1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

کیڑو ں کے کاٹے کا علاج ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر سید فیصل عثمان

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏24 مارچ 2021۔

  1. intelligent086
    آن لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    7,062
    موصول پسندیدگیاں:
    795
    ملک کا جھنڈا:
    کیڑو ں کے کاٹے کا علاج ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر سید فیصل عثمان

    دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد مختلف کیڑے مکوڑوں اور جانوروں کے کاٹے سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔سب سے جان لیوا کیڑے مکھی اور مچھر ہیں۔مکھیوں اور مچھروں کے پھیلائے ہوئے جراثیموں نے کئی نسلوں کو صفحہ ہستی سے مٹاہے ۔ افریقہ کے جنگلات کیڑوں مکوڑوں کا خاص ٹھکانہ ہیں۔ انسانوں کے ذریعے ان کا زہر یا وائرس دنیا کے کسی بھی حصے میں منتقل ہو سکتا ہے ۔
    آج ہم کیڑے مکوڑوں ،کھٹملوں،چچڑوں،بھونروں،شہد کی مکھیوں اور سنڈیوں سے احتیاط و بچائو پر کچھ بات کریں گے۔ ان کے کاٹے یا ڈنگ کا علاج مشکل نہیں ،لیکن فوری ہونا چاہیے۔ شہد کی مکھی یا ایسے بعض کیڑوں کے قریب جانا ہی نہیں چاہیے ورنہ وہ مخصوص آواز نکال کر دوسرے ساتھیوں کومدد کے لئے بلا لیتے ہیں۔ جس سے ان کے حملے میںشدت آسکتی ہے۔ شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ پر ساکت رہیے، اگر آپ نے اسے تنگ نہیں کیا تو وہ کچھ نہیں کہے گی ورنہ آپ کی حرکت سے خوف زدہ ہو کر حملہ آور ہو جائے گی۔
    سب سے پہلے یہ پتہ چلائیے کہ کس نسل یا قسم کے کیڑے نے کاٹا ہے۔ چارپائی میں پایا جانے والا کھٹمل خطرناک ہوتا ہے۔ زہریلی مکڑی ،پسویا پھر(Chigger) ہے۔یہ مکھی جزائر غرب الہند میں پائی جاتی ہے اور کھال کے اندر گھس کر انسان کو ہلاک بھی کر سکتی ہے۔ دوا موجود نہ ہونے کی صورت میں گھر میں موجود خوشبو کاسپرے کیا جاسکتا ہے۔اس ٹوٹکے کو سائنس نے تسلیم نہیں کیا مگر عمومی طور پر اس کا نقصان نہیں ہوتا۔ جلدی انفیکشن سے بچائو کے لیے دن میں دو مرتبہ متاثرہ حصے کو صاف پانی سے دھونا ضروری ہے۔ دھونے کے بعد مرہم لگا لیا جائے ۔
    دوا موجود نہ ہونے کی صورت میں آفٹر شیو لوشن یا کریم استعمال کیجئے۔ متاثرہ حصے کو کھجانے سے انفیکشن بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا اپنے ناخن خود ہی کٹوا دیجئے تاکہ انفیکشن خراب نہ ہو۔کھٹمل کے کاٹنے سے چھالا بھی پڑ سکتا ہے۔ چھالے کو چھیڑیئے مت۔ متاثرہ حصے پر ویسلین یا ایسی کوئی اور چیز بھی لگائی جاسکتی ہے۔
    دوسرے کیڑے مکوڑوں کے کاٹے کابھی یہی علاج ہے۔ گھریلو علاج کی صورت میں علامات پر نظر رکھئے ، نئی علامت یا انفیکشن پھیلنے کی صورت میں ڈاکٹر سے ر جوع کرنا چاہیے۔ فلو ہونے کی صورت میں بھی ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔
    شہد کی مکھی، کیڑا ، کھٹمل،چچڑیابھونرااگر کاٹ لے تو سب سے پہلی احتیاط کے طور پر ساکن کھڑے رہیے۔ نقل و حمل سے دوران خون تیز ہوتا ہے اور جسم میں زہریلا مادہ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ نقل و حرکت میں کمی الرجی سے بچائو میں مدددیتی ہے۔ ڈنگ کا جسم میں رہنا خطرناک ہوتا ہے۔سب سے پہلے اسے نکالنا ضروری ہے۔ ناخن یا کسی صاف ستھری سوئی کی نوک کی مدد سے بھی ڈنگ کو باہر نکالا جا سکتا ہے۔زخم پر اینٹی بائیوٹک کریم کا استعمال کیا جانا چاہیے ۔ بازو یا ٹانگ پر کاٹے جانے کی صورت میں زہر کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بازو کو نیچے گراکر رکھیے ۔اس طرح دوران خون میں کمی آئے گی اورالرجی کا پھیلائو سست ہو جائے گاتاہم سوزش میں کمی نہ آنے کی صورت میں ٹانگ یا بازو کو اوپر اٹھا لیجئے۔ ایسا کرنے سے سوزش کم ہوگی۔بسا اوقات کیڑے کے بال یا جسم کے کچھ حصے انسان کی کھال پر رہ جاتے ہیں۔ کسی ٹیپ کو متعلقہ جگہ پر لگا کر کھینچئے ،جسم پر چپکی ہوئی ڈنڈیاں ٹیپ پر لگ جائیں گی۔ بچھو کے کاٹے کا علاج خود کرنے کی بجائے ڈاکٹر سے ملئے ۔اس کا علاج اب ہو سکتا ہے ۔
    کیڑوں کے کاٹے کے درد سے نجات کے لئے ایک گھنٹے میں 15سے 20منٹ تک متاثرہ حصے پر برف کو کپڑے میں لپیٹ کر لگائیے ۔یہ عمل مسلسل 6گھنٹے تک دہراترے رہیے ۔ برف لگا نے کے بعد نیند لینا نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سوزش میں کمی کے لئے لیٹ کر ٹانگ کو اوپر کی طرف اٹھائیے۔ زخم، سوزش یا سرخی کے خاتمے کے لیے اینٹی ہسٹا مین (Histamine)گروپ ادویات مارکیٹ میں با آسانی دستیاب ہیں۔تاہم چھوٹے بچوں کو اینٹی ہسٹا مین گولیاںد ینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ کسی '' Anti-Anesthetic‘‘ دوا کا استعمال کیا جاسکتاہے جیسا کہ بینزو کین (Benzocaine)گروپ کی گولیاں ۔ ان کیمیکلز کی کئی ادویات دستیاب ہیں۔
    بعض ادویات ، کریم یا لوشنز کے استعمال سے سرخی ، سوزش یا جلن میں کمی ہوگی۔ 2سا ل سے کم عمر کے بچوں پر یہ ادویات ہرگزاستعمال نہیں کرائیں۔ سوزش میں کمی کے لئے ادویات موجود ہیں،ان میں سے کوئی بھی گولی استعمال کی جاسکتی ہے۔
    چھوٹے بچوں کو ڈاکٹر کے پاس لیجانے سے پہلے ہلکی خوراک دی جاسکتی ہے ۔
    گولی کا استعمال کبھی ضرورت سے زائد مقدار میں نہ کیجئے۔
    کسی بھی الرجی کی صورت میں دوا کا استعمال روک دیجئے۔
    اگر ڈاکٹر نے کسی دوا کے استعمال سے احتیاط بتائی ہے تو اس پر عمل کیجئے۔
    حاملہ خواتین کیڑے مکوڑوں یا زہریلے جانوروں کے کاٹے ہوئے ڈنگ لگنے کی صورت میں اسیٹا مینو فین(Acetaminofen) کیمیکلز کی ادویات استعمال کریں ۔
    ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر بعض دوائیں 20 سال کم عمر کو نا دیں​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں