1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

اردو کی اصنافِ سخن

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از آصف احمد بھٹی, ‏21 جولائی 2011۔

  1. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,025
    ملک کا جھنڈا:

    اردو کی اصنافِ سخن

    اصولا تو مجھے اس لڑی کو اردو ادب مضامین والے شعبے میں بنانا چاہیے تھا مگر چونکہ اس لڑی کا تعلق شاعری سے ہے اس لیے میں نے اس لڑی کو یہاں ترتیب دیا ہے مقصد صرف کچھ سیکھنا اور سکھانا ہے ۔
    آصف احمد بھٹی


    میں سمجھتا ہوں کہ آدمی خود اپنا سب سے بڑا ناقد ہوتا ہے اور اگر بات شاعری کی ہو تو یہ مثال صد فیصد صادق آتی ہے ، شروع شروع میں کوئی بھی نوآموز جو شاعری کا شوق و ذوق اور اس سے شغف رکھتا ہو وہ شاعری کے تمام یا کم و بیش شاعری کے اہم اصولوں سے واقف نہیں ہوتا ، بلکہ عموما لوگ جب شاعری کی بات کرتے ہیں تو اُن کے ذہن میں شاعری کی ایک ہی صنف ہوتی ہے اور وہ ہے غزل ، شاعری کی باقی اصناف کے بابت عام لوگ اور نو آموز شعراء بلکل ناواقف ہوتے ہیں اور غزل کے بابت بھی صرف اتنا ہی سمجھ لیا جاتا ہے کہ قافیے اور ردیف کا خیال رکھا جائے ، عروض ، بحروں اور اوزان عموما لوگوں کی نظر سے پوشیدہ رہتے ہیں یا یوں کہنا کچھ حد تک درست ہوگا کہ پوشیدہ کر دیئے جاتے ہیں، میں ( مجھ سمیت ) کئی ایسے نوآموز شعراء حضرات کا جانتا ہوں جن کی طبیعت نہایت ہی موزوں ہے مگر وہ غزل کی اِن بنیادی اُصولوں سے یکسر ناواقف ہیں اور جو اساتذہ اکرام کی منتیں کر کر کے تھک گئے ہیں مگر اساتذہ اکثر ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں ، اِسی لیے اب میں نے سوچا کہ میں خود بھی اِس پر کچھ تحقیق کروں ، اور میں نے اس پر کسی حد تک تحقیق کی ہے یہ طویل تحقیقی مضمون ہے ہیں جو ابھی مکمل نہیں ہوا مگر میں اب تک مکمل ہونے والے حصے کو سلسلے وار اور ترتیب وار یہاں ارسال کر رہا ہوں ، اور چونکہ یہ مانگے کا اجالا ہے اس لیے اس کے لیے وہ تمام حضرات اور کتابیں خاص شکرئیے کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے میری رہنمائی کی ، اور چونکہ میں خود ابھی طفل مکتب ہوں چنانچہ غلطیوں کا احتمال بہت زیادہ ہے اسی لیے میں‌آپ سب کیٓ راء کا منتظر رہونگا ۔

    یہ مضمون لکھنے کے لیے جن کتابوں کی مدد لی گئی اُن میں !
    اردو کے عروض ۔ مولانا جلیل ؔ
    نکاتِ سخن ۔ مولانا حسرت ؔموہانی
    معائبِ سخن ۔ مولانا حسرتؔ موہانی
    رسالہِ اصلاح ۔ شوقؔ نیموی
    مضامینِ سرور راز سرور ۔ سرور راز سرور


    اصنافِ سخن :
    شاعری کو مختلف اصناف میں تقسیم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب کا علم ہونا ہر صاحبِ ذوق کے لیے ضروری ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ تقسیم دراصل مختلف تخلیقات کے درمیان تقابلے اور اُنہیں پہچاننے، جانچنے ، پرکھنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ ایک بار تخلیق کی شعری صنف کا اندازہ ہو جائے تو اُسے تکنیکی باریکیوں سے پرکھا جا سکتا ہے اُس کے سقم دور کیے جا سکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اُس کی چاشنی کا لطف لیا جاسکتا ہے ، یہی اصناف کبھی کبھی شعراء کے تشخص کا سبب بھی بن جاتی ہیں ، جیسے چچا میرؔ و غالبؔ اپنی غزلوں کے سبب اور اقبال ؒ و فیض اپنی نظموں کے سبب جانے جاتے ہیں ۔
    ا٘صنافِ سخن کو عموما دو پیمانوں پر پرکھا جاتا ہے ۔
    ۱۔ موضوع
    ۲۔ ہیئت

    موضوع سے مراد ہے وہ مضمون جو کسی شعری تخلیق سے واضع طور پر وابستہ ہو ۔
    اور ہیئت سے مراد ہے کہ اندازِ و بیاں کی وہ صورت جو فنی اور تکنیکی خصوصیات کے سبب کسی شعری تخلیق کی شناخت بن جائے ۔
    یہ تو ممکن نہیں کہ تمام شعری اصناف کو کسی ایک ہی پیمانے پر پرکھا جاسکے ، کسی ایک ہی کسوٹی پر ثابت و قائم کیا جا سکے اور نہ ہی تمام اصناف کی گروہ بندی وثوق سے کی جاسکتی ہے ، کچھ اصناف کوہم بلا تردّد کسی ایک گروہ سے منسلک کر سکتے ہیں اور کچھ ایسی بھی ہیں جن میں دونوں گروہوں کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے ۔
    موضوعی : ۔ ایسی اصناف جو اپنے موضوع کی انفرادیت کے سبب آسانی سے پہچانی جا سکتی ہوں ، موضوعی کہلاتی ہیں ، مثلاً! حمد، نعت ، سلام ، منقبت ، نوحہ ، مرثیہ ، سوختہ اور شہرِآشوب وغیرہ ۔
    ہیتی : ۔ کچھ اصناف اپنی ظاہری شکل سے باآسانی پہچانی جاسکتی ہیں جیسے کہ ! رُباعی ، ثلاثی اور مستزاد وغیرہ یہ سب اصناف اپنی ظاہری شکل میں منفرد ہوتی ہیں ۔
    ہیئتی موضوعاتی :۔ ایسی اصناف جن میں موضوع اور ہیئت دونوں کی خصوصیات نمایاں ہوں وہ اِس زمرے میں آتی ہیں ، مثلاً ! مثنوی اور قصیدہ ۔
    دیگرے :۔ اِن سب کے علاوہ بھی موجودہ شعری ادب میں کچھ مزید اصناف بھی ہیں جو کہ مختلف علاقائی معاشرتی عوامل اور تہذیبی اختلاط کے سبب وجود میں آئی ہیں اور وہ مندرجہ بالا پیمانوں کی محتاج نہیں ہیں ، مثلاً ! گیت، نظم، ہائیکو، آزاد یا جدید شاعری ۔
    (باقی آئیندہ بشرط فرصت و زندگی )
     
    ظہیراحمد مغل, نعیم, فیاض أحمد اور مزید ایک رکن نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,025
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اردو کی اصنافِ سخن


    اردو کی اصنافِ سخن


    آصف احمد بھٹی​


    اب ہم مختلف اصنافِ سخن پر بحث کرینگے ، جن کی شناخت ہیت یعنی ظاہری شکل و صورت سے کی جاتی ہے ۔

    غزل:۔ شاعری کا نام لیا جائے تو ایک عام آدمی کا خیال فورا غزل کی طرف ہی جاتا ہے جیسے غزل ہی اردو شاعری کی شناخت ہو اور کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے کہ باقی اصناف کے مقابلے میں جو قبولیت غزل کے حصے میں آئی ہے کسی دوسری کے حصے میں اُسکی عشر عشیر بھی نہیں آئی اردو کے کسی بھی رسالے ، جریدے یا اخبار کو اُٹھاکر دیکھ لیں آپ کو غزل کی کوئی نہ کوئی صورت مل ہی جائیگی ، یہی وجہ ہے کہ غزل کو اردو شاعری میں سب سے ممتاز مقام حاصل ہے ، غزل کی تعریف مختلف لوگوں نے مختلف انداز میں کی لیکن عموما یہ خیال ہے کہ غزل عربی زبان کا لفظ ہے اور جسکے معنی ہے (ایک مخصوص) ہرن ، اور اِسی وجہ سے خوبصورت آنکھوںوالی لڑکی کو غزالہ کہا جاتا ہے ، کچھ کا خیال ہے کہ ! غزل دراصل عورت سے بات کرنے کو ہی کہا جاتا ہے حالانکہ میرے نزدیک یہ تعریف غزل کے اغراض و مقاصد پورے نہیں کرتی مگر میں اِس کے علاوہ غزل کے اور کوئی معنی جانتا بھی نہیں ہوں ۔
    بلا خوف و تشکیک کہا جا سکتا ہے کہ اردو شاعری میں کوئی ایک بھی ایسا شاعر نہیں گزرا جس نے کبھی کوئی غزل نہ کہی ہو، یعنی غزل شاعری کے لیے ایک اہم ترین جز تھی یا بن چکی ہے سچ تو یہ ہے کہ غزل کے بغیر شاعری کا تصور کچھ عجیب سا بلکہ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے ۔
    غزل کے اجزائے ترکیبی چار ہیں، غزل اِن ہی چار اجزائے ترکیبی سے ترتیب دی جاتی ہے اور یہی چار اجزائے ترکیب غزل کی پہچان ہیں

    ۱۔ ردیف ۲۔ قافیہ ۳۔ مطلع ۴۔ مقطع

    جس بھی شعری تخلیق میں اِن چار اجزائے ترکیبی کا اپنے پورے لوازمات کے ساتھ خیال رکھا گیا ہوں وہ غزل کی تعریف پر پوری اُترتی ہے عام طور پر اِن چاروں اجزائے ترکیبی کی پابندی کی جاتی ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ کسی غزل میں یہ چاروں بیک وقت موجود ہوں ، مطلع، مقطع یا ردیف کے بغیر بھی غزل کہی جا سکتی ہیں اور ہمارے ہاں اِس کے بیشمار مثالیں موجود ہیں۔

    ردیف:۔ ردیف دراصل وہ لفظ یا جملہ ہوتا ہے جو کسی بھی غزل یا نظم کے مطلع کے دونوں مصرعوں میں باندھا جاتا ہے اور جس غزل میں ردیف کا اہتمام کیا جائے وہ مردف غزل کہلاتی ہے اور جس میں ردیف کا اہتمام نہ کیا جائے وہ غیر مردف کہلاتی ہے ۔

    مردف غزل :۔ ذیل میں ہم مثال کے طور پر فیض ؔ کی ایک مردف غزل کے دو اشعار پیش کر رہے ہیں۔

    ترے غم کو جان کی تلاش تھی، ترے جان نثار چلے گئے
    تری رہ میں کرتے تھے سر طلب ، سرِ راہ گزار چلے گئے
    تری کج ادائی سے ہار کر ، شبِ انتظار چلی گئی
    مرے ضبطِ حال سے روٹھ کر ، میرے غم گسار چلے گئے

    فیض کی اِس غزل میں ، چلے گئے ، ردیف کے طور پر استعمال ہوا ہے ۔

    غیرمردف غزل :۔ ذیل میں ہم مثال کے طور پر فیض ؔ کی ہی ایک غیر مردف غزل کے دو اشعار پیش کر رہے ہیں۔
    سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا ، سبھی راحتیں ، سبھی کلفتیں
    کبھی صحبتیں کبھی فرقتیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں
    یہ سُخن جو ہم نے رقم کئے ، یہ ہیں سب ورق تری یاد کے
    کوئی لمحہ صبحِ وصال کا ، کئی شام ہجر کی مدتیں
    فیض کی اِس غزل میں کوئی بھی ردیف نہیں ہے ۔

    قافیہ :۔ قافیہ دراصل وہ لفظ یا جملہ ہوتا ہے جو کسی بھی مطلع کے آخر میںردیف سے بلکل پہلے استعمال کیا جاتا ہے اور غزل کے باقی اشعار کے دوسرے مصرعے میں بلکل اُسی جگہ پر آنے والے لفظ سے صوتی ہم آہنگی رکھتا ہوں ( یعنی اُن کا ہم آواز ہوتا ہے) اور ہر ایسی تخلیق جس میں قافیہ کا التزام رکھا گیا ہو وہ مقفّی کہلاتی ہے (اردو ادب میں غیر مقفّی نامی کوئی چیز موجود نہیں ہے ) گویا ہر شعری تخلیق (غزل یا نظم ) میں قافیہ لازمی شرط ہے، اکثر اساتذہ اکرام کا کہنا ہے کہ ہر شعری تخلیق میں قافیہ کے التزام کرتے وقت اِس چیز کا خاص خیال رکھا جائے کہ ہر شرع کا قافیہ اپنے معنی میں دوسرے شعر کے قافیہ سے مختلف ہے البتہ اگر ایک ہی قافیہ کے دو مختلف معنی ہوں اورایک ہی شعر کے دونوں مصرعوں میں اُسے مختلف معنی میں لینا مقصود ہوں تو لیا جاسکتا ہے ورنہ جائز نہیں ہے ۔
    نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش ، دل ریزہ ریزہ گنوا دیا
    جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تن داغ داغ لٹا دیا
    مرے چارہ گر کو نوید دو ، صفِ دُشمناں کو خبر کرو
    جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چکا دیا
    فیض کے اِن اشعارمیں گنوا، لٹا ، چکا وغیرہ قافیہ ہیں ۔​


    مطلع : ۔ لغت میں مطلع کے معنی طلوع ہونے کی جگہ ہے یہی وجہ ہے کہ غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہا جاتا ہے مگرمطلع کے لیے ضروری شرط یہ ہے کہ شعر کے دونوں مصرعوں میں قافیہ کی پابندی کی جائے ، اگر کسی غزل کے پہلے شعر میں اِس بات کا التزام نہ ہو تو وہمطلع نہیں بلکہ غزل کا پہلا شعر کہلائے گا ، اور کسی غزل میں ایک سے زیادہ مطلعے ہو سکتے ہیں ، اِس صورت میں اضافی مطلع کو ، مطلع ثانی، حسنِ مطلع یا زیبِ مطلع کہتے ہیں اور بہت سے شعراء اکرام نے ایک غزل میں کئی کئی مطلعے کہے ہیں۔

    مقطع : ۔ لغت میں مقطع کے معنی میں قطع کرنا ، توڑ دینا ، کاٹ دینا یا ختم کر دینا ہے مقطع شعری تخلیق (غزل ) کا وہ آخری شعر ہوتا ہے جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے، اگر کسی غزل کےٓخری شعر میں اِس بات کا التزام نہ کیا جائے تو وہ مقطع نہیں بلکہ غزل کا آخری شعر کہلائے گا ۔

    (باقی آئیندہ بشرط فرصت و زندگی )​
     
    حنا شیخ 2، نعیم اور ملک بلال نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. ارشین بخاری
    آف لائن

    ارشین بخاری ممبر

    شمولیت:
    ‏13 جنوری 2011
    پیغامات:
    6,125
    موصول پسندیدگیاں:
    901
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اردو کی اصنافِ سخن

    بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ہے آپ نے اسے جاری رکھے گا۔
     
  4. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,025
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اردو کی اصنافِ سخن



    اردو کی اصنافِ سخن
    آصف احمد بھٹی

    ہم غزل کے چارابتدائی اور بنیادی اجزائے ترکیبی پر بحث کر چکے ہیں ، مگر اِن چاروں کے علاوہ بھی کچھ چیزیں غزل کی ہیت اور پہچان کا سبب بنتی ہیں حالانکہ یہ اتنی اہم نہیں ہیں مگر مضمون کی تکمیل اور معلومات کی خاطر اِن کا ذکر بھی کر دیا جائے تو مناسب ہو گا۔

    زمین : ۔ زمین دراصل کسی بھی شعری تخلیق میں ردیف اور قافیہ کے باہم اشتراک سے ترتیب پاتی ہے اِسے عموما غزل یا نظم کی پہچان کے لیے استعمال کرتے ہیں ، ہم نے پہلے فیض ؔکی غزلوں کے کچھ اشعار لکھے تھے ، میں آپ سب کی سہولت کے لیے اُنہیں دوبارہ لکھ دیتا ہوں ۔
    ترے غم کو جان کی تلاش تھی، ترے جان نثار چلے گئے
    تری رہ میں کرتے تھے سر طلب ، سرِ راہ گزار چلے گئے
    تری کج ادائی سے ہار کر ، شبِ انتظار چلی گئی
    مرے ضبطِ حال سے روٹھ کر ، میرے غم گسار چلے گئے
    اب اِس غزل میں ’’ جان نثار چلے گئے ‘‘ اور ’’ راہ گزار چلے گئے‘‘ فیض کی غزل کی زمین کہلائے گی ۔

    تخلص : ۔ وہ مختصر اور فرضی نام جو اپنے اندر شاعرانہ غنایت لیے ہوئے ہو تخلص کہلاتا ہے ، شعراء حضرات اِسے اپنی انفرادی شناخت کے لیے اختیار کرتے ہیں ، اِس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اکثر شعراء کا نام آسانی سے نظم نہیں ہوتا جبکہ تخلص اپنے اختصار، دلکشی اور غنایت کے سبب آسانی سے شعر کا حصہ بن سکتا ہے ، مثلاً مرزا اسداللہ خان نام اور تخلص غالبؔ، بعض شعراء اپنے نام کوہی تخلص کے طور پر استعمال کرتے ہیں جیسے کہ محمد اقبال نام اور اقبالؔ تخلص، فیض احمد نام اور فیضؔ تخلص ،ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ شعری تخلیق میں تخلص دراصل وہ ٹھپہ یا مہر ہوتی ہے جس سے اُس کے شاعر کی پہچان ہوتی ہے ۔

    ہم نے مانا کہ کہ کچھ نہیں غالبؔ
    مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے​


    اب دیکھئے اِس شعر میں غالب نے اپنا تخلص کس خوبصورت سے استعمال کیا ہے پر اگر کوئی شاعر اپنی تخلیق میں اپنا تخلص یوں استعمال کرے کہ وہ اُس کے استعمال سے اُس لفظ کے معنی مقصود ہوں اور شعر پڑھتے وقت قاری کو التباس نہ ہو کہ شاید یہاں اِس لفظ کے لغوی معنی مقصود ہیں تو اساتذہ اِسے معیوب سمجھتے ہیں، میں یہاں مرزا مکین رفاقت ؔ کا ایک مقطع لکھ رہا ہوں ۔

    برسوں کی ایک دم میں، رفاقت ؔجو چھوڑ دے
    کیا ایسی زندگی کا بھروسہ کرے کوئی

    اب اِس مقطع میں لفظ رفاقت اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے ، اور اِسی شے کو اساتزہ اکرام معیوب سمجھتے ہیں (میں یہاں اِسے غلط نہیں کہہ رہا بلکہ لفظ معیوب استعمال کر رہا ہوں )

    وزن اور بحر:۔ شعر میں غنایت اور چاشنی وزن اور بحر کے سبب ہی ممکن ہوتی ہے ، میں اِس کے بارے میں زیادہ علم تو نہیں رکھتا اِسی سبب میں یہاں شمس الرحمان فاروقی کی کتاب درسِ بلاغت سے کچھ سطریں اقتباس کررہا ہوں ۔
    عروض کا بنیادی عمل آوازوں کی ترتیب اور اُن کے ناموں کا مطالعہ کرنا ہے ، آوازوں کی اِسی ترتیب کو اگر مستقل علامتوںکے ذریعے ظاہر کیا جائے تو اِس کو الفاظ کا وزن ظاہر کرنا کہا جائے گا، جب اِس ترتیب کو کسی نمونہ یا ترکیب کے احاطے میں ڈال جائے اور اِس پوری ترکیب یا نمونہ کے وزن کو مستقل علامتوں یا نمونوں کے ذریعے ظاہر کیا جائے تو اِس کو نمونہ یا ترکیب کی تقطیع کرنا اور بحر کرنا کہیںگے ۔

    اساتذہ اکرام نے غزل کی کچھ اقسام بھی بیان کی ہیں میں یہاں اُن میں سے کچھ پر بھی لکھنا چاہونگا۔
    مسلسل غزل:۔ عموما غزل میں کسی ایک ہی مضمون کا تسلسل نہیں ہوتا، ہرایک شعر اپنے اندر ایک مکمل خیال رکھتا ہے ، یعنی اگر ایک شعر میں محبوب کے حسن کی ذکر کیا گیا ہے تو دوسرا دنیا کی بے ثباتی پر لکھا گیا ہو، ممکن ہے تیسرے شعر میں شاعر تصوف کو اپنے خیال کا مرکز بنالے، چوتھا سماجی تلخیوں کی نذر ہو سکتا ہے ، اِسی طرح ہر شعر ایک مکمل اکائی ہو سکتا ہے ، مگر کچھ ایسی غزلیں بھی دیکھی گئی ہیں جن میں ایک ہی مضمون کے گرد پوری غزل لکھی گئی ہے ہر شعر میں وہی مضمون نئے انداز میں پیش کیا گیا ہو، ایسی غزلیں مسلسل غزل کہلاتی ہیں ۔

    دو غزلہ، سہہ غزلہ:۔ جب کبھی بھی شاعر کسی ایک ہی بحر اور ایک ہی زمین میں دو یا تین غزلیں کہہ ڈالے تو اُن غزلوں کو دو غزلہ یا سہہ غزلہ کہتے ہیں بعض شعراے اکرام نے تو یا بھی انتہائی غلو سے کام لیا ہے ، چہار غزلہ، پنج غزلہ ،شش غزلہ حتی کہ ہفت غزلہ تک موجود ہیں ۔

    غزل کے متعلق کچھ دلچسپ معلومات : ۔
    میں جناب سرور راز سرور ؔکو اپنا روحانی اُستاد مانتا ہوں میں نے اُن سے بلواسطہ اور اُنکے مضامین سے بلاواسطہ بہت کچھ سیکھا ہے اِس مجمون کو بھی ترتیب دیتے وقت اُنکے مضامین میرے بہت کام آئے ، اپنے مضامین مین ایک جگہ وہ غزل کے متعلق لکھتے ہیں ۔
    غزل کے اشعار کی کوئی معین تعداد نہیں ہے ، اساتذہ نے اِس ضمن مین مختلف رائیں دی ہیں ، لیکن یہ صرف اُنکی رائے ہیں، اور اِسی لیے تعداد اشعار کے حوالے کوئی متفقہ صورت حال کہیں بھی نظر نہیں آتی ، اُن آراء میں سے چند یہاں دی جاتی ہیں۔
    ۱۔ غزلوں کے اشعار تعداد میں طاق (odd) ہونے چاہیئں ۔
    ۲۔ غزل میں کم سے کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ گیارہ اشعار ہوسکتے ہیں۔
    ۳۔ غزل میں کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ پچیس اشعار ہو سکتے ہیں ۔

    آگے چل کر وہ لکھتے ہیں !
    جس طرح غزل کے اشعار کی کوئی تعداد متعین نہیں اسی طرح اضافی مطلعوں کی (حسن مطلع، زیب مطلع) کی تعداد پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے ایسی غلزلیں بکثرت ملینگی جن میں ایک سے زیادہ مطلعے موجود ہیں ، بعض شعراء نے اضافی مطلعوں میں بھی غلو سے کام لیا ہے ، مچلا کے طور پر شیخ ابراہیم ذوقؔ کی اِس غزل میں دس مطلعے ہیں ۔
    تیرے کوچے کو وہ بیمارِ غم دارالشفا سمجھے
    اجل کو جو طبیب اور مرگ کو اپنی دوا سمجھے​


    (
    باقی آئیندہ بشرط فرصت و زندگی )​
     
  5. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,061
    موصول پسندیدگیاں:
    11,095
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اردو کی اصنافِ سخن

    آصف بھائی ۔ بہت خوب معلومات ہیں۔ شکریہ
     
    آصف احمد بھٹی اور ناصر إقبال .نے اسے پسند کیا ہے۔
  6. شاہ جی
    آف لائن

    شاہ جی ممبر

    شمولیت:
    ‏8 اگست 2011
    پیغامات:
    146
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اردو کی اصنافِ سخن

    خوب زوقِ فن دیکھایا ہے بہت خوب
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  7. صدیقی
    آف لائن

    صدیقی مدیر جریدہ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏29 جولائی 2011
    پیغامات:
    3,476
    موصول پسندیدگیاں:
    190
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اردو کی اصنافِ سخن

    بہت ہی مفید سلسلہ ہے۔۔۔جاری رکھیں
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  8. شاہ جی
    آف لائن

    شاہ جی ممبر

    شمولیت:
    ‏8 اگست 2011
    پیغامات:
    146
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: اردو کی اصنافِ سخن

    محترم بھٹی صاحب کچھ بحروں پے بھی لکھ دیں تا کہ معلومات میں کچھ اور اضافہ ہو جائے مہر بانی ہوگی آپکی​
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  9. ندیم وجدان
    آف لائن

    ندیم وجدان ممبر

    شمولیت:
    ‏26 دسمبر 2014
    پیغامات:
    115
    موصول پسندیدگیاں:
    45
    ملک کا جھنڈا:
    اعلیٰ۔۔۔۔ عمدہ
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  10. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    21,976
    موصول پسندیدگیاں:
    7,312
    ملک کا جھنڈا:
    حیرت ہے اتنی زبردست اور معلوماتی لڑی میری نظروں سے اوجھل رہی
    بہت مفید معلومات ہیں آصف احمد بھٹی جی
    اس سلسلے کو جاری رکھیے پلیزززززز :)
     
    آصف احمد بھٹی اور پاکستانی55 .نے اسے پسند کیا ہے۔
  11. ادب دوست
    آف لائن

    ادب دوست ممبر

    شمولیت:
    ‏8 اپریل 2015
    پیغامات:
    22
    موصول پسندیدگیاں:
    13
    ملک کا جھنڈا:
    یہ سلسلہ آگے نہیں بڑھا ؟
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  12. زیست صدف
    آف لائن

    زیست صدف ممبر

    شمولیت:
    ‏2 نومبر 2016
    پیغامات:
    1
    موصول پسندیدگیاں:
    3
    ملک کا جھنڈا:
    براہ کرم اس سلسلے کو آگے بڑھائیے
     
    آصف احمد بھٹی، ناصر إقبال اور پاکستانی55 نے اسے پسند کیا ہے۔
  13. قسمت اللہ خٹک
    آف لائن

    قسمت اللہ خٹک ممبر

    شمولیت:
    ‏18 اکتوبر 2017
    پیغامات:
    1
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب۔۔۔۔۔ بہت ہی سودمند مواد ہے
     
  14. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    17,895
    موصول پسندیدگیاں:
    8,595
    ملک کا جھنڈا:
    اس قدر مفید تحریر کے لئے مشکور ہیں
     
    آصف احمد بھٹی اور ناصر إقبال .نے اسے پسند کیا ہے۔
  15. سید علی رضوی
    آف لائن

    سید علی رضوی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 اکتوبر 2018
    پیغامات:
    41
    موصول پسندیدگیاں:
    59
    ملک کا جھنڈا:
    آصف بھائی سود مند اور مفید معلومات سلسلہ جاری رکھیں
    جزاک اللہ خیرا
    سید علی رضوی
     
    آصف احمد بھٹی نے اسے پسند کیا ہے۔
  16. آصف احمد بھٹی
    آف لائن

    آصف احمد بھٹی ناظم خاص سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مارچ 2011
    پیغامات:
    40,593
    موصول پسندیدگیاں:
    6,025
    ملک کا جھنڈا:
    اس سلسلے کو پسندگی کی سند دینے کے لیے آپ احباب کا بہت شکریہ ۔ ۔ ۔ دراصل پچھلے دو ڈھائی سال سے مصروفیات اتنی بڑھ گئی ہیں کہ مزید تحقیق کے لیے وقت ہی نہیں مل رہا اور پھر وہ مسودہ بھی کہیں رکھ کر بھول گیا ہوں جس میں میں نے کسی حد تک اپنی تحقیق کے خاص خاص نوٹ لکھ رکھے تھے ، کتابیں تو اب بھی سب موجود ہیں مگر ایک بار پھر نئے سرے سے ورق گردانی کرنی ہو گی ۔ ۔ ۔ اور مشکل یہ ہے کہ فرصت کہاں ؟
     

اس صفحے کو مشتہر کریں