1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

’زرداری، نواز سے رابطے ہیں، حلیفوں کیساتھ حریفوں کی طرح بات نہیں ہونی چاہیے‘

'خبریں' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏19 مارچ 2021۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    7,052
    موصول پسندیدگیاں:
    795
    ملک کا جھنڈا:
    ’زرداری، نواز سے رابطے ہیں، حلیفوں کیساتھ حریفوں کی طرح بات نہیں ہونی چاہیے‘


    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اجلاس کے بعد زرداری، نواز شریف سمیت تمام لوگوں سے رابطے میں ہوں۔ ہم آپس میں دوست ہیں، حلیفوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حلیفوں جیسا انداز اپنانا چاہیے نہ کہ حریفوں کی طرح۔

    دنیا نیوز کے پروگرام ’نقطہ نظر‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آپس میں رابطے میں رہیں گے، کل آصف علی زرداری کے ساتھ تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، آج قائد مسلم لیگ ن نواز شریف سے تفصیلی بات ہوئی اور زرداری کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔ پی پی نے استعفوں کے حق میں رائے نہیں دی، اب معاملہ بظاہرہے رمضان کے بعد چلا گیا ہے، ہم آپس میں رابطے میں ہے کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔

    پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ جلد پی ڈی ایم کا اجلاس بلائیں گے صرف پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کے اجلاس کے فیصلے کا انتظار ہے۔ ہم آپس میں دوست ہیں، حلیفوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حلیفوں جیسا انداز اپنانا چاہیے نہ کہ حریفوں کی طرح ۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سے متعلق پی ڈی ایم کی جماعت میں فیصلہ ہو گیا تھا۔تاہم اس دوران آصف زرداری سے رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کے سینئر ممبر کو اپوزیشن لیڈر بنایا جائے۔ سابق صدر نے فون پرکہا تھا کہ اگر آپ نوازشریف سے بات کر لیں تو رضا ربانی کا نام شامل کیا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ نوجماعتوں نے پیپلزپارٹی سے کہا آپ کے جواب کا انتظارکریں گے، یکسوئی برقرارنہ رہنے پرپھرلانگ مارچ کی تاریخ کوملتوی کیا گیا، ابھی کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی، اگرپیپلزپارٹی یہ کہتی کہ آخری رائے ہے تو پھر جواب دے سکتا تھا۔

    تحریک عدم اعتماد سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اکثریت کے باوجود ہم عدم اعتماد کی تحریک ہارگئے تھے، قومی اسمبلی میں ہماری تحریک عدم اعتماد ناکام ہوجائے توپھرقانونی جوازمہیا کرنا ہے۔

    سینیٹر شیری رحمان کو اپوزیشن لیڈر سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فیصلہ ہوا تھا چیئر مین سینیٹ پیپلز پارٹی کا ہو گا، ڈپٹی چیئر مین کا امیدوار جمعیت علمائے اسلام ف کا ہو گا جبکہ اپوزیشن لیڈر کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہو گا، فیصلے سے واپس نہیں ہوں گے۔ یہ تجویز پی ڈی ایم کے اجلاس میں آئی تھی۔ نوجماعتوں کی رائے ہے سب آپشن ختم ہوچکے ہیں، اب استعفوں کے آپشن کوہی استعمال کیا جائے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کے الیکشن کے دوران عبد الغفور حیدری کو کم ووٹ ملنا پریشان کن ہے، جلد اس پر غور کریں گے۔ اور کمیٹی بنائی جائے گی۔ یوسف رضا گیلانی جیت چکے ہیں، ان کے 7 ووٹ صحیح ہیں، ان کو غلط انداز میں مسترد کیا گیا، فیصلے کے خلاف عدالت جائیں گے۔

    پروگرام کے دوران بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈپٹی چیئر مین سینیٹ مرزا محمد آفریدی دو ارب روپے کے ڈیفالٹرز ہیں، اس کے خلاف بھی عدالت میں جائیں گے۔


    اس سے قبل اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ تحریکیں رکتیں نہیں، کوئی ساتھ رہے یا کوئی ایک آدھ ساتھ چھوڑ دے، سفر جاری رہتا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ بہت کمزور بات ہوتی ہے کہ میں اب جیل نہیں جا سکتا، لڑ نہیں سکتا۔ ساتھ ہی طنزیہ لہجے میں کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر آپ سیاست میں ہیں کیوں، اس میں تو اقتدار بھی آئے اور جیل بھی۔

    مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کے حوالے سے کہا کہ تحریک کے لیے سب سے اہم بات عوام کی سپورٹ ہے اگر وہ موجود ہو تو اکیلی جماعت بھی تبدیلی لا سکتی ہے۔

    انہوں نے ایک بار پھر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے معیشت تباہ کرنے کا الزام لگایا اور مشورہ دیا کہ وہ اپنی نالائقی کا اعتراف کرتے ہوئے اقتدار چھوڑ دے۔

    انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے ایسے بیانات کہ ’پچھلی حکومتوں کی وجہ سے مسائل ہیں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے چند ماہ تو گزر سکتے ہیں، پورا دور نہیں۔ پانچ سال گزر جائیں گے اور آپ یہی کہتے رہیں گے۔ سیاست بزدلی کا نام نہیں حوصلے، برداشت اور امید کا نام ہے۔ عوامی سپورٹ سے صرف ایک سیاسی جماعت بھی تبدیلی لا سکتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ منزل کی طرف جانا ہوگا۔ جمعیت علما اسلام قوم کو مایوس نہیں کرے گی۔ سیاست میں ہیں تو جیل اور اقتدار بھی راستے میں آئے گا، حکومت میں آجانا میرے نزدیک انقلاب نہیں ہے۔ یہ کمزور بات ہوتی ہے کہ میں اب جیل نہیں جا سکتا تو پھر آپ ایسے میدان میں کیوں ہیں؟ ہمارے بڑوں نے ساری قربانیاں پیچھے ہٹنے نہیں آگے بڑھنے کے لیے دی تھیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے ملک پر ناجائز حکومت مسلط کر کے ڈھائی سالوں میں معیشت کو تباہ وبرباد کر دیا گیا۔ کب تک پچھلی حکومتوں پر الزام لگاتے رہو گے، اب ان الفاظ میں طاقت نہیں رہی، اپنی نااہلی تسلیم کرو اور اقتدار چھوڑ دو۔

    دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے صوبائی عہدیداروں کو لانگ مارچ کی تیاریاں جاری رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔ ان کی ہدایت پر جے یو آئی کے صوبائی عہدیداران کے نام لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ تمام صوبائی جماعتیں لانگ مارچ کی تیاریاں جاری رکھیں، لانگ مارچ کی تیاریوں میں کسی قسم کی سستی کا مظاہرہ نہ کریں۔


    خط میں مزید کہا گیا کہ پی ڈی ایم کی 9 جماعتیں استعفوں اور لانگ مارچ پر متفق ہیں، پیپلزپارٹی نے استعفوں سے متعلق وقت لیا ہے، پیپلزپارٹی کے فیصلے تک لانگ مارچ کو موخر کیا گیا، پیپلزپارٹی اپنے اجلاس کے فیصلے سے جلد پی ڈی ایم کو اگاہ کرے گی۔

    یاد رہے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان نے پیپلزپارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آدھا ایوان خالی ہو گیا تو انھیں استعفے دینا پڑیں گے، کل 10 جماعتوں میں سے 9 کی رائے تھی کہ لانگ مارچ سے قبل استعفے دینا چاہیں، مگر پیپلز پارٹی یہ معاملہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس میں رکھے گی پھر اپنا موقف بتائے گی۔

    فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم متحد ہے، اختلاف رائے ہوتا رہتا ہے، کل بھی ایسا ہوا تھا، ہمیں پیپلز پارٹی کے موقف کا انتظار ہے، خدا کرے انہیں سمجھ آ جائے، ہم پیپلز پارٹی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا جب پی ڈی ایم بنا رہے تھے تو اس میں استعفے کا آپشن رکھا، اس میں یہ نہیں لکھا کہ استعفوں کا آپشن لاسٹ ہوگا یا ایٹم بم ہیں۔




     

اس صفحے کو مشتہر کریں