1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ

'عظیم بندگانِ الہی' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏27 اپریل 2018۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    19,572
    موصول پسندیدگیاں:
    9,198
    ملک کا جھنڈا:
    اللہ اکبر
    امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نابینا ہونے کے بعد ایک مرتبہ اونٹ پر سوار ہوکر حج کو تشریف لے جارہے تھے، راستہ میں ایک مقام پر انھوں نے چلتے چلتے اپنا سر جھکا لیا اور دیگر رفقاء کو بھی ایسا کرنے کی ہدایت دی، رفقاء نے حیران ہوکر اس کی وجہ پوچھی تو امام ترمذی نے فرمایا کہ کیا یہاں کوئی درخت نہیں؟؟
    ساتھیوں نے انکار کیا، امام ترمذی نے گھبرا کر قافلے کو روکنے کا حکم دیا، اور فرمایا کہ تحقیق کرو! مجھے یاد ہے کہ عرصہ دراز پہلے جب میں یہاں سے گزرا تھا تو اس جگہ ایک درخت تھا، جس کی شاخیں جھکی ہوئی تھیں، اور سر جھکائے بغیر اس کے نیچے سے گزرنا ممکن نہیں تھا... اگر تحقیق کرنے پر یہ ثابت ہو جائے کہ یہاں واقعی ایسا کوئی درخت نہیں تھا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میرا حافظہ کمزور ہو چکا ہے، لہذا میں احادیث کو روایت کرنا ترک کردوں گا..
    لوگوں نے اتر کر آس پاس کے لوگوں سے تحقیق کی تو لوگوں نے بتایا کہ یہاں واقعی ایک درخت تھا، چونکہ مسافروں کی پریشانی کا باعث بنتا تھا اس لیے اسے کٹوا دیا گیا..

    جامع ترمذی (صحیح احادیث کا مجموعہ بمعہ روایات ) امام ترمذی رحمتُہﷲ علیہ کی کتاب ہے. آپکی قوت حافظہ کا یہ عالم تھا کہ نابینا ہوجانے کے باوجود انھیں برسوں پہلے دیکھے گئے ایک درخت کی جگہ کا پوری طرح علم تھا، اور احادیث کی اتنی فکر کہ صرف قوت حافظہ کے کمزور ہونے کے شک پر ہی انھوں نے احادیث کی روایت کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا کہ کہیں کوئی غلط حدیث بیان نہ ہوجائے.
     
  2. ناصر إقبال
    آف لائن

    ناصر إقبال ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2017
    پیغامات:
    1,670
    موصول پسندیدگیاں:
    346
    ملک کا جھنڈا:
    بہت شکریہ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں