات ہے ۔ آپ یہ فرض کر لیجئے کہ کوئی ستارہ بڑا ہے یعنی ایک سیارے سے بھی بڑا۔ اس کے وزن کی کیوں پرواہ کریں؟ اس بارے جاننا بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ہمیں اس ستارے کے ارتقائی عمل کے متعلق سراغ ملتا ہے یعنی اس کا ماضی، حال اور مستقبل۔ ماہرین فلکیات بہت زیادہ وزن کا تعین کرنے کیلئے کئی طریقے اختیار کر سکتے ہیں لیکن یہ طریقے براہ راست نہیں اختیار کئے جا سکتے بلکہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے بالواسطہ طور پر کام کر سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ ایسا ہے جس سے روشنی کے راستے کی پیمائش کی جاتی ہے۔ یہ پیمائش کسی نزدیکی شے کے کھینچنے کی قوت سے براہ راست منسلک ہے۔ اگر محتاط طریقے سے پیمائش کی جائے تو اشیا کے وزن کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں۔ اکیسویں صدی میں ماہر فلکیات نے کشش ثقل لینسنگ بہت زیادہ وزنی اشیا کی پیمائش کا تعین کرنے کیلئے استعمال کیا۔ اس سے قبل ماہرین کو فلکیات ستاروں کی پیمائش کیلئے ثنائی ستاروں (binary stars) پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ ثنائی ستاروں کا مطلب یہ ہے کہ دو ستاروں کا ایسا نظام جو اپنی باہمی کشش ثقل کے تحت زمین کے گرد گھومتے ہیں ۔ ثنائی ستاروں کا حجم معلوم کرنا ماہرین فلکیات کیلئے مشکل نہیں ہوتا۔ حقیقت میں کثیر ستاروں کا نظام نصابی کتاب کی طرح ایک مثال ہے جو یہ بتاتا ہے کہ ان کے حجم کا تعین کیسے کیا جاسکتا ہے ۔ اگرچہ یہ ایک تکنیکی مسئلہ ہے لیکن ماہرین فلکیات کیا کرتے ہیں ، اس کو سمجھنے کیلئے اس سارے نظام کا مطالعہ از حد ضروری ہے ۔ اب ہم صبح کے ستاروں (sirius) کی بات کرتے ہیں ۔ خلائی ٹیلی سکوپ سے صبح کے ستاروں اے اور بی کی تصویر نظر آتی ہے اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ثنائی ستاروں کا یہ نظام زمین سے8.6 نوری سال دور ہے ۔ ماہرین فلکیات پہلے نظام میں تمام ستاروں کے مدار کی پیمائش کرتے ہیں ۔ وہ ستاروں کی مداراتی رفتار کا بھی اندازہ کرتے ہیں ۔ وہ اس بات کا بھی پتہ لگا تے ہیں کہ ایک ستارے کو اپنے مدار کے گرد گھومنے کیلئے کتنا وقت درکار ہوتا ہے ۔ اسے ستارے کا مداراتی عرصہ کہاجاتا ہے۔ ایک دفعہ جب تمام ضروری معلومات حاصل ہوجائیں تو پھر ماہرین فلکیات حساب کتاب لگاتے ہیں کہ ستاروں کا حجم کیا ہے ؟ اس کیلئے وہ ایک فارمولا استعمال کرسکتے ہیں ۔ وہ فارمولا ذیل میں بیان کیا جارہا ہے ۔ vorbit=SQRT(GM/R)ایس کیو آرٹی کا مطلب سکوئر روٹ ہے ، جی کا مطلب گریویٹی یعنی کشش ثقل ، ایم کا مطلب حجم اور آر کا مطلب ریڈیئس۔ اب یہ الجبرا کا معاملہ ہے کہ وہ مندرجہ بالا مساوات کو اس طریقے سے حل کرے کہ ایم یعنی حجم کا مسئلہ حل ہو جائے ۔ اس طرح ستارے کو چھوئے بغیر ماہرین فلکیات علم ریاضی اور ان طبعی قوانین کا استعمال کرتے ہیں جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں ۔ اس طرح ستارے کا حجم معلوم کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن اس حقیقت کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ وہ ہر ستارے کیلئے یہ نہیں کرسکتے ۔ دیگر پیمائشیں ستاروں کا حجم معلوم کرنے کیلئے ان کی مدد کرتی ہیں لیکن ثنائی ستاروں کے نظام کے لئے نہیں ۔ مثال کے طور پر وہ روشنی اور درجہ حرارت کو استعمال کرسکتے ہیں ۔ مختلف روشنیوں اور درجہ حرارت کے حامل ستاروں کا حجم واضح طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ۔ ان معلومات کو جب گراف پر منتقل کیا گیا تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ درجہ حرارت اور روشنی کے ذریعے ستاروں کی درجہ بندی کی جاسکتی ہے ۔ حجم کے لحاظ سے بڑے ستارے کا ئنات میں گرم ترین ستاروں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ کم حجم کے ستارے جیسے کہ سور ج اپنے بھائیوں کی نسبت ٹھنڈے ہیں ۔ یہ بھائی بہت زیادہ حجم کے مالک ہیں ۔ ستاروں کے درجہ حرارت ، رنگ اور چمک کے گراف کو ہرٹزسپرنگ، رسل ڈایا گرام کہا جاتا ہے اور یہ ایک ستارے کا حجم بھی ظاہر کرتا ہے ۔ اس کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ یہ چارٹ میں کہاں موجود ہے ۔ ماہرین فلکیات کو اس بڑی خصوصیت کا بھی علم ہوتا ہے کہ ستارے کیسے پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ کیسے رہتے ہیں اور ان کا خاتمہ کیسے ہوتا ہے، ستارے بھی عمر کے ساتھ ساتھ اپنے وجود کو کھوتے جاتے ہیں ۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے ایٹمی ایندھن کو خرچ کرتے رہتے ہیں اور اپنی عمر کے اختتام پر اپنا بہت سا حجم کھو بیٹھتے ہیں۔ اگر وہ سورج کی طرح کم حجم کے مالک ہیں تو پھر ان کا خاتمہ بڑی خاموشی سے ہوجاتا ہے لیکن اگر ان کا حجم بہت زیادہ ہو تو پھر تباہ کن دھماکوں سے ان کا اختتام ہوتا ہے ۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں