1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

بڑوں کی 8 عادات سے بچے پریشان ۔۔۔۔ ڈاکٹر سعدیہ اقبال

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏10 فروری 2021۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    7,047
    موصول پسندیدگیاں:
    795
    ملک کا جھنڈا:
    بڑوں کی 8 عادات سے بچے پریشان ۔۔۔۔ ڈاکٹر سعدیہ اقبال

    یوں تو بچے ہر لمحہ اپنے ارد گرد موجود بڑوں سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہی رہتے ہیں لیکن والدین اہل خانہ کی سات عادات بچوں میں اینگزائٹی یا ذہنی دبائو کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ بچپن میں ان سات عادات کا سامنا کر نے والے بچے بڑے ہو کر دوسرے بچوں کی بہ نسبت زیادہ ذہنی دبائو یا گھبراہٹ کا زیادہ مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں ٹھہرائو اور استحکام میں کمی رونما ہو سکتی ہے۔بچے اپنے والد اور والدہ کی ایک ایک بات پر غور کرتے ہیں ،جب رو رہے ہوں تب بھی۔ کسی بھی وقت ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کر کے دیکھ سکتے ہیں ،ان کے ردعمل سے پرپتہ چل جائے گا کہ ان کی آپ پر کس قدر نظر ہوتی ہے۔کیا وہ اپنے والد یا والدہ کی بات یا کام کو کو دہرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں؟ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا لیکن شائدہاں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں سکھا رہے ہیں،لیکن وہ خود ہی ہم سے بہت کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔حتیٰ کہ اس وقت بھی جب ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی ہم پر نظر نہیں ہے۔کیونکہ وہ کمزور قسم کے تھکے ہوئے سامع ہرگز نہیں ویتے،وہ اپنی چستی سے ہر شے کو محسوس کرتے ہیں۔

    ''مونٹیفور سکول آف ہیلتھ پروگرام‘‘ کے ڈاکٹر زبیر خان کا کہنا ہے کہ '' اپنے ماحول کی ہر چیز کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اس جستجو میں وہ ہماری ایک ایک ادا کو کاپی کرتے ہیں،خواہ وہ ان کی سماعت سے گزرے یاوہ کسی بھی حس کے ذریعے محسوس کریں،بچے نہایت ہی اچھے نقال ہوتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ وہ اپنے والدین کو ہر وقت اچھی باتیں کرتے ہوئے نہیں دیکھتے، جب ہم بہترین کام کر رہے ہوتے ہیں تب وہ کم سیکھتے ہیں۔لہٰذابدقسمتی سے ہم خود اپنے بچوں کو بری باتیں بھی سکھاتے رہتے ہیں جیسا کہ معمولی باتوں پر بھڑک جانا،تند و تیز لہجے میں بولنا۔اگر کوئی والد اگر یہ سمجھ رہا ہے کہ اس کی تلخ بات بچہ نہیں سیکھ رہا تو وہ غلطی پر ہے۔یہ ناگزیر ہے، وہ لازمی پک کرے گا‘‘۔
    ماہرین نفسیات کی تحقیقات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ''والد بچے کے لئے اچھا رول ماڈل بن کر اسے کہاں سے کہاں پہنچا سکتا ہے،افق کی بلندیوں پر۔جیسا کہ ایڈیسن نے اپنے بیٹے کا دل توڑنے کی بجائے اسے بہترین بچہ قرار دیا ، اور وہ سمجھدار ماں ہی اسے افق کی بلندیوں پر لے گئی۔یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ایڈیسن سکول زمانہ طالب علمی میں کمزور تھا، استاد کی نظروں میں۔ایک روز پرنسپل نے ماں کے نام خط لکھا کہ آپ کا بیٹا سکول کے قابل نہیں کہیں او رداخل کرائیں،اسے لے جائیں۔ ماں نے خط پڑھا ایڈیسن نے پوچھا ماں کیالکھا ہے؟۔ ماں نے کہا ''بیٹا !پرنسپل صاحب کہتے ہیں کہ یہ اسکول بیٹے کے قابل نہیں دوسرے سکول میں داخل کرائیں ‘‘۔اس ماں نے ثابت کر دیا کہ اسکول ایڈیسن کے قابل نہ تھا۔والدین اتنا کچھ کرسکتے ہیں۔ایڈیسن کو ماں کی یہ شاندار بات کبھی نہیں بھولی وہی کہتا ہے کہ ''میری ماں ہی میری کنگ میکر ہے‘‘۔لہٰذاآپ بھی کسی کنگ میکر کا انتظار مت کیجئے،ہر ماں اور ہر والد کے اندر ایک کنگ میکر چھپا ہوا ہے اسے استعمال کیجئے۔
    والدین کا آپس میں کم باتیں کرنا
    بظاہر اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بچے کے سامنے اس کے والد اور والدہ آپس میں اپنے خیالات کا تبادلہ نہیں کرتے تو وہ بھی یہ عمل نہیں سیکھتا، اس میں اپنی باتیں چھپانے اور کم بولنے کی عادت ودیعت کر جاتی ہے۔وہ بھی کھل کر اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر پاتا۔جب بچے خود کو ایکسپریس کرنا سیکھیں گے ہی نہیں تو وہ صحت مندانہ اندازمیں اپنی بات کیسے کسی کو بتا سکیں گے؟یہ عادت ان کو غم زدہ کر سکتی ہے یعنی وہ اپنا غم کسی سے شیئر کرنے کی بجائے ا ندر ہی اندر کڑھتے رہیں گے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ اگر آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ کی شریک حیات کو کوئی پریشانی ہے تو آپ ان کی مشکل کو حل کیجئے۔
    غصے کو طاقت بنایئے
    ماہر نفسیات چولے کارمائیکل نے اپنی کتاب ''نروس انرجی: اینگزائٹی کو اپنی طاقت بنائیے‘‘ میں لکھا ہے کہ '' پریشانی ،اینگزائٹی ، دبائو یا غصے میں ہر کوئی آ سکتا ہے لیکن آپ اسے اپنی طاقت بنا سکتے ہیں۔ مثال کے طوراگرکسی کا بیٹافرش پر کھلونے مار مار کرشور کر رہا ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ اسے اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دے۔یہ اچھی بات نہیں۔کیونکہ اس عمل سے پہلے آپ کے اندر جو ابال آتا رہا وہ بچے نے نہیں دیکھا، اسے صرف کھلونا کو باہر پھینکنے کا عمل نظر آیااسی سے اس نے سیکھا۔آپ جب غصے میں آ رہے ہوں تو اس سے پہلے بچے کے ساتھ اپنی باتیں شیئر کیجئے اور اسے آرام سے منع کیجئے۔
    قسمیں کھانا
    چائلڈ سائیکولوجسٹ ڈاکٹر ایمی نسمران (Amy Nasamran) کا کہنا ہے کہ ''بچوں کے سامنے بار بار قسمیں کھانا اچھی بات نہیں۔اس سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ جب والد کوئی کسی کو یقین دلانے کیلئے بار بار قسمیں کھاتا ہے تو بچہ سمجھتا ہے کہ شائد لوگ اس کے والد پر اعتبار نہیں کرتے ۔اس سے بچے کا یقین بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔
    اپنی غلطی نہ ماننا
    کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ غلطی کو مان لینے سے طاقت کمزور پڑ جاتی ہے مگر ایسا نہیں ہوتا۔ جب کوئی والد بچے کے سامنے کسی سے باتیں کرتے وقت اپنی غلطی پر ڈٹا رہتا ہے تو سمجھ تو بچہ بھی جاتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے ۔ غلطی کہ ماننا کیوںضروری ہے؟ اسلئے کہ یہ اصلاح کی جانب پہلا قدم ہے۔جب کوئی غلطی نہیں مانتا تو وہ ا پنی اصلاح کے دروازے بند کر دیتا ہے۔اس کا بیٹا بھی یہی کچھ سیکھتا ہے۔ایسا کرنے سے مسلے کو حل کرنے کی صلاحیت میں کمی آ سکتی ہے۔
    ضرورت سے زیادہ تشویش، فکرمندی
    والدین کو بچوں کی بہت زیادہ فکر رہتی ہے ،انہیں بچوں سے پیار ہی اتنا زیادہ ہوتا ہے۔ماہرین کے بقول ''ایک حد تک فکر مندی درست ہوتی ہے، اس سے بچہ یہ سیکھتا ہے کہ وہ والدین کی آنکھ کا تارہ ہے لیکن حد سے زیادہ فکرمندی سے وہ اپنا اعتماد کھو سکتا ہے۔بچوں کو یہ سیکھنا چاہیے کہ وہ ''اپنے معاملات کو آسانی سے حل کر سکتے ہیں اگر آپ ان کی ہر بات کو درست کرنے کی کوشش کریں گے تو عین ممکن ہے کہ وہ خود کسی مسلے سے نمٹنا نہ سیکھ سکیں‘‘۔
    چیزوں کو گھماتے رہنا!
    کچھ افراد پریشانی کے عالم میں مختلف اشیاء کو گھماتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یوں ہر مشکل کا حل جائے گا،اس سے بچے یہ سیکھتے ہیں کہ والد کس قدر پریشان یا مصیبت میں ہے۔بچہ بھی اپنی مشکل بتانے کی بجائے گھر میں اسی طرح کے رویے کا ظہار کرتا ہے۔ والدین یہ سمجھ نہیں سکتے کہ اس کے ساتھ سکول میں کچھ ہوا ہے یا دوستوں نے پریشان کیا ہے۔کیونکہ بچے نے عالم بد حواسی یا پریشانی میں باتوں کو شیئرط کرنے کی بجائے چپ چاپ کسی شے سے کھیلتے دیکھا تھاتو اس نے بھی لاشعوری یاشعوری طور پر وہی کچھ کیا۔اس سلسلے میں اپنے بچوں سے متواتر یہ پوچھتے رہنا چاہیے کہ انہیں کوئی فکر یا پریشانی تو نہیں ہے؟
    فون کا متواتر استعمال
    جب گھر میں آپ کی نظریں ٹیلی فون کی رنگ بدلتی سکرین پر جمی ہوتی ہیں تو اس وقت بچہ بھی آپ کی توجہ کا متلاشی ہوتا ہے۔ آپ کے بیٹے کے وقت کا بڑا حصہ تو ٹیلی فون لے گیا۔وہ یہ سمجھ جاتا ہے کہ آپ اس کی پہلی ترجیح نہیں ہیں یا اس پر آپ کی مکمل توجہ نہیں ہے۔ہو سکتا ہے کہ وہ بھی آپ کی طرف اپنی توجہ میں کمی لے آئے ۔لہٰذا دن بھر میں اپنے بچوں کو فری ٹائم میں وقت دیجئے جب فون کی گھنٹی بچ رہی ہو نہ ہی فائل ہاتھ میں ہو اور نہ ہی آپ کسی کتاب کے اوراق پلٹ رہے ہوں۔وہ وقت صرف اور صرف آپ کے بیٹے یا بیٹی کا ہو۔
    جذبات پر قابو رکھنا
    ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر میں کسی بھی بات پروالدکا جذبات میں آنا فطری عمل بھی ہو سکتا ہے،لیکن یہ بچ کے لئے مفید نہیں،آپ اس کی ذاتی صحت کا خیال رکھتے ہوئے اس کے سامنے جذبات کی شدت اور بول چال میں میانہ روی اختیار کیجئے ۔ جب والد یا والدہ کسی بھی بات پر تیزلہجے میں بات کریں گے تو بچہ بھی ایسا ہی کچھ کر سکتا ہے۔




     

اس صفحے کو مشتہر کریں