احسان دانش ایک شاعر گزرے ہیں ، انھیں مزدور شاعر بھی کہا جاتا ہے کہ ساری زندگی محنت مزدوری کرکے گزر بسر کی ۔ انکی سوانح ہے جہان دانش ۔ اسمیں سے ایک واقعہ یاد آیا ، آپ حضرات بھی پڑھئے ۔ لکھتے ہیں : متحدہ ہندوستان کے شہر دہلی میں ایک جیب کترا شام کو جب اپنے گرو کے پاس پہنچا تو گرو نے پوچھا کہ کیا کما کے لائے ہو ؟ جیب کترے نے کہا کہ گرو جی ! آج کافی لمبا ھاتھ مارا تھا ۔ ایک گورے کی جیب کاٹی تھی اور اسکا بٹوہ نوٹوں سے بھرا ہوا تھا ۔ لیکن میں نے اسکا بٹوہ واپس کردیا ۔ گرو نے غصے میں پوچھا : کیوں واپس کیا ؟ چیلے نے کہا : گروجی ! میں بٹوہ لیکے بھاگنے لگا تھا کہ مجھے خیال آیا یہ گورا عیسٰی علیہ السلام کا ماننے والا ہے تو کل قیامت کے دن کہیں عیسٰی علیہ السلام میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ طعنہ نہ دے دیں کہ آپکے امتی نے میرے امتی کی جیب کاٹ لی ۔ بس اسی خیال کے آتے ہی میں نے اس گورے کا بٹوہ واپس کردیا ۔ گرو یہ سن کے رونے لگا اور کہا : میرے بچے تم نے بہت اچھا کام کیا اور اس چیلے کو دس روپے اپنی جیب سے دیئے ۔ جس زمانے کے مجرم ایسے تھے اس زمانے کے محرم کیسے ہونگے ، اور جس زمانے کے محرم میرے آپ جیسے لوگ ہیں ، اس زمانے کے مجرم .......... ؟؟؟ اللہ کی پناہ ۔
جواب: مجرم اور محرم مجھے اعتراض ہے کہ قرآن میں تمام واقعات میں کیہں بھی مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیا گیا۔ ہر بات بہت سیدھے طریقے سے بیان کی گئی اور بار بار یہ باور کروایا گیا کہ ہم کھول کھول کر ہر بات بیان کرتے ہیں تاکہ تم جان سکو۔ مگر پند و نصیحت کیلئے ایسے واقعات گھڑنے جس میں بنیادی برائی (جیب کترنے) پہ کوئی ممانعت نہیں ظاہر کی گئی۔ جبکہ اسلام میں کسی کو بھی دوسرے کے مال پہ ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں۔ ڈاکہ ڈالنے والا اور جس پہ ڈاکہ ڈالا جائے ان کا مزہب اسلام کی بحث نہیں۔ ایسے واقعات یا کہانیاں جو قرآن کی تعلیمات سے متصادم ہوں ہمیں ان سے احتراز برتنا چاہیے۔۔۔۔۔۔
جواب: مجرم اور محرم بہت فکر انگیز اور گہری بات شئیر کی آپ نے صدیقی بھائی بہت عمدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خوش رہیں
جواب: مجرم اور محرم غوری بھائی ! آقا صلاۃ السلام کے زمانے میں بھی پند و نصیحت کے لیے قصے اور کہانیاںبیان کی جاتی تھی ، اور خاص طور پر اسرائیلیات کے قصے تو عام تھے ، آقا صلاۃ السلام سے جب اس بارے میں پوچھا گیا ۔ اللہ کمی بیشی معاف فرمائے ۔ تو اپ نے فرمایا کہ نہ تم ان کی تصدیق کرو اور نہ تردید ۔ اس لیے پند و نصیحت کے لیے قصے کہانیاں بیان کرنا کچھ اتنا برا بھی نہیں مگر ان پر من و عن یقین نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس میں موجود اصلاح کے پہلو پر نظر رکھنی چاہیے ۔ یہ میرا نکتہ نظر ہے جس سے اختلاف کا آپ کو حق ہے ۔