1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

محفل سماع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر :: زبیراحمد

'تعلیماتِ قرآن و حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از زبیراحمد, ‏21 فروری 2012۔

  1. زبیراحمد
    آف لائن

    زبیراحمد خاصہ خاصان

    شمولیت:
    ‏6 فروری 2012
    پیغامات:
    307
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    ملک کا جھنڈا:
    سماع کی تعریف میں چشتی بزرگوں نے بہت کچھ لکھا ہے جس کے لئے بڑی تفصیل کی ضرورت ہے۔ یہاں میں سماع کے بارے میں چند باتیں اختصار سے عرض کرونگا۔
    سماع کے لغوی معنی ذکر کے ہیں یعنی یاد کرنا ۔ تصوف میں بھی سماع کے یہی معنی ہیں ۔ چونکہ سماع کا مفہوم نفس میں موجود ہوتا ہے جس سے سامع پر حسب استطاعت ایک کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔
    سماع کے کئی درجے مقرر کئے گئے ہیں ۔ ایک یہ کہ سامع کے خیالات و جذبات یکسو ہوکر خدا اور رسول کی طرف رجوع ہوجائیں اور روح میں پاکیزگی پیدا ہوجائے۔ دوسرا اور خاص درجۂ سماع یہ ہے کہ سننے والا ماسوا سے بے خبر ہوجائے اور اللہ تبارک تعالیٰ کے عشق میں گم ہوجائے اور معرفت کے میدان میں پہنچ جائے اصلی سماع یہی ہے۔
    سماع کی بنیاد حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری قدس سرہٗ نے رکھی ہے درست نہیں ، لیکن یہ امر کہ خواجہ غریب نواز نے سماع کو دینی تبلیغ کا ذریعہ بنایا ایک حیران کن حقیقت ہے بلکہ آپ کے اختیار کردہ ذوق سماع نے امت کو ایک طربناک مزاج عطا کردیا ہے۔ اس مزاج نے بلاد عرب کے علاوہ عجمی علاقوں میں اسلام کو جتنا فروغ دیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ خواجہ غریب نواز سے قبل کے دور میں ہم خلفائے بنوامیہ اور خلفائے بنی عباس کے عیش و نشاط کی محفلوں میں نغمہ سماع کا ایک ہنگامہ دیکھتے ہیں ۔ علماء نے کوئی قطعی فتویٰ اس باب میں عدم جواز کا نہیں دیا لیکن طریقت والوں نے اپنے اپنے حلقہ میں جب سماع کو رواج دیا تو بعض فقیہوں نے سماع کو ناجائز قرار دیا ۔ اس دور میں حضرت امام غزالی نے سماع اور نغمہ پر ایک مبسوط بحث فرمائی اور یہ ثابت کیا کہ خوش لحنی اور نغمہ کسی اعتبار سے بھی حرام نہیں ہوسکتا ہے۔ عقلی دلائل کے ساتھ ساتھ انہوں نے حضور اکرم ا کے واقعہ دف سے بھی جواز کا استنباط فرمایا ہے۔
    علامہ ابن عابدین شامی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ :
    علامہ محقق اور مدقق سید محمد آمین افندی شہیر بابن عابدین شامی رحمتہ اللہ علیہ جو فقہ حنفی کے بہت بڑے عالم اور فقیہ گزرے ہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے فتاوای سے بعض منکرین حوالہ دیتے ہیں جس میں علامہ شامی رحمتہ اللہ علیہ نے رقص کو حرام قرار دیا ہے ۔
    یاد رہے انہوں نے جس رقص کو حرام قرار دیا ہے وہ جھوٹے اور جعلی صوفیاء کا رقص ہے یا کہ ایسا رقص جو شہوات نفسانی میں ہیجان پیدا کرے ۔ جبکہ سچے صوفیاء کرام جو معرفت خداوندی سے اسرار اور واصلین ہیں ان کے رقص و وجد کو انہوں نے حرام و منع نہیں فرمایا۔
    علامہ شامی رحمتہ اللہ علیہ اپنی تصنیف مجموعہ رسائل میں وجد و تواجد اور تمایل اور کپڑے پھاڑنے کے بارے پیں لکھتےہیں :
    ’’ علامہ شامی فرماتے ہیں کہ ہم صادق سادات صوفیہ کرام رحمتہ اللہ علیہ کے بارے پیں زبان درازی نہیں کر سکتے اس لئے کہ یہ تمام اخلاق رذیلہ سے مبرا ہیں۔ یہ پاک باطن لوگ ہیں۔ امام طائفتین سیدنا جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے سوال کیا کہ بعض صوفی ایسے ہیں جو تواجد کرتے ہیں۔ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی کے عشق میں انہیں چھوڑ دو کہ خوشحالی کریں اسلئے کے یہ ایک ایسی قوم ہے کہ طریقت نے ان کے دل پھاڑ دئے ہیں اور مصیبتیں برداشت کرتے ہوئے ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہیں اب ان کے حوصلے تنگ ہو گئے ہیں۔ آہ کے ساتھ سانس لیتے ہیں ان پر کوئی حرج نہیں۔ اس حالت کی دائمیت کے لئے اگر تمہیں ان کی حالت حاصل ہو جائے اور انوار و تجلیات کا مزہ حاصل ہو جائے تو ان چیخوں اور نعروں میں تم بھی شامل ہو کر اپنے کپڑے پھاڑ ڈالو ۔ تم ان کو انکے چیخیں مارنے اور کپڑے پھاڑنے میں معزور سمجھو۔
    علامہ مفتی سید احمد طحطاوی حنفی مصری رحمتہ اللہ علیہ :
    جلیل القدر فقہی علامہ مفتی سید احمد طحطاوی حنفی مصری رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ حاشیہ طحطاوی علی الدر المختار میں وجد ، رقص اور سماع ذکر کے بارے میں فرماتے ہیں :

    ’’ فقہاء کرام میں سے بعض فقہاء کرام رقص سے منع نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے خود شہود کی لذت کو پالیا ہے جس وقت سالک پر وجد غلبہ پاتا ہے۔ اور یہ فقہاء کرام اس حدیث تقریری سے استدلال کرتے ہیں کہ جعفر ذوالجناحین کو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : آپؓ کے اخلاق و شکل و شباہت مجھ ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں تو اس خطاب کے سننے سے حضرت جعفرؓ ایک پاؤں پر چلنے لگے اور دوسری روایت میں ہے کہ اس خطاب کی لزت سے رقص اور دوران کرنے لگے اور نبی اکرمﷺ نے انؓ پر انکار نہیں فرمایا ۔ پس ان فقہاء کرامؓ نے اس حدیث کو صوفیہ کرام کے رقص و دوران کے اثبات کیلئے ماخذ استدلال بنایا ہے کیونکہ صوفیہ کرام بھی محافل ذکر اور مجالس سماع میں وجد کی لزت کی وجہ سے ایسا ہی کرتے ہیں ۔فتاوی تاتارخانیہ میں ہے کہ مغلوب الحال سالک کیلئے حرکات اور چیخنا جائز ہے جبکہ اس کی حرکات مرتعش کی طرح غیر اختیاری ہوں ﴿ اور اگر مشابہت بالمجذوبین کی وجہ سے اختیاری حرکات کثیرہ کرتا ہے جو کہ تواجد سے مسمی ہے تو نماز کے اندر ناجائز اور نماز کے باہر جائز ہے کما صرح بہ النابلیسی رحمتہ اللہ علیہ فے الحدیقۃ ﴾ اسی طرح کا فتویٰ علامہ بلقینی رحمتہ اللہ علیہ اور برہان الدین انباسی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی دیا ہے ۔ ‘‘

    ﴿حاشیہ الطحطاوی علی درالمختار ج: ٤ ص: ١٧٦ تا ١٧٧﴾
    امام جلاالدین عبدالرحمٰن سیوطی رحمتہ اللہ علیہ :
    محدث، مفسر ، فقیہ اور ادیب و صوفی حضرت امام جلاالدین سیوطی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ جو کہ چاروں مذاہب میں مقبول ہیں خود شافعی ہیں اپنی کتاب الحاوی للفتاوی میں تصوف کے متعلق باب میں وجد ، رقص ، سماع اور مجالس ذکر ، قیامِ ذکر کے اثبات میں یوں رقمطراز ہیں کہ :

    ’’ مسئلہ : صوفیاء کرام رحمتہ اللہ تعالٰی علیہم کی ایک جماعت جو کہ ذکر کیلئے جمع ہوئے ہوں اور پھر ایک شخص مجلس سے ذکر کرتے ہوئے کھڑا ہو جائے اور انوار الہیہ کے ورود کی وجہ سے یہ حالت اس سالک پر مداومت سے طاری ہو جائے پس کیا یہ کام اس سالک کیلئے جائز ہے یا نہیں ؟ خواہ اختیار کیساتھ اٹھے یا بے اختیار ہو کر کھڑا ہو جائے۔ اور کیا اس سالک کو اس حال سے منع کرنا چاہئے یا نہیں ؟ اور اسے زجر دینا چاہئے یا نہیں ؟

    الجواب : اس سالک پر اس حال میں کوئی اعتراض اور انکار نہیں۔ شیخ الاسلام سراج الدین بلقینی رحمتہ اللہ علیہ سے یہ سوال پوچھا گیا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس سالک پر کوئی اعتراض نہیں۔ اور کسی کو جائز نہیں کہ اس سالک کو اس حال سے منع کرے بلکہ منع کرنے والے کو تعزیر ﴿سزا﴾ دینا لازم ہے۔ علامہ برہان الدین انباسی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اس طرح جواب دیا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ سالک صاحب الحال مغلوب ہے اور اس سے انکار کرنے والا محروم ہے منکر نے تواجد کی لذت حاصل نہیں کی اور عشق حقیقی کی شراب منکر کو نصیب نہیں حتٰی کہ علامہ موصوف نے اپنے جواب کے آخر میں فرمایا ہے کہ : خلاصہ یہ ہے کہ صوفیہ کرام کے حال کو تسلیم کرنے میں سلامتی ہے اسی طرح بعض آئمہ احناف اور مالکیہ نے بھی یہ جواب دیا ہے تمام کے تمام نے اس سوال کا جواب اتفاقی طور پر دیا ہے جس میں کسی مخالفت کی گنجائش تک بھی نہیں ﴿میں کہتا ہوں﴾ کہ کس طرح کھڑے ہو کر ذکر سے منع کیا جائے گا ؟

    حلانکہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ : ﴿ عاقل لوگ وہ ہیں جو کھڑے ہو کر ذکر کرتے ہیں اور بیٹھنے ، لیٹنے میں بھی اللہ تعالٰی کا ذکر کرتے ہیں ﴾ اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی فرماتی ہیں کہ : رسول اکرم ﷺ تمام اوقات میں اللہ تعالٰی کا ذکر کرتے تھے اسی طرح اگر قیام کیساتھ اس سالک نے رقص دوڑ یا چیخ و پکار وغیرہ ﴿مثلاً کپڑے پھاڑنا ، دوڑنا اور آہ وغیرہ﴾ بھی پیوست کیا تو تب بھی کوئی انکار اور اعتراض ان پر نہیں کیونکہ یہ حالت شہود اور مواجید کی لذت کی وجہ سے سالکین پر طاری ہوتی ہے اور حدیث شریف میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا رقص نبی اکرم ﷺ کے سامنے ثابت ہے جب کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے مخاطب ہو کہ فرمایا کہ آپ اخلاق اور شکل و شباہت میں مجھ سے مشابہ ہیں ، پس اس خطاب کی لذت کی وجہ سے ان پر رقص طاری ہو گیا اور نبی اکرم ﷺ نے ان پر کوئی انکار ظاہر نہیں فرمایا۔ پس یہ حدیث تقریری صوفیہ کرام کے رقص اور وجد و تواجد میں اصل اور دلیل ہے کیونکہ حقیقی صوفیہ کرام پر بھی یہ حالات مواجید کی لذت کی وجہ سے طاری ہوتے ہیں۔ اسی طرح مجالس ذکر اور محافل سماع میں قیام اور رقص بھی جائز اور ائمہ کبار سے ثابت ہیں جن میں شیخ الاسلام عزیز الدین بن عبدالسلام کا نام مبارک سر فہرست ہے۔۔۔ ‘‘

    ﴿ الحاوی للفتاوی ج: ٢ ص: ٢٢٤ ﴾
    حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ :
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ صوفیاء کے وجد کو ثابت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

    ’’ بعض صوفیاء عظام پر جب خوف الٰہی غالب آجاتا ہے تو وہ رونے لگتے ہیں ۔ اور ان کے اعضاء حرکت کرتے ہیں جیساکہ :
    حضور پاکﷺ جب رات کو نماز پڑھتے تو آپ ﷺ کے سینے مبارک سے ہانڈی کے جوش مارنے کی آواز آتی۔ ‘‘

    ﴿حجتہ اللہ البالغہ ج: ٢ ص: ٩٩﴾
    موسیقی
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو حبشیوں نے سرکار کی آمد کی خوشی میں نیزہ بازی کا کھیل کھیلا‘‘۔ (ابوداؤد)
    ’’حبشی، رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے وجد و رقص (بھنگڑا) کرتے تھے اور اپنی زبان میں کچھ کہتے تھے۔ پوچھا کیا کہتے تھے؟ کہا : یہ کہتے تھے محمد (اللہ) کے نیک بندہ ہیں‘‘۔
    (علامہ عینی، عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ج 6۔ ص 270 )
    موسیقی کے ساتھ نغمے گانے کے حکم کے بارے میں فقہاء کی آرا ء مختلف ہیں جو حرام اور مباح کے درمیان ہیں۔ جنہوں نے اس کی اجازت دی ہے انہوں نے حسن کلام کی موجودگی اور نسواں سے ہم کلامی اور فضولیات سے پاک ہونے کی شرط لگائی ہے۔
    موسیقی کے ساتھ نغمے اور گانوں کے بارے میں فقہا کی آراء مختلف ہیں جو جائز اور ناجائز ہونے کے درمیان ہیں۔ ناجائز ہونے کی آرا ء زیادہ ہیں۔ تحقیق کار علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ گانے کے بارے میں جتنی بھی احادیث وارد ہوئی ہیں وہ یا تو صحیح نہیں ہیں اور جو صحیح ہیں ان سے استدلال صحیح طور پر نہیں کیا گیا۔ یعنی اُن سے صحیح مفہوم اخذ نہیں کیا گیا۔ یا پھر موسیقی کو حرام یا ناجائز قرار دینے والی کوئی قرآنی آیات نہیں ہیں۔
    ان بیانات سے واضح ہوا کہ موسیقی کے ساتھ گانے بجانے کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے اور جس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہو توکوئی شخص کسی ایک مفتی کے قول کو لیتا ہے اور دوسرا شخص کسی دوسرے مفتی کے قول کوقبول کرتا ہے۔اور اس میں جس کسی کی رائے پسند آئے اسے قبول کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ نغمے گانے کے مسئلہ میں انتہائی ضروری بات یہ ہے کہ یہ آداب اسلامی اور اس کی تعلیمات کے خلاف نہ ہوں۔ مثلاً کسی نغمے میں شراب کی تعریف کی جائے، اس کے پینے پلانے کی طرف رغبت دی جائے، تو ایسا گانا پیش کرنا اور اس کا سننا دونوں حرام ہے۔
    ۔واللہ اعلم.
    تحریر:زبیراحمد
     

اس صفحے کو مشتہر کریں