1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

غذائی بگاڑ،ہارمونز میں خرابی کی بڑی وجہ ۔۔۔ سدرہ سلیم

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏16 فروری 2021۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    7,062
    موصول پسندیدگیاں:
    795
    ملک کا جھنڈا:
    غذائی بگاڑ،ہارمونز میں خرابی کی بڑی وجہ ۔۔۔ سدرہ سلیم

    آج کل لڑکیوں میںPlycystic Ovaries Syndromeکی بیماری عام ہے اور اس کا مطلب ہار مون کی خرابی ہے۔اس کی وجوہات پر نظر ڈالی جائے توسب سے بڑی وجہ غذا ہے۔یہ بیماری ایک غذائی بگاڑاس وجہ سے بھی ہے کیونکہ ہم وہی نظر آتے ہیں جو ہم کھاتے ہیں۔غذا ہی ہمارے خون کا حصہ بنتی ہے اور اسی سے بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔

    ہمارے ہاں لڑکیاں کھانے میں دودھ کا استعمال نہیں کرتیں اور مرغن غذائیں زیادہ استعمال کرتی ہیں۔جس کے بعد ورزش تک کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتیں۔یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد لڑکیوں کا وزن بڑھنے لگتا ہے اور ساتھ ہی کیلشیئم کی کمی بھی واقع ہو جاتی ہے۔اگر آج کل کے حساب سے دیکھیں تو اس ضمن میں میتھی بہترین غذا ہے۔لڑکیوں کو چاہیے کہ میتھی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں کیونکہ ہارمونز کے عدم توازن کی وجہ سے ہی بانجھ پن پیدا ہوتا ہے۔لڑکیوں کو چاہیے کہ میتھی کی سبزی کھا لیں یا پھر اس کا قہوہ بنا کر پی لیں۔

    چاہے کسی بھی قسم کے ہار مونز میں عدم توازن ہو یہاں تک کہ ان کی وجہ سے مخصوص ایام میں بے قاعدگی ہی کیوں نہ ہو ،تو ایسی صورت میں لڑکیوں کو چاہیے کہ بینگن کا استعمال زیادہ کریں یا پھر جامن کے پتوں کا قہوہ بنا کر پئیں۔ہارمونز کے عدم توازن کی وجہ سے بڑھنے والے وزن کو کم کرنے کے لیے جامن کے بیج اور میتھی دانہ پیس کر اور اس کا قہوہ بنا کر پی لیں۔ایسی چیزوں کو جوس کی شکل میں پینے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے،اور اگر ایسا نہ کر سکیں تو پھانک کر پانی بھی پی سکتی ہیں۔اس کے علاوہ غذا کے ساتھ ساتھ چہل قدمی کرنا بھی ضروری ہے۔اگر چہل قدمی تھوڑی تیز رفتاری کے ساتھ کی جائے تو اس سے چربی بھی جلتی ہے۔

    آپ کو چاہیے کہ نظامِ ہضم کو تیز بنانے کے لیے تھوڑا تھوڑا کھا ئیں۔اکثر لڑکیاں شکایت کرتی ہیں کہ میں تو کچھ نہیں کھاتی اس کے باوجود میرے وزن میں اضافہ ہو رہا ہے۔یہ حقیقت بھی ہے کہ وہ واقعی کچھ نہیں کھاتیں لیکن اس نہ کھانے کہ وجہ سے ان میں آئرن کی کمی واقع ہو جاتی ہے جس کے باعث ان کا جگر چربی بنانے لگتا ہے۔لہٰذا کھانا کبھی بھی مت چھوڑیں،اپنی غذا بھر پور لیں ساتھ میں ورزش ضرور کریں۔

    بڑی عمر کی خواتین یعنی چالیس سال کی عمر سے زیادہ کی خواتین کو اکثر پیٹ کے اپھارہ پن کا مسئلہ در پیش رہتا ہے اور یہ خواتین صرف پیٹ کا ہی علاج کرواتی ہیں۔جبکہ انہیں چاہیے کہ وہ ہر چھ ماہ میں ایک مرتبہ اپناpapsmearٹیسٹ لازمی کروائیں۔بیشتر خواتین کو اپھارہ پن کے ساتھ وائٹ ڈسچارج کا مسئلہ بھی در پیش ہوتا ہے ،اور وہ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے گھبراتی ہیں، لیکن ایسا نہ کریں اور ڈاکٹر کو مکمل معلو مات فراہم کریں کیونکہ ہر درد پیٹ کا نہیں ہوتا۔اگر آپ صبح ٹھیک اٹھتی ہیں لیکن دن گزرنے کے ساتھ آپ کا پیٹ غبارے کی طرح پھولنے لگتا ہے اور سفید پانی بھی آ رہا ہے تو آپ کوچاہیے کہ ڈاکٹر کو لازمی آگاہ کریں۔اس کے دیسی علاج کے لیے دیسی کیکر اور مصری ملا کر پیس لیں اور دن میں دو سے تین مرتبہ کھائیں۔جن خواتین کو شوگر ہو وہ مصری کی جگہ میتھی استعمال کریں۔یہ تمام اشیاء ہم وزن ہونی چاہیے۔اس کے علاوہ ایسی خواتین جن کی عمر چالیس سال سے زائد ہو انہیں ان مسائل کے ساتھ بہت زیادہ کمر درد بھی ہوتا ہے وہ اپنا papsmearٹیسٹ لازمی کروائیں۔اس ٹیسٹ سے ایک خاص کینسر کی نشاندہی ہوتی ہے۔لہٰذا ہار مونز کے عدم توازن کو ہر گز نظر انداز نہ کریں اور اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں پرخاص نظر رکھیں ،اور کسی بھی قسم کے مسئلے کی صورت میں ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔


     

اس صفحے کو مشتہر کریں