1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

اللہ کا عذاب کیوں؟

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اجمل خان, ‏29 مارچ 2020۔

  1. محمد اجمل خان
    آف لائن

    محمد اجمل خان ممبر

    شمولیت:
    ‏25 اکتوبر 2014
    پیغامات:
    175
    موصول پسندیدگیاں:
    163
    ملک کا جھنڈا:
    اللہ کا عذاب کیوں؟

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا کی تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ دیا کہ
    ’’إن رحمتي سبقت غضبي‘‘
    ’’بے شک میری رحمت میرے غصے پر سبقت لے گئی‘‘۔(صحیح البخاری:7422)
    یعنی اللہ کی رحمت اس کے غصے اور عذاب پر غالب ہے۔

    اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ رحمت کا معاملہ ہے۔ اس کے بندے اسے بے حد محبوب ہیں۔ وہ اپنے بندوں کو عذاب دینے کیلئے پیدا نہیں کیا ہے اور نہ ہی وہ انہیں عذاب دینا چاہتا ہے۔ پھر بھی بعض بندوں پر عذاب کا کوڑا برسا، بعض اقوام پر عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور دنیا سے ان کا نام و نشان مٹ گیا؟ یہ عذاب کیوں آتے ہیں؟ کوئی قوم عذاب میں کیوں گرفتار ہوتی ہے؟

    اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ہی دیا ہے، فرمایا:
    ۔ ۔ ۔ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ (11) سورة الرعد
    ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وه خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے اور جب اللہ کسی قوم پر عذاب کا ارادہ کر لیتا ہے تو کوئی ٹال نہیں سکتا ہے اور نہ اس کے علاوہ کوئی کسی کا والی و سرپرست ہے‘‘(11) سورة الرعد

    ہر انسان فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ انسان کے فطرت میں خیرخواہی ہے، بھلائی ہے جبکہ شیطان کے فطرت میں شر ہی شر ہے۔
    لہذا جب تک انسان اپنی فطرت پر ہوتا ہے تو وہ ہر بھلائی کو پسند کرتا ہے اور برائی سے اجتناب برتتا ہے۔ کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتا ہے اور کسی پر ظلم ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ چوری، دغا بازی، دھوکا دہی اور خیانت سے پرہیز کرتا ہے۔ کرپشن اور رشوت خوری، شراب نوشی، قماربازی، بے حیائی اور بے غیرتی وغیرہ سے بچتا ہے۔

    لیکن جب انسان اپنی فطرت سے منحرف ہو جاتا ہے تو اس میں اچھائی کے بدلے برائی جگہ بنا لیتی ہے۔ جب دل میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے اور معاشرہ برائیوں کا آماجگاہ بن جاتا ہے۔ انسان انسان کو غلام بنا لیتا ہے اور جب طاقتور کمزور پر ظلم و زیادتی کی انتہا کردیتا ہے تو عذاب کا آنا لازمی ہو جاتا ہے۔

    گزشتہ 50 سالوں میں نام نہاد جدید تہذیب نے انسانی فطرت کو مسخ کرکے رکھ دیا۔ انسان کو انسانیت سے نکال کر حیوان سے بھی بدتر بنا دیا۔ انسان اتنا ظالم بن گیا کہ اپنے جیسے انسان کو بموں سے اڑانے لگا، کیمائی و حیاتیاتی ہتھیار معصوم بچوں پر آزمانے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے فطرت میں محبت و بھائی چارہ رکھا تھا اسے نفرت اور تعصب سے بدل دیا۔ بے ایمانی، چوری، دغا بازی، دھوکا دہی اور خیانت، بے حیائی و بے غیرتی وغیرہ انسان کے فطرت میں شامل ہوگیا۔ جدید تہذیب نے انسان کے فطرت میں شیطانیت بھر کر رکھ دیا۔

    اس جدید تہذیب نے ایسی کوئی برائی نہیں چھوڑی جو اللہ تعالیٰ کو غصہ دلانے والی نہ ہو اور ان برائیوں کو قانونی حثیت دیا۔

    آج بے حیائی، بے غیرتی، شراب نوشی، بدکاری، جسم فروشی ، ہم جنس پرستی، پورنوگرافی، جوا، شراب، موسیقی اور فحش نگاری وغیرہ کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور جدید تہذیب میں یہ ساری برائیاں قانونی طور پرنافذ ہیں۔

    اظہار رائے کی آزادی کے نام پر اللہ کے برگزیدہ بندوں، پیغمبر اسلام ﷺ اور قرآن کا مذاق اڑایا اور قرآن کو جلایا گیا۔
    سود خوری، رشوت ستانی، کرپشن، بدایوانی، کمزور کے حقوق غصب کرنا، کسی کمزور ملک پر بلا جواز حملہ کرکے بے گناہ لوگوں پر اپنے جدید ہتھیاروں اور بموں کو آزمانا اور انہیں اذیت دیکر قتل کر ڈالنا، مفتوح ملک کی وسائل کی لوٹ مار، بلا امتیاز زیادتی، ہر طرح کی دہشتگردی اور تخریب کاری و بربریت وغیروغیرہ، یہ سب اس جدید تہذیب نے اس دنیا کو تحفے میں دیا۔

    چوروں، ڈاکوؤں، کرپٹ و متکبر اور بے حیا و بے غیرت لوگوں کو جمہوریت کے نام پر ملک کا حکمران بنایا گیا اور ان کے ذریعے عوام کا استحصال کیا گیا۔ کشمیر، افغانستان، فلسطین، برما، شام، عراق، یمن، لیبیا وغیرہ میں لاکھوں معصوم لوگوں کو جدید ایٹمی و کمیائی ہتھیاروں کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ جب افغانستان، فلسطین، برما، شام، عراق اور یمن میں کیمائی اور حیاتیاتی ہتھیار کا نشانہ بنا کر آنِ واحد میں ہزاروں معصوم بچوں کو شہید کردیا جائے اور دنیا والے، خاص کر مسلم حکمران اپنی مصلحت کی پیشِ نظر خاموش رہیں تو اللہ کا عذاب تو آنا ہی ہے جس کے بارے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

    ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿٤١﴾ سورة الروم
    ’’خشکی اور تری میں لوگوں کے ( بد) اعمال کے سبب سے فساد پھیل گیا ہے تاکہ الله انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں‘‘۔(سورة الروم: 41)

    اور یہ بھی فرمایا:

    وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿٢١﴾ سورة السجدة
    ’’اور ہم ان کو یقیناً (آخرت کے) بڑے عذاب سے پہلے قریب تر (دنیوی) عذاب (کا مزہ) چکھائیں گے تاکہ وہ (ظلم سے) باز آجائیں‘‘۔ (سورة السجدة : 21)

    اور یہ (کورونا کی وبا) تو چھوٹا عذاب ہے اوروہ بھی اس لئے کہ دنیا والے سدھر جائیں، ہم سدھر جائیں۔ یہ چھوٹا عذاب دیکر اللہ تعالیٰ اپنی حجت تمام کر رہا ہے۔ لیکن دنیا میں جو ہوتا رہا ہے وہی ہوگا۔ آج دنیا کی ساری اقوام یعنی مسلم، عیسائی، یہودی، ہندو وغیرہ سب ہی دعائیں کر رہی ہیں کہ اے اللہ! اس عذاب (کورونا وائرس) سے ہمیں نجات دے دے لیکن جوں ہی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس عذاب کو ہٹائے گا، پھر لوگ وہی اپنی پرانی روش پر آجائیں گے تو اللہ بھی ان سے (آخرت کے) بڑے عذاب کا وعدہ کر رکھا ہے۔

    غیر مسلموں کو تو چھوڑ دیں۔ اے مسلمانوں خود اپنی گریبان میں جھانکیں!

    کیا ہم اپنی گناہوں پر نادم ہیں؟
    کیا ہم نے گناہیں کرنی چھوڑ دی ہیں؟
    کیا ہم نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا ہے؟
    کیا ہم نے اپنے رب کے حضور سچی توبہ کی ہے؟
    کیا ہم اپنی توبہ کو برقرار رکھنے کا عزم رکھتے ہیں؟
    کیا اب مسلم ملک و معاشرہ سود، کرپشن و بدعنوانی کا پاک رہے گا؟
    کیا چور بازاری، رشوت خوری، خیانت، جھوٹ، فریب و مکاری سے پاک رہے گا؟
    کیا اب یہاں دوسروں کے حقوق غصب نہیں کئے جائیں گے اور کمزوروں پر ظلم نہیں ہوگا؟

    کاش ایسا ہو! لیکن آثار تو نظر نہیں آتے۔ ابھی جبکہ کورونا کی وبا نے ملک کو اپنی شکنجے میں جکڑ رکھا ہے پھر بھی لوگ گناہوں سے باز نہیں آرہے۔ ذخیرہ اندوز اس وقت بھی سرگرم ہیں۔ روزمرہ کے ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ دواؤں کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہیں۔ کرپشن، خیانت، جھوٹ، فریب، مکاری، بے حیائی و فحاشی بھی عروج پر ہے۔

    شاید کہ لوگ چاہتے ہوں اور بڑی تباہی اور بڑا عذاب۔

    ۔ ۔ ۔’’اور جب اللہ کسی قوم پر عذاب کا ارادہ کر لیتا ہے تو کوئی ٹال نہیں سکتا ہے‘‘ ۔ ۔ ۔(11) سورة الرعد

    مسلمانوں! اس عذاب سے ڈرو اور رجوع کرو اس کی طرف

    ۔ ۔ ۔جس کے علاوہ نہ کوئی کسی کا والی ہے اور نہ سرپرست ہے‘‘(11) سورة الرعد

    اے اللہ تو ہی ہمارا ولی ہے تو ہی ہمارا سرپرست ہے۔ ہم مسلمانوں کی سرپرستی فرما اور ہمیں ہدایت دے۔ ہمیں گناہوں کی دلدل سے نکال دے۔ ایسے لوگوں کو ہدایت دے جو اس وقت بھی جبکہ تیرا عذاب مسلط ہے ذخیرہ اندوزی کرکے مہنگائی بڑھا رہے ہیں اور لوگوں پر ظلم کر رہے ہیں، اگر ان کے نصیب میں ہدایت نہیں تو انہیں تباہ و برباد کر دے۔ آمین۔
    تحریر: محمد اجمل خان
    ۔
     
    ھارون رشید اور ساتواں انسان .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,394
    موصول پسندیدگیاں:
    16,801
    ملک کا جھنڈا:
    اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلبگار ہیں
     
    محمد اجمل خان نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں