1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

لال مسجد سے لانگ مارچ تک پاکستانی قوم اور ذہن سازی

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ایم اے رضا, ‏19 جنوری 2013۔

  1. ایم اے رضا
    آف لائن

    ایم اے رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏26 ستمبر 2006
    پیغامات:
    882
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    چند سال قبل ہماری قوم میں لال مسجد کا واقع درپیش ہوا اور ملک پاکستان کے سادہ لوح اور پر امن پاکستانیوں اور امت مسلمہ پر یہ الزام لگایا گیا کہ ان کے پاس تو ہر چیز کا حل گولی اور بندوق ہے۔لال مسجد میں جو کچھ ہوا اس سے درکنار ایک چیز پر فوکس رکھنا چاہتا ہوں کہ اس میں جو بچے موجود تھے انکا کیا قصور تھا اور اس طرح کے واقعات اور حیلے تراش کر لال مسجد کے مشتعل اقدام کو پر امن ثابت کرنے کی بھر پور کوششیں کی جاتی رہیں اور ، قوم کو ثابت کرنے کی بھر بور کوشش کی جاتی رہی کہ انکے پاس اسلحہ نہیں تھا پتھر اور ڈنڈے تھے جس کے ذریعے انقلاب لانے کوشش کی جاتی رہی اور بالاخر خون خرابا ہوا اورکسی نے کہا غلط ہوا کسی نے کہا جزوی انقلاب آیا کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ اور پاکستانی عوام تب سے ڈری ہوئی تھی کہ اکٹھا ہونے کا مطلب فقط توڑ پھوڑ ہے اور انقلاب تو فقط لڑنے کا نام رہ گیا اس واقع کے بعد۔ ہمارا برصغیر کا جو خطہ ہے اس مین بھی بد قسمتی سے انقلاب کا معنی فقط گولی بندوق خون خرابے کو سمجھ لیا گیا ہےاور قوم کے ذہنوں میں بھی یہی چیز کچھ حد تک موجود تھی اور کچھ حد تک اسے بھڑکانے کی کوشش کی گئی جب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے 23 دسمبر کو پر امن جدو جہد شروع کی تو آپ جناب محترم نے 3 مرتبہ فرمایا میری جدو جہد پر امن رہے گی اول تاآخراور بالاخر 17 جنوری کو 15 ،20 لاکھ یا اس سے بھی زیادہ شرکا کا لانگ مارچ مذاکرات کی کامیابی پر ختم ہوا۔ اس سارے معاملے سے میں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا شکر گزار ہوں اور انکو مبارک باد پیش کرتا ہوں جو انہوں نے دو اہم کام کئے پہلا: یہ کہ انہوں نے برصغیر کے اندر انقلاب کے لفظ کے معنی خون خرابہ گولی خنجر اور تلوار بازی سے تبدیل کر کے پر امن،پراعتدال جدوجہد رکھا اور اسکے میکینزم میں اول تا آخر مذاکرات پر منتج کیا جانے بھر پور کوشش اور کاوش شامل کی ، جو کے اسوہ رسول اور اسوہ حسینی ہے آقا ص نے صلح حدیبیہ کافروں سے کیا اور حضرت حسین نے بھی آخری حد تک مذاکرات کی کوشش کی جو کہ ناکام ہوئی۔دوسرا: ڈاکٹر طاہر القادری نے اس بھولی بھالی قوم کو جسے ہر کوئی چند آئیتیں، حدیثیں سنا کے اور واقعات کے اقتباسات کو تبدیل کر کے مشتعل کروا لیتا تھا اور اس قوم کے جذبات کو ہائی جیک کر لیتا تھا خواہ وہ عالم دین ہو یا کوئی سیکولر لیڈر اس بھولی بھالی قوم اور سادہ لوح قوم کوپر امن رہنے کا وہ سبق دیا پڑھایا اور سکھایا جو صدیوں یاد رکھا جائے گا اور جو بچے اس لانگ مارچ میں شریک تھے مائیں انہیں لوری کے طور پے سنایا کریں گی کہ اے میرے بچے
    تو اگر زندگی کو خوش اسلوبی سے طے کر رہا ہے،
    تو اگر آج ہنس رہا،
    کھیل رہا ہے،
    یا وطن کی ترقی اور اپنے مستقبل کی خاطر پڑھ رہا ہے تو یہ سب ڈاکٹر طاہر القادری کی زیرک فہمی،ندب،مضبوط اعصاب،عرق ریز مطالعہ اور اسکے اس وعدے کی بدولت ہے جو اس نے 23 دسمبر کو اسی عوام سے کیا تھا کہ میری جدوجہد اول تاآخر پرامن رہےگی، پر امن رہےگی، پرامن رہے گی،
    آخر میں پوری پاکستانی قوم کو گزارش کرتا ہوں کہ ذرا ذرا سی بات پے مشتعل ہونے کی بجائے صبر وتحمل سے کام لینا سیکھیں اور پر امن رہا کریں
    اللہ رسول ہمارا حامی و ناصر ہو
     
  2. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,107
    موصول پسندیدگیاں:
    11,152
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: لال مسجد سے لانگ مارچ تک پاکستانی قوم اور ذہن سازی

    ایم اے رضا بھائی ۔ خوبصورت اور سبق آموز مضمون کے لیے مبارک باد اور شکریہ ۔
    درست بات ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے لانگ مارچ اور دھرنے نے نہ صرف پاکستانی قوم کو ایک پرامن قوم کے طور پر دکھا کر عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بنایا ہے۔ بلکہ دیگر جماعتوں ، گروپوں اور لوگوں کو احتجاج کو نیا مگر خوبصورت ڈھنگ بھی سکھا دیا ہے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں