1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

اِتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے ــــــ کیفیؔ اعظمی

'شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از حنا شیخ, ‏6 اکتوبر 2016۔

  1. حنا شیخ
    آف لائن

    حنا شیخ ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جولائی 2016
    پیغامات:
    2,709
    موصول پسندیدگیاں:
    1,572
    ملک کا جھنڈا:
    اِتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے
    ہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کَل پڑے
    جس طرح ہنس رہا ہوں میں پی پی کے گرم اشک
    یُوں دُوسرا ہنسے تو کلیجہ نِکل پڑے
    اِک تُم کہ تُم کو فکرِ نشیب و فراز ہے
    اِک ہم کہ چل پڑے تو بہرحال چل پڑے
    ساقی سبھی کو ہے غمِ تشنہ لبی، مگر
    مے ہے اُسی کی نام پہ جس کے اُبل پڑے
    مُدّت کے بعد اُس نے جو کی لُطف کی نگاہ
    جی خوش تو ہو گیا، مگر آنسو نِکل پڑے

    کیفیؔ اعظمی​
     
  2. شایان غلامی
    آف لائن

    شایان غلامی ممبر

    شمولیت:
    ‏29 اپریل 2017
    پیغامات:
    9
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    ملک کا جھنڈا:
  3. عبیدالرحمٰن
    آف لائن

    عبیدالرحمٰن ممبر

    شمولیت:
    ‏1 جنوری 2018
    پیغامات:
    4
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    ملک کا جھنڈا:
  4. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    346
    ملک کا جھنڈا:
    ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا
    میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا
     
  5. شکیل احمد خان
    آف لائن

    شکیل احمد خان ممبر

    شمولیت:
    ‏10 نومبر 2014
    پیغامات:
    1,406
    موصول پسندیدگیاں:
    1,113
    ملک کا جھنڈا:
  6. سید علی رضوی
    آف لائن

    سید علی رضوی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 اکتوبر 2018
    پیغامات:
    54
    موصول پسندیدگیاں:
    81
    ملک کا جھنڈا:
  7. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,030
    ملک کا جھنڈا:
    شکریہ ۔ میں نے کیفی اعظمی کی شاعری کو آج پہلی بار پڑھا ۔ بہت عمدہ ۔ بہت خوب ، ایک بار پھر شکریہ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں