1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

“عقیدتوں کے گلاب “ نور کی ذاتی شاعری

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از نور, ‏31 جولائی 2007۔

  1. نور
    آف لائن

    نور ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جون 2007
    پیغامات:
    4,021
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    تمہیں کیا خبر تم میری التجاؤں ‌میں رہتے ہو
    میرے نہیں‌تو کیا،میری دعاؤں میں رہتے ہو

    تم جو کہیں کھو گئے ہو، غم کا بیج بو گئے ہو
    دور ہم سے ہو گئے ہو، پھر بھی صداؤں میں رہتے ہو

    تم خوشبو بن کر بکھر گئے ہو، رنگت بن کر اتر گئے ہو
    جو لازمِ حیات ہیں ، تم ایسی ہواؤں میں رہتے ہو

    چاہے منہ موڑ لو ہم سے، رشتہ دل کا توڑ لو ہم سے
    ٹوٹا ناطہ جوڑ لو ہم سے ، ہر دم نگاہوں میں رہتے ہو

    نور دعائیں رنگ جو لائیں، کبھی وہ تیرے سنگ بھی آئیں
    دامن خالی رہ نہ جائیں، تم میری التجاؤں میں رہتے ہو

    (نور)​
     
  2. نور
    آف لائن

    نور ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جون 2007
    پیغامات:
    4,021
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    واپسی

    تمھیں یاد ہے ؟؟

    اک دن بہت لگاوٹ سے
    تم نے پوچھا تھا کہ
    “ تم واپس کب لوٹ رہی ہو؟“

    تو میں نے
    چند ساعتیں سوچ کر
    یکدم ذرا سا چونک کر
    تیری آنکھوں میں جھانک کر
    بڑے دھیرج سے کہا تھا
    “اُس دن۔۔۔ہاں اُسی دن
    کہ جب تمھارے لب
    یہ کہنے کو ہلیں گے:

    اے نور ! مجھے اب تمھاری ضرورت ہے
    مجھے اب تم سے سچی چاہت ہے

    تو دیکھ لو آج !
    میں لوٹ ہی آئی ہوں

    واپس گھپ اندھیروں میں
    طوفانوں کے تھپیڑوں میں
    مصائب کے بکھیڑوں میں

    فقط اس دعا کے ساتھ کہ

    “تم سدا رہو سویروں میں“
     
  3. بجو
    آف لائن

    بجو ممبر

    شمولیت:
    ‏22 جولائی 2007
    پیغامات:
    1,480
    موصول پسندیدگیاں:
    16
    واہ جی واہ!
    پہلا شعر اچھا ہے-
     
  4. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    بہت خوب نور جی ! آزاد نظم تو بہت ہی پیاری ہے۔

    مزید کلام کا انتظار رہے گا
     
  5. لاحاصل
    آف لائن

    لاحاصل ممبر

    شمولیت:
    ‏6 جولائی 2006
    پیغامات:
    2,943
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    نور واقعی بہت اچھی نظم ہے
    بہت ہی اچھی
     
  6. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    بیٹا نورالعین
    بہت ھی پیاری اور خوبصورت نظم ھے،
     
  7. نور
    آف لائن

    نور ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جون 2007
    پیغامات:
    4,021
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    پسندیدگی اور حوصلہ افزائی کا شکریہ
    -----------------------------------------------------------------

    اس بے وفا کی جدائی سے بھی دل اداس ہے
    دلِ مضطرب کو جانے ابھی کیا آس ہے ؟

    ساقی یہ دستورِ محفل تجھے زیب نہیں
    بزم بھی تیری ہو ،ہمیں پھر بھی پیاس ہے

    یوں‌تو زمانہ بھرا ہے اچھوں سے لیکن
    کچھ شئے تو اجنبی میں بھی “خاص“ ہے

    کیسے محبتوں سے دل کو تہی کر لوں
    یہی تو میری دھڑکنوں کی اساس ہے

    نور اسے اتنا نہ خود سے دور سمجھ
    آنکھ سے دور سہی ، دل کے تو پاس ہے​
     
  8. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,062
    موصول پسندیدگیاں:
    11,100
    ملک کا جھنڈا:
    نورالعین بہن۔ اچھی شاعری ہے۔ آپ مشق جاری رکھئیے۔
     
  9. عبدالجبار
    آف لائن

    عبدالجبار منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏27 مئی 2006
    پیغامات:
    8,595
    موصول پسندیدگیاں:
    70
    بہت خوب۔ نور!
     
  10. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    بہت ھی خوبصورت، کیا بات ھے،!!!!
     
  11. عقرب
    آف لائن

    عقرب ممبر

    شمولیت:
    ‏14 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    3,201
    موصول پسندیدگیاں:
    199
    نورالعین جی ۔ بہت اچھی شاعری ہے۔

    کوشش جاری رکھئیے۔ آپکے مزید کلام کا انتظار رہے گا
     

اس صفحے کو مشتہر کریں