1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

انفلوئنزا کیا ہے؟ ...... تحریر : محمد ریاض

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏10 اپریل 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    3,911
    موصول پسندیدگیاں:
    571
    ملک کا جھنڈا:
    انفلوئنزا کیا ہے؟ ...... تحریر : محمد ریاض


    انفلوئنزا کو فلو اور نزلہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نظام تنفس کے بالائی یا اندرونی حصے کی شدید وائرل انفیکشن ہوتی ہے۔ اس کی علامات میں بخار، سردی اور کمزوری کے احساس کے علاوہ پٹھوں میں درد شامل ہیں۔ اس کے ساتھ سر اور پیٹ میں درد بھی ہو سکتا ہے۔
    انفلوئنزا ایک جیسے وائرسوں کے خاندان سے ہوتا ہے جسے Orthomyxoviridae کہتے ہیں۔ انفلوئنزا کی درجہ بندی اے، بی، سی اور ڈی کے طور پر کی جاتی ہے۔ ان بڑی اقسام سے عموماً ملتی جلتی علامات ظاہر ہوتی ہیں لیکن کسی ایک قسم کا شکار ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ میں دوسری کی قوت مدافعت آ جائے گی۔ ''اے‘‘ وائرس انفلوئنزا کی بڑی وباؤں کا باعث بنتے ہیں۔ ''بی‘‘ وائرس مقامی وبائیں پیدا کرتے ہیں۔ ''سی‘‘ وائرس سے نظام تنفس کی کم شدید علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ''ڈی‘‘ وائرس انسانوں کو انفیکٹ نہیں کرتے اور مویشیوں وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔
    ''اے‘‘ وائرس کی ذیلی اقسام بھی ہیں اور پھر ان کے سٹرین بھی ہوتے ہیں۔ سٹرین کسی قسم کا ایک نیا روپ ہوتا ہے۔ انفلوئنزا ''اے‘‘ کی ذیلی اقسام کو دو بیرونی اینٹی جنز (تریاق زا) ہیماگلوٹینن (ایچ) اور نیورامینڈیس (این) کی بنیاد پر الگ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ''اے‘‘ انفلوئنزا کی ذیلی اقسام میں ایچ ون این ون، ایچ فائیو این ون اور ایچ تھری این ٹو شامل ہیں۔ سٹینز کو جینیاتی مواد کی ترتیب کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔
    انفلوئنزا کے وائرس جب عالمی وبا کی صورت اختیار کرتے ہیں تو ان میں بہت تیزی سے ارتقائی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ ان کے جینز میوٹیشن سے بدلتے ہیں اور اس عمل میں نئی ذیلی قسم بھی تشکیل پا جاتی ہے۔ جانوروں اور پرندوں میں بھی انفلوئنزا کے مختلف وائرس پائے جاتے ہیں۔ ان کے ملاپ سے انتہائی خطرناک وائرس بھی وجود میں آ سکتے ہیں۔
    جب وبائیں پھیلتی ہیں تو انسانی آبادی میں اس کے خلاف مدافعت بھی جنم لیتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ انفلوئنزا بوڑھوں اور بچوں کے لیے زیادہ خطرناک ہے۔ تاہم بعض اوقات 20 سے 40 برس کے افراد، جنہیں علاج کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے، شدید بیمار پڑ جاتے ہیں۔ اس کا سبب قوت مدافعت کا حد سے زیادہ ردعمل ظاہر کرنا ہوتا ہے جس سے بالخصوص پھیپھڑوں میں شدید سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔
    اندازاً نصف صدی بعد انفلوئنز کی عالمی وبا آتی ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی وبائیں آتی ہیں جن کے درمیان وقفہ کم ہوتا ہے۔ ''اے‘‘ وائرس میں ہونے والی تبدیلی سے پیدا شدہ وبا اکثر عالمی شکل اختیار کر جاتی ہے۔ تاریخ میں اس حوالے سے 1918-19ء میں انفلوئنزا کی وبا پھیلی تھی، جو سب سے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ اس کا سبب ایک ذیلی قسم ایچ ون این ون تھی۔ اس سے اڑھائی سے پانچ لاکھ افراد دنیا بھر میں ہلاک ہوئے۔
    اس کے بعد اس کی کم شدید وبائیں آئی۔ مثال کے طور پر ذیلی قسم ایچ ٹو این ٹو یا 1957ء کی فلو کی عالمی وبا مشرقی ایشیا میں 1957ء کے اوائل میں شروع ہوئی اور 1958ء کے وسط تک جاری رہی۔ اس سے ایک اندازے کے مطابق 10 سے 20 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ وائرس 1968ء میں غائب ہو گیا۔ لیکن پھر اس وائرس کی جگہ ایک نئی ذیلی قسم نے لے لی۔ یہ ایچ تھری این تھری تھی۔ یہ وائرس آج تک موجود ہے۔ یہ بیسویں صدی کی انفلوئنزا کی تیسری وبا تھی اس سے 10 سے 40 لاکھ افراد کی موت واقع ہوئی۔
    ۔1997ء میں اویان انفلوئنزا یا برڈ فلو آیا۔ اس کی ابتدا ہانگ کانگ کی گھریلو مرغیوں سے ہوئی۔ اس سے کم لوگ متاثر ہوئے اور چند مارے بھی گئے۔ یہی وائرس یعنی ایچ فائیو این ون، جنوب مشرقی ایشیا کی مرغیوں میں پھر 2003-4ء میں ظاہر ہوا۔ اس سے بھی انسانی اموات ہوئیں۔ انفلوئنزا کی بہت سی ذیلی اقسام ایسی ہیں جو انسانوں کو انفیکٹ نہیں کرتیں لیکن ان کے انفیکٹ کرنے اور وبائی صورت اختیار کرنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ان میں ایچ سیون این ٹو، ایچ سیون این تھری اور ایچ نائن این ٹو شامل ہیں۔
    ۔2009ء میں ایچ ون این ون کے ایک سٹرین سے وبا پھیلی تھی۔ یہ میکسیکو سے شروع ہوئی اور ریاست ہائے متحدہ امریکا پہنچی۔ یہ وبا 1918-19ء سپینش فلو جتنی مہلک نہیں تھی لیکن اس کا وائرس بہت متعدی تھا اور تیزی سے پھیلتا تھا۔ اس کے پیش نظر عالمی ادارۂ صحت نے 29 اپریل 2009 کو پانچویں درجے کی تنبیہ جاری کی۔ اس کے بعد اس سے نپٹنے کے کاموں میں تیزی لائی گئی۔ اس کے باوجود یہ عالمی سطح پر پھیل گیا۔ 11 جون 2009ء کو چلی، آسٹریلیا اور برطانیہ میں پھیلنے پر عالمی ادارۂ صحت نے چھٹے درجہ کی تنبیہ جاری کی۔ جنوری 2010ء کے وسط تک یہ وبا 209 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ یہ اکیسویں صدی میں انفلوئنزا کی پہلی عالمی وبا تھی۔
    ماضی میں آنے والی انفلوئنزا کی چاروں وباؤں سے عالمی ماحول متاثر ہوا۔ اس سے سمندروں کی بیرونی سطح کا درجہ حرارت کم ہوا۔ انفلوئنزا کی عالمی وبائیں بہت سے خطوں میں تیزرفتار تباہی لا چکی ہیں، اس لیے عالمی سطح پر انفلوئنز کی سرگرمی کو عالمی ادارۂ صحت باقاعدگی سے مانیٹر کرتا ہے، اور سنگینی کے مطابق ایک سے چھ تک کے درجوں کی تنبیہ یا الرٹ جاری کرتا ہے۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں