1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے فائدے ہزار ۔۔۔ ڈاکٹرسید فیصل عثمان

'جنرل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏30 نومبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    7,037
    موصول پسندیدگیاں:
    795
    ملک کا جھنڈا:
    چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے فائدے ہزار ۔۔۔ ڈاکٹرسید فیصل عثمان

    میں نے بہت سے کامیاب افراد کو بھی ہر وقت مایوسیوں کا رونا رو تے دیکھا ہے۔یہ لوگ بہت بڑی کامیابی کی امید میں بھی بھول جاتے ہیں کہ ہر موڑ پر انہوں نے کیا کچھ حاصل کر لیاہے ،اور زندگی کی دوڑ میں وہ دوسروں سے کتنا آگے ہیں۔ یہ لوگ محض اپنی بڑی کامیابی میں تاخیر کو ناکامی گردانتے ہوئے خود کو ناکام انسان سمجھنے لگتے ہیں مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ آئیے، کامیابی کے چند اصول جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
    کامیابی کی پہلی سیڑھی
    دنیا کی سب سے بڑی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہر انسان کامیاب ہے، ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وہ آگے ہی آگے بڑھتا جا رہاہے۔ جب کوئی فرد اس انداز میں سوچنا شروع کر دے گاتو زندگی کے بارے میں نکتہ نظر بدل جائے گا۔اس میں وہ صلاحیتیں بیدار ہوں گی جنہیں اس نے خود کو ناکام انسان قرار دے دیا تھا۔چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کا خیال دل میں لا کراگر آپ خود کو قابل تعریف سجھیں گے تو یہی کامیابیاں فرد کے اندر آگے بڑھنے کی زبردست امنگ ، جستجو اور تحریک پیدا کر سکتی ہیں ،ان کی مدد سے زندگی بڑے سے بڑا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔آپ اس عمل کو کامیابی کی جانب پہلا زینہ سمجھئے۔
    تھکا دینے والا مقصد
    اگر آپ یہ ذہن میں لائیں گے کہ مجھے آج ہی 5ہزار لفظوں پر مشتمل مضمون لکھنا ہے تویہ خیال آپ پر بھاری پڑ سکتا ہے، دل میں خوف بیٹھنے کا اندیشہ ہے۔اور جب کوئی بھی کام بوجھ لگنے لگے تو سمجھ جائیے کہ آگے بڑھنے کی امنگ بھی دم توڑسکتی ہے،اس سے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے ۔ یہ ناکامی کی جانب پہلا قدم ہے۔ اس سے بچئے، اور یہی سوچتے رہیے کہ ہر کام آپ کے بس میں ہے۔
    جارج واشنگٹن اور نیلسن منڈیلا نے کیا سوچا تھا؟
    تاریخ اور سوانحی حیات کے مطالعے سے میں نے یہی سیکھا ہے کہ کبھی خود کومایوس نہ ہونے دو۔نیلسن منڈیلا نے اپنی کتاب ''لانگ واک ٹو جرنی ‘‘ یعنی کامیابی کا طویل سفر میں یہی سبق دیا ہے کہ جب انہوں نے قدم بڑھایا تو چند سو لوگ ساتھ تھے۔ لیکن اپنی منزل تک پہنچتے پہنچتے یہ کارواں لاکھوں افراد پر مشتمل تھا بلکہ پوری دنیا ان کے شانہ بشانہ تھی۔امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کی بائیو گرافی ''دی جرنل آف جارج واشنگٹن‘‘ کو پڑھئے، ایک جانب درجنوں ریاستیں تھیں، خونریز جنگ لڑنے والے لاکھوں سپاہی تھے جنہیں مزید کروڑوں افراد کی حمایت حاصل تھی۔قدم قدم پر رکاوٹیں تھیں لیکن جارج واشنگٹن ڈٹے رہے ،ان کے عزم کے سامنے سب ہیچ تھے۔نیلسن منڈیلا نے تو صاف لفظوں میں لکھ دیا ہے کہ انہیں موڑ پر لگتا تھا کہ منزل دور ہوتی جارہی ہے، ہر موڑ پر ایک نئی مشکل سامنے آ جاتی تھی لیکن ہمت ہارنے کا خیال کبھی دل میں نہیں آیا۔اسی لئے آپ بھی یہی سوچئے ، ہر کام شروع کرنے پہلے مشکل اور کبھی کبھی ناممکن نظر آتا ہے۔ لیکن جب بھی کوئی کام شروع کردیا جائے تو بند دروازے کھلنا شروع ہو جاتے ہیں ۔
    آپ کی کامیابی کیا ہے؟
    ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ '' بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں خالی آسامی کا پتہ یہی نہیں چلتا اور وہ
    جاب کے لئے درخواست بھیجنے سے بھی رہ جاتے ہیں۔کتنی بڑی ناکامی ہے۔اگر آپ نے درخواست بھیج دی ہے تو آپ کامیابی کی پہلی سیڑھی چڑھ چکے ہیں۔ صوفے پر گرنے سے پلیء یہ بھی سوچ لیجئے کہ آپ کو کال لیٹر آ گیا ہے، تو پھر آپ نے ایک اور سیڑھی چڑھ لی ہے۔تھکئے نہیں،کسی بھی کامیاب آدمی نے کبھی تھکن محسوس نہیں کی۔ آپ نے آج کی تارخ میں جو کام بھی کیا ہے اسی کا سوچئے کیونکہ بہت سے لوگوں نے تو یہ کام بھی نہیں کیا ہو گا۔آپ ایسی ڈھیر ساری کامیابیوں کو جمع کیجئے، ایک بڑی اور عالی شان تصویر سامنے ہو گی۔ اس سے جو بوسٹ ملے گا ،آپ اس کا سوچ بھی نہیں سکتے!


     

اس صفحے کو مشتہر کریں