1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

بچوں میں احساسِ کمتری کا سبب ’’سختی‘‘

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏26 فروری 2021۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    7,065
    موصول پسندیدگیاں:
    795
    ملک کا جھنڈا:
    بچوں میں احساسِ کمتری کا سبب ’’سختی‘‘
    بچوں کی پرورش میں ذرا سی کوتاہی اور لاپرواہی ان کے مستقبل کو نہ صرف تاریک بلکہ تباہ و برباد کر دیتی ہے۔اس لیے بچوں کی پرورش کے دوران والدین کو ایسا رویہ نہیں اپنانا چاہیے جو ان کے معصوم ذہن کو اُلجھا دے۔بعض والدین ہر بات پر بچوں سے سختی سے پیش آتے ہیں اور انہیں بات بے بات ٹوکتے رہتے ہیں۔ایسے والدین یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید بچے کو سختی سے ہی روکنا یا سمجھانا ہی بہتر ہے۔جبکہ یہ بات سر اسرغلط ہے۔بچوں کو ہر بات پر ٹوکنا نہ صرف انہیں چڑ چڑا اور بد مزاج بنا دیتا ہے بلکہ ان کے مستقبل کے لیے بھی خد شات پیدا کر دیتا ہے۔ایسے والدین جو اپنے بچوں پر بلاوجہ سختی کرتے ہیں ان کے بچے بڑے ہونے کے بعد احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ایسے بچوں میں خود اعتمادی کی کمی ہو جاتی ہے۔بچے کوئی بھی فیصلہ لینے کے قابل نہیں رہتے اور ہر لمحے یہی محسوس کرتے ہیں کہ وہ جو بھی کریں گے وہ غلط ہی ہو گا۔اس لیے ایسے بچے بڑے ہونے پر فیصلہ کرنے کی سکت کھو دیتے ہیں۔ان کی بے اعتمادی اور فیصلہ کرنے کی قوت کا فقدان انہیں ترقی کرنے سے روکنے لگتا ہے۔جبکہ ایسے بچے جن کے والدین اپنے بچوں کو ان کے چھوٹے چھوٹے مشاغل میں نہ صرف مدد فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں سراہتے بھی ہیں وہ بچے معاشرے میں ایک فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔ؔ
    والدین کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ یہ کوشش کریں کہ اُن کا بچہ ماں، باپ سے ہر بات شیئر کر سکے۔یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ اپنے بچوں کے بہترین دوست ہوں گے۔اگر آپ اپنے بچوں کے دوست نہ بن سکے تو پھر وہ اپنی ذاتی باتیں سُنانے اور مشورہ کرنے کے لیے ادھر اُدھر دوست تلاش کریں گے۔اس طرح وہ کئی قسم کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں،کیونکہ ماں باپ سے بڑھ کر بچوں کے لیے کوئی مخلص رشتہ نہیں ہو سکتا۔اس لیے اپنے رشتوں کو انمول بنانے کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنائیے۔
    اپنے بچوں کو اس بات کا بھر پور احساس دلائیں کہ آپ ان سے بہت پیار کرتے ہیں،اور ان کی خواہشات کو پورا کرناچاہتے ہیں ۔اگر ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل کریں گے تو انہیں بڑی خوشی ملے گی۔بعض اوقات آپ اپنے بچوں کو باہر نہیں لے جانا چاہتے اور بچہ باہر سیر پر جانے کے لیے بضد ہو توآپ کو چاہیے کہ بلا وجہ سختی کرنے کی بجائے بچے کی خواہش پوری کر دیں،یا اسے گھر پر کسی ایسی سر گرمی میں مصروف کریں کہ وہ باہر جانے کی ضد چھوڑ دے۔جیسے اس کے ساتھ مل کر کوئی گیم کھیلنا یا کلرنگ کرنا وغیرہ۔یہ بات درست ہے کہ بعض اوقات بچوں کے ساتھ بچہ بننا پڑتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بچے کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے خود کو اس کی جگہ پر رکھ کرسوچیں۔اس سے آپ بچے کی ضروریات کو بہتر طور پر محسوس کر سکیں گی اور آپ کا تعلق اپنے بچوں کے ساتھ مضبوط ہوتا جائے گا۔​
     

اس صفحے کو مشتہر کریں