1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

گدھوں کی لیڈری

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از نذر حافی, ‏23 جولائی 2012۔

  1. نذر حافی
    آف لائن

    نذر حافی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 جولائی 2012
    پیغامات:
    403
    موصول پسندیدگیاں:
    321
    ملک کا جھنڈا:
    ادبِ معلّیٰ
    نذر حافی
    میں اکثر میز تحریر پر اپنے سر کو ٹیکنے کے بعد دماغ کی کھڑکی سے اپنا دائیاں ہاتھ باہر نکال دیتا ہوں۔اس وقت مجھے بار بار بس کا وہ ڈرائیور یاد آتا ہے جو سواریوں کو کھڑکی سے ہاتھ باہر نکالنے پر روکا اور ٹوکا کرتا تھا۔میں کافی دیر تک اپنا ہاتھ فضا میں گھما کر آنے والے کل کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن مجھے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔با لاخر میں دائیں ہاتھ کو اندر کھینچ کر دماغ سے بایاں ہاتھ باہر نکال کر ماضی کی تاریخ کو چھونے کی کوشش کرتا ہوں لیکن اس مرتبہ بھی کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
    پھر میں اپنے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ کر میز تحریر پر بیٹھ کر اس ڈرائیور کے بارے میں سوچنے لگتا ہوں جو مجھے بچپن میں بس کی کھڑکی سے ہاتھ باہر نہیں نکالنے دیتا تھا۔
    بس کی کھڑکی اور دماغ کی کھڑکی دونوں ایک جیسی ہیں یا مختلف۔۔۔؟ ڈرائیور کہتا تھا کھڑکی سے ہاتھ باہر نہیں نکالناتمہاری جان کو خطرہ ہے۔اب لوگ کہتے ہیں کہ دماغ کی کھڑکی سے ہاتھ باہر نہیں نکالنا تمہارے ایمان کو خطرہ ہے۔
    کچھ سال پہلے ایران کےمدرسہ فیضیہ میں ایک بچے نے پانی پیا تو لوگوں نے اس کے پیالے کو توڑ دیا۔۔۔
    کہا پیالہ نجس ہو گیا ہے۔۔۔
    بھئی اگر نجس ہو گیا ہے تو دھو لیجئیے،چلیئے سات مرتبہ دھو لیجئے،چلیئے،مٹی سے مانجھ لیجیئے۔۔۔
    لیکن شائد ان کے نزدیک یہ نجاست پانی یا مٹی سے دور ہونے والی نہیں تھی۔
    کیوں ؟
    اس لیے کہ اس بچے کا باپ فلسفہ پڑھاتاتھا۔
    یعنی کیا؟
    یعنی یہ کہ عقل کی کھڑکی سےباہر ہاتھ نکالتا تھا۔ہاں تو میرے دوستوں!
    یہ فیصلہ ہے میرے معاشرے اور میرے ملک کا کہ عقل کی کھڑکی سے باہر ہاتھ نہیں نکالنا۔
    یہ فیصلہ اپنی جگہ محفوظ ہے اور ہم بھی اجتماعی عدالت کےاحترام کے قائل ہیں۔
    لیکن عقل۔۔۔
    عقل کہتی ہے کہ اگر تم کھڑکی سے باہر ہاتھ نہیں نکالو گے تو دوسرے تمہیں کلائی سے پکڑ کر گھسیٹتے پھریں گے۔
    عقل کہتی ہے ،ہاتھ پاوں مارو،حرکت کرو،اس لیے کہ حرکت زندگی ہے۔
    معاشرہ کہتا ہے ،ہوں !ہاتھ پاوں نہ مارنا،حرکت نہ کرنا،حرکت کے بغیر بھی ایک زندگی ہے اور تم وہی زندگی گزارو۔۔۔ تم زندہ رہو حرکت کے بغیر۔۔۔اگر ہاتھ پاوں مارو گئے تو ہاتھ اور پاوں کاٹ دئیے جائیں گے۔
    بس ۔۔۔بس۔۔۔ عقل حیران ہے۔۔۔پریشان ہے کہ اگر ہاتھ پاوں نہ مارے جائیں تو پھر ہاتھ پاوں کا فائدہ کیا۔
    ٹھہرئیے،ٹھہرئیے ابھی دروازے پر یا دماغ پر دستک ہو رہی ہے۔پتہ نہیں دماغ پر یا دروازے پر۔
    میرے اُٹھنے سے پہلے دروازے سے اندر ایک لفافہ پھینک دیا گیاہے۔
    لفافے میں ایک خط ہے،خط میں ایک سوال ہے کہ ہمارا ملک خراب ہے یا معاشرہ؟
    مجھے جواب سے غرض نہیں سوال پڑھ کر خوشی ہوئی۔
    اس لیے کہ ابھی سوال کرنے والے موجود ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ملک اور معاشرہ دو الگ چیزیں ہیں۔دونوں کا جغرافیہ اور سرحدیں مختلف ہیں۔ممکن ہے ایک شخص ملک کا مجرم ہو لیکن معاشرے کا محسن۔
    دوبارہ میز تحریر پر بیٹھنے ہی والا تھا کہ پھر دستک شروع ہو گئی۔
    میں دروازے کی جانب مڑا اورپھر ایک لفافہ اندر آگیا۔
    یہ لفافہ تھا یا پتھر۔۔۔
    لفافہ ہی تھا لیکن لفافے میں ایک پتھر بھی تھا۔اس میں لکھا تھا کہ میرے سوال کا جواب نہ دینا،اس لیے کہ کسی کے پاس پڑھنے کا وقت ہی نہیں ۔
    اس نے کہا تھا کہ جواب نہ دینا لیکن میں جواب دینے پر مجبور ہو گیا۔
    میں فوراً میز تحریر پر جھکا۔میں نے لکھا برادرِ محترم !یہ ٹھیک ہے کہ لوگوں کی اکثریت کے پاس پڑھنے اور مطالعہ کرنے کا وقت نہیں لیکن وہی اقلیت جو پڑھتی اور مطالعہ کرتی ہے،ہمیشہ اکثریت پر حکومت کرتی ہے۔۔۔
    میں نے نامہ لکھا اور لفافے میں لپیٹ کر باہر پھینک دیا۔۔۔
    لیکن دروازے کی دوسری طرف حلوائی کا کتا بیٹھا دھوپ تاپ رہا تھا،کتے نے لفافہ سونگھا اور اُٹھا کر بھاگ گیا۔۔۔
    کتے سے حلوائی نے لفافہ وصول کیا اور اسے اپنی دانست کے مطابق خیرو برکت کا تعویز سمجھا،اس نے یہ تعویز اپنی دکان پر آویزاں کردیا۔
    یوں جو نامہ خفیہ طور پر لفافے میں ڈال کر ارسال کیا گیا تھا،دھوبی کی دکا ن پر سرِِعام آویزاں کر دیا گیا۔۔۔
    مدتوں بعد میں نے اپنی کتابوں کی الماری میں دیمک زدہ ایک ڈائری کے ایک صفحے پر لکھاہوادیکھا کہ جولوگ اپنےکندھوں پر کتابوں کی بوری لئے پھرتےرہتے ہیں ،ان کا سارا ہم و غم کتابیں پڑھنا پڑھاناہی رہ جاتاہے۔جب ایک کتاب ختم ہوتی ہے تو ان کا علم بھی ختم ہوجاتاہے۔جب ان کا علم ختم ہوجاتاہے تو انہیں ایک اور کتاب کی ضرورت پڑھ جاتی ہے۔یہ اسی کو علم کہتے ہیں اور اپنے آپ کو عالم۔میں ابھی کشفِ لاشعور کے چکر میں "فراتر از کتاب" اور ماوراءِ علم کے بارے میں سوچ ہی رہاتھا کہ آسمان سے ٹوٹتے ستارے کی مانند میری سوچ کی کہکشاں سےکوئی یاد ٹوٹی اور کہیں کھوگئی۔اپنی " ایک بھولی بسری یاد "کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جب میں حلوائی کی دکان پر پہنچا تو اس کی دیوار پر وہی نامہ لٹک رہا تھا۔
    میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس نامےپر کسی نے اس عبارت کا اضافہ کردیا تھاکہ وہ پڑھی لکھی اقلیت کہاں ہے!؟ ہمارے ہاں تو کثرت سےہر طرف" ان پڑھ گدھے" لیڈر بنے پھر رہے ہیں۔
    میں نے بھی اس کے نیچےمزید ایک سطر کا اضافہ کر دیا کہ جہاں پر پڑھنے لکھنے والے اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں اور لوگوں کا شعور بلند نہ کریں وہاں پر گدھے ہی لیڈر ی کیا کرتے ہیں۔۔۔
    اگر ایران کے پڑھے لکھے لوگ اپنی ملّی تہذیب, قومی زبان اور سیاسی افکار کی حفاظت نہ کرتے، ہاتھوں پر ہاتھ دھرے اپنی قسمت کا شکوہ کرتے رہتے،اپنی عوام کا شعور بلند نہ کرتے اورہاتھ پاوں نہ مارتے تومدرسہ فیضیہ میں آج بھی پیالے ٹوٹ رہے ہوتےاور ایران میں گدھے ہی لیڈری کرتے رہتے۔۔۔
    کہیں پر بھی لوگوں کا شعور بلند کئے بغیر گدھوں کی لیڈری ختم نہیں ہوسکتی۔
    nazarhaffi@yahoo.com
     
  2. ایم اے رضا
    آف لائن

    ایم اے رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏26 ستمبر 2006
    پیغامات:
    882
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    جواب: گدھوں کی لیڈری

    خوب سمیٹا جی آپ نے موضوع کو طنز اور مزاح دونوں نظر آئے نقد و جرح کے ساتھ خوب جی خوب
     
  3. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,687
    موصول پسندیدگیاں:
    16,917
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: گدھوں کی لیڈری

    بہت خوب جی ، اچھا لگا
     
  4. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,107
    موصول پسندیدگیاں:
    11,153
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: گدھوں کی لیڈری

    نذر بھائی ۔ بہت خوب لکھتے ہیں ۔ امیدہے آپ سے مزید مستفیض ہونے کے مواقع ملتے رہیں گے
     
  5. نذر حافی
    آف لائن

    نذر حافی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 جولائی 2012
    پیغامات:
    403
    موصول پسندیدگیاں:
    321
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: گدھوں کی لیڈری

    برادر ایم ۔اے رضا اور نعیم صاحب کا شکرگزار ہوں کہ آپ جیسے صاحبانِ فن نے بندہ حقیر کی ٹوٹی پھوٹی تحریر کو توجہ اور محبت کے ساتھ پڑھا۔
     
  6. نذر حافی
    آف لائن

    نذر حافی ممبر

    شمولیت:
    ‏19 جولائی 2012
    پیغامات:
    403
    موصول پسندیدگیاں:
    321
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: گدھوں کی لیڈری

    پاکستان بنایاہی اس لئے گیاتھا تا کہ ہمیں گدھوں سے نجات ملے لیکن اب۔۔۔۔
    وہی ہے خواب جسے مل کے سب نے دیکھا تھا
    اب اپنے اپنے قبیلوں میں بٹ کے دیکھتے ہیں
     

اس صفحے کو مشتہر کریں