1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

QTV پر ڈاکٹر اسرار کے پروگرام بند

'حالاتِ حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از نوید, ‏18 جون 2008۔

  1. فرخ
    آف لائن

    فرخ یک از خاصان

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2008
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    بہت شکریہ سیف بھائی
    اللہ آپ کو بہترین رحمتوں‌میں رکھے۔ آمین
     
  2. برادر
    آف لائن

    برادر ممبر

    شمولیت:
    ‏21 اپریل 2007
    پیغامات:
    1,227
    موصول پسندیدگیاں:
    78
    السلام علیکم !
    فرخ صاحب آپ کی ان سطور سے مجھے آپ کا اس فورم میں اکاونٹ بنانے اور پھر ہر جگہ " رواداری ، اخوت ، برداشت " کا شور مچا کر ڈاکٹر اسرار احمد صاحب جیسے " عالم دین " کی فاش غلطی پر پردہ ڈالنے کا سبب سمجھ آ گیا۔

    کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے قرآن و حدیث کا علم " سیکھا " کہاں سے ہے ؟؟؟

    شکریہ
     
  3. فرخ
    آف لائن

    فرخ یک از خاصان

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2008
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    وعلیکم السلام
    میرے بارے میں بدظن ہونے کی ضرورت نہیں برادر۔
    اگر آپکو رواداری ، اخوت ، برداشت کی باتیں اچھی نہیں لگتیں تو میں‌صرف اللہ سے آپ کے لیئے دعا ہی کر سکتا ہوں‌کہ وہ آپکو یہ چیزیں عطا فرمائے۔ آمین۔ ورنہ اگر اللہ نے آپ کو یہ چیزیں نہیں دینی، تو میں صرف پیغام پہنچانے کی سنت ادا کر رہا ہوں۔

    رہ گئی بات ڈاکٹر اسرار کے علم کی، تو موجودہ غلطی کو چھوڑ کر یہ بتائیں، کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ انہوں‌نے یہ علم کہاں سے لیا؟ دیکھنا یہ ہے کہ صحیح ہے یا غلط

    اگر غلط ہے تو نشاندہی کریں تاکہ میں اپنے خیالات کی درستگی کر سکوں۔ ورنہ خوامخواہ کسی کے بارے میں بدظن ہونے کی بجائے " رواداری ، اخوت ، برداشت" کو اختیار کریں اور جہاں سے بھی صحیح علم ملے، حاصل کر لیں۔۔۔۔۔۔۔


     
  4. عرفان
    آف لائن

    عرفان ممبر

    شمولیت:
    ‏16 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    443
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    [/quote:el5kjk07]

    مسٹر برادر

    آپ یہ بتانا پسند کریں گے کہ جو تصویر آپ نے اپنے پروفائل میں لگائی ہے اسنے قرآن و حدیث کا علم " سیکھا " کہاں سے ہے ؟؟؟
    اور آپ نے بھی اپنا اکاؤنٹ اسی لئے تو نہیں بنایا کہ ڈاکٹر صاحب کے خلاف محاذ کھولا جاسکے۔
     
  5. آبی ٹوکول
    آف لائن

    آبی ٹوکول ممبر

    شمولیت:
    ‏15 دسمبر 2007
    پیغامات:
    4,163
    موصول پسندیدگیاں:
    50
    ملک کا جھنڈا:
    اسلام علیکم محترم جناب فرخ صاحب آپ کی پہلی رپلائی بہت دنوں پہلے پڑھی تھی تو جواب دینے کا سوچا تھا مگر پھر یہ سوچ کر چھوڑ دیا کہ اب کس کس کے ساتھ سر کھپاؤں لیکن اب کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی وہ پہلی رپلائی تو جگہ جگہ رنگ لارہی ہے اور اس کے برگ و ثمرات تو پھیلتے ہی چلے جارہے ہیں تو سوچا کیوں نہ مستفید ہوا جائے اسی لیے ایک بار پھر اس بحث میں مخل ہورہا ہوں پیشگی معذرت قبول فرمایئے ۔ ۔ ۔ جذاک اللہ
    خیر آپ نے اپنی بحث کو مندرجہ ذیل بنیادی نقاط کے تحت اٹھایا ہے ۔ ۔ ۔
    اول ۔ ۔ ۔
    تو آتے ہیں آپ کے سب سے پہلے نقطے کی جانب لیکن اس طرف آنے سے پہلے ایک سوال ہم بھی پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ جناب ‌آپ نے جو صحابہ کرام کے کردار کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں آخر ان کا مقصد ہی کیا آخر یہ جاننا کیوں اتنا ضروری ہوگیا ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے صحابہ کرام کا بالخصوص کیا کردار تھا؟ اور پھر اسلام قبول کرنے کے بعد ان کا بالعموم کیا کردار رہا ؟
    کیا یہ وہی فکر نہیں ہے کہ جس کی طرف اقبال علیہ رحمہ یہ کہہ کر اشارہ کیا تھاکہ ۔۔
    یہ فاقہ کش جو موت سےڈرتا نہیں زرا
    روح محمدی اس کے بدن سے نکال دو
    گو کہ اقبال کا یہ پیغام بالخصوص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک سے خاص ہے لیکن اس پیغام سے جو ایک عمومی صابطہ ہمیں مل رہا ہے وہ یہ ہے کہ وہ عظیم ہستیاں کہ جن کے تشخص سے کسی بھی نظریہ کی بنیاد وابستہ ہو ۔ ان عظیم ہستیوں کی عظمت ہمیشہ دلوں میں قائم رہنی چاہیے۔ اسی لیے باطل قوتیں(اُس بنیادی نظریئے کو کھرچنے کے لیے) ہمیشہ اسی تگ و دو میں لگی رہتی ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے عامۃالناس کے اذہان سے ان مقتدر ہستیوں کی عظمت کو کھرچ دیا جائے اور اس مقصد کے لیے وہ باطل قوتیں ہمیشہ ان ہستیوں کی بابت ایسے شکوک و شبہات پیدا کرتی رہتی ہیں کہ جنکی وجہ سے لوگوں کے دل ودماغ میں ان مقتدر ہستیوں کی جو عظمت ہے وہ کم ہوسکے اور رفتہ رفتہ بالکل ختم ہوجائے اور یوں پھر اس بنیادی نظریئے کو زیر کرنا بھی آسان ہوجائے ۔ ۔اور ہمیں افسوس ہے کہ خود مسلمان ہی کہلانے والے بعض لوگ انجانے میں اور بعض جان بوجھ کر انکی اس فکر سے متاثر ہوکر انہی قوتوں کے لیے ایجنٹی کا کام کرتے ہیں اور پھر اس قسم کے اعتقادات کی تشہیر کرتے چلے جاتے ہیں کہ جن سے اسلام کا بنیادی نظریہ ادب و حفظ مراتب بھی مجروح ہوتا ہے اور غیروں کے لیے تشفی کا سامان بھی خوب مہیا ہوتا ہے ۔ ۔ میں نے بذات خود بعض علماء کے لٹریچر میں اس قسم کی چیزیں کافی تعداد میں پڑھی ہیں اور طرفہ یہ ہے کہ ان علماء کرام سے ہمارے کالجز اور یونی ورسیٹیز میں تعلیم پانے والا طبقہ خاصی حد تک متاثر ہے ۔
    یہ تو تھی تمہید اب‌آتا ہوں آپ کے بنیادی نقطہ کی طرف آپ نے فرمایا کہ کیا صحابہ معصوم تھے ؟ تو میرے بھائی یہ کسی کا بھی اعتقاد نہیں کہ وہ معصوم تھے ؟ پھر آپ فرماتے ہیں کیا ان سے غلطیوں کا ارتکاب ناممکن تھا ؟ تو میرے بھائی یہ بھی کوئی نہیں کہتا کہ ان سے غلطیوں کا ارتکاب ناممکن تھا ۔ ۔ تو پھر آپ فرمائیں گے کیا آخر جھگڑا کیا ہے؟
    میرے بھائی جھگڑا یہ ہے کہ صحابہ کرام وہ مقتدر ہستیاں ہیں کہ جنکے بارے میں ہمیشہ لب کشائی کرنے سے پہلے بہت کچھ سوچ سمجھ لینا چاہیے کیونکہ ان کے بارے میں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار فرمودات موجود ہیں اور ان فرمودات کی موجودگی میں بلا سوچے سمجھے بولنے والے کی عاقبت خراب ہونے کا قوی اندیشہ ہے ۔ ۔ کیونکہ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اس بات پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اولیاء اللہ کے سردار ، اہل تقوی کے چیدہ و برگزیدہ ، اہل ایمان کے قدوہ اور مسلمانوں کے اسوہ و نمونہ ہیں ۔ وہ انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے بعد دنیا میں اللہ کے سب سے بہترین بندے ہیں ۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لاۓ ھوۓ علم کو حاصل کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ انھوں نے دین کے دشمنوں سے جہاد بھی کیا ، انھیں اللہ نے تمام انبیاء کے خاتم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دیدار کے شرف سے نوازا اور خوشی و غم کے ہر موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی رفاقت سے شرفیاب فرمایا اور انھوں نے اللہ عز و جل کی راہ میں اپنے اموال اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ اپنے انہی اعمال عالیہ کی بدولت وہ ساری مخلوقات میں ( انبیاء و رسل کے بعد ) برگزیدہ لوگ بن گۓ اور نبی معصوم صلی اللہ علیہ و سلم کی شہادت و گواہی کے ذریعے افضل القرون ( خیر القرون ) بن گۓ ۔ وہ تمام سابقہ و آئندہ اور پہلی و پچھلی امتوں میں سے بہترین لوگ ہیں۔
    یہ وہی تھے جنھوں نے اسلام کے ستون قائم کیئے ، دین کے محلات تعمیر کۓ ، شرک کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں او دین اسلام کا نور اس آباد دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دیا ۔ اسلامی مملکت بہت وسیع و عریض ھو گئی اور زمین پر ایمانی شریعت نافذ ھو گئی ۔ وہ لوگوں میں انتہائی دقیق الفہم اور گہرے علم والے تھے ، ایمان کے بہت ہی زیادہ صادق و سچے اور عمل کے بڑے ہی دھنی اور اچھے تھے ۔ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک پر تربیت پائی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے علمی چشمۂ صافی سے سراب ھوۓ تھے ۔ انھوں نے قرآن کو نازل ھوتے دیکھا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی قیادت میں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات و نگرانی میں اسلام کو نافذ کرنے کا زمانہ پایا تھا ۔ ۔
    مسند احمد میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :
    اللہ تعالی نے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو تمام بندوں کے دلوں میں سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے دل کو سب سے بہترین پایا تو اسے اپنے لۓ منتخب کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنا پیغام رسالت دے کر مبعوث فرمایا ، پھر اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دل کے بعد بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کے دل تمام مخلوق کے دلوں سے بہتر پاۓ تو انھیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لۓ وزراء منتخب فرما دیا جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لاۓ ھوۓ دین کے لۓ جہاد و قتال کرتے تھے ۔
    ( مسند احمد)
    لہذا ہمیں یہ اچھی طرح سوچ سمجھ لینا چاہیے کہ جن کی بابت ہماری زبان کھلنے والی ہے انکی بابت زبان الوہیت اور زبان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا نکلتا ہے؟ اور زبان الوہیت اور زبان رسالت انکا تعارف کیا کہہ کرہم سے کرواتی ہے ملاحظہ ہو ترتیب سے شرف صحابیت پر پہلے چند ارشادات ربانی پھر ارشاردات رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم وتسلیما ۔ ۔ ۔ ۔

    اور جن لوگوں نے سبقت کی ( یعنی سب سے ) پہے (ایمان لاۓ ) مھاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنھوں نے خلوص ( نیکوکاری ) کے ساتھ ان کی پیروی کی ، اللہ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لۓ جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، ( اور وہ ) ان میں ھمیشہ ھمشیہ رہیں گے ، یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔
    ( التوبہ ۔١٠٠)

    دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے :

    ( اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ) جب مومن آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو اللہ ان سے خوش ھو گیا اور جو ( صدق و خلوص ) ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کر لیا اور ان پر تسلی نازل فرمائی اور انھیں جلد فتح عنائت فرمائی اور بہت سی غنیمتیں جو انھوں نے حاصل کیں ۔ اور اللہ غالب حکمت والا ہے ۔ ( الفتح ۔١٨ ، ١٩)

    اور جس سے اللہ راضی ھو جاۓ اس کے لۓ ممکن ہی نہیں کہ اس کی موت کفر پر آۓ کیونکہ اصل اعتبار اسلام پر وفات کا ہے اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

    جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت ( رضوان ) کی تھی ان میں سے کوئي شخص جہنم میں نہیں جاۓ گا ۔ ( ترمذی ، ابوداؤد ، مسنداحمد )
    اور ارشاد ربانی ہے :

    تم بہترین امت ھو جو لوگوں ( کی اصلاح ) کے لۓ نکالے گے ھو ۔ آل عمران ۔١١٠
    اس آیت میں اللہ تعالی نے تمام امتوں پر اس امت اسلامیہ کی خیر و بہتری ثابت فرما دی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لۓ اللہ کی اس شہادت کے مقابلے میں دوسری کوئی چیز نہیں
    آ سکتی ۔ اور ارشاد الہی ہے
    :

    اور ان مفلسین ، تارکین وطن کے لۓ بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گۓ ہیں ( اور ) وہ اللہ کے فضل و خوشنودی کے طلبگار ہیں اور اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مددگار ہیں یہی لوگ سچے ( ایماندار ) ہیں ۔ اور ( ان لوگوں کے کے بھی ) جو مہاجرین سے پہلے ( ہجرت کر کے ) گھر ( مدینہ منورہ ) میں مقیم اور ایمان میں ( مستقل ) رہے ( اور ) جو لوگ ہجرت کر کے ان کے پاس آتے ہیں ، ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ انھیں ملا اسی سے اپنے دل میں کچھ خواہش نہیں پاتے اور انھیں اپنی جانوں سے بھی مقدم رکھتے ہیں خواہ انھیں خود ضرورت ہی ھو اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ فلاح و مراد پانے والے ہیں ۔ (الحشر۔٨ ، ٩ )

    اور ارشاد باری تعالی ہے :

    اس دن اللہ نبی ( صلی اللہ علیہ و سلم ) کو اور جو ان کے ساتھ ایمان لاۓ ہیں ، انھیں رسوا نہیں کرے گا بلکہ ان کا نور ایمان ان کے آگے اور دائیں جانب ( روشنی کرتا ھوا ) چل رہا ھو گا ] ۔

    ( التحریم ۔٨)


    اور ایک مقام پر اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

    محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) ہیں وہ کافروں کے خلاف تو بڑے سخت ہیں لیکن آپس میں بڑے رحم دل ہیں ۔ آپ انھیں دیکھتے ہیں کہ ( اللہ کے آگے ) جھکے ھوۓ سر بسجود ہیں اور اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب و تلاش کر رہے ہیں ( کثرت ) سجود سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ھوۓ ہیں ۔ ( الفتح ۔٢٩)

    فضائل و شرفہ صحابہ : احادیث کی روشنی میں :​

    قرآن کریم کی ان آیات کی طرح ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث بھی فضائل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ناطق ہیں چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

    میری امت کا بہترین طبقہ وہ لوگ ہیں جو کہ میرے زمانے والے ہیں ۔ پھر وہ جو ان کے بعد والے ( تابعین ) ہیں ۔ اور پھر وہ جو ان کے بعد والے ( تبع تابعین ) ہیں
    ۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں کا ذکر فرمایا یا تین کا ] ( صحیح بخاری ) اور بخاری و مسلم میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    :

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ۔۔ ۔
    اے اللہ ! ان تمام انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما دے ] ( صحیح بخاری )


    میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو گالی نہ دو ، تم میں سے اگر کوئی شخص جبل احد کے برابر سونا بھی صدقہ کر دے تو وہ کسی صحابہ کے ایک مد ( مٹھی بھر دانے ) صدقہ کرنے کا اجر تو کیا اس کا آدھا ثواب بھی نہیں پا سکتا ۔ ( بخاری و مسلم )

    نوٹ‌ : - مندرجہ بالا آخری حدیث کے لطیف نقاط پر بڑی طویل گفتگو ہوسکتی ہے مگر اس وقت موقع وقت نہیں ہے کہ ان نقاط کی طرف توجہ دلائی جائے ۔ ۔ ۔۔
    اب درج زیل میں ہم صحابہ کرام کے ان باہمی نزاعی معاملات پر ہم امت کا اجماعی مؤقف بیان کریں گے یاد رہے کہ یہ وہ معاملات ہیں کہ جن کی وجہ سے تاریخ اسلام میں جنگ صفین اور جنگ جمل جیسے واقعات رونما ہوئے اور یہ حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ معاملات صحابہ کرام کے ان انفرادی معاملات(یعنی صحابہ کرام کے شراب کی حرمت سے پہلے کے واقعات) سے کہیں درجہ بڑھ کر اہمیت کے حامل ہیں لیکن قربان جائیں امت کے اجماعی مؤقف پر کہ وہ اس قدر سنگین معاملات میں بھی عظمت صحابہ کے پہلو کو نمایاں رکھتی ہے اور زبان بندی کا حکم صادر کرتی ہے کیونکہ یہ صحابہ وہ ہیں کہ جنھوں اپنے گھر بار اور یہاں تک جانیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر لٹا دیں ، ، ملاحظہ امت کا اجماعی مؤقف ۔ ۔ ۔
    امت کا اجماعی مؤقف ہے کہ مشاجرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
    ( یعنی ان کے باھمی تنازعات ) کے بارے میں سکوت کیا جائے یعنی یہاں دستور زباں بندی کی تمام حدود قیود کو یہاں ملحوظ رکھا جائے کیونکہ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوات و جہاد میں شرکت کی اور فضیلت کے اعتبار سے لوگوں سے گویا سبقت لے گۓ اللہ نے ان کی مغفرت فرما دی اور ان کے لۓ مغفرت طلب کرنےکا حکم فرمایا ہے ۔ اور ان سے محبت کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرنے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک کے ذریعے فرض قرار دیا ہے ۔لھذا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لرزشوں یا کوتاہیوں کی تاڑ و تلاش صرف وہی شخص کرتا ہے جس کا دل دینی اعتبار سے فتنہ میں مبتلا ھو چکا ہے ۔کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی برائیوں کے بارے میں مروی آثار میں سے کچھ تو وہ ہیں جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں اور بعض وہ ہیں جن میں خود لوگوں نے اپنے مخصوص مقاصد و مفادات کے لۓ کمی بیشی کر دی ہے اور انھیں ان کے اصل رخ سے موڑ کر رکھ دیا ھوا ہے اور وہ آثار جو صحیح ہیں ، ان میں جن امور کا تذکرہ ہے ، ان میں وہ معذور (عذر والے ) ہیں کہ انھوں نے اجہتاد کیا اور صحیح و صواب کو پا گۓ ( دوھرا اجر لۓ گۓ ) یا پھر اجتہاد کیا مگر خطا کر کۓ
    ( پھر ایک اجر ان کے ہے ) ۔ ۔ ۔ رہ گئے وہ چند گنے چنے آثار کہ جنکے باعث صحابہ کرام کو باعث نکیر سمجھا جاتا ہے ہمارے نزدیک ایسے تمام آثار تعداد میں اُن آثار سے کہیں کم ہیں کہ جن سے صحابہ کرام کے فضائل و محاسن اور انکی عظمتوں کے بھر بیکراں رواں دواں ہیں۔ لہذا ہمارے نزدیک تو ان کے اولین بیان کردہ مشاجرات میں بھی زباں بندی ہی اصل ہے تو کُجا کہ ہم صحابہ کرام کے انفرادی کرداروں کو کسی بھی بہانے سے زیر بحث لائیں یا ان کا تجزیہ اپنے الفاظ میں پیش کریں آخر ہم ہوتے کون ہیں ؟
    ہم چاہے بڑے سے بڑے علامہ فھامہ ہی کیوں نہ ہوں ۔ آخر یہ قرآن اور یہ سنت جو آج ہم تک پہنچی ہے کہ جس کے ہم داعی بنے پھرتے ہیں یہ انھی نفوس قدسیہ کی امانتوں اور دیانتوں کا ہی تو نتیجہ ہے کہ آج ہمارے پاس قرآن و سنت کے اس علم میں سے تھوڑا بہت علم موجود ہے تو پھر ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اس علم پر فخر کرکے صحابہ کرام کے کرداروں کے بعض پہلوؤں کو اپنی لفظی توجیہات کے زریعے بیان کرنے کی بجائے خود اپنے گریبانوں جھانکیں ۔ ۔ ۔ ۔
    دوم ۔ ۔ ۔ ۔
    اب‌آتا ہوں آپکے دوسرے نقطے کی جانب میرے محترم ہمیں قبول ہے کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے دین اسلام کی بڑی خدمت کی ہے اور بڑا علم پھیلایا ہے لیکن یہ ہرگز اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ وہ جب چاہیں اپنی زبان کو کسی بھی مبارک ہستی کے بارے میں کھولنے سے پہلے سوچا اور سمجھا نہ کریں رہ گئ علم کی بات تو میرے بھائی فقط علم تو لعین الرجیم کے پاس بھی بہت تھا اور اسی بنا پر فرشتوں کی صف اول میں شامل ہوگیا تھا باجود کہ وہ ناری مخلوق تھا لیکن جب اسے اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو وہ اپنی اسی علمی قابلیت پر ناز کرتے ہوئے قیاس فاسدہ سے کام لے بیٹھا اور اکڑ گیا ۔ ۔ ۔ ۔
    اور جب اس سے ذات باری تعالٰی نے پوچھا کہ بتا ؟تجھے کس چیز نے روکا کہ تونے سجدہ نہ کیا جبکہ یہ میرا حکم تھا ؟
    تو پیغمبر کے ساتھ اپنی مثلیت بیان کرتے ہوئے بلکہ مثلیت تو کجا اپنے آپ کو پیغمبر سے افضل قرار دیتے ہوئے کہنے لگا ::انا خیر منہ :: کہ میں اس سے بہتر ہوں اور دلیل کے طور پر قیاس فاسد یہ پیش کیا کہ تونے مجھے آگ اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے ۔ ۔
    تو تب اللہ پاک نے حکم دیا کہ ::فخرج فانک من الصٰغرین ::
    کے نکل جا بیشک تونے صغر کیا ۔ ۔ یہاں صغر صغیر سے ہے جسکا معنٰی چھوٹا ہونے کے یہاں اللہ پاک کی مراد شیطان کے اس نیچ پُنے اور گھٹیا حرکت کی طرف ہے کہ جو اس نے اللہ پاک کے پاک پیغمبر کے ساتھ اپنا موازنہ کی صورت میں کی ۔ ۔ ۔ ۔ آپ نے دیکھا کہ کس طرح اپنے علم کے باوجود ادب نہ ہونے کی وجہ سے شیطان راندہ درگاہ ہوا ۔ ۔ ۔ اور دوسری طرف ادب والوں کا کیا عالم ہے وہ بھی سن لیجیے بخاری میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قضیئے کے حل کے لیے مدینہ کے قریب کسی محلہ میں تشریف لے گئے یہاں تک کے نماز کا وقت ہوگیا صحابہ نے تھوڑے انتظار کے بعد جماعت کروانے کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو آگے مصلٰی امامت پر کھڑاکردیا جماعت کھڑی ہوگئی یہاں کہ بیچ نماز کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور آپ صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے تو صحابہ نے صدیق اکبر کی توجہ کے لیے
    (کہ صدیق اکبر نماز میں ہر طرف سے بے نیاز ہوکر ڈوب کر نماز پڑھا کرتے تھے) ہاتھوں پر ہاتھ مارے جب تالیوں کا شور بلند ہوا تو صدیق اکبر کو خبر ہوئی کہ لازمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاچکے ہیں کہ صحابہ کرام مجھے متوجہ کر رہے ہیں اسی اثنا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اول صف تک پہنچ گئے تو صدیق اکبر نے آپ کو دیکھ کر مصلٰی چھوڑ دیا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرماکر صدیق اکبر کو امامت کرنے کے لیے کہا جس پر صدیق اکبر نے پہلے تو ہاتھ بلند کرکے اللہ پاک کا شکر ادا کیا کہ اللہ کے نبی نے انکی امامت کو روا رکھا اور پھر فورا پیچھے ہت گئے اور پھر بقیہ نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ۔ ۔ مختصر کرتا ہوں کہ جب نماز ختم ہوئی تو پہلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو مسئلہ سمجھایا کہ اگر پھر کبھی ایسی صورتحال ہوجائے تو کیا کرنا ہے پھر اس کے بعد صدیق اکبر کی طرف متوجہ ہوئے
    اور بالکل وہی سوال جو کہ اللہ پاک نے شیطان سے کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر سے کیا کہ اے صدیق تجھے کس چیز نے روکا جبکہ میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ جماعت کرواؤ ۔ ۔ ۔ ۔
    یہاں پر صدیق اکبر نے جو جواب دیا ہے اس رقم کرتے ہوئے میری روح پر وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    قربان جاؤں اے صدیق اکبر تیرے فنا فی الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے پر تیری مزاج آشنائی مدعا رسالت ہونے پر تیرے ادب رسول کی انتہا ء کو چھوتی ہوئی کفر کو لرزہ براندام کردینے والی ایک ایک حرکت پر اور قربان جاؤں تیرے اس تاریخی جملے پر کہ جو تیری زباں سے یوں ادا ہوا کہ ۔ ۔ فداک ابی و امی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو قحافہ کے بیٹے کی کیا مجال کہ یارسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مصلٰی امامت پر کھڑ ہوسکے ۔ ۔ ۔
    اے صدیق تیرے اس جملہ کی صداقت کو میں کس طرح بیان کروں کے میرے پاس میرے لفظوں کی جھولیاں اس معنویت سے یکسر خالی ہیں کہ جو تیرے ادب رسالت میں کشتہ ہونے ہونے پر دال ہے اور میرے پاس میرے الفاظوں میں وہ تاثیر کہاں جو کہ تیرے ادب رسالت کے مفھوم کو بعینہ لفظوں میں ادا کرسکے قربان جاؤں تجھ پر اور تیرے جواب پر اے صدیق کے تو
    قافلہ سالاران عشاق رسول کا سردار ہے ۔ ۔ تیرے اس جواب پاک کی معنوی لطافتوں کو بیان کرنے سے میرا قلم معذور ہے کہ وہ باب کو کہ کسی بھی شخصیت کا عنوان ہوتا ہے کسی بھی شخصیت کی پہچان ہوا کرتا ہے تونے اپنے اُس باپ (حضرت قحافہ رضی اللہ عنہ) کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کمتر کرکے پیش کیا اور ادب رسالت پر اپنے قول و عمل کی مہر رقم کردی
    اور رہتی دنیا تک یہ پیغام چھوڑ دیا کہ اللہ کے پیغمبروں کے ساتھ اپنا تو کیا اپنے بابوں کا بھی موازنہ بصورت مثلیت نہ کیا کرو کہ یہ حد ادب ہے
    ۔ ۔ ۔ ۔
    اب یہاں میں آپ سب سے اس حدیث کی بابت ایک سوال پوچھتا ہوں کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں معلوم تھا کہ صدیق اکبر کیوں پیچھے ہٹ گئے ہیں ؟ تو پھر پوچھا کیوں ؟ حالانکہ آجکل کے دور میں بچہ بچہ اس حقیقت سے واقف ہے کہ جب استاد کلاس میں داخل ہو تو تمام کلاس کیوں اٹھ کھڑی ہوتی ہے بھئی ظاہری بات ادب استاد کے پیش نظر تو کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں معلوم تھا کہ صدیق نے مصلٰی امامت کیوں چھوڑا ہے ؟ ارے نادانو معلوم تھا اور کیوں نہ معلوم ہوگا بے شک معلوم تھا لیکن پھر پوچھا کیوں؟ کیا معاذاللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تعریف سننے کے خواہاں تھے نعوذباللہ من ذالک نہیں نہیں ارے نہیں بلکہ اس لیے پوچھا کہ تاکہ قیامت تک کے آنے والے مسلمانوں کے لیے صدیق اکبر کا عمل ادب رسالت میں کی کسوٹی بن جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔خیر بات بہت دور نکل گئی اور ہم عشق کی گلیوں میں چلے گئے واپس آتے ہیں اپنے عنوان کی طرف اور فرخ بھائی کے اعتراض کی طرف تو میرے بھائی ڈاکٹر اسرار صاحب کی علمی حیثیت اپنی جگہ مگر یہ امر ہمیشہ ملحوظ خاطر رہے کہ بعض بارگاہیں ایسی ہوتی ہیں کہ جنکی جناب میں حروف کا چناؤ کرتے وقت ادنٰی سے ادنٰی چیزوں کا خیال رکھنا بھی انتہائی ضروری ہوتا وگرنہ ساری زندگی کے اعمال بشمول علم سمیت غارت چلے جانے کا قوی اندیشہ موجود رہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔باقی رہا آپکا یہ کہنا ڈاکٹر صاحب کی مذمت کرنا آپکے نزدیک غیبت کے ضمرے میں آتا ہے تو معاف کیجئے گا میرے بھائی کہ ڈاکٹر صاحب نے جو الفاظ اپنے مذکورہ بیان میں استعمال کیئے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ سنگین ہیں کہ ان کے الفاظ کی مزمت کو غیبت قرار دیاجائے اور اگر بالفرض یہ سب کچھ غیبت کے ضمرے میں کسی طریقہ سے آبھی جائے تو ان الفاظ کی سنگینی اپنی جگہ قائم رہتی ہے کیونکہ ان الفاظ سے جس عقیدہ پر زد پڑ رہی اس کی بابت عامۃ المسلیمن کو باخبر کرنا انتہائی ضروری چہ جائیکہ اس سب کو غیبت کہہ کر نظر انداز کردیا جائے ۔ ۔ ۔ میں یہ مانتا ہوں کہ یہاں پر کچھ زیادہ سخت الفاط میری طرفسے بھی دیگر احباب کی طرفسے بھی ڈاکٹر صاحب کے خلاف وارد ہوئے مگران سب کا ایک سبب تو بحث و مباحثہ بنا اور اسکے نتیجے میں ڈاکٹر صاحب کے دفاع پر وہ بے جا تاویلیں بنیں جو کہ ہرگز یہاں روا نہ تھیں اور دوسرا سبب یہ تھا کہ خود ڈاکٹر صاحب کی اپنی ہستی ہرگز ان نفوس قدسیہ سے کسی بھی طرح کی مناسبت تو کیا مماثلت بھی نہیں رکھتی کہ جن کے خلاف ڈاکٹر صاحب نے جانے انجانے میں رکیک الفاظ استعمال کردیئے ہیں اور ابھی تک واپس بھی نہیں لیے ۔ ۔ ۔ ۔
    تو میرے بھائی اصل میں تو آپکو یہ اشعار خود ڈاکٹر صاحب کو سنانے چاہیے تھے کہ ان میں ہمارے سرخ کردہ الفاظ اسی مفھوم کی ترجمانی کررہے ہین جو کہ ہمارا مدعا ہے ۔ ۔ ۔ کہ ہم خطا کار ہیں وہ صحابہ خطا پوش و کریم ہیں ۔ ۔ ۔ اور اگر ہمیں اوج ثریا چاہیے تو پہلے ویسا بننا پڑے گا کہ جیسے وہ صحابہ تھے ۔ ۔ ۔
    اور پھر آپ نے مختلف جگہوں پر ڈاکٹر صاحب کی معذرت کو درج زیل الفاظ میں پیش کیا ہے کہ ۔ ۔

    تو جوابا فقط اتنا عرض ہے کہ اول تو یہ ایسی غلطی نہیں کہ اس پر پردہ ڈالا جاسکے کیونکہ پردہ ان غلطیوں پر ڈالا جاتا ہے یا جانا چاہیے کو کسی بھی ہستی کے ذاتی کردار سے متعلق ہوں اور معاف کیجئے گا ڈاکٹر صاحب نے جو غلطی کی ہے اس کا تعلق ان کردار سے نہیں بلکہ ان کی فکر سے ہےا ور پھر اسکے بعد انکی علمی تحقیق تدقیق سے ہے اور یہ ایسا معاملہ ہے کہ اس پر پردہ پوشی بہت سے لوگوں کے ایمان کو خطرہ میں ڈالنے والی بات ہوجائے گی ۔ ۔
    ہاں پردہ ڈالنا چاہیے تھا اور خود ڈاکٹر صاحب کو ڈالنا چاہیے تھا اور اس روایت کو ترمذی شریف میں پڑھ لینے کے بعد بھی ڈالنا چاہیے تھا کہ وہاں صحابہ کرام کے کردار کی بالعموم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کردار بالخصوص بات ہورہی تھی (باوجود اس کے کہ اس روایت کا درایتا اور روایتا دونوں طریقوں سے شدید ضعف ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے بیان فرمادیا ہے) اور نیز یہ بھی دیکھنا چاہیے تھا کہ میرے سننے والے کون کون ہوسکتے ہیں کس کس سطح کے ہوسکتے ہیں بات نکلے گی تو کہاں کہاں پہنچے گی مگر انھوں نے وہاں اجمالی طور پر یہ کہنے کی بجائے کہ بعض لوگوں نے شراب پی تو یہ آیت اتری پردہ چاک کرتے ہوئے آیت کا پس منظر بھی بتایا اور پھر اس پر اپنے رکیک الفاظ کا جامہ بھی چڑھایا ہائے کاش اس سے پہلے انھوں نے زرا تحقیق کر لی ہوتی کہ میں کونسے الفاظ اور کن کے بارے میں کہنے لگا ہوں ۔ ۔ ۔
    رہ گئی ڈاکٹر صاحب کی معافی کی بات تو میرے بھائی کیوں بار بار ہمیں شرمندہ کرتے ہو کہاں مانگی ہے انھوں نے معافی ؟ اور جو انھوں نے مانگی ہے اسے کسی بھی زبان میں معافی نہیں کہتے(بلکہ عذر گناہ بد تر از گناہ کہتے ہیں) کہ اس مانگنے کے بعد بھی اپنی بات کے ثبوت کے بطور جگہ جگہ اس ترمذی شریف کی روایت کے اصل ماخذات کا زکر کیا جارہا ہے کہ دیکھو فلاں کتاب فلاں تفسیر میں بھی وہ روایت ہے ہم نے کوئی انوکھا کام تو نہیں کردیا اسے پیش کرکے وغیرہ وغیرہ یہاں ایک بات نقطے کی باین کردوں کہ اہل علم پر تو ہرگز پوشیدہ نہ ہوگا کہ کسی روایت کا کسی بھی ماخذ کتاب میں درج ہونا ایک الگ امر ہے اور اس روایت سے کسی مخصوص واقعہ پر استدلال کرتے ہوئے بار بار دیگر کتب کا حوالہ پیش کرنا ایک الگ امر ہے ۔ ۔ اور مناسب معلوم ہوتا کہ یہاں پر اس دھوکا دہی کی طرف بھی اشارہ کردوں کے سادہ لوح عوام جسکو معافی نامہ سمجھ رہی ہے تو میرے بھائیو ابھی تک ڈاکٹر صاحب نے اپنے اس بیان کی بابت صرف یہی فرمایا ہے کہ انکے اس بیان سے جس کسی کی بھی دل آزاری ہوئی ہے اس پر وہ ان سے معذرت خواہ ہیں ۔ ۔ ۔ یعنی اول تو معافی اجمالی طور پر مانگی گئی ہے اور پھر معافی اصل میں دل آزاری پر مانگی گئی ہے جبکہ وہ اصل الفاظ کہ جو دل آزاری کا سبب ہیں ان پر کچھ نہیں کہا گیا کہ ہمارے وہ الفاظ غلط تھے یا شدت جوش خطابت کی وجہ سے ہمارے منہ سے نکل گئے ہم ان سے رجوع کرتے ہیں وغیرہ نہیں بالکل نہیں ان الفاط کا تو کہیں ڈاکٹر صاحب نے نام نشان ہی نہیں بیان کیا اور اس پر طرفہ یہ کہ اس
    مجہول معافی نامے کے بعد بھی انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ ان ماخذ کتب کا بار بار تذکرہ کیا جارہا ہے کہ جن میں وہ (شدید ترین روایت جو کہ کسی طرح بھی قابل استدلال نہیں) وہ روایت موجود ہے ۔ ۔ ۔ اسے آپ لوگ معافی مانگنا کہتے ہیں یہ تو وہی بات ہوئی کہ میں آپکے منہ پر دانستہ تھپڑ رسید کردوں اور اس پر جو آپ کو درد ہو اُس پر میں آپ سے معافی مانگ لوں کہ مجھے معاف کردیں کہ میں نے آپ جناب کو جو تھپڑ رسید کیا اسکے نتیجے میں آپ کو درد ہوا مگر اپنے اس فعل یعنی ناحق تھپڑ رسید کرنے کو برا نہ جانوں بلکہ اسکی توجیحات پیش کرتا پھروں انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ ۔

    ابھی جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
     
  6. ع س ق
    آف لائن

    ع س ق ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2006
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    25
    ڈاکٹر اسرار احمد کے 1987 کے خطاب سے اقتباس

    ڈاکٹر اسرار احمد کے 1987 کے خطاب سے اقتباس

    اگر کوئی حضرت علی کی شخصیت کو داغ دار کر دے تو نتیجہ کہاں گیا؟ لہذا زبان کو بہت سوچ سمجھ کر کھولنا چاہیئے۔ اس جناب میں کوئی گستاخی درحقیقت اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اور جو لوگ بھی یہ ہمت یا جرات کرتے ہیں، میں بار بار یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ میرے نزدیک اہل سنت کے زمرے سے خارج ہیں۔


    اتنے سالوں بعد ڈاکٹر موصوف کا اپنا عمل ان کے اپنے 1987 والے قول کے خلاف کیوں ہو گیا؟

    ان کے اپنے قول کے مطابق کیا اس وقت ان کا ایمان خطرے میں نہیں ہے؟

    کیا صحابہ کرام کے لئے ایسے توہین آمیز لفظ بولنا کسی مسلمان کو زیب دیتا ہے کہ "جن کی گھٹی میں شراب پڑی ہوئی تھی صرف اتنی بات پر تو چھوڑنے والے نہیں تھے۔" استغفر اللہ العظیم

    سیدنا علی (علیہ السلام) کی شان میں گستاخی کے لئے متن اور سند میں شدید اضطراب رکھنے والی ضعیف ترین حدیث کی صحت پر بار بار اصرار کرتے چلے جانے کی بجائے مذکورہ آیت کریمہ کے شان نزول میں وارد ہونے والی 30 معتبر اسناد سے مروی صحیح احادیث پر ایمان لاتے ہوئے ایک دفعہ رک کر اپنے وطیرے کو دیکھیں، شاید کہ نصیحت پکڑیں۔

    [youtube:217q2fvk]http://www.youtube.com/watch?v=CwPpkGKmj_o[/youtube:217q2fvk]​
     
  7. آبی ٹوکول
    آف لائن

    آبی ٹوکول ممبر

    شمولیت:
    ‏15 دسمبر 2007
    پیغامات:
    4,163
    موصول پسندیدگیاں:
    50
    ملک کا جھنڈا:
    جی تو محترم فرخ صاحب سلسلہ کلام ایک بار پھر وہیں سے جوڑتے ہیں کہ جہاں سے تان ٹوٹی تھی ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے دفاع میں آپ کے بنیادی نقاط کو ایک بار پھر سے دوہرا دوں تاکہ قارئین کرام کے زہنوں میں بات تازہ ہوسکے آپ نے پہلا نقطہ صحابہ کرام کے معصوم نہ ہونے اور غلطیوں سے مبرا نہ ہونے کی صورت میں پیش کیا تھا جس کا جواب ہم دے چکے ۔ ۔ ۔ اور آپکا دوسرے نقطہ آپکی اس توجیہ پر مبنی تھا کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کو اللہ پاک نے بے پناہ علم سے نوازا ہے اور اسی نقطہ سے استدلال کرتے ہوئے آپ نے کہ جرم پر پردہ پوشی کی بات بار بار کررہے ہیں اور انکے علم کو آپ نے بڑی شد و مد سے پیش کیا ہے (گو ہمیں ان کے علم اور درس قرآن کی صورت میں اس علم کے اظہار کی بے ساختگی پر کوئی اعتراض نہیں) تاکہ آپ یہ ثابت کرسکیں کہ جو ہوا سو ہوا لیکن ڈاکٹر صاحب کی علمی خدمات کے پیش نظر ان کی اس حرکت سے
    چشم پوشی اختیار کی جائے ۔ ۔ اس نقطے کا بھی ایک حد تک ہم اپنی پہلی رپلائی میں جواب دے چکے ۔ ۔ ۔چونکہ آپ نے اپنے اس نقطے کو بڑی شد و مد سے پیش کیا ہے کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کو اللہ پاک نے بڑا علم دیا ہے لہذا ان کی بارگاہ میں حد ادب رکھا جائے تو اس کا ایک الزامی جواب تو آپ پر ہماری طرف سے یہ ہے کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین جو بالواسطہ حقیقی چشمہ علم و حکمت(یعنی فیضان نبوت صلی اللہ علیہ وسلم) سے سیراب ہوئے وہ بلاشبہ ڈاکٹر اسرار احمد سے کہیں زیادہ بڑھ کر عالم و فاضل تھے ۔
    تو پھر کیا وجہ ہوئی کے ان کے خلاف الفاظ کا چناؤ کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب سے احتیاط نہ ہوئی ؟ ا
    ور پھر ان صحابہ میں سے وہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ چوتھے خلیفہ برحق اور شہریار علم کا دروازہ تھے کیا انکا مرتبہ علمی آپ کے نزدیک اس لائق بھی نہیں کہ ان کی بارگاہ میں آجکل کے زمانہ کا کوئی بھی علامہ فھامہ اپنی زبان کو دراز کرتے ہوئے احتیاط برت لیا کرئے ،۔ ۔ ۔ ۔ ۔؟ کیا وجہ ہے آپ کا یہ اعتراض ڈاکٹر صاحب کے ان الفاظ کی سنگینی پر نہیں وارد ہوتا کہ جن الفاظ کی سنگینی حب صحابہ کے جزبہ کو لہو لہان کیے دے رہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں پر تو آپ کے لب خاموش ہیں اور اگر کھلتے بھی ہیں تو امت کو اتحاد و اتفاق کا درس دینے کے لیے یا پھر اخوت و بھائی چارہ کا راگ الاپنے کے لیے کھلتے ہیں ۔ ۔؟ کیا وجہ ہے کہ ان سب دروس سے قبل اس الفاظ سنگانت کی طرف آپکا قلم متوجہ نہیں ہوتا کہ جو الفاظ ملت اسلامیہ کے اس شیرازہ کو اصل میں تار تار کرنے کا سبب بن رہے ہیں اور اصل میں وہ الفاط ہی ہیں کہ جنکی وجہ سے یہ سارا معاملہ کھڑا ہوا ہے اور بے چارگی امت کی یہ ہے کہ ابھی تک کسی نے ان الفاظ پر نہ تو توجہ کی ہے اور نہ ہی ان الفاظ پر کوئی معذرت آئی ہے اور نہ ہی ان الفاظ کو واپس لیا گیا ہے بلکہ اگر معذرت آئی بھی ہے تو فقط اس مجہولی بیان کی صورت میں کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگوں کی دل آزاری ہوئی ہمارے بیان سے ہم ان سے معذرت خواہ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
    اور پھر جن لوگوں کی دل آزاری ہوئی تھی ان سب کا مزاق اُڑانے کے لیے اپنے بیان کی صداقت پر حوالہ در حوالہ جات دینا شروع کردیئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ دیکھو بھلے تمہاری دل آزاری ہوئی ہے مگر یہ بات فلاں جگہ بھی آئی ہے اور فلاں محدث نے بھی اسے نقل کیا ہے اور فلاں مفسر نے بھی اسے اپنی تفسیر میں جگہ دی ہے وغیرہ ۔ ۔۔
    میرا مطالبہ آپ سب کے توسظ سے ڈاکٹر اسرار احمدصاحب سے یہ ہے کہ وہ (اگر وہ واقعی حقیقی اہل علم میں سے ہیں کہ علم تکبر نہیں عاجزی سکھاتا ہے) سب سے پہلے اس روایت کا ضعیف ہونا تسلیم کرتے ہوئے اپنے بیان میں اس سے (یعنی روایت سے) استدلال پر پہلے اللہ اور اسکے رسول اور پھر پوری امت مسلمہ سے معافی مانگیں یہ کہہ کر کہ ہم سے تحقیق میں کوتاہی واقع ہوئی یا ہم نے بغیر تحقیق کے اسے بیان کردیا اور ثانیا اس روایت کو بیان کرنے کے بعد جو رکیک الفاظ انھوں نے کہے ہیں (حالانکہ ان الفاظ کی بابت ڈاکٹر صاحب کی نیت کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے مگر الفاظ چونکہ ظاہر میں ادا ہوئے ہیں اس لیے) ان الفاظ پر ساری امت مسلمہ سے معافی مانگیں اور وہ الفاظ واپس لیں اور اقرار کریں کہ وہ الفاظ ہرگز لائق شان صحابہ کرام نہیں بس ہم سے جوش خطابت میں غلطی سے سرزد ہوگئے لہذا ہم اپنے ان الفاظ پر اللہ پاک کے حضور تہہ دل سے معافی کے خواستگار ہیں لہزا آج کے بعد جہاں جہاں بھی ہمارا وہ خطاب پیش کیا جائے اس میں سے ہمارے وہ الفاظ سننے والے حذف کردیں کہ ہم سے ان رجوع کرکے بری الذمہ ہوچکے ۔ ۔ ۔ ۔
    یہ ہے اصل طریقہ معافی مانگنے کا اور یہی ہمارا مطالبہ ہے جناب ڈاکٹر صاحب سے ۔ ۔ ۔۔
    باقی رہی انکے علم کی بات تو وہ ہمیں تسلیم ہماری سر آنکھوں پر صحابہ کرام کے بارے میں اپنے الفاظ ڈاکٹر صاحب واپس لیں تو ہم ڈاکٹر صاحب کی جوتیا ں چاٹنے کے لیے بھی تیار ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
    مگر خالی ایسے علم کو ہم کیا خاک چاٹیں جو کہ صحابہ کرام کے ادب سے منزہ و مبرہ ہو ۔ ۔ ۔
    میرے بھائی جو علم صاحب علم کو ادب کے سوا کوئی اور ثمر دے وہ علم نہیں ہوتا کچھ اور ہوتا ہے اور جب اسی بات کی حقیقیت کی طرف نعیم بھائی نے یہ کہہ کر آپ سے سوال کیا کہ فرخ بھائی ۔ ۔ ۔مجھے قرآن و حدیث کا کوئی ایسا حوالہ بتا دیں جس سے یہ پوری طرح واضح ہوجائے کہ ایمان ، تقوی، درجات ، کی بنیاد محض " علم " ہے۔تو اپ نے اس کے جواب میں آپ نے جو الفاظ کہے ہیں وہ درج زیل ہیں ۔ ۔ ۔
    میرے بھائی یہاں آپ سے سوال مطلق علم کے حصول پر نہیں تھا بلکہ سوال یہ تھا کہ آیا کیا صرف علم ہی ایمان تقوٰی اور درجات کی بنیاد ہے ؟ تو اس پر آپکا جواب ہونا چاہیے تھا کہ نہیں فقط علم پر ہی یہ تمام درجات منحصر نہیں ہیں بلکہ اول ایمان اور پھر اسکے بعد حصول علم اور پھر اس حاصل کیئے گئے علم پر جب تک عمل صالح کی مہر بھی نہ لگ جائے تب تک فقط علم ہی ایمان و تقوٰی اور پھر بلندی درجات کا سبب نہیں ہوا کرتا ۔ ۔ ۔اور مزے کی بات یہ ہے کہ جس حدیث کو آپ نے اپنی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے بالکل اسی حدیث کو ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا رد کرتے ہوئے اپنی بات کی تمہید کے طور پر پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔کیونکہ اس حدیث پر امام بخاری نے جو باب باندھا ہے وہ یہ ہے کہ ۔ ۔ ۔باب : اس بیان میں کہ علم ( کا درجہ ) قول و عمل سے پہلے ہے ۔۔
    اس امام بخاری ایک تو مطلقا علم کی فضیلت عمل پر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ علم فضیلت میں پہلے آتا ہے عمل کے مقابلے میں یعنی وہ عمل کے جس میں حقیقت علم بھی شامل ہو اس عمل سے درجہ میں کہیں بڑھکر ہے کہ جو عمل فقط عمل ہی ہو اس میں حقیقت علم کا دخل نہ ہو ۔ ۔ ۔ اور ثانیا اس سے امام بخاری کی جو اصل مراد ہے وہ یہ ہے کہ کوئی بھی آدمی جب کسی بات یا شئے کے بارے میں کلام کرنے لگے (یعنی کسی بھی موضوع پر اپنی زبان کھولنے لگے ) تو پہلے اچھی طرح ہر ہر پہلو سے ہر ہر جہت سے اس بات کا مکمل طور پر علمی احاطہ کرلے تاکہ آدمی کو اپنے کلام کرنے سے پہلے یہ ادراک ہو کہ وہ کیا کہنے جارہا ہے اور کن سے کہنے جارہا تاکہ بعد میں پھر اسے اپنے کلام اور قول کی پختگی پر کسی قسم کی شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔یعنی مختصر یہ کہ یہ باب باندھ کر امام بخاری کہنا یہ چاہ رہے کہ آدمی اپنا قول دینے سے پہلے اس قول کی حقیقت کا علم بھی رکھتا ہو تو تب قول دے ۔ ۔ ۔ ۔۔


    اب آخر میں اس سارے معاملے کا خلاصہ پیش کرکے اجازت چاہوں گا ۔ ۔ ۔
    بھئی دیکھئے سیدھی سی بات ہے کیو ٹی وی پر ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا ایک بیان چلا جو کہ آج سے قریبا 12 سال پہلے کا تھا لیکن وہ کیو ٹی وی پر چلنے کی وجہ سے خواص کے بعد عوام میں بھی آگیا اور اس بیان میں ڈاکٹر صاحب سورہ نساء کی آیت نمبر 43 کی تشریح کرتے ہوئے اول تو ایک شدید ترین ضعیف روایت سے استدلال کیا اور پھر تمام صحابہ کی بالعموم اور حضرت علی کی بالخصوص توہین کی اور بڑے ہی دلخراش انداز میں چند نازیبا اور رکیک الفاظ بیان کیئے کہ جنکی وجہ سے امت مسلمہ میں ایک تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ ۔ ۔ اور بہت سے دل و دماغ کہ جن میں صحابہ کرام کی عزت و عظمت اور اللہ کے حضور انکی وجاہت کا عقیدہ راسخ تھا وہ دل و دماغ مجروح ہوئے اور ہر طبقہ فکر نے اس پر احتجاج کیا تو اسکے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے اپنے باین پر دال آزاری کی معافی مانگ لی اور پھر اپنے بیان کی صداقت پر تصدیق کی مہر ثبت کرتے ہوئے ان کے حوالہ در حوالہ جات پیش کرنا شروع کردیئے ۔ ۔ ۔ ۔
    اب ظاہر سی بات کہ جو حرکت ڈاکٹر صاحب نے کی تھی اور جو اب تک وہ کررہے ہیں اس سے اچھی خاصی تعداد میں ایک طبقہ متاثر ہے لہذا اس کا ہر سطح پر رد عمل ہوا اور ہورہا ہے اور پھر لازما ہماری اردو کے پلیٹ فارم ہر بھی اور اسی طرح دیگر اردو فورم پر بھی کہ جہاں جہاں محبان صحابہ و اہل بیت موجود ہیں اس کا ایک مخصوص رد عمل آیا جو کہ ایک یقینی اور فطری رد عمل تھا اور `پھر اس کے نتیجے میں اول تو ڈاکٹر صاحب کے حواریین میدان عمل میں آئے اور پھر بعض وہ افراد جو کہ صلح کلیت کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھے وہ بھی میدان کارزار میں دفاع اسرار کے امید وار کی حیچیت سے اٹھ کھڑے ہوئے نتیجتا یہ بحث طویل سے طویل تر ہوتی گئی وگرنہ اگر ہر کوئی آکر یہ کہہ دیتا کہ ڈاکٹر اسرار صاحب نے بہت غلط کیا انھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا تو ہرگز یہ بحث طوالت نہ پکڑتی اور پھر نہ کسی کو یہاں ڈاکٹر صاحب کے خلاف انتہائی درشت زبان استعمال کرنے پر اعتراض ہوتا اور نہ ہی کسی کو یہاں آکر باہمی محبت واخوت اور بھائی چارہ و نیز غیبت کی مزمت پر لیکچر دینا پڑتا ۔ ۔ ۔ وما علینا الاالبلاغ
     
  8. فرخ
    آف لائن

    فرخ یک از خاصان

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2008
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    وعلیکم السلام عابد بھائی
    سب سے پہلے تو میں آپکے جذبہء حب الصحابہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ ماشاءاللہ کافی جوش دکھایا آپ نے اتنی لمبی ریپلائی کر کے۔۔۔میں‌آپکے جوابات کی بہت قدر کرتا ہوں۔ اللہ تعالٰی قبول فرمائے۔ آمین۔

    میں‌جو موقف اختیار کیا تھا پچھلی پوسٹوں‌میں، وہ بہت واضح ہے اور بہت لوگوں کی سمجھ میں‌آچکا ہے۔ اور میں اسکی وضاحت کے لیئے مزید کوئی بحث ضروری نہیں سمجھتا۔۔

    خوشی اس بات کی بھی ہے، کہ جو سوالات میں نے جس مقصد کے لیئے لکھے آپ نے انکا عین صحیح جواب لکھا

    لیکن حیرت اس بات پر ہوئی کہ آپ "جھگڑا کس بات پر ہے" لکھنے بیٹھ گئے۔

    مولانا، ذرا میری باقی پوسٹوں کو بھی پڑھ لیتے تو اچھا ہوتا۔ میں نے کس جگہ یہ کہا یا کہنے کی کوشش کی کہ ڈاکٹر اسرار نے وہ الفاظ صحیح ادا کیئے ہیں۔ بلکہ میں نے تو کہا ہے وہ الفاظ غلط تھے۔ انہوں نے اسکے جواب میں‌جو جواز پیش کیا ہے، اس پر جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں وہ ایک الگ کہانی ہے۔

    لیکن زور میں اس بات پر دے رہا ہوں اور جس کا آپ نے خود ادراک کر کے بھی اس پر بحث شروع کر دی، کہ خدارا اب اس مسئلے کو اچھال اچھال کر اور تقاریر کر کرے آپ لوگ سوائے اپنا آپ ہی دکھا رہے ہیں، کسی کا کچھ فائید ہ نہیں‌کر رہے؟ اور اگر کر رہیے ہیں‌تو ذرا مجھے بھی سمجھائیے کہ وہ کیا فائیدہ ہے؟

    معذرت کے ساتھ، آپ نے جو اتنی لمبی تقاریر کر ڈالیں ہیں یہ تو ہم سب کا بھی ایمان ہے۔ لیکن یہاں‌اپنے الفاظ کی تشریح کرنے سے شائید آپ اپنی شخصیت کا کوئی پہلو دکھانا چاہ رہے ہیں؟‌یہ کوئی اتنی بری بات نہیں، لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ آپ اپنی اتنی اچھی باتیں اختلافی مسائل کے جواب کی بجائے، مناسب تھریڈ شروع کرکے باقاعدگی سے لکھا کریں۔

    آپکے اور کچھ اور لوگوں انداز سے تو ویسے صاف ظاہر ہے کہ آپ ڈاکٹر اسرار کے خلاف تُلے ہوئے ہیں۔ اور ڈاکٹر اسرار کی جو وڈیو اسکے جواب میں آئی جس میں‌انہوں‌نے ان باتوں کا جواز بھی پیش کیا ہے کہ ترمذی والی وہ حدیث متعدد اور وہی ایک واقعہ متعدد مستند تفاسیر میں بھی بیان ہوا ہے، اور اگر واقعی ہوا ہے، تو پھر یقینآ اس میں کوئی بات ضرور ہے

    البتہ ڈاکٹر طاہر القادری اگر اس سے اختلاف رکھتے ہیں تو یہ انکا اپنا نظریہ اور تحقیق ہے، ضروری نہیں کہ دوسرے علماء بھی اس سے اتفاق رکھیں۔ اور ظاہر ہے جن علماء نے اس واقعے کو تفاسیر میں بیان کیا ہے تو یقینآ کسی تحقیق کے بعد اتنی بڑی جسارت کی ہوگی۔
    اور بہت سی باتوں پر تو خود طاہر القادری صاحب بھی متنازعہ شخصیت ہیں۔

    اور اس واقعےکا متعدد تفاسیر میں‌بیاں ہونے کا بھی یہ مطلب ہے کہ وہ واقعہ، دراصل حرمتِ شراب کے پس منظر میں‌تھا۔ اور میرا خیال ہے اس واقعے سے توحضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فضیلت و مرتبہ کی بلندی کا اور بھی اچھا اندازہ ہوتا ہے، کہ اللہ نے اپنے اس نیک بندے کی وجہ سے شراب کو حرام کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل فرما دی۔ اور یہ آئیت بھی کہ
    اے ایمان والو،جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب مت جاؤ​

    اس سے تو نماز کی اصل اھمیت کا بھی پتا چلتا ہے کہ نماز کو خشوع و خضوع سے پڑھنا کتنا ضروری ہے کہ نشے میں‌انسان کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے۔۔

    باقی جس انداز میں آپ اب بھی ان پر کیچڑ اچھال رہے ہیں‌اسطرح تو ڈاکٹر طاہر القادری کی بھی کئی باتیں ہیں جن پر کیچڑ اچھالا گیا اور اب بھی ایسا کیا جاسکتا ہے۔ الفاظ اور مطالب کی تھوڑ تو کہیں‌نہیں ہے۔

    لیکن میں‌گھوم کر اپنے اسی مقصد پر آؤں گا، کہ ہم مسلمانو‌ں کو اتحاد و اتفاق کے لیئے بہت سی باتوںکو کنٹرول کرنا ہوگا۔ ہم پہلے ہی ایسی باتوں پر آپس میں‌لڑ لڑ کر ٹوٹ چُکے ہیں۔

    اگر کسی کو اعتراضات اٹھانے ہوں‌تو کسی کی غیر موجودگی میں‌یا ان کے پیٹھ پیچھے سے شور مچا کر ہیجان برپا کرنے کی بجائے جا کر اس عالم یا ان کے کسی نمائیدے سے جاکر اٹھائے۔ اور سب سے اچھا طریقہ یہ ہوتا ہے، کہ علماء کا وفد ایسا کرے۔ اور اس سلسلے میں ان سے مناسب انداز میں‌بات چیت کرے۔اور پھر نتیجہ نکالا جائیے کہ ان کی نیت کیا تھی وغیرہ وغیرہ۔

    خود بتائیں یہاں لمبی لمبی بحث کرنے سے کیا نتیجہ نکل رہا ہے۔ اگر آپ کی یہ ساری تقریر میرے لیئے تھی، تو بھائی میرے یہ جتنی باتیں‌آپ نے لکھیں‌ہیں میرے بھی ایمان کا حصہ ہیں۔

    ہاں نعیم بھائی کو جو علم والی بات میں نےکہی تھی، اب بھی اس پر قائیم ہوں

    کیونکہ میں جب بات ہی دینی علم کی کر رہاتھا، تو یہ پوچھنا" ایمان ، تقوی، درجات ، کی بنیاد محض " علم " ہے" میرے نزدیک دینی علم سے متعلق ہے۔ اگر وہ کسی اور قسم کے علم کی بات کر رہے ہیں تو معذرت کے ساتھ، وہ خوامخواہ بات کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ کوئی معقول بات نہیں‌ہے۔۔ اور اس پوسٹ میں مَیں مناسب احادیث کے حوالاے بھی دئے ہیں۔ اسلیئے آپ کا اعتراض کہ مجھےیہ کہنا چاہیئے تھا:
    میرے لیئے کوئی معانی نہیں رکھتا۔ اور آپکو ان احادیث کی تشریحات کی ضرورت نہیں‌تھی ، وہ پہلے ہی اپنے ترجمے اور تشریح کیساتھ وہاں موجود ہیں‌اور کافی جامع اور سمجھ آنے والی ہیں۔ مگر شائید آپکا شوق پورا ہوگیا اپنے الفاظ کو دوسروں کے سامنے پیش کرنے کا۔

    باقی اللہ تعالٰی ہی اصل حساب کتاب کرنے والا اور نیتوں‌کو جاننے والا ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
     
  9. فرخ
    آف لائن

    فرخ یک از خاصان

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2008
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    Re: ڈاکٹر اسرار احمد کے 1987 کے خطاب سے اقتباس

    محترمہ بنتِ حوا
    ویسے میں‌ان الفاظ کے حق میں‌تو نہیں ہوں،لیکن میری ایک عادت ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھتا ہوں
    اور مجھے شدت سے یہ بھی محسوس ہوا، کہ انہوں نے الفاظ کے انتخاب میں واقعی احتیاط سے کام نہیں‌لیا، لیکن وہ درآصل شراب کے عادی لوگوں کے بارے میں ہی فرما رہے تھے کہ چونکہ بہت سے لوگوں‌کو شراب کی عادت تھی اور شراب اسی لیئے ام الخبائیث کہلاتی ہے، اور وہ عادت انکے لیئے چھوڑنا اتنا آسان نہیں تھا۔

    لیکن ان کے ایسے الفاظ پر مجھے افسوس ہے۔ کیونکہ اس سے اچھے الفاظ بھی استعمال ہو سکتے تھے۔۔۔

    اور اس کے ساتھ ہی میرا خیال ہے، کہ انہوں‌نے نیتآ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ یا کسی دوسرے صحابی کے شخصیت کو داغ دار نہیں‌کرنا چاہا، بلکہ اسوقت کے حالات و واقعات کو بیان کرنا چاہ رہے تھے۔۔

    باقی واللہ بالاعلم

     
  10. آبی ٹوکول
    آف لائن

    آبی ٹوکول ممبر

    شمولیت:
    ‏15 دسمبر 2007
    پیغامات:
    4,163
    موصول پسندیدگیاں:
    50
    ملک کا جھنڈا:
    جذاک اللہ آمین

    تو پھر اس شد و مد کے ساتھ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب ایک بار پھر سے دفاع چہ معنٰی دارد؟

    شکریہ

    تو میرے محترم ہم کب یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے نزدیک وہ الفاظ ٹھیک ہیں آپ کیا خود ڈاکٹر صاحب کے نزدیک بھی وہ الفاظ ٹھیک نہیں ہوں گے مگر یہ الگ بات ہے کہ اب وہ انکی زبان سے ادا ہوچکے ہیں لہذا سند بن چکے ہیں بس اسی لیے انھے ان الفاظ کی سنگینی کا اعتراف کرلینے میں عار ہے کہ شاید انکے مرتبہ علمی پر کوئی حرف واقع ہوجائے ۔ ۔ ۔رہ گئے ان الفاظ پر اعتراضات کے ضمن میں ڈاکٹر صاحب کے پیش کردہ جواز کا تعلق تو وہ اہل علم کی بارگاہ میں بے سود ہے اور اور عذر گناہ بد تر از گناہ کے ضمرے میں آتا ہے ۔ ۔۔

    بتایا تو تھا کہ ان تمام لمبی لمبی تقریروں کے طول کا جواز آپ لوگوں کا ڈاکٹر اسرار احمد کے دفاع پر اصرار ہے

    تو گویا عظمت صحابہ کا بیان بھی آپکے نزدیک ایک اختلافی امر ہے حیرت ہوئی یہ جان کر؟

    ہم ڈاکٹر اسرار صاحب کے خلاف نہیں ہیں وگرنہ ان کے اس بیان کے منظر عام پر آجانے سے پہلے کی ہماری ایک بھی تحریر کسی بھی فورم سے بطور ثبوت دکھا دی جائے جو کہ ہم نے انکے خلاف لکھی ہو ۔ ۔ ۔ اگر نہیں دکھا سکتے تو پھر مان جائیے کہ ہمارا اصل اختلاف ان سے یہی ہے کہ وہ حفظ مراتب کا خیال نہ رکھ سکے اور صحابہ کی بارگاہ میں اگرچہ نادانستہ طور پر ہی سہی گستاخی کا ارتکاب کر بیٹھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    اور میرے محترم آپ کن باتوں کے جواز کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں کیا وہی باتیں کہ جن کو اوپر آپ خود بھی بقول آپکے کئی بار غلط قرار دے چکے ہیں ۔ ۔ مگر یہاں دروغ گو حافظہ نا باشد کی مثال کے مصداق انھی باتوں کا دفاع بطور احادیث کریمہ سے جواز کی صورت میں پیش کررہے ہیں ۔ ۔۔
    جی آپکی یہ بات بالکل بجا ہے اور ہمیں خود بھی ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے ساتھ بہت سی باتوں سے اختلاف ہے مگر ان تمام اختلافات کی نوعیت اتنی سنگین نہیں کہ جو ڈاکٹر اسرار صاحب والے معاملے میں ہے ۔
    جہاں تک اس واقعہ کا متعدد تفاسیر میں ہونے کا ذکر ہے تو یہ ایک الگ امر ہے کہ مفسرین کا طریقہ ہوتا ہے کہ ایک ہی واقعہ کے شان نزول پر جس قدر بھی احادیث مل سکیں قطع نظر انکی صحت کے نقل کرتے چلے جاتے ہیں بعض مفسرین صرف صحیح روایت بھی نقل کرتے ہیں جو کہ ان کے نزدیک صحیح ہو مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ جو ان کے نزدیک صحیح ہو وہ تمام محدثین کے نزدیک بھی صحیح ہو اسی طرح بعض مفسرین تمام روایت نقل کرکے ان میں سے بعض کو بعض پر ترجیحا ذکر کرتے ہیں اور بعض کا ضعف اور بطلان بھی بتا دیتے ہیں بحرحال یہ ایک طریقہ کار ہے مفسرین کا اور یہان یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ہر ہر تفسیر ہر کسی کی پہنچ میں نہیں ہوتی اور اگر بعض تفاسیر جو کہ اردو میں ہیں وہ عوام کی دسترس میں ہیں بھی تو ان سے مسائل کو سمجھنے کے لیے عوام کو بحرحال علمائ کے پاس ہی جانا پڑتا ہے لہزا اسی لیے ہم بار بار عرض کررہے ہیں کہ کسی بھی واقع کا اس کے ماخذ کتب میں ہونا ایک الگ امر ہے کہ ہر قسم کی ضعیف مجروع اور یہان تک کے موضوع روایات بھی اصل کتب میں در آئی ہیں اب کل کلاں کو ہر ایر غیرا نتھو خیرا (یاد رہے یہاں پر ہماری مراد ڈاکٹر اسرار صاحب سے نہیں ہے)اٹھ کر ان میں سے کسی بھی روایت کا سہارا لیکر کچھ بھی بک سکتا ہے ۔ ۔ لہذا ہم بار بار عرض کررہے ہیں کہ روایات کا اصل کتب میں پایا جانا ایک الگ امر ہے اور ان میں سے کسی ایک خاص روایت کو کسی ایک خاص پس منظر میں پیش کرنا اور وہ بھی بلا تحقیق اور نہ صرف پیش کرنا بلکہ بار بار اس پر اصرار بھی کرنا اور جواز کے بطور اصل کتب کا حوالہ دہرانا ایک الگ امر ہے
    اگر کسی مسئلہ میں تحقیق سے بات کرنا آپ کے زندیک کیچڑ کہلاتا ہے تو بندہ معذور ہے


    نیت کا معاملہ تو ہم پہلے ہی اللہ پاک کے سپرد کرچکے ہیں ہمیں تو اعتراض ان صاف اور واضح الفاظ پر ہے کہ جن کی سنگینی کو ابھی تک نہ تو ڈاکٹر صاحب اور نہ ہی انکے ھواریین نے تسلیم کیا ہے اور وہ الفاظ ظاہر میں ہیں یعنی دل کا معاملہ نہیں اور ظاہری بات کے جو چیز ظاہر میں ہوگی اس پر حکم بھی ظاہر میں ہی لگے گا
     
  11. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    السلام علیکم عرفان بھائی ۔
    برادر بھائی کا سوال پہلے تھا۔ سو پہلے آپ کو ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے دینی تعلیمی کیرئیر کی تفصیلات دے دینی چاہیے تھیں۔ خواہ مخواہ عوام الناس کو شکوک کا موقع کیوں دیتے ہیں۔ :237:

    خیر فی الحال میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں آپ برادر صاحب کے اوتار سے خاصا جذباتی ہو گئے
    اور یہ دیکھنا بھی بھول گئے کہ برادر صاحب آج سے سوا سال پہلے سے ہماری اردو کے صارف ہیں۔ :hasna: :hasna: :hasna:
    کوئی بات نہیں۔ جذبات اور غیض و غضب میں بندہ کبھی کبھار کچھ بھول بھی جاتا ہے۔ جیسے آپ کے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب جذبات میں یہ بھی بھول گئے کہ وہ حضرت علی رض کو شرابی ثابت کرنے کے چکر میں ایسی بناقابلِ اعتبار روایت جو کہ (عظیم محدث امام حاکم :ra: کے مطابق) خارجی اور دشمنانِ اہلبیت کی طرف سے جان بوجھ کر حضرت علی رض کی طرف منسوب کی گئی ہے، وہ روایت کرگئے۔
    اور یہ بھول گئے کہ اسی آیت کی شانِ نزول میں کم و بیش 30 روایات کتبِ احادیث میں ایسی ہیں کہ جن میں حضرت علی رض کے شراب پینے یا امامت کروانے کا ذکر تک نہیں۔
     
  12. فرخ
    آف لائن

    فرخ یک از خاصان

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2008
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    تو پھر اس شد و مد کے ساتھ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب ایک بار پھر سے دفاع چہ معنٰی دارد؟

    شکریہ

    تو میرے محترم ہم کب یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے نزدیک وہ الفاظ ٹھیک ہیں آپ کیا خود ڈاکٹر صاحب کے نزدیک بھی وہ الفاظ ٹھیک نہیں ہوں گے مگر یہ الگ بات ہے کہ اب وہ انکی زبان سے ادا ہوچکے ہیں لہذا سند بن چکے ہیں بس اسی لیے انھے ان الفاظ کی سنگینی کا اعتراف کرلینے میں عار ہے کہ شاید انکے مرتبہ علمی پر کوئی حرف واقع ہوجائے ۔ ۔ ۔رہ گئے ان الفاظ پر اعتراضات کے ضمن میں ڈاکٹر صاحب کے پیش کردہ جواز کا تعلق تو وہ اہل علم کی بارگاہ میں بے سود ہے اور اور عذر گناہ بد تر از گناہ کے ضمرے میں آتا ہے ۔ ۔۔

    بتایا تو تھا کہ ان تمام لمبی لمبی تقریروں کے طول کا جواز آپ لوگوں کا ڈاکٹر اسرار احمد کے دفاع پر اصرار ہے

    تو گویا عظمت صحابہ کا بیان بھی آپکے نزدیک ایک اختلافی امر ہے حیرت ہوئی یہ جان کر؟

    ہم ڈاکٹر اسرار صاحب کے خلاف نہیں ہیں وگرنہ ان کے اس بیان کے منظر عام پر آجانے سے پہلے کی ہماری ایک بھی تحریر کسی بھی فورم سے بطور ثبوت دکھا دی جائے جو کہ ہم نے انکے خلاف لکھی ہو ۔ ۔ ۔ اگر نہیں دکھا سکتے تو پھر مان جائیے کہ ہمارا اصل اختلاف ان سے یہی ہے کہ وہ حفظ مراتب کا خیال نہ رکھ سکے اور صحابہ کی بارگاہ میں اگرچہ نادانستہ طور پر ہی سہی گستاخی کا ارتکاب کر بیٹھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    اور میرے محترم آپ کن باتوں کے جواز کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں کیا وہی باتیں کہ جن کو اوپر آپ خود بھی بقول آپکے کئی بار غلط قرار دے چکے ہیں ۔ ۔ مگر یہاں دروغ گو حافظہ نا باشد کی مثال کے مصداق انھی باتوں کا دفاع بطور احادیث کریمہ سے جواز کی صورت میں پیش کررہے ہیں ۔ ۔۔
    جی آپکی یہ بات بالکل بجا ہے اور ہمیں خود بھی ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے ساتھ بہت سی باتوں سے اختلاف ہے مگر ان تمام اختلافات کی نوعیت اتنی سنگین نہیں کہ جو ڈاکٹر اسرار صاحب والے معاملے میں ہے ۔
    جہاں تک اس واقعہ کا متعدد تفاسیر میں ہونے کا ذکر ہے تو یہ ایک الگ امر ہے کہ مفسرین کا طریقہ ہوتا ہے کہ ایک ہی واقعہ کے شان نزول پر جس قدر بھی احادیث مل سکیں قطع نظر انکی صحت کے نقل کرتے چلے جاتے ہیں بعض مفسرین صرف صحیح روایت بھی نقل کرتے ہیں جو کہ ان کے نزدیک صحیح ہو مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ جو ان کے نزدیک صحیح ہو وہ تمام محدثین کے نزدیک بھی صحیح ہو اسی طرح بعض مفسرین تمام روایت نقل کرکے ان میں سے بعض کو بعض پر ترجیحا ذکر کرتے ہیں اور بعض کا ضعف اور بطلان بھی بتا دیتے ہیں بحرحال یہ ایک طریقہ کار ہے مفسرین کا اور یہان یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ہر ہر تفسیر ہر کسی کی پہنچ میں نہیں ہوتی اور اگر بعض تفاسیر جو کہ اردو میں ہیں وہ عوام کی دسترس میں ہیں بھی تو ان سے مسائل کو سمجھنے کے لیے عوام کو بحرحال علمائ کے پاس ہی جانا پڑتا ہے لہزا اسی لیے ہم بار بار عرض کررہے ہیں کہ کسی بھی واقع کا اس کے ماخذ کتب میں ہونا ایک الگ امر ہے کہ ہر قسم کی ضعیف مجروع اور یہان تک کے موضوع روایات بھی اصل کتب میں در آئی ہیں اب کل کلاں کو ہر ایر غیرا نتھو خیرا (یاد رہے یہاں پر ہماری مراد ڈاکٹر اسرار صاحب سے نہیں ہے)اٹھ کر ان میں سے کسی بھی روایت کا سہارا لیکر کچھ بھی بک سکتا ہے ۔ ۔ لہذا ہم بار بار عرض کررہے ہیں کہ روایات کا اصل کتب میں پایا جانا ایک الگ امر ہے اور ان میں سے کسی ایک خاص روایت کو کسی ایک خاص پس منظر میں پیش کرنا اور وہ بھی بلا تحقیق اور نہ صرف پیش کرنا بلکہ بار بار اس پر اصرار بھی کرنا اور جواز کے بطور اصل کتب کا حوالہ دہرانا ایک الگ امر ہے
    اگر کسی مسئلہ میں تحقیق سے بات کرنا آپ کے زندیک کیچڑ کہلاتا ہے تو بندہ معذور ہے


    نیت کا معاملہ تو ہم پہلے ہی اللہ پاک کے سپرد کرچکے ہیں ہمیں تو اعتراض ان صاف اور واضح الفاظ پر ہے کہ جن کی سنگینی کو ابھی تک نہ تو ڈاکٹر صاحب اور نہ ہی انکے ھواریین نے تسلیم کیا ہے اور وہ الفاظ ظاہر میں ہیں یعنی دل کا معاملہ نہیں اور ظاہری بات کے جو چیز ظاہر میں ہوگی اس پر حکم بھی ظاہر میں ہی لگے گا[/quote:2ytrmb55]

    میں آپکے بحث والے طریقے سے تو اجتناب ہی کروں گا۔ البتہ ایک بات واضح کرتا چلوں، کہ میں ڈاکٹر صاحب کا دفاع نہیں کر رہا، بلکہ سب کو ایسی باتیں کرنے سے روک رہا ہوں کیونکہ یہاں ایسی باتیں کرنے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا۔

    کیونکہ جہاں آپ لوگ ان سے شدید اختلاف رکھ رہے ہیں اپنے دلائیل کے ساتھ، ان سے ایسا نہ کرنے والوں کے پاس بھی دلائل موجود ہیں اور نتیجہ یی آ رہا ہے، کہ معاملہ طوالت پکڑ رہا ہے اور جذبات کی رو میں آکر لوگ اصل معاملے کو بڑھا چڑھا کر اور بتنگڑ بنا کر پیش کر رہے ہیں اور ایسی ایسی باتیں کر رہے ہیں جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔۔

    اب کسی پر کیچڑ تحقیق کر کے اچھالا جائے یا خواہ مخواہ کی لاجک سے، بات دونوں صورتوں میں خطرناک ہے

    میںاس وجہ سے اس معاملے پر مزید بحث نہیں کروں گا، اورجیسا کہ نیت والا معاملہ آپ نے اللہ پر چھوڑا ہے، میں نے ویسا ہی سارا معاملہ اللہ پر چھوڑ رکھا ہے، کیونکہ میں بھی جذبات میں آکر کسی کے خلاف کوئی بات نہیں کرنا چاہتا، مبدا وہ کہیں غیبت یا بہتان میں نہ چلی جائے اور حساب کے دن میں اسی بات کی وجہ سے مارا جاؤں

    اسی وجہ سے ڈاکٹر عامر لیاقت اور ڈاکٹر طاہر القادری سے سنگین نوعیت کے اختلافات کے باوجود میں خود اجتناب کرتا ہوں۔ کہ کہیں ایسی باتوں سے جو انارکی پھیلے وہ میرے ذمے نہ لگ جائے۔

    خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسروں کی سنگین غلطیوں پر پردہ ڈالتے تھے تاکہ کسی فساد کا باعث نہ بن جائے اور دوسروں کو وعظ و نصیحت اور تبلیغ سے سیدھی راہ پر لے آتے تھے اور یہی بہترین طریقہ ہے۔ کیونکہ یہ نبی کا طریقہ ہے۔

    ہم سب نے اللہ کو اپنے اعمال اور باتوں کا جواب دینا ہے، اور علماء کرام نے اپنا۔ ہم ایک دوسرے کو جوابدہ نہیں ہیں۔

    باقی آپ لوگوں کی اپنی مرضی ہے۔
     
  13. فرخ
    آف لائن

    فرخ یک از خاصان

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2008
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    مفہوم حدیث۔۔۔۔
    نبیء آخرالزمان، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    جب آدمی کسی پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ لعنت بلند ہو کر جنت کی طرف جاتی ہےاور جنت کے دروازے بند ملتے ہیں تو پھر یہ زمین کی طرف واپس آتی ہے اور اسکے دروازے بھی بند ملتے ہیں، پھر یہ دائیں اور پھر بائیں جاتی ہےاور جب اسے کوئی جگہ نہ ملے تو یہ اس چیز کی طرف جاتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی۔ اور اگر وہ چیز لعنت کے قابل ہو تو اس میں داخل ہو جاتی ہے اور اگر وہ چیز لعنت کے قابل نہیں تو پھر یہ اس کی طرف واپس جاتی ہے جس نے لعنت کی تھی۔
    سنن ابی داؤد۔ جلد 3، باب اخلاقیات Book of Manners
    حدیث نمبر 4887

    اس لیئے بات کرنے اور کسی کو لعنت کرنے سے پہلے محتاط رہنا چاہیئے۔
     
  14. آبی ٹوکول
    آف لائن

    آبی ٹوکول ممبر

    شمولیت:
    ‏15 دسمبر 2007
    پیغامات:
    4,163
    موصول پسندیدگیاں:
    50
    ملک کا جھنڈا:
    اجی چھوڑیئے بھی فرخ بھائی آپ بھی کیا سادہ ہیں چھوڑیئے ان لوگوں یہ لوگ باز نہیں آنے والے کیونکہ ان کے اندر صحابہ کرام اور اسی طرح تمام نفوس قدسیہ کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے بلکہ نس نس میں سمائی ہوئی ہے لہزا آپ خواہ مخواہ میں اپنا قیمتی وقت برباد کررہے ہیں آپ سے گزارش ہے کہ اس بحث کو طول دینے کی بجائے آپ امت مسلمہ کا فائدہ سوچتے ہوئے محبت و اخوت اور بھائی چارے کے تھریڈ لگائیں نیز غیبت تہمت اور بہتان جیسے اخلاق رذیلہ سے امت کو متنبع کرنے کے لیے نئے نئے تھریڈز لگائیں تاکہ امت کا بھلا ہوسکے لیکن پلیز یہاں اب اور بحث مت کریں کیونکہ یہ لوگ پاگل ہیں اس لیے کہ نفوس قدسیہ میں سے کسی کی بھی توہین پر یہ کسی کو نہیں بخشتے چاہے سامنے والا کتنا ہی بڑا علامۃ الدہر ہی کیوں نہ ہو ۔ ۔ ۔ ۔
     
  15. عاطف چوہدری
    آف لائن

    عاطف چوہدری ممبر

    شمولیت:
    ‏17 جولائی 2008
    پیغامات:
    305
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    آبی ٹو کول
    تو کدھرے کویلے تے نی کھاندا
    بہتا سیک آندا اے تیری گل سوں
    نام کول رکھا ہے باتیں گرم کرتے ہو
    :201: :201: :201: :201: :201: :201: :201:
     
  16. فرخ
    آف لائن

    فرخ یک از خاصان

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2008
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    جی عابد بھائی۔
    واقعی، میرے جیسے سادے بندے کو کیا پتا صحابہ سے محبت کرنے والوں کا۔ :titli:
    صحابہ اکرام رضی اللہم اجمعیں وہ لوگ تھے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقلید کیا کرتے تھے:
    اللہ کے نبی اور صحابہ کی سنت تھی، لوگوں کی خطاؤں سے درگزرفرماتے اور ان کی پردہ پوشی کرتے تھے
    لوگوں‌کو پیار و محبت کا درس دیتے تھے
    غیبت و بہتان سے منع کرتے، اور کسی انسان کی برائیوں سےمنع کرتے
    جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی حدیث بتاتے توصحابہ اس پر بے چون و چرا عمل پیرا ہو جاتے، نہ کہ بحث کرتے
    وہ آپس میں نیک اور محبت کرنے والے لوگ۔ ایک دوسرے کا احترام کرنے والے لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور نہ جانے کیا کیا بہترین خصوصیات کہ گنوائے نہ گنیں جائیں

    اور یہاں ان سے محبت کرنے والے جس خوبی سے اس محبت کا اظہار کر رہے ہیں ، اس سے انکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی محبت کا خوب اندازہ ہوچکا ہے مجھے۔۔۔

    بہت خوب۔
     
  17. آبی ٹوکول
    آف لائن

    آبی ٹوکول ممبر

    شمولیت:
    ‏15 دسمبر 2007
    پیغامات:
    4,163
    موصول پسندیدگیاں:
    50
    ملک کا جھنڈا:
  18. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    آبی ٹو کول
    تو کدھرے کویلے تے نی کھاندا
    بہتا سیک آندا اے تیری گل سوں
    نام کول رکھا ہے باتیں گرم کرتے ہو
    :201: :201: :201: :201: :201: :201: :201:[/quote:2qe0hlz8]

    :201: :201: :201:
    آبی بھائی ۔ لو جی ۔ آپ کی باتوں کا سینک چوہدری صاحب تک بھی پہنچ گیا۔
    پتہ نہیں کون کونسی جگہ جل گئی ہوگی :176:
    :201: :201: :201:
     
  19. سیف
    آف لائن

    سیف شمس الخاصان

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2007
    پیغامات:
    1,297
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جس آدمی کا یہ عقیدہ ہو وہ اس جناب میں گستاخی کا سوچ بھی کیسے سکتا ہے۔
     
  20. عرفان
    آف لائن

    عرفان ممبر

    شمولیت:
    ‏16 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    443
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    جسے اپنے ایمان کی فکر ہو اس کے پاس اس قسم کی سوچ تو کیا واہمہ بھی نہیں آسکتا اللہ کے نبی کے تربیت :saw: یافتہ اور جانثار ساتھیوں کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں کبھی نہیں
     
  21. عاطف چوہدری
    آف لائن

    عاطف چوہدری ممبر

    شمولیت:
    ‏17 جولائی 2008
    پیغامات:
    305
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    او جان دو نعیم صآھب تسی تے میرے پچھے پہ گییے ہو
    میں تے اینج ہی کیا سی شغلن
     
  22. فرخ
    آف لائن

    فرخ یک از خاصان

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2008
    پیغامات:
    262
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ویسے آپ کے محبِ صحابہ رضی اللہ عنہم ساتھی نعیم صاحب کی محبت بھری گفتگو
    ماشاءاللہ کیا حبِ صحابہ پائی ہے موصوف نے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں بڑھا چڑھا کر بولے گئے الفاظ پر تو ذرا غور فرمائیے گا۔۔۔۔۔۔ استغفراللہِ العظیم۔

    اور مزے کی بات یہ کہ غیبت و بہتان کی حقیقت جانتے ہوئے بھی یہ حب صحابہ سے سرشار آپ کے دوست جن کی آپ نے تعریف فرمائی بار بار بہتان بازی کرتے ہوئے، بات کو بڑھا چڑھا کے کہاں‌سے کہاں لے گئے ہیں۔

    کیا حبِ صحابہ ہے بھئی۔ جس کا کبھی کسی ایک سحابی رضی اللہ نے سوچا بھی نہیں‌ہوگا۔۔۔
    بہت مبارک ہو آپکو بھی
     
  23. عرفان
    آف لائن

    عرفان ممبر

    شمولیت:
    ‏16 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    443
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    ماشاءاللہ کیا حبِ صحابہ پائی ہے موصوف نے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں بڑھا چڑھا کر بولے گئے الفاظ پر تو ذرا غور فرمائیے گا۔۔۔۔۔۔ استغفراللہِ العظیم۔

    اور مزے کی بات یہ کہ غیبت و بہتان کی حقیقت جانتے ہوئے بھی یہ حب صحابہ سے سرشار آپ کے دوست جن کی آپ نے تعریف فرمائی بار بار بہتان بازی کرتے ہوئے، بات کو بڑھا چڑھا کے کہاں‌سے کہاں لے گئے ہیں۔

    :پرلے درجے کا شرابی:

    کیا حبِ صحابہ ہے بھئی۔ جس کا کبھی کسی ایک سحابی رضی اللہ نے سوچا بھی نہیں‌ہوگا۔۔۔
    بہت مبارک ہو آپکو بھی[/quote]
     
  24. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    محترم عاطف چوہدری صاحب۔
    آپ سے گذارش ہے کہ ہماری اردو کے اردو چوپالوں میں اردو لکھی جائے۔
    پنجابی کے لیے پنجابی چوپال موجود ہیں۔

    شکریہ
     
  25. عرفان
    آف لائن

    عرفان ممبر

    شمولیت:
    ‏16 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    443
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    واقعی اردو چوپالوں میں اردو ہی لکھنی چاہیئے
     
  26. عاطف چوہدری
    آف لائن

    عاطف چوہدری ممبر

    شمولیت:
    ‏17 جولائی 2008
    پیغامات:
    305
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    محترم عاطف چوہدری صاحب۔
    آپ سے گذارش ہے کہ ہماری اردو کے اردو چوپالوں میں اردو لکھی جائے۔
    پنجابی کے لیے پنجابی چوپال موجود ہیں۔

    شکریہ[/quote:1cz4kpef]
    جو ھکم سرکار
     
  27. ع س ق
    آف لائن

    ع س ق ممبر

    شمولیت:
    ‏18 مئی 2006
    پیغامات:
    1,333
    موصول پسندیدگیاں:
    25
    کچھ لوگ ڈاکٹر اسرار احمد کی شخصیت سے اس قدر متاثر ہیں کہ ان کے دفاع میں حد سے گزر گئے اور ان لوگوں کو الزام دینے لگے جنہوں نے ڈاکٹر موصوف کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی۔

    ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ وہ ڈاکٹر اسرار احمد کو سمجھاتے کہ حضرت آپ نے (نادانستگی میں) صحابہ کرام کی شان میں جو غلطی کی ہے اس سے توبہ فرمائیے اور مذکورہ ضعیف ترین حدیث کے ناقابل اعتبار راویوں کے سہارے ڈٹے رہنے کی بجائے تحریم شراب کی آیت کے حقیقی شان نزول کے حوالے سے وارد 30 صحیح احادیث مبارکہ کے مطابق نیا بیان جاری کریں تاکہ امت فتنے میں نہ پڑے۔

    اردو تراجم سے استفادہ کر کے لیڈر بننے والے ایم بی بی ایس ڈاکٹر موصوف اگر اپنی علمی کم مائیگی کا اعتراف کر لیں گے تو اس سے اسلام کا کون سا ستون منہدم ہو جائے گا؟ مگر نہیں، وہ لوگ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کی یوں پرستش کر رہے ہیں کہ وہ جیسی بھی غلطی کر جائیں وہ غلطی ان کا ایمان رہے گی۔

    ڈاکٹر صاحب کو سمجھانے اور ان کی عاقبت بچانے کی بجائے ان لوگوں نے ڈاکٹر صاحب کو سمجھانے والے دوسرے لوگوں کو بھی مختلف طریقوں سے روکنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے۔ یہ ڈاکٹر اسرار احمد کے دوست ہیں یا دشمن، جو انہیں اپنی غلطی پر ڈٹے رہنے پر اکسا رہے ہیں اور الٹا ان لوگوں کو مجرم قرار دے رہے ہیں جنہوں نے ڈاکٹر موصوف سے ہمدردی کرتے ہوئے ان کی عاقبت کو بہتر بنانے کے لئے ان کی توجہ اس غلطی کی طرف دلائی۔
     
  28. عرفان
    آف لائن

    عرفان ممبر

    شمولیت:
    ‏16 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    443
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    میں ناظم اعلیٰ کی توجہ اس معاملے کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ بعض لوگ جیسا کہ بنت حوا اپنی ایک ہی مواد والی پوسٹ مختلف جگہوں پر پو سٹ کر رہے اگر اس بات کی اجازت ہے تو بتایا جائے تاکہ ہم بھی ایسا کر سکیں۔

    مثال کے طور پراوپر والی پوسٹ ڈاکٹر اسرار کے بیان کی ۔۔۔۔۔۔ میں موجود ہے
     
  29. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    السلام علیکم
    عرفان بھائی ۔ اگر کوئی ایک پوسٹ موضوع سے مطابقت رکھتی ہے اور جواب کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔ تو اسکے پیش کردیے جانے میں میرے خیال میں کوئی حرج نہیں۔
    یاد رہے کہ ۔۔۔
    اس سے پہلے آپ کے "دوست" فرخ صاحب کئی مقامات پر ڈاکٹر اسرار صاحب کے دفاع میں کم و بیش ایک ہی پوسٹ مختلف لڑیوں میں ارسال کرچکے ہیں جن کی تحریروں پر آہ اکثر دادو تحسین کے نعرے بھی لگاتے ہیں۔

    ویسے حتمی فیصلہ تو انتظامیہ ہی کرسکتی ہے۔ :soch:
     
  30. سیف
    آف لائن

    سیف شمس الخاصان

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2007
    پیغامات:
    1,297
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    نعیم بھائی نے درست فرمایا ہے موضوع کی مطابقت اور بحث سے متعلقہ پوسٹ کو مکرر ارسال کرنے میں کوئی حرج تو نہیں تاہم انتظامیہ کو ایک مشورہ ہے کہ وہ ایک جیسے موضوعات کو ایک ہی تھریڈ میں منتقل کر دیا کرے تاکہ اس طرح کی تکرار کا مسئلہ پیدا ہی نہ ہو۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں