1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

’’مُفلسی میں ہر نظر بیگانی ہے‘‘

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از سلطان میر, ‏25 دسمبر 2009۔

  1. سلطان میر
    آف لائن

    سلطان میر ممبر

    شمولیت:
    ‏25 جولائی 2006
    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    ملک کا جھنڈا:
    ’’مُفلسی میں ہر نظر بیگانی ہے‘‘
    تنہائی، وحشت، بے سرو سامانی ہے
    گردشِ دوراں ہے، لامکانی ہے
    دردِ ہجر، دردِ دِل، دردِ سوزِ نہاں
    نبرد آزما اِن سبھی سے جوانی ہے
    کِسے سُنائیں بھلا داستاں اپنی!
    سبھی لَبوں پر دُکھوں کی کہانی ہے
    چلے آؤ لِلـٰہ! کہ وحشتیں کم ہوں!
    آج! شہرِ دِل میں بہت ویرانی ہے
    اجنبی ہُوے جاتے ہیں رِشتے سبھی!
    مُفلسی میں ہر نظر بیگانی ہے
    سُلطاں ہرا رکھنا سدا زخمِ ہجر!
    اِک یہی زخم تو اُس کی نشانی ہے۔
    (سُلطاں)​
     
  2. حسن رضا
    آف لائن

    حسن رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جنوری 2009
    پیغامات:
    28,857
    موصول پسندیدگیاں:
    591
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: ’’مُفلسی میں ہر نظر بیگانی ہے‘‘

    سلطان بھائی بہت اچھی شاعری ہے :a180:
     
  3. سلطان میر
    آف لائن

    سلطان میر ممبر

    شمولیت:
    ‏25 جولائی 2006
    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: ’’مُفلسی میں ہر نظر بیگانی ہے‘‘

    رپلائی اور پسندیدگی کیلئے جزاک اللہ حسن رضا جی۔
     
  4. بے بی
    آف لائن

    بے بی ممبر

    شمولیت:
    ‏6 دسمبر 2009
    پیغامات:
    135
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    جواب: ’’مُفلسی میں ہر نظر بیگانی ہے‘‘

    اچھی شاعری ارسال کی آپ نے شکریہ
     
  5. سلطان میر
    آف لائن

    سلطان میر ممبر

    شمولیت:
    ‏25 جولائی 2006
    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: ’’مُفلسی میں ہر نظر بیگانی ہے‘‘

    رپلائی کیلئے جزاک اللہ بےبی جی۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں