1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ایٹم بم پروف کمرے , ایٹم بم سے محفوظ عمارت میں سینما ہال , بجلی گھر , جم اور ڈاگ پارک بھی ملے گا

'انفارمیشن ٹیکنالوجی' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏8 جنوری 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    2,859
    موصول پسندیدگیاں:
    302
    ملک کا جھنڈا:
    ایٹم بم پروف کمرے , ایٹم بم سے محفوظ عمارت میں سینما ہال , بجلی گھر , جم اور ڈاگ پارک بھی ملے گا
    upload_2020-1-8_2-35-11.jpeg
    رحمٰی فیصل
    دنیا ایٹمی جنگ کے قریب ہوتی جارہی ہے، بڑے ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم نے بنکروں میں اپنی حفاظت کا بندوبست کر لیا ہے، تو کیوں نہ پیسے والے لوگ بھی اپنی حفاظت پر توجہ دیں، وہ کیوں نہ اللہ تعالیٰ کی زندگی کو آخری سانس تک جی لیں؟ امریکہ اور یورپ کے کئی امراء نے مستقبل میں حفاظت اور پُرتعش زندگی کے لئے محفوظ ترین بنکرز بنانے کی ہدایت کر دی ہے، اس نیک کام اور مہنگے ترین بنکرز کا نقشہ بنانے کے لئے عالمی فرموں نے اپنی خدمات پیش کر دی ہیں۔ اگر خدانخواستہ ایٹم بم چل گیا تو ایک طرف دنیا میں ہر سو موت کا منظر ہوگا، لاشیں ہی لاشیں ہوں گی، قیامت صغریٰ مچی ہو گی، دنیا زہریلے بادلوں اور ان سے برسنے والی کیمیائی بارشوں میں تڑپ تڑپ کر مر رہی ہو گی اور دوسری طرف ایٹمی بارش عالی شان بنکروں میں محفوظ پُرتعش زندگی گزارنے والوں تک نہیں پہنچ پائے گی وہ ان بنکروں میں فلمیں بھی دیکھ رہے ہوں گے اور دنیا کے لذیذ ترین کھانوں سے پیٹ کی آگ بجھا رہے ہوں گے، سورج ان کے آس پاس کہیں بھی نہیں ہوگا لیکن مصنوعی سورج کی کرنیں کھڑکیوں سے جھانک جھانک کر انہیں صبح کی نوید سنا رہی ہوں گی،کیسی ہو گی یہ زندگی؟ میں آج اسی کے بارے میں کچھ بتائوں گی۔ اولین طور پر بموں اور میزائلوں سے بچنے کے لئے بنائے گئے بنکر 1960ء کی دہائی میںبے کار ہو گئے، یہ سیلوز (متروک سرنگیں اور میزائل) میں قائم کئے گئے تھے، یہ اس وقت امریکی اور یورپی فوج نے ہٹلر کے ممکنہ ایٹمی حملوں سے بچنے کے لئے بنائے تھے۔ امریکہ میں ’’امریکی کور آف انجینئرز برائے ایٹمی ہتھیار‘‘ نے انہیں تعمیر کیا تھا۔ متروک شدہ سیلوز ایٹمی حملوں سے محفوظ گھر بنانے والی عالمی کمپنیوں کے ہاتھ لگ گئے ہیں، ان کمپنیوں نے انہیں نوٹ بنانے کی مشین سمجھ لیا ہے۔ یہ فلمی طرز کے بنکرز نہیں ہیں، ان بنکروں میں لوگ سرنگ کی طرح ٹھنسے ہوئے نہیں ہوں گے بلکہ ہر امیر کے لئے الگ الگ ’’علاقہ‘‘ ہو گا جہاں اسے دنیا کی ہر سہولت ملے گی،اچھے سے اچھا کھانے کا سامان ہر وقت موجود رہے گا۔ ان بنکروں میں امیروں کو جسمانی تحفظ ہی نہیں ملے گا بلکہ ذہنی سکون کے لئے بھی وہ جب چاہیں یہاں آ سکتے ہیں۔ یعنی یہ ان کی جانیں بچانے کے لئے ہی نہیں بنائے گئے بلکہ ان کا مقصد انہیں ذہنی سکون مہیا کرنا بھی ہے۔ ہر سیلوز میں بوریت دور کرنے کیلئے بڑا سا شوٹنگ رینج بنایا گیا ہے، سوئمنگ پول، سینما گھر، مووی تھیٹر اور جم بھی بنائے گئے ہیں۔ امریکی عوام کتوں کے بھی شوقین ہیں، ایٹم بم پروف کمروں میں کتوں کو ٹہلانے کے لئے ’’ڈاگ پارک ‘‘کے نام سے ایک پارک بھی بنایا گیا ہے۔ انسانوں کیلئے خوبصورت پارک الگ ہیں، یہاں کوہ پیمائی کا شوق بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی نے مٹی ڈال کر ’’جعلی پہاڑی چوٹی‘‘ بھی بنائی ہے۔ ایٹم بم سے بچنے کے لئے وہاں پناہ لینے والے یہ چوٹی سر کر سکتے ہیں، یہ چوٹی کافی اونچی ہے اس لیے ہمت سے کام لینا پڑے گا۔ دنیا زلزلوں اور آتش فشاں پہاڑوں کا گھر سمجھی جاتی ہے، ان دنوں آسٹریلیا میںآگ بھڑکی ہوئی ہے جس پر کسی کاکنٹرول نہیں، اس سے بچنے کے خواہشمند بھی ان ایٹم بم پروف کمروں میں پناہ گزیں ہو سکتے ہیں، غذائی کمی کی صورت میں بھی یہاں رہائش رکھی جا سکتی ہے، لذیذ ترین کھانوں کے لئے بہترین کک رکھے گئے ہیں ،کچن کا سامان کھاد اور کیڑے مار ادویات سے پاک ہو گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وبائی مرض کی صورت میں بھی امراء یہاں آ سکتے ہیں۔ یہاںجراثیموں کو گھسنے کی اجازت نہیں، اسے ہر لحاظ سے ’’وائرس پروف‘‘ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اندر جانے والے کے تمام ٹیسٹ ہوں گے، جراثیموں کو ہلاک کرنے کے بعد ہی کسی کو اپنے کمرے میں رہنے کی اجازت ملے گی۔ انسان کی سہولت کے لئے اتنا کافی نہیں، کچھ لوگوں کو سورج نکلنے اور کچھ کو چاندنی دیکھنے کا شوق ہوتا ہے، سورج کی کرنیں آزادی کا احساس دلاتی ہیں۔ فکر مت کیجئے، یہاں کھڑکیوں سے آپ کو اصلی سورج کے ڈوبنے اور طلوع آفتاب کے مناظر بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ سورج کے مشرق سے نکلنے اور مغرب میں ڈوبنے کے مصنوعی مناظر پیدا کرنے کی ٹیکنالوجی کھڑکیوں میں چھپی ہو گی۔ انسان کو ایسے لگے گا جیسے سورج اس کے سامنے نکل رہا ہے لیکن نہیں، سورج کا وہاںنام و نشان بھی نہ ہوگا، یہ سب کچھ مصنوعی ہو گا۔ اب اگر کسی کا جی چاہتا ہے کہ وہ آندھی یا طوفان کا نظارہ کرے… تو وہ یہ بھی کرسکتا ہے۔ یہ بنکرز قدرتی ہوائوں کا نظارہ کرنے والوں کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ وہاں پہلے سے ہی مصنوعی ہوائیں چلانے والے نظام نصب کر دیئے گئے ہیں۔ صاف پانی کی فراہمی بھی کوئی مسئلہ ہے! اور رہی بجلی…بجلی ان کی اپنی ہو گی جس میں خرابی کا دور دور تک اندیشہ نہیں، کئی ذرائع سے بجلی بنائی جائے گی جو کئی سال کے لئے کافی ہوگی ۔ بچوں کے دانت اور کمر میں تکلیف رہتی ہے۔ گھبرائیے مت، وہاں دندان ساز اور ڈاکٹروں کا بندوبست بھی کیا گیا ہے، ذرا سی تکلیف پر ڈاکٹرکمرے میں حاضر ہو جائے گا، ڈینٹل سرجری اور دوسری سرجری کا بھی مکمل انتظام ہے۔ ایٹم بم پروف کمرے بنانے میںلاری ہال (Larry Hall) پیش پیش ہیں۔ ان کی جانب سے بنائی گئی 15منزلہ عمارت کے تما م ایٹم بم پروف کمرے بک چکے ہیں۔ 1800مربع فٹ پر محیط مکمل فلور کی قیمت 30لاکھ ڈالر رکھی گئی تھی لیکن یہ پوری عمارت کسی کو نہیں بیچی گئی، سب نے الگ الگ کمرے ہی خریدے ہیں۔ ایسے مزید بنکرز امریکی شہر سائوتھ ڈکوٹا اور کنساس میںبھی دستیاب تھے، جو اب بک چکے ہیں۔ یہ جرمنی میں بھی بنائے گئے ہیں لیکن اب نہیں مل سکتے ، سب خریدے جا چکے ہیں۔ ایک کمپنی فائیو سٹار ہوٹل جیسی سہولتوں کے ساتھ 35ہزار ڈالر فی کمرہ کے حساب سے جگہ مہیا کر رہی ہے۔کیلے فورنیا میں زیر زمین بنکرز بنائے جارہے ہیں، 9ہزار مربع فٹ پر محیط اس عمارت میں37کمرے ہوں گے جن میں سے ایک کمرہ آسکر انعام یافتہ شخص نے 1.028کروڑ ڈالر میں بک کروا لیا ہے۔ چیک ری پبلک میں دنیا کے مہنگے ترین بنکرز بنائے گئے ہیں۔ ماضی میں ان بنکروں کو چیک اور روسی فوج استعمال کرتی رہی ہے، سلیکون ویلی کے کروڑ پتیوں نے نیوزی لینڈ میں 11زیر زمین بنکرزمیں کئی کمرے 80 لاکھ ڈالر میں خرید لئے ہیں۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں