1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

سگریٹ نوشی 4 لاکھ افراد لقمۃ اجل بنے ۔۔۔۔ عمر گاکھڑی

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏30 مارچ 2021۔

  1. intelligent086
    آن لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    7,065
    موصول پسندیدگیاں:
    795
    ملک کا جھنڈا:
    سگریٹ نوشی 4 لاکھ افراد لقمۃ اجل بنے ۔۔۔۔ عمر گاکھڑی

    سگریٹ نوشی مضر صحت ہے۔ سگریٹ نوشی پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتی ہے۔ یہ اور اس طرح کے کئی اور فقرے ہم روز دیکھتے، سنتے، بولتے اور پڑھتے ہیں لیکن ان کے اتنے عادی ہو چکے ہوتے ہیں کہ ان پہ کان نہیں دھر جاتا۔کبھی یہ فقرہ ہماری کسی حس کو چھو کے نہیں گزرا۔ کیوں! کیونکہ ہم ایسا سننا نہیں چاہتے، دیکھنا، پڑھنا اور بولنا نہیں چاہتے۔ ''پناہ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق 2020ء میں4 لاکھ افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے لقمئہ اجل بنے۔ یہ صرف ایک برس کے اعدادو شمار ہیں۔ حساب لگائیں جب سے سیگریٹ دریافت ہوئی تب سے لے کر آج تک کتنے افراد سیگریٹ نوشی کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے ۔ اگر شرح اموات کا یہی حال رہا تو اندازہ لگا لیجئے کہ مستقبل میں تمباکو نوشی کتنی نقصان دہ ثابت ہونے والی ہے۔
    ذراٹھہرئیے، حال ہی میں امریکا میں ایک ریسرچ سامنے آئی ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ 2050ء تک امریکہ سے تمباکو نوشی کا خاتمہ ہو چکا ہوگا۔ یہ بات حیران کن بھی ہے اور خوش آئند بھی ۔بلوم برگ میں شائع کردہ ایڈم سپیل مین کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر تمباکو نوشی میں کمی کا رجحان برقرار رہتا ہے تو 2050 تک امریکہ، یورپ، آسٹریلیا اور لاطینی امریکہ میں سگریٹ کا استعمال صفر ہو جائے گا۔بلوم برگ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق گزشترہ دو دہائیوں میں تمباکو کی مصنوعات بنانے کی پانچ بڑی کمپنیوں ( BIG TOBACCO ) کے مطابق نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے رجحان میں غیر یقینی 75 فیصد کمی ہوئی ہے۔ سی ڈی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2005 میں مردوں میں سگریٹ نوشی کی شرح 20 فیصد تھی جو کم ہو کر 14 فیصد رہ گئی ہے ، ہر گزرتے سال کے ساتھ ساتھ اس میں متواتر کمی ہو رہی ہے ۔ ''اسی ڈی سی‘‘ کے مطابق تمباکو نوشی سے پھیپھڑوں کے کینسر میں اضافہ ہوا ہے اور یہ خطرہ نمبر ون ہے۔ 9 مارچ کو امریکی احتیاطی خدمات ٹاسک فورس نے کہا کہ تمباکو نوشی کرنے والوں کو 50 سال کی عمر میں پھیپھڑوں کے کینسر کی جانچ پڑتال شروع کر دینی چاہئے جو موجودہ سفارشات کی توسیع ہے۔ 2019 میں سی ڈی سی نے اطلاع دی کہ 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 100 امریکی بالغوں میں سے 14 افراد سگریٹ پیتے ہیں جن کی تعداد 34.1 ملین ہے۔ پاکستان میں سگریٹ نوشوں کی تعداد 1.4 کرور کے لگ بھگ ہے ،جو 143208 ملین سگریٹ سالانہ پی جاتی ہے۔
    بلوم برگ کی رپورٹ کے بعد یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ تمباکو کی صنعت میں یہ تبدیلیاں سگریٹ بنانے والی فیکٹریوں کے لئے سگریٹ کے متبادل میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کریں گی اگر کوئی فیکٹری اس کے متبادل کوئی پراڈکٹ لاتی ہے تو اس میں سرمایہ کاری کے نتائج نتیجہ خیز ہونگے جس سے یقینا ایک نئے شعبے کا قیام اور فروغ عمل میں لایا جا سکتا ہے کیونکہ موجودہ دور میں سگریٹ نوشی ایک رواج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ سپیل مین نے اس جذبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں سگریٹ نوشی کی طرف رجحانات کسی چیز کی تجویز نہیں کرسکتے اس لئے سگریٹ کے متبادلات کی طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ کچھ کمپنیوں نے اپنے چند شعبوں میں سگریٹ نوشی کے متبادلات کو شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ تمباکو کی مصنوعات میں ایک مایہ ناز نام رکھنے والی کمپنی فلپ مورس انٹرنیشنل کارپوریٹڈ، جو مارلبورو اور چیسٹر فیلڈ سگریٹ تیار کرتی ہے نے حالیہ کچھ برس میں اپنا ایک IQOS گرم تمباکو آلہ متعارف کروایا ہے اور وہ اس کی فروخت بڑے پیمانے پہ کر رہی ہے۔ کمپنی کا 25 فیصد محصول غیر منقولہ مصنوعات سے حاصل ہو رہا ہے ۔ اس بات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں سگریٹ کے متبادلات میں سرمایہ کاری کس حد تک منافع بخش ثابت ہوسکتی ہے۔ سپیل مین کے مطابق اگلی نسل کی مصنوعات یعنی سگریٹ کے متبادلات نے کئی مارکیٹیوں میں نیکوٹین کے استعمال میں کمی کر دی ہے اور نیکوٹین کی مصنوعات کی فروخت کو سست روی کا شکار کر دیا ہے۔
    تاہم کچھ ممالک ان متبادل مصنوعات کے فروغ کی طرف اپنا رخ نہیں کر رہے۔یہ بات پریشان کن ہے کہ چین، روس، پاکستان اور بھارت اس طرف توجہ مرکوز نہیں کر رہے، شاید 2050 ء تک ان ممالک میں سگریٹ نوشی کا خاتمہ ممکن نہ ہو سکے ،یہاں شائد سگریٹ نوشی میں معمولی سی کمی ہو۔ تمباکو نوشی میں کمی لانے کے لئے ہمیں بھی امریکہ جیسی پالیسی اپنانا چاہئے ۔ ہم بھی سگریٹ کی متبادل مصنوعات بناکر اپنے لوگوں کو تمباکو کے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں ،تب ہی پاکستان 2050 ء تک سگریٹ نوشی کے خاتمے کے لئے امریکہ اور دوسرے ممالک کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہو سکتا ہے۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں