1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

موہن رسول کی سزائے قتل

'متفرق' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏16 ستمبر 2020۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
  2. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    7,185
    موصول پسندیدگیاں:
    2,272
    ملک کا جھنڈا:
    آدھا پڑھا ہے مکمل کرنے کے بعد کچھ تبصرہ کرنا چاہونگا
     
  3. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    7,185
    موصول پسندیدگیاں:
    2,272
    ملک کا جھنڈا:
    اس مضمون کو عنوان دیا گیا ہے
    موہن رسول کی سزائے قتل پر آئمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع
    آئمہ اربعہ سے مراد یقینا چاروں امام یعنی
    امام ابو حنیفہ {رح}
    امام مالک {رح}
    امام شافعی {رح}
    امام احمد بن حنبل {رح} ہے
    اور علماء امت میں
    مولانا اشرف علی تھانوی
    سید انور شاہ کشمیری
    سید حسین احمد مدنی شامل ہیں
    ان کا تعلق مسلک دیوبند سے لکھا گیا ہے
    جبکہ بریلوی مسلک سے علماء کے نام
    احمد رضا خان بریلوی تک محدود ہے
    یقینا جناب ابن عمر فاروقی کا تعلق دیوبند مسلک سے ہوگا اسی لیے انہوں نے ایک بریلوی مسلک کے عالم کا نام ڈالا یا پھر ان کی ضرورت ہوگا کیونکہ انہوں نے مضمون کا نام علماء امت کا اجماع رکھنا تھا
    یہ بھی ہوسکتا ہے اہلحدیث علما ان کی نظر میں گستاخ رسول ہوں یا اہل تشیع گستاخ صحابہ ہوں
    واللہ عالم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اصل سوال ہے اجماع کیا چیز ہوتی ہے ؟
     
    Last edited: ‏17 ستمبر 2020
  4. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    7,185
    موصول پسندیدگیاں:
    2,272
    ملک کا جھنڈا:
    اجماع چونکہ عربی کا لفظ ہے اور یقین کریں عربی لفظوں کے کئی معنی نکلتے ہیں
    محدثین اور قرآن کی تفسیر کرنے والے جب تفسیر کرتے ہیں تو ایک لفظ کے کئی معانی نکالتے ہیں
    اصل میں جب کسی مسئلے کا حل قرآن اور حدیث سے نہ نکل سکے تو مسلمانوں کی جماعت مل بیٹھ کر کسی ایک فیصلہ یا حل پر متفق ہوجائے اس کو اجماع کہا جاتا ہے ، اور اس کی بڑی اہمیت ہے
    اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے علماء قرآن کی اس آیت کو لاتے ہیں
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور ان کا بھی جو تم میں سے حکم دینے والے ہیں ، پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو ، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے { النساء : 59 }
    نبی پاک {ص} کے انتقال کے بعد ابو بکر صدیق {رض} کا اول خلیفہ کا انتخاب مسلمان جماعت کا سب سے پہلا اجماع کہلاتا ہے { کم از کم سنی علماء کی نظر میں }
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مختصر اس جگہ جو اجماع کا مطلب نکالا جاسکتا ہے یا کہہ سکتے ہیں صاحب مضمون کہنا چاہتے ہیں گستاخ رسول کی سزا موت پر تمام مسلمان اور چاروں امام سمیت ایک صفحہ پر ہیں
    واللہ عالم
     
  5. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 182-179/B=2/1436-U

    اصطلاحِ شرعیت میں اجماع کہتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی زمانہ میں پیش آنے والے مسئلہ کے حکم شرعی پر اس زمانہ کے تمام مجتہدین کا اتفاق کرلینا، تو جب کسی زمانہ میں کوئی مسئلہ پیش آئے اور اس کا حکم شرعی نہ کتاب اللہ میں ہو نہ سنت رسول اللہ میں، اور یہ مسئلہ اس وقت کے مجتہدین کے سامنے پیش کیا جائے، اور تمام مجتہدین قولاً یا فعلاً یا تقریراً یا سکوتاً کسی ایک حکم پر اتفاق کرلیں تو یہ اجماع ہے، اجماع امت حجت قطعی ہے، اس سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے، اجماع کی مخالفت حرام ہے، علماء نے منکر اجماع کو کافر بھی قرار دیا ہے، ثبوت اجماع پر قرآن وحدیث میں بہت سارے دلائل موجود ہیں۔ الأجماع: في اللغة العزم،وفي الاصطلاح اتفاق المجتہدین من أمة محمد صلی اللہ علیہ وسلم في عصر علی أمر دیني وأیضا العزم التام علی أمر من جماعة أہل الحل والعقد (قواعد الفقہ: ۱۶۰، مطبوعہ دار الکتاب دیوبند) واصطلاحاً: اتفاق المجتہدین من أمة محمد صلی اللہ علیہ وسلم في عصر من العصور بعد وفاتہ -صلی اللہ علیہ وسلم- علی حکم شرعي في واقعة من الوقائع (المدخل إلی الفتاوی علی الہندیة: ۱/۳۴ ط: اتحاد) وفي ”أصول“ السرخسي: إجماع الأمة موجب للعلم قطعاً کرامة لہم علی الدین لانقطاع توہم اجتماعہم علی الضلال، وہذا مذہب الفقہاء وأکثر المتکلمین، وہذا الإجماع حجة موجبة شرعا، والحق فیما اجتمعوا علیہ قطعًا، واستدل الحنفیة وغیرہم علی حجیة الإجماع بالکتاب والسنة، دلیل الکتاب: قولہ تعالی: کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ”آل عمران“ و”خیر“ بمعنی أفعل یدل علی النہایة في الخیریة فیما یجتمعون علیہ، والمعروف ما ہو حق عند اللہ یلزم العمل بہ، وہو ما یجتمعون علیہ․ وقال تعالی: وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیلِ الْمُؤْمِنِینَ ”النسا“ جعل اتباع غیر سبیل الموٴمنین بمنزلة مشاقة الرسول في استیجاب النار، وقال تعالی: وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّةً وَسَطً (البقرة) والوسط، العدل المرضي، وفیہ تنصیص لہم بالعدالة، وأن الحق ما یجتمعون علیہ ودلیل السنة: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”من سرّہ أن یسکن بحبوحة الجنة فلیلزم الجماعة“ ”وید اللہ مع الجماعة“ و”من خالف الجماعة قید شبرٍ فقد خلع ربقة الإسلام من عنقہ“ و”أن اللہ لا یجمع أمتي علی ضلالة، وما رأہ المسلمون حسنا فہو عند اللہ حسن، وما رأہ المسلمون قبیحًا فہو قبیح“ وقال السرخسي: والآثار في ہذا تبلغ حدّ التواتر (المدخل إلی الفتاوی علی الہندیة: ۱/۳۵، ط: اتحاد دیوبند) مزید معلومات کے لیے مجموعہ رسائل ومقالات بسلسلہ رد غیر مقلدیت (۱/۳۹۴-۴۲۰، ط: مکتبہ دارالعلوم دیوبند) مطالعہ فرمالیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند
     
  6. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    7,185
    موصول پسندیدگیاں:
    2,272
    ملک کا جھنڈا:
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    پورا مضمون پڑھا اور کئی بار پڑھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نبی پاک {ص} کی سنت کی مخالفت بھی کفر ہے
    اگر کسی شخص نے بیان کیا کہ ناخنوں کا کاٹنا نبی {ٰص} کی سنت ہے اور سننے والے نے کہا ٹھیک ہے سنت تو ہے مگر میں پھر بھی نہیں کاٹتا ، اس سے بھی وہ کافر ہو جائے گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نشے کی حالت میں کسی مسلمان کے منہ سے کلمہ کفر نکل گیا تو اسے کافر نہ کہیں گے اور نہ سزائے کفر دیں گے مگر نبی کریم {ص} کی شان میں گستاخی وہ کفر ہے کہ نشے کی بے ہوشی سے بھی صادر ہو تو اسے معافی نہ دیں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام اعظم امام ابو حنیفہ کا مذہب
    امام مالک کا مذہب
    امام شافعی کا مذہب
    امام احمد بن حنبل کا مذہب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی مسلمان نبی پاک {ص} یا کسی بھی نبی کی توہین کرنے کا سوچ بھی سکتا ہو ، کرنا تو دور کی بات ہے
    کیونکہ نبیوں پر ایمان لانا ایمان کا حصہ ہوتا ہے
    چونکہ اپ کے مضمون کی بنیاد امام ابو تیمیہ کی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول پر رکھی گئی ہے ، نہ صرف یہ مضمون بلکہ جو بھی اہل قلم اس موضوع پر کچھ لکھتا ہے تو 90 فیصد اسی کتاب کے حوالے دیتا ہے
    نبی پاک {ص} یا کسی دوسرے نبی کی شان میں گستاخی کرنے سے کافر ہونے تک اور ایک ایسا جرم جس کی توبہ بھی نہ ہو اور آخر میں واجب قتل ہونا
    یہ سب کیسے ممکن ہے ، قرآن کی کن آیات یا کن احادیث سے ثابت ہوتا ہے
    ان تمام کو جاننے کے لیے 621ھ میں پیدا ہوئے امام ابن تیمیہ کی کتاب الصارم المسلول کو پڑھنا ضروری ہے
    https://d1.islamhouse.com/data/pdf-...r_Assaarim_ul_Maslool_Alaa_Shatimirrasool.pdf
     
  7. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
    اگر کسی نے انفرادی طور پر اُٹھ کر ایسے گستاخ کو قتل کردیا تو اس کا کیا حکم ہے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ نبوی زندگی میں اس کی کوئی مثال اگر ہےتو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ایسے گستاخ کے قاتل کے ساتھ کیا رویہ اپنایا ہے ۔

    ہمارا اعلی تعلیم یافتہ اور پڑھا لکھا سیکولر طبقہ ایسے ہر موقع پر جب توہین رسالت کے کسی مجرم اور گستاخ رسول کو سزائے موت کی بات ہوتی ہے تو فلسفیانہ انداز میں بیانات دے کر گستاخ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں

    ہمیں ان رویوں میں یہ منافقت نظر آتی ہے کہ ہمارے لبرل اور سیکولر انسانیت کا رونا روتے رہتے ہیں اور قانون قانون کی رٹ لگا کر ہمیں جاہل پاگل اور ذہنی مریض ثابت کیا جاتا ہے۔

    کیا قائد اعظم جب غازی علم الدین شہید کا مقدمہ لڑ رہے تھے تو کیا وہ ذہنی مریض تھے ؟
    جب علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا اور ہم دیکھتے رہ گئیے تو کیا وہ ذہنی مریض تھے؟
    --------------
    (ابوداؤد، باب الحکم فی من سب،چشتی)
    ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک نابینا کی ام ولد باندی تھی جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو گالیاں دیتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں گستاخیاں کرتی تھی ، یہ نابینا اس کو روکتا تھا مگر وہ نہ رکتی تھی ۔ یہ اسے ڈانٹتا تھا مگر وہ نہیں مانتی تھی ۔ راوی کہتا ہے کہ جب ایک رات پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں گستاخیاں کرنی اور گالیں دینی شروع کیں تو اس نابینا نے ہتھیار(خنجر) لیا اور اس کے پیٹ پر رکھا اور اس پر اپنا وزن ڈال کر دبا دیا اور مار ڈالا ، عورت کی ٹانگوں کے درمیان بچہ نکل پڑا ، جو کچھ وہاں تھا خون الود ہوا ۔ جب صبح ہوئی تو یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ہاں ذکر ہوا۔آپ نے لوگوں کو جمع کیا ، پھر فرمایا کہ اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے کیا جو کچھ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہوجائے ، تو نابینا کھڑا ہوا ، لوگوں کو پھلانگتا ہوا اس حالت میں آگے بڑا کہ وہ کانپ رہا تھا ، حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں ہوں اسے مارنے والا ، یہ آپ کو گالیاں دیتی تھی اور گستاخیاں کرتی تھی میں اسے روکتا تھا وہ نہ رکتی تھی ، میں دھمکاتا تھا وہ باز نہیں آتی تھی اور اس سے میرے دو بچے ہیں جو موتیوں کی طرح ہیں اور وہ مجھ پر مہربان بھی تھی ، لیکن آج رات جب اس نے آپ کو گالیاں دینی اور برا بھلا کہنا شروع کیا تو میں نے خنجر لیا اور اسکی پیٹ پر رکھا اور زور لگا کر اسے مار ڈالا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ لوگوں گواہ رہو اسکا خون بے بدلہ (بے سزا) ہے ۔
    -----------------
    (ابوداؤد، باب الحکم فی من سب)
    ترجمہ : حضرت علی سے روایت ہے کہ ایک یہودیہ عورت نبی صل اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی تھی اور برا کہتی تھی تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئی ،تو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اسکے خون کو ناقابل سزا قرار دے دیا ۔

    پہلی حدیث تو ایک مملوکہ باندی کا تھا اور دوسری حدیث غیر مملوکہ غیر مسلم کے متعلق ہے، مگرغیرت ایمانی نے کسی قسم کا خیال کئے بغیر جوش ایمانی میں جو کرنا تھا کردیا اور حضور صل اللہ علیہ وسلم نے بھی اسکا بدلہ باطل قرار دیا ۔ دونوں واقعات سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو گالیاں دینے والے مباح الدم بن جاتا ہے اور اگر کوئی اس گستاخ کو انفرادی طور پر قتل کرے تو قاتل کیلئے کوئی سزا نہیں ہے۔ بلکہ اس گستاخ کا قاتل ہر قسم کے جرم و سزا سے آزاد ہوگا۔نیز حق کا علمبردار بن کر ثواب عظیم کا مستحق بن جاتا ہے ۔ گستاخ رسول کا قتل حکومت کا ذمہ ہے ۔ اور عام آدمی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے ، لیکن اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لے کر اس گستاخ کو قتل کیا تو اس قاتل پر کوئی قصاص یا تاوان نہیں ہوگا کیونکہ مرتد مباح الدم ہوتا ہے اور جائز القتل ہوتا ہے ۔ عام آدمی اگر اس کو قتل کردے تو یہ آدمی مجرم نہیں ہوگا ۔
     
  8. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
    حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : کعب کو کون قتل کرے گا یہ اللہ و رسول کو ایذا دیتا ہے تو صحابہ نے اسے قتل کردیا ۔ (صحیح بخاری,حدیث نمبر3031)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے انصار کی ایک جماعت کو بجھیجا کہ ابورافع کو قتل کرے تو عبد اللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ نے اسے سوتے ھوئے قتل کیا ۔ (صحیح بخاری,حدیث نمبر3022،چشتی)

    فتح مکہ کے دن ایک صحابی نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بتایا کہ ابنِ خطل کعبہ کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور چھپا ہوا ہے تو حکم ارشاد فرمایا
    اسے قتل کر دو ۔ (صحیح بخاری,حدیث نمبر3044)

    ایک ملعون نے حنبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو گالیاں بکتا تھا تو آپ علیہ الصلوۃوالسلام نے پوچھا کون اسے قتل کرے گا ؟ حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ ذمہ داری قبول کی اور اسے قتل کردیا ۔ (الشفاء,جلدنمبر1,صفحہ نمبر62)

    ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بےادبی کیا کرتی تھی تو ایک صحابی نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس عورت کا خون رائیگاں جانے دیا اور قاتل کو سزا نہیں دی ۔ (سنن ابو داؤد,حدیث نمبر4362)

    ایک صحابی نے عرض کی کہ میرا باپ آپ کی شان میں گستاخی کرتا تھا تو میں نے اسے مار دیا تو حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کو اس کے قتل کا کوئی دکھ نہ ہوا ۔ (الشفاء,جلدنمبر2,صفحہ نمبر195،چشتی)

    ایک نابینا صحابی کی ایک لونڈی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں گستاخی کرتی تھی تو ان نابینا صحابی نے اسے قتل کردیا اورآ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس کا خون رائیگاں جانا اور کوئی سزا نہیں دی ۔ (سنن ابو داؤد,حدیث نمبر4341)

    خلافتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ میں ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی گستاخی میں گانا گایا تو مہاجر بن امیہ نے اس کے دونوں ہاتھ اور زبان کاٹ دی ۔ جب اس کی خبر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ہوئی تو آپ نے فرمایا اگر تم نے یہ نہ کیا ہوتا تو میں اسے قتل کروا دیتا کہ انبیاء کی گستاخ کی سزا عام سزاؤں کی طرح نہیں ہوتی ۔ (الشفاء,جلدنمبر2, صفحہ نمبر196)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اہانت کا مرتکب واجب القتل ہے اور اس کی توبہ مطلقًا کسی صورت میں قبول نہیں کی جائے گی خواہ وہ قبل الأخذ یعنی مقدمے کے اندراج یا گرفتاری سے پہلے توبہ کرے یا بعد الأخذ مقدمے کے اندراج یا گرفتاری کے بعد تائب ہو، ہر صورت برابر ہے۔ کسی صور ت میں بھی قطعاً قبولیت توبہ کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔

    اس موقف پر دلائل درج ذیل ہیں۔

    قرآن مجید میں ہے : وَلَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ط قُلْ اَبِا ﷲِ وَاٰيٰـتِهِ وَرَسُوْلِهِ کُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُوْنَ o لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِکُمْ ۔
    ترجمہ : اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو، بہانے نہ بناؤ تم کافر ہو چکے مسلمان ہو کر اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں تو اوروں کو عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم تھے ۔ (سورۃُ التوبة، 9 : 65، 66)

    مفسرین کرام اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : قَدْ کَفَرْتُمْ ، قد أظهرتم الکفر بإيذاء الرسول والطعن فيه.
    ’’تم کافر ہو چکے ہو یعنی تمہارا کفر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت وتکلیف دینے ، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں طعن وتشنیع کرنے کی وجہ سے ظاہر ہوچکا ہے ۔

    عظیم مفسر علامہ عبد ﷲ بن عمر بيضاوی رحمۃ اللہ علیہ ، أنوار التنزيل وأسرار التأويل، 3: 155، بيروت، لبنان: دارالفکر ۔
    أبو السعود محمد بن محمد رحمۃ اللہ علیہ، تفسير أبو السعود، 4: 80، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي ۔
    علامہ محمود آلوسي رحمۃ اللہ علیہ، روح المعاني، 10: 131، بيروت، لبنان: دارا حياء التراث العربي ۔(چشتی)


    دیگر مفسرین کرام کی اکثریت نے بھی یہی موقف اپنایا ہے۔ سورہ احزاب کی آیت مباکہ میں ہے : اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ ﷲَ
    وَرَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ ﷲُ فِی الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا ۔


    ترجمہ : بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ (سورۃُ الاحزاب، 33 ۔ 57)

    اس آیت کریمہ سے علامہ ابن تیمیہ استدلال کرتے ہوے لکھتے ہیں : ان المسلم يقتل اذا سب من غير استتابة وان اظهر التوبة بعد اخذه کما هو مذهب الجمهور.
    ترجمہ : کوئی بھی مسلمان (جو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی وگستاخی کرے گا) اسے توبہ کا موقع دیئے بغیر قتل کر دیا جائے ۔ اگر چہ وہ گرفتاری کے بعد توبہ کرلے یہی مذہب جمہور ہے ۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 3: 635، بيروت، لبنان: دار ابن حزم)
    علامہ ابن تیمیہ مزید بیان کرتے ہیں، نسبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ ثابت ہے، شان رسالتمآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی و بے ادبی کا ارتکاب کرنے والے کی سزا تو بہ کا موقع دیئے بغیر اسے قتل کرنا ہے ۔ حدیث رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی بات سامنے آتی ہے : فانه امر بقتل الذي کذب عليه من غير استتابه.
    ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس شخص کے بارے میں بغیر توبہ کا موقع دیئے قتل کا حکم صادر فرمایا جس نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کیا ۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 3: 638،چشتی)

    فتنہ اہانت رسول میں مسلم وغیر مسلم کا امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا ۔ دونوں پر حد کا اجراء ہوگا، کوئی بھی اس سے مستثنیٰ و مبراء نہ ہوگا ۔ امام مالک رحمہ ﷲ نے اسی چیز کو واضح کرتے ہوئے فرمایا : من سب رسول ﷲ أو شتمه أو عابه أو قتل مسلما کان أو کافراً ولا يستتاب.

    ترجمہ : جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو گالی دی یا عیب لگایا یا آپ کی تنقیص کی تو وہ قتل کیا جائے گا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی ۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 3: 572)

    امام احمد بن حنبل رحمہ ﷲ نے فرمایا ہروہ شخص جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو گالی دی یا تنقیص واہانت کا مرتکب ہوا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اس جسارت پر سزائے قتل اس پر لازم ہوجائے گی ۔ مزید برآں فرماتے ہیں :

    اری ان يقتل ولا يستتاب ۔
    ترجمہ : کہ میری رائے یہ ہے کہ اسے توبہ کا موقع دیئے بغیر قتل کر دیا جائے ۔

    امام احمد بن حنبل رحمہ ﷲ کے صاحبزادے فرماتے ہیں ایک روز میں نے والد گرامی سے پوچھا جو شخص حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی وگستاخی کرے آپ کی شان اقدس میں دشنام طرازی کا ارتکاب کرے تو ایسے شخص کی توبہ قبول کی جائے گی ؟ اس پر آپ نے ارشاد فرمایا : قد وجب عليه القتل ولايستتاب ۔ ترجمہ : سزائے قتل اس پر واجب ہو چکی ہے اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی ۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 3: 551،چشتی)

    جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بے ادبی وگستاخی کا مرتکب ہو کیا اس کی توبہ قبول کی جائے گی ؟ اس کے بارے میں امام زین الدین ابن نجیم حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ قلبی طور پر بغض وعداوت رکھتا ہے وہ مرتد ہے جبکہ کھلم کھلا آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے والا بطریق اولیٰ کافرومرتد ہے :
    يقتل عندنا حدا فلا تقبل توبته في إسقاطه القتل ۔

    ترجمہ : ہمارے نزدیک (یعنی مذہب احناف کے مطابق) اسے حداً قتل کردیا جائے گا اور حد قتل کو ساقط کرنے کے حوالے سے اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ۔ )البحر الرائق، 5: 136، بيروت، لبنان: دارالمعرفة)

    امام ابن عابدین شامی حنفی رحمہ ﷲ شان رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اہانت وگستاخی کے مرتکب کی سزا کے متعلق فرماتے ہیں : فإنه يقتل حداً ولا تقبل توبته لأن الحد لايسقط بالتوبة، وأفاد أنه حکم الدنيا وأما عند ﷲ تعالیٰ فھي مقبولة ۔
    ترجمہ : اسے حداً قتل کر دیا جائے گا ۔ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اس لئے کہ حد توبہ سے ساقط ومعاف نہیں ہوتی، یہ حکم اس دنیا سے متعلق ہے جبکہ آخرت میں ﷲ رب العزت کے ہاں اس کی توبہ مقبول ہوگی ۔ (رد المحتار ، 4: 230، 231، بيروت، لبنان: دارالفکر،چشتی)

    محمد بن علی بن محمد علاؤ الدین دمشقی المعروف حصکفی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الکافر بسب نبي من الأنبياء فإنه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا ولو سب ﷲ تعالیٰ قبلت لأنه حق ﷲ تعالیٰ والأول حق عبد لا يزول بالتوبة ومن شک في عذابه وکفره کفر ۔
    ترجمہ : انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کی توہین کرکے جو شخص کا فر ہو اسے حداً قتل کردیا جائے گا اور اس کی توبہ کسی صورت میں قبول نہیں ہوگی ۔ اگر اس نے شان الوہیت میں گستاخی کی (پھر توبہ کی) تو اس کی توبہ قبول ہو جائے گی ۔ اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے (جو توبہ سے معاف ہوجاتا ہے) جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں گستاخی یہ حق عبد ہے جو توبہ سے زائل نہیں ہوتا اور جو شخص اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے ۔ (الدر المختار، 4: 231، 232، بيروت، لبنان: دارالفکر)

    نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ادنیٰ سی گستاخی و بےادبی ، توہین و تنقیص ، تحقیر و استخفاف ، صریح ہو یا بانداز اشارہ و کنایہ، ارادی ہو یا بغیر ارادی بنیت تحقیر ہو یا بغیر نیت تحقیر ، گستاخی کی نیت سے ہو یا بغیر اس کے حتیٰ کہ وہ محض گستاخی پر دلالت کرے تو اس کا مرتکب کافر و مرتد اور واجب القتل ہے ۔ اللہ تعالیٰ جملہ فتنوں سے بچائے آمین ۔
     
  9. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
    عَنْ مَالِکٍ رضي الله عنه أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: تَرَکْتُ فِيْکُمْ أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا: کِتَابَ اﷲِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ.
    رواه مالک، والحاکم عن أبي هريرة.
    ”امام مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان تک یہ خبر پہنچی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جاتا ہوں، اگر انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے یعنی اللہ کی کتاب اور اُس کے نبی کی سنت۔“

    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم خَطَبَ النَّاسَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي قَدْ تَرَکْتُ فِيْکُمْ مَا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ، فَلَنْ تَضِلُّوْا أَبَدًا: کِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ.
    رواه الحاکم والبيهقي. وقال الحاکم: صحيح الإسناد.
    ”حضرت (عبد اللہ) بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! یقینا میں تمہارے درمیان ایسی شے چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے، یعنی اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔“

    ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سنو! میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں: ایک اﷲ عز وجل کی کتاب ہے، جواﷲ کی رسی ہے۔ جو اس کی اتباع کرے گا وہ ہدایت یافتہ ہوگا اور جو اس کو ترک کردے گا وہ گمراہی پر ہوگا۔“

    آب آتے ہیں اصل مسئلے کی طرف

    ناخن کاٹنے کے لیے حدیث میں تقلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے ، جس کے معنی کاٹنے کے ہیں ، محدثین نے لکھا ہے کہ ناخن اتنے کاٹنے چاہییں کہ جس میں انگلی میں تکلیف نہ ہو اورچالیس دن کی مدت زیادہ سے زیادہ ہے ، یعنی اس سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ تحریمی ہے ، ورنہ ہفتہ دس دن میں ناخن پورے کاٹ لینے چاہییں، یہ نہیں کہ تھوڑے تھوڑے کاٹ کر مزید چالیس دن تک ناخن بڑھائے جائیں۔

    والتقلیم تفعیل من الْقَلَم وَہُوَ الْقطع، وَوَقع فِی حَدِیث الْبَاب فِی رِوَایَة: وقص الْأَظْفَار، والأظفار جمع ظفر بِضَم الظَّاء وَالْفَاء وسکونہا، وَحکی عَن أبی زید کسر الظَّاء وَأنْکرہُ ابْن سَیّدہ، وَقد قیل: إِنَّہ قِرَائَة الْحسن وَعَن أبی السماک أَنہ قریء بِکَسْر أَولہ وثانیہ، وَیسْتَحب الِاسْتِقْصَاء فِی إِزَالَتہَا بِحَیْثُ لَا یحصل ضَرَر علی الإصبع (عمدة القاری :۴۵/۲۲، باب تقلیم الاظفار ، ط: دار احیاء التراث العربی )

    حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: ( رسول اللہ ﷺ نے) ہمارے لیے مونچھیں تراشنے ،ناخن کاٹنے ،بغل کے بال اکھاڑنے (یا مونڈھنے) زیرِ ناف مونڈھنے کی انتہائی مدت یہ مقرر فرمائی کہ ہم چالیس دن سے تجاوز نہ کریں‘‘۔ (صحیح مسلم:258)

    آپ ﷺ نے خود فرمایا تھا کہ:
    ’’إنی ترکت شیئین لن تضلوا بعدھما کتاب الہ وسنتی ولن یتفرّقا حتّی یردا علیّ الحوض‘‘ (مستدرک للحاکم، ج۱، صفحہ ۹۳)
    ’’میں تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں، ان کے بعد تم ہر گز گمراہ نہیں ہو سکتے۔ اللہ کی کتاب اور میری سنت اور یہ دونوں ایک دوسرے سے ہر گز علیحدہ نہیں ہوں گی یہاں تک کہ وہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر آئیں۔‘‘


    اسی لیے سلف صالحین نے یہ برملا اعلان فرما دیا کہ جس نے سنت کا انکار کیا اس نے یقیناً کفر کیا کیونکہ یہ دونوں ماخذ قانون اور وحی پر مبنی ہیں۔ اور وحی کا انکار سو فیصد کفر ہے۔ اب ہم یہاں ائمہ کرام سے اقوال اور محدثین کے اقتباسات نقل کیے دیتے ہیں۔ جس سے یہ بات آشکارا ہوگی کہ کسی بھی صحیح حدیث کا انکار کہ جب اس کی صحت کا علم ہو جائے کفر ہے۔

    عن اٴبی ایوب عن قلابة قال اذا حدثت الرجل بالسنة فقال دع ھذا وھات کتاب اللہ فاعلم انہ ضال۔ (ذم الکلام للھروی ۱۴۳/۲)
    ’’ابو ایوب بیان کرتے ہیں کہ ابو قلابہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں جب تم کسی آدمی کے سامنے سنت بیان کرو تو وہ کہے اس (سنت ) کو چھوڑ دو اور اللہ کی کتاب لاؤ! تو جان لو کہ وہ گمراہ آدمی ہے۔‘‘

    ’’جو شخص نبی ﷺ کی صحیح حدیث معلوم ہو جانے یا نبی ﷺ جو لائے ہیں اس پر مومنین کا اجماع ہونے کے بعد اس کا انکار کرے تو وہ کافر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’اور جو شخص ہدایت معلوم ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلے تو وہ جدھر جاتا ہے ہم اُسے اسی طرف پھیر دیتے ہیں اور اُسے جہنم میں داخل کریں گے۔‘‘

    جلال الدین السوطی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

    اعلموا رحمکم اللہ ان من انکر ان کون حدیث النبی ﷺ قولا کان او فعلاً بشرطہ المعروف فی الاصول حجة کفر وخرج عن دائرة الاسلام وحشر مع الیھود والنصاری۔ (مفتاح الجنة، صفحہ ۵)
    ’’جان لو! اللہ تم پر رحم کرے جو شخص رسول اللہ ﷺ کے قول یا فعل کا انکار کرے اس کے معروف شرائط جو اصول میں حجت ہیں تو وہ شخص (حدیث کے انکار کے سبب) اسلام کے دائرے سے خارج ہے اس کا حشر یہود و نصاری کے ساتھ ہوگا۔‘‘

    امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

    من ردّ حدیث رسول فھو علی شفر ھلکة فقال تعالیٰ:’’فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ‘‘(النور ۶۳/۲۴)، وای فتنة انما ھی الکفر۔
    (مختصر الصواعق المرسلة ، صفحہ ۵۴۴)
    ’’جو شخص رسول اللہ ﷺ کی حدیث کو رد کرتا ہے وہ ہلاکت کے گھڑے پر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’پس وہ لوگ جو رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے م یں مبتلا نہ کر دیئے جائیں۔‘‘(تو یہاں آیت میں جو لفظ) ’’فتنة‘‘ ہے اس سے مراد کفر ہے (یعنی جس نے حدیث کا انکار کیا اس نے کفر کیا)۔‘‘

    حافظ ابن حزم اندلسی فرماتے ہیں:

    وکل من کفر بما بلغہ وصح عندہ عن النبی ﷺ او اجمع علیہ المومنون مما جاء بہ النبی  فھو کافر کما قال اللہ تعالیٰ:’’ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین ‘‘ الآیہ۔ (المعلی لابن حزم، ج۱، مسئلہ ۲۰)

    ’’جو شخص نبی ﷺ کی صحیح حدیث معلوم ہو جانے یا نبی ﷺ جو لائے ہیں اس پر مومنین کا اجماع ہونے کے بعد اس کا انکار کرے تو وہ کافر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’اور جو شخص ہدایت معلوم ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلے تو وہ جدھر جاتا ہے ہم اُسے اسی طرف پھیر دیتے ہیں اور اُسے جہنم میں داخل کریں گے۔‘‘

    سنت کا مذاق اڑانے والے کو تجدید ایمان کے ساتھ ساتھ تجدید نکاح کا بھی حکم ہے

    واللہ اعلم
     
  10. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    7,185
    موصول پسندیدگیاں:
    2,272
    ملک کا جھنڈا:
    آپ نے آٹھ احادیث تحریر کیں { مجھے بعض احادیث کی صحت پر شک ہے ، خاص کر ( الشفاء , جلد نمبر 2, صفحہ نمبر196 ) والی ۔ ۔ ۔ اگر کوئی حوالہ ملے تو تحریر کیجئے گا }
    پھر ایک نوٹ لکھا
    " نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اہانت کا مرتکب واجب القتل ہے اور اس کی توبہ مطلقًا کسی صورت میں قبول نہیں کی جائے گی خواہ وہ قبل الأخذ یعنی مقدمے کے اندراج یا گرفتاری سے پہلے توبہ کرے یا بعد الأخذ مقدمے کے اندراج یا گرفتاری کے بعد تائب ہو، ہر صورت برابر ہے۔ کسی صور ت میں بھی قطعاً قبولیت توبہ کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ "
    ان احادیث سے یہ نتیجہ کیسے اخذ کیا کہ توہین رسالت کرنے والی کی توبہ قبول نہیں کی جاسکتی ؟
     
  11. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    7,185
    موصول پسندیدگیاں:
    2,272
    ملک کا جھنڈا:
    اس کے بعد لکھی ہے سورۃ التوبہ کی آیت 65 ، 66
    اب آپ غور کریں سورۃ التوبہ کی آیتوں کی جو عربی تحریر ہے وہ آدھی ہے یعنی آیت 65 مکمل اور 66 رکی ہے لفظ بَعْدَ اِيْمَانِکُمْ تک
    اس لئے ترجمہ کریں تو بنتا ہے
    اور اگر تم ان سے دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم یونہی بات چیت اور دل لگی کر رہے تھے، کہہ دو کیا اللہ سے اور اس کی آیتوں سے اور اس کے رسول سے تم ہنسی کرتے تھے { 65 }
    بہانے مت بناؤ ایمان لانے کے بعد تم کافر ہو گئے { نامکمل ۔۔۔ 66 }
    اور باقی آیت کا ترجمہ ہے " اگر ہم تم میں سے بعض کو معاف کر دیں گے تو بعض کو عذاب بھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں "
    اردو ترجمہ آپ کی تحریر میں پہلے سے مکمل ہے
    ڈیڑھ آیت تک تو آپ کا مقدمہ ٹھیک ہے مگر بقایا آدھی آیت میں اللہ جن بعض کو معاف کردینے کی بات کر رہا ہے وہ بعض کون ہیں ؟
    ویسے یہ آیتیں جنگ تبوک کے موقعہ منافقین کے لیے اتریں تھیں
    ان منافقوں نے بطور طعنہ زنی کے کہا تھا کہ لیجئے کیا آنکھیں پھٹ گئیں ہیں اب یہ چلے ہیں کہ رومیوں کے قلعے اور ان کے محلات کو فتح کریں بھلا اس عقلمندی اور دور بینی کو تو دیکھئے یعنی عربوں کی آپس کی لڑائی تک تو ٹھیک تھا مگر اب دیکھو یہ رومیوں سے لڑنے جارہے ہیں
    جب نبی کریم {ص} کو اللہ نے ان کی ان باتوں پر مطلع کر دیا یعنی وحی کی تو یہ صاف منکر ہو گئے اور قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی ہم تو آپس میں ہنسی کھیل کر رہے تھے ۔
    ان میں ایک شخص مخشی بن حمیر تھا جسے اللہ نے معاف فرما دیا جو کہا کرتا تھا کہ اللہ میں تیرے پاک کلام کی ایک آیت سنتا ہوں جس میں میرے گناہ کا ذکر ہے جب بھی سنتا ہوں میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میرا دل کپکپانے لگتا ہے، پروردگار تو میری توبہ قبول فرما اور مجھے اپنی راہ میں شہید کر اور اس طرح کہ نہ کوئی مجھے غسل دے نہ کفن دے نہ دفن کرے۔ یہی ہوا جنگ یمامہ میں یہ شہداء کے ساتھ شہید ہوا تمام شہداء کی لاشیں مل گئیں لیکن ان کی نعش کا پتہ ہی نہ چلا ۔
    واللہ عالم
    سوال یہ ہے کہ جب اللہ نے اپنے نبی کو وحی کے ذریعے ان منافقین کا طرز عمل بتا دیا تھا تو نبی اپک {ص} کا اس پر کیا ردعمل تھا ؟
    ان منافقوں میں سے ایک کا توبہ ، پھر مسلمان ہونا { مسلمان ہونے کے بعد اس نے اپنا نام عبد الرحمان رکھا } اور آخر میں شہادت کی موت نصیب ہونا ، ان سب سے ہمیں کیا نصحیت ہوتی ہے ؟
     
  12. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    7,185
    موصول پسندیدگیاں:
    2,272
    ملک کا جھنڈا:
    اور پھر سورۃ الحزاب کی آیت 57
    " بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا "
    اس آیت کریمہ سے علامہ ابن تیمیہ استدلال کرتے ہوے لکھتے ہیں : ان المسلم يقتل اذا سب من غير استتابة وان اظهر التوبة بعد اخذه کما هو مذهب الجمهور.
    ترجمہ : کوئی بھی مسلمان (جو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی وگستاخی کرے گا) اسے توبہ کا موقع دیئے بغیر قتل کر دیا جائے ۔ اگر چہ وہ گرفتاری کے بعد توبہ کرلے یہی مذہب جمہور ہے ۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 3: 635، بيروت، لبنان: دار ابن حزم)

    مگر اس آیت سے یہ استدلال کیسے قائم ہوا ؟
    کچھ اس میں روشنی ڈالیں
     
  13. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    7,185
    موصول پسندیدگیاں:
    2,272
    ملک کا جھنڈا:
    اور ساتھ میں لکھا ہے
    علامہ ابن تیمیہ مزید بیان کرتے ہیں، نسبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ ثابت ہے، شان رسالتمآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی و بے ادبی کا ارتکاب کرنے والے کی سزا تو بہ کا موقع دیئے بغیر اسے قتل کرنا ہے ۔ حدیث رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی بات سامنے آتی ہے : فانه امر بقتل الذي کذب عليه من غير استتابه.
    ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس شخص کے بارے میں بغیر توبہ کا موقع دیئے قتل کا حکم صادر فرمایا جس نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کیا ۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 3: 638،چشتی)

    ادھر امام ابن تیمیہ کسی حدیث کا بھی حوالہ دے رہے ہیں جو نبی پاک {ص} پر جھوٹ منسوب کرنے والے کے متعلق ہے
    چونکہ ان کی کتاب عربی میں اور اس کا ترجمہ اردو میں کیا گیا ہے ، ہوسکتا ہے امام صاحب نے آگے نبی سے جھوٹی بات منسوب کرنے والے اور نبی کی شان میں گستاخی کرنے والے کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا ہو
    اس کے کیے لازم ہے ان کی کتاب کا مطالعہ کیا جائے
    یقینا انہوں نے اپنی کتاب میں اس حدیث " فانه امر بقتل الذي کذب عليه من غير استتابه. " کا حوالہ بھی لکھا ہوگا
    ویسے میں نے جھوٹی احادیث روایت کرنے والوں کے متعلق کافی احادیث پڑھی ہیں مگر اس قسم کی جس کا اردو ترجمہ یہاں بیان کیا گیا ہے نظر سے نہیں گزری
    تحقیق لازم ہے
    اللہ ہم سب پر رحم فرمائے
     
  14. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
    جنت اور جہنم کا اختیار اللہ رب کریم کے پاس ہے
    رسول اللہ ﷺ کے شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کو معاف کرنے کا اختیار آپ ﷺ کے پاس ہے
    نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو ضرور بالضرور قتل کیا جائے گا
    کوئی کتنی ہی حجتیں پیش کرے
    کسی کو یہ اختیار نہیں کہ گستاخ ِ رسول ﷺ کو معاف کرے
    دنیا کی عدالت میں بھی کسی قاتل کو معاف کرنے کا اختیار عوام میں کسی کے پاس نہیں ہے
    جب تک لواحقین معاف نہ کر دیں لیکن پھر بھی جنت اور جہنم کا فیصلہ اللہ رب کریم کے پاس ہے
    گستاخ رسول اللہ رب کریم سے معافی مانگیں لیکن دنیا میں کسی کو یہ اختیار نہیں کہ اس ملعون کو معاف کر دے
    اور یہ معافی مانگنا ایسا ہے جیسے فرعون نے آخری وقت میں توبہ کرنا شروع کر دیا تھا
    -----------
    تاریخ طبری کے اندر بھی موجود ہے :
    كَتَبَ إِلَيَّ السَّرِيُّ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ سَيْفٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ خَلِيفَةَ، قَالَ: وَقَعَ إِلَى الْمُهَاجِرِ امْرَأَتَانِ مُغَنِّيَتَانِ، غَنَّتْ إِحْدَاهُمَا بشتم رسول الله ص، فَقَطَعَ يَدَهَا، وَنَزَعَ ثنيتَهَا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: بَلَغَنِي الَّذِي سِرْتَ بِهِ فِي الْمَرْأَةِ الَّتِي تَغَنَّتْ وَزَمَرَتْ بِشَتِيمَةِ رَسُولِ الله ص، فَلَوْلا مَا قَدْ سَبَقْتَنِي فِيهَا لأَمَرْتُكَ بِقَتْلِهَا، لأَنَّ حَدَّ الأَنْبِيَاءِ لَيْسَ يُشْبِهُ الْحُدُودَ، فَمَنْ تَعَاطَى ذَلِكَ مِنْ مُسْلِمٍ فَهُوَ مُرْتَدٌّ، أَوْ مُعَاهِدٍ فَهُوَ مُحَارِبٌ غَادِرٌ.
    تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري (3/ 341)
    --------------------
    یہ روایت کنز العمال میں مزید اضافے اور سیف بن عمر التمیمی ( ضعیف فی الحدیث عمدۃ فی التاریخ ) کی کتاب ’’ الردۃ و الفتوح ‘‘ کے حوالے کےساتھ ملی ہے :
    عن الأشياخ أن المهاجر بن أبي أمية وكان أميرا على اليمامة رفع إليه امرأتان مغنيتان غنت إحداهما بشتم النبي صلى الله عليه وسلم فقطع يدها ونزع ثناياها، وغنت الأخرى بهجاء المسلمين فقطع يدها ونزع ثنيتها، فكتب إليه أبو بكر: بلغني التي فعلت بالمرأة التي تغنت بشتم النبي صلى الله عليه وسلم، فلولا ما سبقتني فيها لأمرتك بقتلها، لأن حد الأنبياء ليس يشبه الحدود فمن تعاطى ذلك من مسلم فهو مرتد، أو معاهد فهو محارب غادر، وأما التي تغنت بهجاء المسلمين فإن كانت ممن يدعي الإسلام فأدب دون المثلة وإن كانت ذمية فلعمري لما صفحت عنه من الشرك لأعظم، ولو كنت تقدمت إليك في مثل هذا لبلغت مكروها، وإياك والمثلة في الناس، فإنها مأثم ومنفرة إلا في القصاص. "سيف في الفتوح".
    كنز العمال (5/ 568) برقم 13992
    -------------

    اسی روایت کو علامہ تقی الدین سبکی نے بھی نقل کیا ہے :
    وروى سيف وغيره أن المهاجر بن أبي أمية ـ وكان أميرًا على اليمامة أو نواحيها ۔۔۔ پھر مکمل روایت کرنے کے بعد لکھتے ہیں : فإن قيل: لِمَ لا كتب إليه أبو بكر بقتلها؟ قلنا: لعلها أسلمت، أو لأن المهاجر حدها باجتهاده فلم ير أبو بكر أن يجمع بين حدين
    السيف المسلول على من سب الرسول (ص: 123، 124)
    ---------------

    وَبَلَغ الْمُهَاجِر بن أَبِي أُمَيَّة أَمِير الْيَمَن لأبي بَكْر رَضِي اللَّه عَنْه أَنّ امْرَأة هناك فِي الرّدّة غَنَّت بِسَبّ النبي صلى الله عليه وسلم فَقَطَع يَدَهَا وَنَزَع ثَنِيّتَهَا فبَلَغ أَبَا بَكْر رَضِي اللَّه عَنْه ذَلِك فَقَال لَه لَوْلَا مَا فَعَلْت لأمَرْتُك بِقَتْلِهَا لِأَنّ حَدّ الْأَنْبِيَاء لَيْس يُشْبه الحُدُود
    الشفا بتعريف حقوق المصطفى - وحاشية الشمني (2/ 222)
    -------------------
    یعنی طبقات ابن سعد اور تاریخ ابن عساکر میں اس کی اصل موجود ہے ۔ علامہ علی القاری شرح الشفاء کے اندر اس کی تخریج یونہیں بیان کی ہے (شرح الشفا (2/ 407)
    ------------
    التوضيح لشرح الجامع الصحيح (31/ 545) میں بھی آثار بیان ہوئےہیں ۔
     
  15. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
    صحيح البخاري
    كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ
    کتاب: جہاد کا بیان
    155۔ بَابُ قَتْلِ النَّائِمِ الْمُشْرِكِ:
    155۔ باب: (حربی) مشرک سو رہا ہو تو اس کا مار ڈالنا درست ہے۔

    حدیث نمبر: 3022

    حدثنا علي بن مسلم، حدثنا يحيى بن زكرياء بن ابي زائدة، قال: حدثني ابي، عن ابي إسحاق، عن البراء بن عازب رضي الله عنهما، قال:" بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم رهطا من الانصار إلى ابي رافع ليقتلوه فانطلق رجل منهم فدخل حصنهم، قال: فدخلت في مربط دواب لهم، قال: واغلقوا باب الحصن، ثم إنهم فقدوا حمارا لهم فخرجوا يطلبونه، فخرجت فيمن خرج اريهم انني اطلبه معهم، فوجدوا الحمار فدخلوا ودخلت واغلقوا باب الحصن ليلا، فوضعوا المفاتيح في كوة حيث اراها فلما ناموا اخذت المفاتيح ففتحت باب الحصن، ثم دخلت عليه، فقلت: يا ابا رافع فاجابني فتعمدت الصوت فضربته، فصاح، فخرجت، ثم جئت، ثم رجعت كاني مغيث، فقلت: يا ابا رافع وغيرت صوتي، فقال: ما لك لامك الويل، قلت: ما شانك، قال: لا ادري من دخل علي فضربني، قال: فوضعت سيفي في بطنه، ثم تحاملت عليه حتى قرع العظم، ثم خرجت وانا دهش فاتيت سلما لهم لانزل منه فوقعت، فوثئت رجلي، فخرجت إلى اصحابي، فقلت: ما انا ببارح حتى اسمع الناعية، فما برحت حتى سمعت نعايا ابي رافع تاجر اهل الحجاز، قال: فقمت وما بي قلبة حتى اتينا النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرناه"۔
    ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے چند آدمیوں کو ابورافع (یہودی) کو قتل کرنے کے لیے بھیجا ‘ ان میں سے ایک صاحب (عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ) آگے چل کر اس قلعہ کے اندر داخل ہو گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اندر جانے کے بعد میں اس مکان میں گھس گیا ‘ جہاں ان کے جانور بندھا کرتے تھے۔ بیان کیا کہ انہوں نے قلعہ کا دروازہ بند کر لیا ‘ لیکن اتفاق کہ ان کا ایک گدھا ان کے مویشیوں میں سے گم تھا۔ اس لیے اسے تلاش کرنے کے لیے باہر نکلے۔ (اس خیال سے کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں) نکلنے والوں کے ساتھ میں بھی باہر آ گیا ‘ تاکہ ان پر یہ ظاہر کر دوں کہ میں بھی تلاش کرنے والوں میں سے ہوں ‘ آخر گدھا انہیں مل گیا ‘ اور وہ پھر اندر آ گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ اندر آ گیا اور انہوں نے قلعہ کا دروازہ بند کر لیا ‘ رات کا وقت تھا ‘ کنجیوں کا گچھا انہوں نے ایک ایسے طاق میں رکھا ‘ جسے میں نے دیکھ لیا تھا۔ جب وہ سب سو گئے تو میں نے چابیوں کا گچھا اٹھایا اور دروازہ کھول کر ابورافع کے پاس پہنچا۔ میں نے اسے آواز دی ‘ ابورافع! اس نے جواب دیا اور میں فوراً اس کی آواز کی طرف بڑھا اور اس پر وار کر بیٹھا۔ وہ چیخنے لگا تو میں باہر چلا آیا۔ اس کے پاس سے واپس آ کر میں پھر اس کے کمرہ میں داخل ہوا ‘ گویا میں اس کی مدد کو پہنچا تھا۔ میں نے پھر آواز دی ابورافع! اس مرتبہ میں نے اپنی آواز بدل لی تھی، اس نے کہا کہ کیا کر رہا ہے، تیری ماں برباد ہو۔ میں نے پوچھا، کیا بات پیش آئی؟ وہ کہنے لگا ‘ نہ معلوم کون شخص میرے کمرے میں آ گیا ‘ اور مجھ پر حملہ کر بیٹھا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ اب کی بار میں نے اپنی تلوار اس کے پیٹ پر رکھ کر اتنی زور سے دبائی کہ اس کی ہڈیوں میں اتر گئی ‘ جب میں اس کے کمرہ سے نکلا تو بہت دہشت میں تھا۔ پھر قلعہ کی ایک سیڑھی پر میں آیا تاکہ اس سے نیچے اتر جاؤں مگر میں اس پر سے گر گیا ‘ اور میرے پاؤں میں موچ آ گئی ‘ پھر جب میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو میں نے ان سے کہا کہ میں تو اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک اس کی موت کا اعلان خود نہ سن لوں۔ چنانچہ میں وہیں ٹھہر گیا۔ اور میں نے رونے والی عورتوں سے ابورافع حجاز کے سوداگر کی موت کا اعلان بلند آواز سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں وہاں سے اٹھا ‘ اور مجھے اس وقت کچھ بھی درد معلوم نہیں ہوا ‘ پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بشارت دی۔
     
  16. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
    صحيح البخاري
    كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ
    کتاب: جہاد کا بیان
    158۔ بَابُ الْكَذِبِ فِي الْحَرْبِ:
    158۔ باب: جنگ میں جھوٹ بولنا (مصلحت کیلئے) درست ہے۔

    حدیث نمبر: 3031

    حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" من لكعب بن الاشرف فإنه قد آذى الله ورسوله، قال: محمد بن مسلمة اتحب ان اقتله يا رسول الله، قال: نعم، قال: فاتاه، فقال: إن هذا يعني النبي صلى الله عليه وسلم قد عنانا وسالنا الصدقة، قال: وايضا والله لتملنه، قال: فإنا قد اتبعناه فنكره ان ندعه حتى ننظر إلى ما يصير امره، قال: فلم يزل يكلمه حتى استمكن منه فقتله"۔
    ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا؟ وہ اللہ اور اس کے رسول کو بہت اذیتیں پہنچا چکا ہے۔“ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اجازت بخش دیں گے کہ میں اسے قتل کر آؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں۔“ راوی نے بیان کیا کہ پھر محمد بن مسلمہ کعب یہودی کے پاس آئے اور اس سے کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں تھکا دیا ‘ اور ہم سے آپ زکوٰۃ مانگتے ہیں۔ کعب نے کہا کہ قسم اللہ کی! ابھی کیا ہے ابھی اور مصیبت میں پڑو گے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس پر کہنے لگے کہ بات یہ ہے کہ ہم نے ان کی پیروی کر لی ہے۔ اس لیے اس وقت تک اس کا ساتھ چھوڑنا ہم مناسب بھی نہیں سمجھتے جب تک ان کی دعوت کا کوئی انجام ہمارے سامنے نہ آ جائے۔ غرض محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس سے اسی طرح باتیں کرتے رہے۔ آخر موقع پا کر اسے قتل کر دیا۔
     
  17. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
    صحيح البخاري
    كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ
    کتاب: جہاد کا بیان
    169۔ بَابُ قَتْلِ الأَسِيرِ وَقَتْلِ الصَّبْرِ:
    169۔ باب: قیدی کو قتل کرنا اور کسی کو کھڑا کر کے نشانہ بنانا۔

    حدیث نمبر: 3044

    حدثنا إسماعيل، قال: حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك رضي الله عنه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم: دخل عام الفتح وعلى راسه المغفر فلما نزعه جاء رجل، فقال: إن ابن خطل متعلق باستار الكعبة، فقال:" اقتلوه"۔

    ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب شہر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر خود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے اتار رہے تھے تو ایک شخص (ابوبرزہ اسلمی) نے آ کر آپ کو خبر دی کہ ابن خطل (اسلام کا بدترین دشمن) کعبہ کے پردے سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے وہیں قتل کر دو۔
     
  18. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
    سنن ابي داود
    كِتَاب الْحُدُودِ
    کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
    2۔ باب الْحُكْمِ فِيمَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
    باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم۔

    حدیث نمبر: 4361

    حدثنا عباد بن موسى الختلي، اخبرنا إسماعيل بن جعفر المدني، عن إسرائيل، عن عثمان الشحام، عن عكرمة، قال: حدثنا ابن عباس،" ان اعمى كانت له ام ولد تشتم النبي صلى الله عليه وسلم وتقع فيه فينهاها فلا تنتهي ويزجرها فلا تنزجر، قال: فلما كانت ذات ليلة جعلت تقع في النبي صلى الله عليه وسلم وتشتمه، فاخذ المغول فوضعه في بطنها واتكا عليها فقتلها فوقع بين رجليها طفل، فلطخت ما هناك بالدم فلما اصبح ذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فجمع الناس فقال: انشد الله رجلا فعل ما فعل لي عليه حق إلا قام فقام الاعمى يتخطى الناس وهو يتزلزل حتى قعد بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله انا صاحبها كانت تشتمك وتقع فيك فانهاها فلا تنتهي وازجرها فلا تنزجر ولي منها ابنان مثل اللؤلؤتين وكانت بي رفيقة فلما كان البارحة جعلت تشتمك وتقع فيك فاخذت المغول فوضعته في بطنها واتكات عليها حتى قتلتها فقال النبي صلى الله عليه وسلم: الا اشهدوا ان دمها هدر"۔
    عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ایک نابینا شخص کے پاس ایک ام ولد تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، وہ نابینا اسے روکتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، وہ اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی طرح باز نہیں آتی تھی حسب معمول ایک رات اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو شروع کی، اور آپ کو گالیاں دینے لگی، تو اس (اندھے) نے ایک چھری لی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا کر اسے ہلاک کر دیا، اس کے دونوں پاؤں کے درمیان اس کے پیٹ سے ایک بچہ گرا جس نے اس جگہ کو جہاں وہ تھی خون سے لت پت کر دیا، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حادثہ کا ذکر کیا گیا، آپ نے لوگوں کو اکٹھا کیا، اور فرمایا: ”جس نے یہ کیا ہے میں اس سے اللہ کا اور اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہو جائے“ تو وہ اندھا کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھاندتے اور ہانپتے کانپتے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول میں اس کا مولی ہوں، وہ آپ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، میں اسے منع کرتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، میں اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی صورت سے باز نہیں آتی تھی، میرے اس سے موتیوں کے مانند دو بچے ہیں، وہ مجھے بڑی محبوب تھی تو جب کل رات آئی حسب معمول وہ آپ کو گالیاں دینے لگی، اور ہجو کرنی شروع کی، میں نے ایک چھری اٹھائی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا دیا، وہ اس کے پیٹ میں گھس گئی یہاں تک کہ میں نے اسے مار ہی ڈالا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! سنو تم گواہ رہنا کہ اس کا خون لغو ہے“۔
    20901 - 4361
    تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن النسائی/المحاربة 13 (4075)، (تحفة الأشراف: 6155) (صحیح)» ‏‏‏‏
    ------------------------------------------
    حدیث نمبر: 4362
    حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وعبد الله بن الجراح، عن جرير، عن مغيرة، عن الشعبي، عن علي رضي الله عنه،" ان يهودية كانت تشتم النبي صلى الله عليه وسلم وتقع فيه فخنقها رجل حتى ماتت فابطل رسول الله صلى الله عليه وسلم دمها"۔
    علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا، یہاں تک کہ وہ مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون باطل ٹھہرا دیا۔
    20902 - 4362
    تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10150) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
    ----------------------------------
    حدیث نمبر: 4363
    حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن يونس، عن حميد بن هلال، عن النبي صلى الله عليه وسلم۔ ح وحدثنا هارون بن عبد الله، ونصير بن الفرج، قالا: حدثنا ابو اسامة، عن يزيد بن زريع، عن يونس بن عبيد، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن مطرف، عن ابي برزة، قال:" كنت عند ابي بكر رضي الله عنه فتغيظ على رجل، فاشتد عليه، فقلت: تاذن لي يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم اضرب عنقه، قال: فاذهبت كلمتي غضبه فقام، فدخل فارسل إلي فقال: ما الذي قلت آنفا؟ قلت: ائذن لي اضرب عنقه، قال: اكنت فاعلا لو امرتك؟ قلت: نعم، قال: لا والله ما كانت لبشر بعد محمد صلى الله عليه وسلم"، قال ابو داود: هذا لفظ يزيد، قال احمد بن حنبل: اي لم يكن لابي بكر ان يقتل رجلا إلا بإحدى الثلاث التي قالها رسول الله صلى الله عليه وسلم: كفر بعد إيمان، او زنا بعد إحصان، او قتل نفس بغير نفس، وكان للنبي صلى الله عليه وسلم ان يقتل۔

    ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہ ایک شخص پر ناراض ہوئے اور بہت سخت ناراض ہوئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول کے خلیفہ! مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی گردن مار دوں، میری اس بات نے ان کے غصہ کو ٹھنڈا کر دیا، پھر وہ اٹھے اور اندر چلے گئے، پھر مجھ کو بلایا اور پوچھا: ابھی تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: میں نے کہا تھا: مجھے اجازت دیجئیے، میں اس کی گردن مار دوں، بولے: اگر میں تمہیں حکم دے دیتا تو تم اسے کر گزرتے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، ضرور، بولے: نہیں، قسم اللہ کی! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی آدمی کو بھی یہ مرتبہ حاصل نہیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید کے الفاظ ہیں، احمد بن حنبل کہتے ہیں: یعنی ابوبکر ایسا نہیں کر سکتے تھے کہ وہ کسی شخص کو بغیر ان تین باتوں میں سے کسی ایک کے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے قتل کرنے کا حکم دے دیں: ایک ایمان کے بعد کافر ہو جانا دوسرے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنا، تیسرے بغیر نفس کے کسی نفس کو قتل کرنا، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر سکتے تھے۔
    20903 - 4363
    تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن النسائی/المحاربة 13 (4076)، (تحفة الأشراف: 6621، 18602) (صحیح)» ‏‏‏‏
    -----------------------------
    وضاحت: ۱؎: یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ جو کوئی آپ کو برا بھلا کہے یا گالی دے تو آپ اس کی گردن مارنے کا حکم دیں، دوسرے کسی کو یہ خصوصیت حاصل نہیں۔
     
  19. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
    صحيح البخاري
    كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ
    کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں
    6ؐ۔ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ} شَدِيدَةٍ:
    6ؐ۔ باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الحاقہ میں) فرمایا ”لیکن قوم عاد، تو انہیں ایک نہایت تیز تند آندھی سے ہلاک کیا گیا، جو بڑی غضبناک تھی“۔

    حدیث نمبر: 3344

    قال: وقال ابن كثير، عن سفيان، عن ابيه، عن ابن ابي نعم، عن ابي سعيد رضي الله عنه، قال: بعث علي رضي الله عنه إلى النبي صلى الله عليه وسلم بذهيبة فقسمها بين الاربعة الاقرع بن حابس الحنظلي ثم المجاشعي وعيينة بن بدر الفزاري وزيد الطائي، ثم احد بني نبهان وعلقمة بن علاثة العامري، ثم احد بني كلاب فغضبت قريش والانصار، قالوا: يعطي صناديد اهل نجد ويدعنا، قال: إنما اتالفهم فاقبل رجل غائر العينين مشرف الوجنتين ناتئ الجبين كث اللحية محلوق، فقال: اتق الله يا محمد، فقال: من يطع الله إذا عصيت ايامنني الله على اهل الارض فلا تامنوني فساله رجل قتله احسبه خالد بن الوليد فمنعه فلما ولى، قال: إن من ضئضئ هذا او في عقب هذا قوما يقرءون القرآن لا يجاوز حناجرهم يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية يقتلون اهل الإسلام ويدعون اهل الاوثان لئن انا ادركتهم لاقتلنهم قتل عاد"۔

    (امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) کہ ابن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابن ابی نعیم نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے (یمن سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سونا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا، اقرع بن حابس حنظلی ثم المجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید طائی بنی نبہان والے اور علقمہ بن علاثہ عامری بنو کلاب والے، اس پر قریش اور انصار کے لوگوں کو غصہ آیا اور کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے بڑوں کو تو دیا لیکن ہمیں نظر انداز کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف ان کے دل ملانے کے لیے انہیں دیتا ہوں (کیونکہ ابھی حال ہی میں یہ لوگ مسلمان ہوئے ہیں) پھر ایک شخص سامنے آیا، اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، کلے پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی اٹھی ہوئی، ڈاڑھی بہت گھنی تھی اور سر منڈا ہوا تھا۔ اس نے کہا اے محمد! اللہ سے ڈرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر اس کی فرمانبرداری کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے روئے زمین پر دیانت دار بنا کر بھیجا ہے۔ کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ اس شخص کی اس گستاخی پر ایک صحابی نے اس کے قتل کی اجازت چاہی، میرا خیال ہے کہ یہ خالد بن ولید تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے روک دیا، پھر وہ شخص وہاں سے چلنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی نسل سے یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) اس شخص کے بعد اسی کی قوم سے ایسے لوگ جھوٹے مسلمان پیدا ہوں گے، جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتاہے، یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میری زندگی اس وقت تک باقی رہے تو میں ان کو اس طرح قتل کروں گا جیسے قوم عاد کا (عذاب الٰہی سے) قتل ہوا تھا کہ ایک بھی باقی نہ بچا۔
     
  20. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    7,185
    موصول پسندیدگیاں:
    2,272
    ملک کا جھنڈا:
    ان احادیث سے یہ نتیجہ کیسے اخذ کیا کہ توہین رسالت کرنے والی کی توبہ قبول نہیں کی جاسکتی ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگر آپ کتاب پڑھ لیتیں تو شاید یہ چند حوالے نہ دیتیں
    اس کتاب میں امام ابن تیمیہ نے درجنوں نہیں سینکڑوں احادیث اور قرآنی آیات لکھیں ہیں جو آپ کے مقدمہ کے حق میں ہیں
    مگر میری تسلی نہیں ہورہی
    توہین رسالت کی سزا پر بحث نہیں کر رہا ، بات ہورہی ہے کہ اس کی توبہ قابل قبول نہیں
    اور میں یہ سمجھنا چاہ رہا ہوں کیوں ؟
     
  21. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
    آپ نے 8 احادیث پر شکوک کا اظہار کیا تھا
    تو انہیں احادیث کو حوالوں کے ساتھ شئیر کرنے کی کوشش کی تھی
    -------------
    توبہ کا تعلق خالص اللہ کی ذات سے ہے توبہ آخرت کے لیے ہے

    سب سے پہلے آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ ہوتا کیا ہے
    ترک گناہ کا عہد۔
    قرآن میں یہ لفظ بار بار آیا ہے۔ اور خدا سے بصدق دل گناہوں کی معافی پر زور دیا گیا ہے۔
    امام غزالی کے قول کے مطابق توبہ کی تین شرطیں ہیں۔
    1۔ گناہ کا سرزد ہونا۔
    2۔ گناہ پر نادم ہونا اور پھر
    3۔ یہ عہد کرنا کہ آئندہ ہرگز گناہ نہیں کروں گا۔

    اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔ قریب ہے کہ تمھارا رب تمہارے گناہ دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔(التحریم:8)۔

    خالص توبہ، یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں سے سچے دل سے توبہ کرے،گناہ کرناچھوڑ دے، آئندہ اسے نہ کرنے کا عزم کرے،اور اپنے گناہوں پر نادم ہو
    لیکن اگر جس گناہ کا ارتکاب کیا گیا ہے اس کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو جس کسی کا کوئی حق چھینا ہے
    یاکسی کی حق تلفی کی ہے تو اس کو اس کا حق ادا کرے،اگرکسی پر ظلم کیااور ستایا ہے تو اس سے معافی طلب کرے۔
    پھر اگر جس کی حق تلفی کی ہے یا جس کے ساتھ ظلم کیا ہے وہ معاف کر دے تو امید رکھنی چاہیے کہ اللہ بھی معاف فرما دینگے
    رسول اللہ ﷺ کے شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کو معاف کرنے کا اختیار آپ ﷺ کے پاس ہے
    نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو ضرور بالضرور قتل کیا جائے گا
    کوئی کتنی ہی حجتیں پیش کرے
    کسی کو یہ اختیار نہیں کہ گستاخ ِ رسول ﷺ کو معاف کرے
    دنیا کی عدالت میں جس طرح کسی قاتل کو معاف کرنے کا اختیار مقتول کے ورثاء کے پاس ہے
    جب تک لواحقین معاف نہ کر دیں کوئی اس کی پھانسی روکنے کا اختیار نہیں رکھتا۔
    لیکن توبہ کا تعلق خالص اللہ کی ذات سے ہے توبہ آخرت کے لیے ہے
    جنت اور جہنم کا فیصلہ اللہ رب کریم کے پاس ہے
    گستاخ رسول رتوبہ کرے اور آخرت میں اللہ رب کریم سے معافی مانگیں لیکن دنیا میں کسی کو یہ اختیار نہیں کہ اس ملعون کو معاف کر دے

    قاتل کو اس کے جرم کی سزا دنیا میں پھانسی کی شکل میں دی جاتی ہے
    اور اس کے توبہ کرنے کے بعد اگر اللہ چاہے تو اسے جہنم کے عذاب سے رہائی دے سکتے ہیں
    توبہ اس کی جہنم کے عذاب سے بچنے کے لیے ہے
    دنیا میں اس کی سزا موخر اس صورت ہو سکتی ہے جب وہ مقتول کے ورثاء سے معافی مانگ لے اور وہ معاف کر دیں۔
    توبہ خالق سے معافی جس کی حق تلفی کی گئی ان سے تب جہنم کے عذاب سے رہائی مل سکتی ہے اگر اللہ چاہے
     
  22. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
    يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا أَطيعُوا اللَّهَ وَ أَطيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ في‏ شَيْ‏ءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَ الرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ ذلِكَ خَيْرٌ وَ أَحْسَنُ تَأْويلا ۔ ( سورة النساء : آيت ۵۹ )
    اے ايمان والو ! اللہ كى اطاعت كرو اور رسول اور تم ميں سے جو اولى الامر ہيں ان كى اطاعت كرو ، پھر اگر كسى چيز ميں تم آپس ميں تنازع كا شكار ہو جاتے ہو تو اس مسئلہ كو اللہ اور اس كے رسول كى طرف لوٹا دو ، اگر تم اللہ اور روزِ قيامت پر ايمان ركھتے ہو ، يہ تمہارے ليے بہت بہتر ہے اور بہترين مصلحت كا حامل ہے ۔
    --------------------------------------------
    بسم الله الرحمن الرحيم
    Fatwa ID: 284-264/B=3/1438

    مفسرین میں حضرت ابن عباس ، حضرت مجاہد ، حضرت حسن بصری وغیرہ یہ فرماتے ہیں کہ ”اولوا الأمر“ سے مراد علماء وفقہاء ہیں کیوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب ہیں اور دین و شریعت کا انتظام ان ہی کے ہاتھوں میں ہے اور مفسرین کی ایک جماعت جس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ شامل ہیں یہ حضرات فرماتے ہیں کہ اولوا الامر سے مراد حکام اور اُمراء ہیں کیونکہ ان کے ہاتھ میں نظامِ حکومت ہے، تفسیر ابن کثیر اور تفسیر مظہری میں ہے کہ اولوا الامر دونوں کو شامل ہے، کیوں کہ امر و نہی کانظام دونوں کے ساتھ وابستہ ہے یہی قول زیادہ راجح اور پسندیدہ ہے۔
    واللہ تعالیٰ اعلم
    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند
     
  23. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    7,185
    موصول پسندیدگیاں:
    2,272
    ملک کا جھنڈا:
    اگر کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والے کو لازم سزا دی جائے گی کیونکہ اس کو معاف کرنے کا اختیار اس نبی کے پاس ہے اور چونکہ وہ نبی اب دنیا میں نہیں اور دنیا میں کسی کو یہ اختیار نہیں کہ اس کو معاف کر دے اس لئے شان میں گستاخی کرنے والے کو ضرور بالضرور قتل کیا جائے گا
    تو پھر اللہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہیے ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سورۃ المریم میں آتا ہے
    " اور کہتے ہیں کہ رحمان نے بیٹا بنا لیا " { 88 }
    " البتہ تحقیق تم سخت بات زبان پر لائے ہو " { 89 }
    " کہ جس سے ابھی آسمان پھٹ جائیں اور زمین چر جائے اور پہاڑ ٹکڑے ہو کر گر پڑیں " { 90 }
    " اس لیے کہ انہوں نے رحمان کے لیے بیٹا تجویز کیا " { 91 }
    " اور رحمان کی یہ شان نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے " { 92 }
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ابوموسیٰ اشعری {رض} نے بیان کیا کہ نبی کریم {ص} نے فرمایا ” تکلیف دہ بات سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے، کم بخت مشرک کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اور پھر بھی وہ انہیں معاف کرتا ہے اور انہیں روزی دیتا ہے ۔ “ { صحیح بخاری : باب كِتَاب التَّوْحِيدِ : 7378 }
    ایک عیسائی جو ساری زندگی عیسی {ع} کو اللہ کا بیٹا کہتا رہا ہو اور بعد میں توبہ کرکے مسلمان ہوجائے یا ہونا چاہے تو دنیا والوں کے اختیار میں کیا ہونا چاہیے ؟
    اس کو توبہ کو تسلیم کریں یا اسے ہلاک کرکے اس کی توبہ کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں ؟

    یا مجھے یہ سمجھنا چاہیے کہ کسی نبی کی شان میں گستاخی اللہ کی شاان میں گستاخی سے زیادہ بڑا گناہ ہے کیونکہ نبی کا معاملہ نبی کے سپرد مگر اللہ کا معاملہ دنیا والے اپنے اختیار میں لے سکتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شرک کتنا بڑا گناہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔
    " بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا جو اس کا شریک ٹھہرائے اور شرک کے علاوہ دوسرے گناہ جسے چاہے بخشتا ہے ، اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا ہی گناہ کیا " " سورۃ النساء : 48
    " بے شک اللہ اس کو نہیں بخشتا جو کسی کو اس کا شریک بنائے اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے ، اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا تو وہ بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا " { سورۃ النساء : 116 }
    " اور وہ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور اس شخص کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے حرام کر دیا ہے اور زنا نہیں کرتے، اور جس شخص نے یہ کیا وہ گناہ میں جا پڑا ۔ 68 ۔ قیامت کے دن اسے دگنا عذاب ہوگا اور اس میں ذلیل ہو کر پڑا رہے گا ۔ 69 ۔ مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کیے سو انہیں اللہ برائیوں کی جگہ بھلائیاں بدل دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ 70 ۔ " { سورۃ الفرقان }
    شرک کے متعلق اللہ نبی {ص} کے ذریعے اس امت کو اور محمد {ص} سے پہلے جتنے بھی انبیاء آئے ان کے متعلق فرما رہا ہے
    " اور بے شک آپ کی طرف اور ان کی طرف وحی کیا جا چکا ہے جو آپ سے پہلے ہو گزرے ہیں، کہ اگر تم نے شرک کیا تو ضرور تمہارے عمل برباد ہو جائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گے۔ " { سورۃ الزمر : 65 }
    متعدد احادیث ہیں جن میں اللہ کے رسول {ص} نے شرک کو سب سے بڑا گناہ کہا ہے
    کیا کسی نبی کی شان میں گستاخی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے بڑا گناہ ہے ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  24. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
    محترم جو موضوع چلا رہا تھا اس سے ہٹ کر یہ آپ نے ایک الگ موضوع شروع کر دیا ہے
    اس بات پر تو آپ کا اطمینان ہو چکا کہ گستاخِ رسول کی سزا موت ہے۔

    اب آپ کا سوال ہے کہ " کیا کسی نبی کی شان میں گستاخی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے بڑا گناہ ہے ؟"

    اللہ کے نبی ﷺ نے اللہ اور رسول ﷺ کو نا ماننے یا خالق کے بارے میں مختلف عقائد رکھنے والوں کے قتال کرنے کا حکم نہیں دیا۔ قرآن و حدیث سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اِسلام دینِ اَمن ہے اور یہ معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کو - خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب اور رنگ و نسل سے ہو - جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت عطا کرتا ہے
    حضرت عبد الرحمن بن بیلمانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
    اَنَّ رَجُـلًا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ، فَرُفِعَ إِلَي النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم ، فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَنَا أَحَقُّ مَنْ وَفَي بِذِمَّتِهِ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ۔
    ’’ایک مسلمان نے اہل کتاب میں سے ایک آدمی کو قتل کر دیا، وہ مقدمہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں غیر مسلم شہریوں کے حقوق ادا کرنے کا سب سے زیادہ ذمہ دار ہوں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بطورِ قصاص مسلمان قاتل کو قتل کیے جانے کا) حکم دیا اور اُسے قتل کر دیا گیا۔‘‘
    شافعي، المسند: 343
    أبو نعيم، مسند أبي حنيفة: 104
    شيباني، المبسوط، 4: 488
    بيهقي، السنن الکبري، 8: 30، رقم: 15494

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر پوری نسل انسانی کو عزت، جان اور مال کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
    إِنَّ دِمَاءَ کُمْ وَاَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَيْکُمْ حَرَامٌ، کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا، فِی شَهْرِکُمْ هَذَا، فِی بَلَدِکُمْ هَذَا، إِلَی يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ۔
    ’’بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اِسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اِس دن کی حرمت تمہارے اِس مہینے میں اور تمہارے اِس شہر میں (مقرر کی گئی) ہے۔ یہاں تک کہ تم اپنے رب سے ملو گے۔‘‘
    بخاري، الصحیح، کتاب الحج، باب الخطبة ايام منی، 2: 420، رقم: 1454
    مسلم، الصحيح، کتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات، باب تغليظ تحريم الدماء والاعراض والاموال، 3: 1305، 1304، رقم: 1479

    لہٰذا کسی بھی اِنسان اور کسی بھی مذہب کے پیروکار کو ناحق قتل کرنا، اُس کا مال لوٹنا، اس کی عزت پر حملہ کرنا یا اس کی تذلیل کرنا نہ صرف حرام ہے بلکہ اس کے مرتکب شخص کو الم ناک سزا کی وعید سنائی گئی ہے
    کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی غیر مسلم شہری کو قتل کرے۔

    قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا۔
    ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘
    المائدة، 5: 32

    اس آیہ کریمہ میں نَفْسًا کا لفظ عام ہے، لہٰذا اس کا اطلاق بھی عموم پر ہوگا۔ یعنی کسی ایک انسانی جان کا قتلِ ناحق - خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، کوئی بھی زبان بولتا ہو اور دنیا کے کسی بھی ملک یا علاقے کا رہنے والا ہو - قطعاً حرام ہے اور اس کا گناہ اتنا ہی ہے جیسے پوری انسانیت کو قتل کرنے کا ہے
     
  25. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    21,126
    موصول پسندیدگیاں:
    9,748
    ملک کا جھنڈا:
    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَيْرِ کُنْهِهِ، حَرَّمَ اﷲُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ۔
    ’’جو مسلمان کسی غیر مسلم شہری (معاہد) کو ناحق قتل کرے گا اللہ تعالیٰ اُس پر جنت حرام فرما دے گا۔‘‘
    نسائي، السنن،کتاب القسامة، باب تعظيم قتل المعاهد، 8: 24، رقم: 474
    ابو داود، السنن، کتاب الجهاد، باب في الوفاء للمعاهد وحرمة ذمته، 3: 83، رقم: 2740
    احمد بن حنبل، المسند، 5: 34، 38، رقم: 20393، 20419
    دارمي، السنن، 2: 308، رقم: 2504
    حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 2: 154، رقم: 2431

    ایک روایت کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
    إِذَا قَتَلَ الْمُسْلِمُ النَّصْرَانِيَّ قُتِلَ بِهِ۔
    ’’اگر کسی مسلمان نے عیسائی کو قتل کیا تو وہ مسلمان قصاصاً قتل کیا جائے گا۔‘‘
    شيباني، الحجة، 4: 349

    امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
    دِيَةُ الْيَهُوْدِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ وَالْمَجُوْسِيِّ مِثْلُ دِيَةِ الْحُرِّ الْمُسْلِمِ۔
    ’’(پُرامن) یہودی، عیسائی اور مجوسی کی دیت آزاد مسلمان کی دیت کے برابر ہے۔‘‘
    ابن أبي شيبة، المصنف، 5: 407، رقم: 27448

    غیر مسلموں کے قتل عام اور ایذا رسانی کی ممانعت
    باب اول: غیر مسلموں کے قتلِ عام اور اِیذا رسانی کی ممانعت

    قرآن و حدیث سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اِسلام دینِ اَمن ہے اور یہ معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کو - خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب اور رنگ و نسل سے ہو - جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت عطا کرتا ہے حتیٰ کہ ایک اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم اقلیتوں کی عزت اور جان و مال کی حفاظت کرنا مسلمانوں پر بالعموم اور اسلامی ریاست پر بالخصوص فرض ہے۔

    حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:
    إنما بذلوا الجزية لتکون دماؤهم کدمائنا واموالهم کاموالنا۔
    ’’غیر مسلم شہری ٹیکس اس لئے ادا کرتے ہیں کہ ان کے خون ہمارے خون کی طرح اور ان کے مال ہمارے اَموال کے برابر محفوظ ہو جائیں۔‘‘
    ابن قدامة، المغنی، 9: 181
    زيلعي، نصب الرية، 3: 381

    ایک دفعہ گورنرِ مصر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے ایک غیر مسلم کو ناحق سزا دی۔ خلیفہ وقت امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب اس کی شکایت کی گئی تو اُنہوں نے سرعام گورنر مصر کے بیٹے کو اس غیر مسلم مصری سے سزا دلوائی اور ساتھ ہی وہ تاریخی جملہ ادا فرمایا جو بعض محققین کے نزدیک انقلابِ فرانس کی جد و جہد میں روحِ رواں بنا۔ آپ نے گورنر مصر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے فرمایا:
    مَتَی اسْتَعْبَدْتُمُ النَّاسَ وَقَدْ وَلَدَتْهُمْ أُمَّهَاتُهُمْ أَحْرَارًا؟
    ’’تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام سمجھ لیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟‘‘
    کنز العمال، 2: 455

    آپ کا سوال ہے کہ " کیا کسی نبی کی شان میں گستاخی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے بڑا گناہ ہے ؟"
    امن سے رہنے والے غیر مسلموں کے تحفظ کے بارے میں بہت سارے احکامات ہیں اور جو جنگجو ہیں اور اسلام کو نقصان پہنچاتے ہیں ان کے خلاف جنگ کا بھی حکم ہے۔ اگر میرے آقا ﷺ نے ان کو تحفظ کا حق دیا تو ہم کون ہوتے ہیں ان سے یہ حق چھیننے والے۔
    آپ نے بڑے گناہ اور چھوٹے گناہ کا ذکر کیا ہے تو سن لیجیے اور کلمہ حق لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰهِ‎ پر غور کیجیے
    کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں اللہ کو مانتا ہوں لیکن نبی ﷺ کو نہیں مانتا تو کیا وہ مسلمان رہ سکتا ہے؟ اللہ سے بڑا کوئی نہیں لیکن صرف اللہ پر ایمان لانے سے وہ مسلمان ہو گیا جب تک محمد ﷺ کو رسول اللہ نہ مانے۔
    اللہ ہمیں شیطان کے وسوسوں سے دور رکھے آمین
     
    Last edited: ‏22 ستمبر 2020

اس صفحے کو مشتہر کریں