1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ھیلتھ نیوز

'میڈیکل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از صدیقی, ‏22 فروری 2012۔

  1. صدیقی
    آف لائن

    صدیقی مدیر جریدہ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏29 جولائی 2011
    پیغامات:
    3,476
    موصول پسندیدگیاں:
    190
    ملک کا جھنڈا:
    ھیلتھ نیوز

    ھیلتھ نیوز
    طاہرہ اعجاز ڈنگہ

    کیلشیم کا استعمال آنتوں کےکینسر سے بچاتا ہےکی مشیگن یونیورسٹی (Michigan University) امریکاکے پروفیسر ورنی نے انکشاف کیا ہے کہ تحقیق سے ثابت ہوچکا، کیلشیئم کا زیادہ استعمال آنتوں کا سرطان( کینسر) بڑھنے سے روکتا ہے۔واضح رہے کہ اکثر ممالک میںلوگ چربی والی خوراک زیادہ استعمال کرتے ہیں چونکہ اس غذا میںکیلشیم کم ہوتاہے لہٰذا بہت سے لوگ آنتوںکے سرطان میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ خوراک میںریشے( فائبر) کی کمی اور گائے کے گوشت کی زیادتی آنتوں کے سرطان کا خطرہ بڑھاتا ہے۔پھل اور سبزیوں سے ہم ریشہ، وٹامن اور نمکیات حاصل کرتے ہیں۔عام طور پر خوراک میں پھل اور سبزیوں کی زیادہ مقدار ہمیں آنتوں کے کینسر سے بچاتی ہے۔ الکوحل، سگریٹ نوشی سے پرہیز، خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کا استعمال، ہلکی پھلکی ورزش اور گائے کا گوشت کم کھانے سے آنتوں کے سرطان کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔

    معدے کا سرطان اورمدافعتی نظام
    یونیورسٹی آف گوتھن برگ، سویڈن کے طبی ماہرین نے انسانی مدافعتی نظام کے وہ خلیے دریافت کیے ہیں جو معدے کا السر بنانے والے بیکٹیریا (Helicobacter Pylori) کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ یہ جراثیم معدے کا السر پیدا کرکے سرطان چمٹنے کاخطرہ بڑھاتا ہے۔ہیلیکو بیکٹیر پیلوری (Helicobacter Pylori) ایسا جرثومہ ہے جس کی وجہ سے پیدا ہونے والی چھوت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور السر کا سبب بنتی ہے۔ اس چھوت کی نشانیاں ابتدائی مراحل میں ظاہر نہیں ہوتیں۔چنانچہ جب تک اس کی تشخیص ہو، بعض اوقات السر کینسر میںبدل چکا ہوتا ہے۔تاہم ایسا لنڈگرن، گوتھن برگ میںماہرِ حیاتیات کاکہنا ہے کہ مدافعتی نظام میں موجود ایک قسم کے خلیے جن کا نام نیچرل کِلر سیل (Natural Killer Cells) ہے، معدے کا السر پیدا کرنے والے بیکٹیریا کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ یہ خلیے وائرس اور جراثیم سے ہونے والے متاثرہ (Infected) خلیوں کا پتا لگاتے اورانہیں ختم کرتے ہیں۔لنڈگرن کہتی ہیں کہ یہ تحقیق معدے کے سرطان کی تشخیص و علاج کی نئی راہیں کھول سکتی ہے ۔ اس کی وجہ سے اب معدے کے کینسر کو ابتدائی مراحل میں تشخیص کیا جا سکے گا۔

    ہیپاٹائٹس (سی)کی چھوت
    امریکی ہنری فورڈ ہاسپٹل کے ڈاکٹروں نے تحقیق کی ہے کہ ہیپاٹائٹس (سی) کا وائرس گردے کے سرطان کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ڈاکٹروں نے ۰۰۰،۶۷؍ مریضوں کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا اور دیکھا کہ ۲۰۰۸۔۱۹۹۷ کے دوران ہیپاٹائٹس (سی) کے مریضوں میں ۶ئ۰ فیصد افراد کو گردوں کا کینسر ہوا ۔ وہ مریض جن کو ہیپاٹائٹس( سی) نہیں تھا، ان میں سے ۳ئ۰ فیصد گردوں کے کینسر کا شکار ہوئے۔چنانچہ اس تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ ہیپاٹائٹس (سی) کا وائرس نہ صرف جگر کو نقصان پہنچاتا بلکہ یہ بیماری جسم کے دوسرے حصوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

    سانس میں بدبو کیوں اور کیسے؟
    جاپان میں فوکوکا ڈینٹل کالج کے ماہرین نے پہلی بار دریافت کیاہے کہ جو بیکٹیریا معدے کا السر یا کینسر پیدا کرتے ہیں، وہ سانس میں بدبو بھی پیدا کرنے کاسبب ہیں۔ اس جرثومے کا نام ہیلیکو بیکٹر پیلوری (Helicobacter Pylori) ہےانسان کا منہ ۶۰۰؍ سے زائد اقسام کے بیکٹیریا کا گھر ہے۔ ان میں سے کچھ بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔ ہیلیکو بیکٹر پیلوری کے متعلق حالیہ تحقیق ہوئی ہے کہ یہ معدے میں السر اورسرطان پیدا کرتا ہے ۔سانس میں بدبو ہونا (Halitosis) عام بیماری ہے۔ یہ بدبو زیادہ تر مسوڑھوں کی بیماری، گندی زبان، منہ کی اندرونی گندگی یا بری فلنگ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سوزوکی کہتے ہیں کہ یہ بیکٹیریا ایسے مرکبات (Vlatile Compounds) پیدا کرتا ہے جو منہ میں بدبو پیدا کرتے ہیں۔ ان مرکبات میں ہائیڈروجن سلفائیڈ، میتھائل مرسیپٹن (Methyl Mercaptan) اور ڈائی میتھائل سلفائیڈ شامل ہیں۔ ڈاکٹر بیماری معلوم کرنے کے لیے اکثر ان مرکبات کی مقدار ناپتے ہیں۔ معدے اور آنتوں کی بیماریاں اکثر منہ میں بدبو پیدا کرتی ہیں۔ البتہ یہ بیکٹیریا تنہا منہ کی بدبو پیدا نہیں کرتا۔ یہ مسوڑھوں کی بیماری کے ساتھ منسلک ہوتا ہے جو بدبو پیدا کرتی ہے۔

    مٹاپا اور فلو کی ویکسین
    وہ مرد وزن جن کا وزن زیادہ ہو، انھیں فلو سے بچنے کے لیے زیادہ حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا میں یہ تحقیق ہوئی ہے کہ مٹاپا فلو کی ویکسین کے خلاف مدافعتی نظام کمزور کردیتا ہے۔ چنانچہ موٹے افراد متناسب وزن والے افراد کی نسبت زُکام کا زیادہ شکار ہو تے ہیں۔دراصل تحقیق سے پتا چلا کہ ٹی خلیے اور سی۔ڈی۔ بی (T-Cells+CDB) (خون کے سفید خلیوں کی وہ قسم جو قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے) موٹے افراد میں معمول کے مطابق کام نہیں کرتے۔ اس وجہ سے فلو کی ویکسین کا ان پر اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا کہ متناسب وزن والے افراد پر ہوتا ہے۔طبی ماہرین نے ۲۰۰۹ء کے آخر میں فربہ اور متناسب وزن والے افراد میں فلو کی ویکسین کے نتائج دیکھے۔ ثابت ہوا کہ فلو کے خلاف ویکسین کی وجہ سے بننے والے اینٹی باڈی کی سطح موٹے افراد کے خون میں وقت گزرنے کے ساتھ بہت جلد کم ہوگئی۔۵۰؍فیصد فربہ افراد میں ویکسین لگنے کے بعد ۱۲؍مہینوں کے اندر اینٹی باڈی کی سطح ۴؍ گنا کم ہو گئی۔ البتہ صحت مند وزن رکھنے والے لوگوں میں ۲۵؍ فیصد افراد میں ۴؍ گنا اینٹی باڈیز کی سطح کم ہوئی۔امریکی ڈاکٹر میلینڈا بیک (Dr. Malinda Beck) کہتی ہیں کہ انفلوئنزا (زکام) عوامی صحت کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے اور پوری دنیا میں بہت زیادہ افراد اس کی وجہ سے فوت ہوتے ہیں۔ مٹاپے کی شرح جتنی بڑھے گی، فلو سے اموات کی شرح میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوسکتا ہے۔

    بوڑھے لوگوں کو دھوپ کی زیادہ ضرورت
    جدید تحقیق کی رو سے دھوپ میں زیادہ وقت گزرنے سے بڑی عمر کے لوگ دل کی بیماریوں اور ذیابیطس کے خطرے کم کرسکتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ بڑھاپے میں جلد میں ایسی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے جلد میں وٹامن ڈی بنانے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔برطانوی یونیورسٹی آف واروک کے طبی ماہرین نے یہ تحقیق کی ہے کہ وٹامن۔ڈی کی کمی دل کی بیماریوں اور ذیابیطس کے ساتھ منسلک ہے۔واروک میڈیکل سکول کے ڈاکٹر اوسکر فرینکو نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ۲۶۲،۳ افراد میں جن کی عمریں ۵۰ سے ۷۰ سال کے درمیان تھیں، وٹامن ڈی اور دل کی بیماریوں اور ذیابیطس کے درمیان ہونے والے رشتے کا کھوج لگایا۔ نتیجہ یہ دیکھا ۹۴ فیصد لوگوں میں وٹامن ڈی کی کمی تھی اور ۳ئ۴۲ فیصد افراد میں دل کی بیماریاں اور ذیابیطس بھی موجود تھی۔ڈاکٹر فرینکو کہتے ہیں وٹامن ڈی کی کمی کے باعث پوری دنیا میں بہت سی بیماریاں پیدا ہو رہی ہے۔ خاص طور پر بوڑھے لوگوں میں اس کا اثر زیادہ دیکھا گیا۔ بوڑھے لوگوں کے خون میں وٹامن ڈی مختلف وجوہ کے باعث کم ہوتا ہے۔ ان عوامل میں زندگی گزارنے کا طریقہ، رہن سہن اور گھر سے باہر وقت گزارنا شامل ہیں۔ ڈاکٹر فرینکو کہتے ہیں، جب انسان بوڑھا ہو جائے، تو جلد میں وٹامن ڈی بنانے کی کارکردگی میں کمی آجاتی ہے۔ اس لیے بوڑھے لوگوں کو اپنا زیادہ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے۔

    کالے موتیے کا خطرہ
    دنیا میں کئی افراد ہائی بلڈپریشر (فشارِخون) اور ذیابیطس کا شکار ہیں۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف میکیگن کولوگ آئی سینٹر کے طبی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ایسے افراد میں اوپن۔ اینگل۔ گلوکوما (Open Angle Glucoma) یعنی کالا موتیا (OAG) ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ کالا موتیا آنکھ کی ایسی بیماری ہے جس میں آہستہ آہستہ نظر ختم ہوجاتی ہے اور مریض اندھے پن کا شکار ہوسکتا ہے۔یہ پہلے سے ثابت ہے کہ جن مریضوں کو ہائی بلڈپریشر اور شوگر کا مسئلہ ہو، ان میں آنکھ کی بیماری ڈائیبیٹک ریٹینو پیتھی (Diabetic Retinopathy) بھی پائی جاتی ہے۔ یہ وہ حالت ہے جو ریٹینا میں موجود خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ ایسے مریضوں میں اس بیماری کے ساتھ گلوکوما کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔گلوکوما پوری دنیا میں اندھے پن کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کیونکہ اس بیماری کی نشانیاں بظاہر سامنے نہیں آتیں جب تک یہ بیماری بڑھ نہ جائے۔ اس لیے ایسے افراد جنھیں ذیابیطس اور ہائی بلڈپریشر کا مسئلہ ہے یا ان کی فیملی ہسٹری میں گلوکوما کی بیماری پائی جاتی ہے، انھیں آنکھ کا باقاعدگی سے معائنہ کرواتے رہنا چاہیے، تاکہ اس بیماری کا شروع میں ہی علاج ہو جائے۔

    عورتوں پر اسپرین کا اثر کم کیوں؟
    تحقیق ثابت کر چکی ہے کہ اسپرین ان مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے جنھیں ہارٹ اٹیک ہوچکا ہو یا خطرہ ہو لیکن اسپرین کی کون سی قسم زیادہ موزوں ہے، اس کی اب تحقیق کی گئی ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ڈاکٹر سین نارٹ اور اس کے ساتھی سائنسدانوں نے مل کر یہ تحقیق کی ہے کہ اسپرین کی درج ذیل تینوں اقسام میں سے کون سی زیادہ فائدہ مند ہے:(۱) نگلنے والی (۲) چبانے اور نگلنے والی(۳) چبانے والیسائنسدانوں نے نتیجہ دیکھا کہ چبانے والی اسپرین نے زیادہ جلدی اثر کیا۔ چنانچہ ہارٹ اٹیک سے بچنے کے لیے مریض اسے آسانی سے استعمال کرسکتے ہیں۔ایک اور تحقیق کے مطابق یہ دیکھا گیا کہ مردوں کی نسبت عورتوں میں اسپرین کا اثر ۴؍ گنا کم ہے۔ یہ تحقیق میکیگن کالج آف فارمیسی کے فارماسسٹ مائیکل ڈارچ کی ہے۔ اس سے یہ بھی پتا چلا کہ عورتوں میں اسپرین کا اثر کم ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابھی تک اس کی وجہ ٹھیک طرح معلوم نہیں ہو سکی لیکن ہو سکتا ہے کہ عورتوں کے جسم میں پلیٹ لٹس کا سسٹم زیادہ تیز ہو جسے روکنا یا کم کرنا اتنا آسان نہ ہو، اِس وجہ سے اسپرین کا اثر ان پر کم ہوتا ہے۔ چنانچہ اب اس کی وجہ جاننے کے لیے زیادہ تحقیق ہو رہی ہے تاکہ عورتوں میں اسپرین کے اثر کو بہتر بنایا جا سکے
     
  2. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,687
    موصول پسندیدگیاں:
    16,919
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: ھیلتھ نیوز

    بہت خوب صدیقی بھائی باکمال کام کیا ہے آپ نے
     

اس صفحے کو مشتہر کریں