1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

جون 2020ء کا پٹرول بحران ذخیرہ اندوزی کا نتیجہ تھا،انکوائری کمیشن رپورٹ

'خبریں' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏21 اپریل 2021۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    7,052
    موصول پسندیدگیاں:
    795
    ملک کا جھنڈا:
    جون 2020ء کا پٹرول بحران ذخیرہ اندوزی کا نتیجہ تھا،انکوائری کمیشن رپورٹ

    ے ذخیرہ اندوزی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے پٹرولیم ڈویژن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے۔

    تفصیل کے مطابق جون 2020ء میں آئے پیٹرول بحران پر قائم انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوگرا اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل رہا، پیٹرول بحران مصنوعی تھا۔

    انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں اوگرا کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے تحلیل کرنے جبکہ سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن، ڈی جی آئل اور عمران ابڑو کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

    رپورٹ میں ہوشربا انکشاف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 20 روز تک تیل ذخیرہ نہ کرنے کی مجرمانہ غفلت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کمپنیوں سے 20 روز تک تیل ذخیرہ نہ کروانا اوگرا کی ناکامی ہے۔

    کمیشن کی رپورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین 15 کی بجائے ماہانہ بنیادوں پر کرنے، پیٹرولیم ڈویژن میں مانیٹرنگ سیل قائم کرنے، کمپنیوں سے ذخیرہ سے متعلق ڈیٹا حاصل کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے عمران ابڑو اور ان کا سٹاف افسران بالا کے حکم پر عملدرآمد کرتے رہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ذخیرہ اندوزی میں ملوث رہیں۔

    کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پیٹرول بحران کی ساری ذمہ داری اوگرا، پیٹرولیم ڈویژن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ذخیرہ اندوزی سے ملک میں پیٹرول بحران پیدا ہوا، عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کے موقع کو بحران میں تبدیل کیا گیا۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر قیمتیں کم ہونے پر درآمد پر پابندی لگا دی گئی، ہر غیر قانونی کام کو معمول کے کام کے طور پر لیا گیا۔ گذشتہ دہائی میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی پیٹرول پمپس قائم کئے گئے لیکن اوگرا ان کو روکنے میں ناکام رہا۔

     

اس صفحے کو مشتہر کریں