1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

گیتا کو بھارت واپسی کے پانچ برس بعد ایک خاتون نے پہچان لیا

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏12 مارچ 2021۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    7,037
    موصول پسندیدگیاں:
    795
    ملک کا جھنڈا:
    گیتا کو بھارت واپسی کے پانچ برس بعد ایک خاتون نے پہچان لیا

    انڈیا میں اپنے خاندان سے بچھڑ جانے والی لڑکی گیتا کو بالاخر ایک خاتون نے پہچان لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس خاتون نے گیتا کے بارے میں جو نشانیاں بتائی ہیں، وہ بالکل درست ثابت ہوئی ہیں۔

    جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق جس خاتون نے گیتا کو پہچانا ہے اس کا نام مینا واگھمارے ہے۔ یہ خاتون انتہائی معمر ہے اور اس کی عمر لگ بھگ 70 برس ہے۔

    گیتا ان دنوں ایک سماجی تنظیم ‘’پہل’’ میں رہائش پذیر ہے جہاں گونگے بہرے بچوں کو تعلیم وتربیت دی جاتی ہے۔ اس معمر خاتون نے تنظیم سے رابطہ کرکے انھیں بتایا تھا کہ سالوں پہلے ان کی بیٹی لاپتا ہو گئی تھی، جس کی اسے تلاش ہے۔

    ڈوئچے ویلے کے مطابق معمر خاتون نے تنظیم کو نشانیاں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی کے پیٹ پر جلنے کا ایک نشان ہے، جب اسے چیک کیا گیا تو گیتا کے جسم پر ایسا نشان موجود پایا گیا ہے۔

    مینا واگھمارے نے بتایا کہ گھر والوں نے (گیتا) کا نام رادھا رکھا تھا۔ اس نے جیسے ہی گیتا کو دیکھا اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور اس نے اشاروں میں باتیں کیں۔

    خاتون کا کہنا تھا کہ گيتا کے والد سدھاکر واگھ مارے کا کچھ برس پہلے ہی انتقال ہو گيا تھا اور اب وہ اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ اورنگ آباد کے پاس رہتی ہیں۔

    خیال رہے گیتا گونگی بہری ہے جو صرف اشاروں میں ہی اپنی بات چیت کر سکتی ہے۔ یہ لڑکی بچپن میں اپنا راستہ کھوئی اور ٹرین کے ذریعے پاکستان پہنچ گئی تھی۔

    اسے پاکستان میں عبدالستار ایدھی نے اپنی بیٹیوں کی طرح پالا اور اس کا نام گیتا رکھا۔ 2015ء میں سابق بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور پاکستانی حکام کی کوششوں سے گیتا کو بھارت واپس بھیج دیا گیا تھا، تاہم اسے اب تک اپنے والدین کی تلاش ہے۔

    بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر لگ رہا ہے کہ گیتا کو اس کا خاندان مل گیا ہے، مینا واگھمارے نامی خاتون اس کی اصل ماں ہی ہے، تاہم اس خاتون کا دعویٰ جو بھی ہو، اس کی تصدیق کیلئے اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے گا تاکہ شک دور ہو جائے۔

     

اس صفحے کو مشتہر کریں