1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

حمزہ کا نام لینا چالاکی، بلاول بھٹو ابھی سیاست سیکھیں: احسن اقبال

'خبریں' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏4 اپریل 2021۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    7,052
    موصول پسندیدگیاں:
    795
    ملک کا جھنڈا:
    حمزہ کا نام لینا چالاکی، بلاول بھٹو ابھی سیاست سیکھیں: احسن اقبال

    پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ جب گول کرنے کا وقت آیا پیپلز پارٹی نے حکومت سے ہاتھ ملالیا، بی اے پی کو ساتھ ملا کر سینیٹ میں اپوزیشن کا عہدہ لیا گیا، جانتے ہیں کون کون سی چال چلی جارہی ہے؟ نوازشریف اسمبلی میں ہیں نہ کسی عہدے پر،ان کو استعفوں کے ساتھ نتھی کرنا درست نہیں، حمزہ کا نام لینا چالاکی، بلاول بھٹو پارٹی چیئرمین ضرور ہیں لیکن ابھی سیاست سیکھیں۔

    دنیا نیوز کے پروگرام ’اختلافی نوٹ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما نے کہا کہ پی ڈی ایم کو قائم کرنے کا مقصد بہت واضح تھا کہ ملک کا نظام ٹھیک کرنا ہے، اس کے لیے ملکر جدوجہد کرنا ہو گی، کیونکہ اس حکومت کی حیثیت کچھ بھی نہیں کیونکہ یہ دھاندلی سے جیت کر آئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی طرف سے تمام مراحل گزارنے کے بعد جب فیصلہ کن وقت آیا تو بدقسمتی سے پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت سے ہاتھ ملا لیا، ہم نے سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کو پوری طرح سپورٹ کیا، جس سے وہ کامیاب ہوئے، چیئر مین کے انتخاب پر بھی یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا گیا۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ چیئر مین سینیٹ کے الیکش میں جو سات ووٹ مسترد ہوئے ہیں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لوگ ہیں۔ اس میں ہمارا کسی قسم کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اس بات پر صدمہ ہوا کہ ہماری مشاورت کے بغیر پیپلز پارٹی نے یکطرفہ طور پر حکمران جماعت کے ساتھ مل کر قائد حزب اختلاف حاصل کر لیا۔ پورے پاکستان جانتا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) پارٹی کس نے بنائی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ باپ پارٹی کس سے پوچھ کر فیصلہ کرتی ہے سب جانتے ہیں، اگر پیپلز پارٹی نے بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ اتفاق کیا ہے تو اس سے ہمارے ذہنوں میں بہت شبے پیدا ہو گئے ہیں، اسی وجہ سے پیپلز پارٹی سے وضاحت مانگ رہے ہیں۔

    سابق وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سپیکر صاحب کے معاملے پر ہماری موقف واضح ہے، چاہتے ہیں اپوزیشن اتحاد کے اندر تمام فیصلے اس اتحاد میں کیے جائیں نہ کہ فردو واحد کے طور پر کیے جائیں۔ اس وقت ششدر ہیں کہ کون سے ایسے حالات ہیں کہ پیپلز پارٹی نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے بجائے اپنے فیصلے شروع کرنے پر مجبور کیا۔

    ان کاکہنا تھا کہ اس وقت نظام اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ لانگ مارچ کے بعد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی تمام جماعتیں مستعفی ہو جاتی تو یہ نظام ریت کے قلعہ کی طرح گر جانا تھا۔ لیکن پیپلز پارٹی نے فیصلے بدل لیے۔ جبکہ نو جماعتیں استعفوں کےحق میں تھیں۔

    خصوصی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف کے بیٹے اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کا نام لیکر بلاول بہت چالاکی کر رہے ہیں، ابھی انہیں سیاسی سیکھنا چاہیے۔ اگر پی پی چیئر مین سمجھتے ہیں کہ وہ مسلم لیگ ن کے اندر تقسیم پیدا کر لیں گے تو ابھی اتنا ان کی عمر نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس اتنا کوئی تجربہ ہے۔

    پنجاب میں تبدیلی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صوبے میں اپوزیشن کے پاس 160 سیٹیں ہیں۔ پیپلز پارٹی کی صوبے میں محض 6 سیٹیں ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی والے ایسے تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے پنجاب میں حکومت اور عدم اعتماد کا کھیل ان کے پاس ہے۔ اگر موقع ایٓا تو مسلم لیگ ن عدم اعتماد کے لیے سب سے آگے آئے گی۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن صرف مریم نواز کا نام نہیں ہے۔ اس میں قائد مسلم لیگ ن بھی ہیں، شہباز شریف بھی ہیں، شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر سینئر لوگ بھی موجود ہیں۔ ہم سب سیاسی تجربہ بلاول بھٹو کی عمر سے زیادہ ہے۔ مسلم لیگ ن میں کوئی دو دھڑے نہیں ہیں۔ بلاول بھٹو کے فیصلے سے بد اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ ایسے لگ رہا ہے جیسے آپ کوئی شطرنج لگانے کی چال چل رہے ہیں۔

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اتحاد بنانے کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں، بتانا چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی اے پی سی میں پی ڈی ایم بنی۔ پی ڈی ایم گول حاصل کرنے کے قریب پہنچی تو پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد کے پاس کھڑی ہو گئی۔


     

اس صفحے کو مشتہر کریں