1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

چھٹی کے دن لمبی نیند کے نقصانات ۔۔۔۔۔ ڈاکٹرسید فیصل عثمان

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏19 مارچ 2021۔

  1. intelligent086
    آن لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    7,065
    موصول پسندیدگیاں:
    795
    ملک کا جھنڈا:
    چھٹی کے دن لمبی نیند کے نقصانات ۔۔۔۔۔ ڈاکٹرسید فیصل عثمان

    عموما ً یہ دیکھا گیا ہے کہ ہفتہ وار چھٹی ہو یا کوئی اور دن، ہم مزے سے سونا پسند کرتے ہیں اکثر لوگ نیند میں ہی دن گزار دیتے ہیں اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس طرح مختلف اوقات کار میں نیند لینے سے جسم کا ردعمل ٹوٹ جاتا ہے اوربروقت سونا اور جاگنا دونوں ہی عمل متاثر ہوتے ہیں۔ ہفتہ وار چھٹی کے دن لمبی نیند سے سونے اور جاگنے کے اوقات کار اوردورانیہ پر فرق پڑتا ہے جس سے دن بھر تھکن اور جسم ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ہفتہ وار چھٹی کے دن یہ کوئی اچھا سودا نہیں ہے اس سے سوموار کے دن پیداواری صلاحیت پر فرق پڑتا ہے۔ اس لیے سونے اور جاگنے کا دورانیہ اور اوقات کار ایک جیسے رکھیے ۔
    اچھی نیند کے مزے لینے کے لیے گولیوں سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔اس میں صرف گولیاں شامل نہیں بلکہ سونے کے لیے استعمال کی جانے والی کوئی بھی چیز شامل ہے خواہ وہ نشہ ہو یا نشہ آور ادویات ہوں ۔نیند کی گولیوں سے بسا اوقات کئی طرح کے خواب آنا شروع ہو جاتے ہیں۔دماغ کے اندر ایک خاص قسم کا ایک عمل شروع ہوتا ہے جو خوابوں کو جنم دیتا ہے۔
    کیفین سے احتیاط :کیفین کا استعمال ذہنی صلاحیتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ ایڈر لینین نامی کیمیکل کی پیداوار میں اضافہ کر کے نیند پیدا کرنے والے کیمیکل کی پیداوار روک دیتا ہے۔ کیفین کا اثر 6گھنٹے تک رہتا ہے۔اس طرح کیفین کے اثرات سے بچنے کے لیے 24گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ صبح 8بجے ایک کپ پینے کا اثر شام 8بجے تک 25فیصد رہ جاتاہے اور دوپہر کو پی جانے والی کسی بھی کیفین کا اثربیڈ ٹائم پر 50 فیصد رہتا ہے یہ آپ کے دوران خون پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور نیند کو دور بھگاتا ہے۔ سونے کے بعد بھی اس کے منفی اثرات جاری رہتے ہیں۔ اور یہ گہری نیند میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ چنانچہ اگلی صبح بیداری کے وقت تھکاوٹ ، ذہنی تنائو اور کھچائو ایک لازمی امر ہے۔ ایسی صورت میں بیداری کے وقت دوبارہ انرجی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔
    صبح ایک ہی وقت میں اٹھنا:صبح ایک ہی وقت میں اٹھنا آپ کے موڈ اور نیند کے معیار کو بہتر بناتا ہے۔2چار دفعہ ایک ہی ٹائم پر اٹھنے سے انسانی دماغ ایک اہم فرض بن جاتا ہے اس طرح آپ دن بھر میں زیادہ چاک و چوبند اور چوکس رہتے ہیں ۔
    اپنے جسم کو درکار نیند کا اندازہ لگائیے:نیند پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں۔ یہ کبھی بھی اور کہیں بھی آسکتی ہے۔ لوگ کانٹوں پر بھی سو جاتے ہیں اور کچھ کو پھولوں کی سیج پر بھی نیند نہیں آتی۔ یہ پتہ چلانا آپ کے لیے بہت ضروری ہے کہ آپ کے جسم کو کتنی دیر سونا چاہیے۔ کچھ لوگ اپنی ضرورت سے زیادہ سو جاتے ہیں اور دن بھر کم کام کرتے ہیں زیادہ نیند لینے سے بھی سستی پیدا ہوجاتی ہے جبکہ کم سونے سے بھی انسانی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور دوپہر کے بعد غنودگی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے اداروں کے مالکان نے اپنی نیند کی مقدار کا تعین کیا ہے۔ 5سو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان کی اکثریت اپنی جسمانی ضروریات کے مطابق نیند پوری کرتی ہے۔ بل گیٹس کو ''رات کا الو‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ رات کو کم از کم 7گھنٹے سوتے ہیں۔
    کام روک دیجئے:شام کے وقت اپنے جسم کو بہت زیادہ مصروف رکھنے والا کام نہ کیجئے ۔ نیند پیدا کرنے والے کیمیکلز کی پیداوار رک جاتی ہے اور جسم سونے کے لیے تیار نہیں ہوتا ۔ ایک سروے سے پتہ چلا کہ رات کو سوتے وقت بھی کم و بیش 60فیصد لوگ موبائل فون پر مصروف رہتے ہیں ایسے لوگوں کو پور ی نیند نہیں آتی۔
    دوسروں کی مداخلت کو روکیے:بچوں کا شور شرابہ ، ٹی وی کی آواز یا کسی اور چیز کی کھڑ کھڑاہٹ نیند میں ر کاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ نیند کو ان شور شرابوں سے پاک ہونا چاہیے یہ تمام باتیں آپ کے کنٹرول سے باہر نہیں ہیں۔ اگر آپ کے ہمسائے رات کو دیر تک اونچی آواز میں ٹی وی چلاتے ہیں تو ٓ انہیں بھی آواز کم کرنے کا کہہ سکتے ہیں خاموشی اچھی نیند کا لازمی جزو ہے۔
    مراقبہ کیجئے:کچھ لوگوں نے خوشگوار نیند کے لیے مراقبہ کرنا سیکھ لیا ہے۔ اسسٹنٹ فار میڈیکل سیٹیزنے بے خوابی کاعلاج مراقبے کو بتایا ہے، اس سے بے خوابی دو ر کی جاسکتی ہے۔ اگر سب کچھ کرنے کے بعد بھی نیند نہ آئے تونیند لانے والے کیمیکلز میلاٹو نین کی پیداوار 1بجے سے 3بجے تک عروج پر ہوتی ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ دوپہر کو نیند لینے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اسی لیے بعض سرچ انجن لوگو ں کو دوپہر کی نیند لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ رات کو پوری نیند نہ آنے کی صورت میں آپ دوپہر کے وقت نیند کے مزے لے سکتے ہیں۔ مثلاً 15-20منٹ کی نیند بھی جسم کو متحرک رکھنے کے لیے بہتر ہے۔ کیفین سے گریز بہر حال ہر صورت میں کرنا چاہیے۔

     

اس صفحے کو مشتہر کریں