1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

۔4عالمی غلط فہمیاں ۔۔۔۔۔ انجینئررحمی ٰ فیصل

'جنرل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از intelligent086, ‏29 اکتوبر 2020۔

  1. intelligent086
    آف لائن

    intelligent086 ممبر

    شمولیت:
    ‏28 اپریل 2013
    پیغامات:
    5,204
    موصول پسندیدگیاں:
    757
    ملک کا جھنڈا:
    ۔4عالمی غلط فہمیاں ۔۔۔۔۔ انجینئررحمی ٰ فیصل

    سچ دنیا میں ناپید ہوتا جا رہا ہے، کئی اہم ترین معاملات میں بھی سچ سے کام نہیں لیا جا رہا، حتیٰ کہ سائنس کے بارے میں بھی غلط باتیں مشہور ہو چکی ہیں۔آج ایسی ہی چار اہم باتوں پر غور کریں گے۔
    پتنگ اڑاتے ہوئے آسمانی بجلی
    دریافت نہیں ہوئی تھی
    ایک بڑا جھوٹ یہ ہے کہ کائٹ فلائنگ کے دوران آسمانی بجلی گری جسے نجمن فرینکلن نے دریافت کیا تھا۔ یہ بات عام ضرور ہے لیکن درست نہیں ہے، بجلی 1752ء میں دریافت نہیں ہوئی تھی، یہ اس سے پہلے دریافت کر لی گئی تھی۔600قبل از مسیح میں بھی یونانی باشندوں نے کھال اور امبر کی رگڑ سے '' سٹیٹک الیکٹریسٹی‘‘ دریافت کی تھی۔فرینکلن پتنگ بازی کی مدد سے آسمانی بجلی کی نوعیت پر بات کرنا چاہتا تھا۔ اس نے بادلوں اور بجلی کے تعلق کو دریافت کیا تھا۔ وہ بجلی کی تعریف جاننے کے لئے ہوا میں خاص قسم کی ڈور سے پتنگ اڑا رہا تھا۔
    وہ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ گرج چمک میں کرنٹ ہوسکتا ہے اور بجلی گرنے سے نقصان ہوتا ہے اسی لئے اس نے بادلوں کی گرج چمک کے دوران ریشم کی ڈور سے پتنگ اڑائی ۔اس ڈور کے سرے پر دھات کا ایک باریک سا ٹکڑا باندھ دیاتھا۔دوران پتنگ بازی تار کے آخری دھات والے سرے پرخاص قسم کا تنائو پیدا ہونے سے ''بجلی‘‘ محسوس کی تھی۔اس کا مقصد بادلوں میں کرنٹ کی موجودگی کو ثابت کرناتھا جس میں وہ کامیاب رہا۔ اگر اس پر آسمانی بجلی گرتی (جیسا کہ کہا جاتا ہے ) تو فرینکلن کبھی زندہ نہ بچتا، پروفسیر جارج ولہم رچمین کی طرح وہ بھی ہلاک ہو جاتا ۔ پروفیسر ولہم یہی تجربہ کرتے وقت آسمانی بجلی گرنے سے ہلاک ہو گیا تھا، فرینکلن کی پتنگ پر بجلی نہیں گری تھی بلکہ تار کے سرے میں کرنٹ آیا تھا۔
    دیوار چین چاند سے نظر آتی ہے
    چاندپر انسانی آنکھ سے متعدد زمینی چیزیں دیکھی جا سکتی ہیں لیکن دیوار چین ان میں شامل نہیں ہے۔ اس کے باوجود یہ بات عام ہے۔ آپ جس سے بھی پوچھیں گے کہ چاند پر آنکھ سے کیا دیکھا جا سکتا ہے تو وہ دیوارچین کا ہی نام لے گا۔
    یہ بات 1938ء میں رچرڈ ہیلی برتننے اپنی کتاب ''سیکنڈ بکل آف مارولز ‘‘ کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلائی۔ انہوں نے لکھا کہ ''دیوار چین چاند سے نظر آنے والی دنیا کی واحدچیز ہے‘‘۔ حالانکہ اس وقت تک کسی خلاء باز نے چاند پر قدم بھی نہیں رکھاتھا، نہ ہی اس قسم کی کوئی تحقیق منظر عام پر آئی تھی کہ چاند پر سے دیوار چین دکھائی دیتی ہے یا نہیں۔ 16.7میٹر چوڑی دیوار لاکھوں کلومیٹر دور گردش کرنے والے چاند سے کیسے دیکھی جا سکتی ہے۔
    جب روم جل رہا تھاتو نیرو بانسری بجا رہا تھا
    روم کے جلنے اور نیرو کے بانسری بجانے والی بات اب محاورتاََ بھی کہی جانے لگی ہے، یہ اس قدر عام ہے کہ کوئی بھی اس کا حوالہ دے سکتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ 18جولائی 64ء کو نیرو روم کو جلانے کے بعد بانسری بجارہا تھا۔ اس نے ''ٹاور آف میسینس ‘‘ پر چڑھ اپنی جان بچائی تھی اور وہ وہیں سے روم کے جلنے کانظارہ کرتا رہا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اچھا آدمی نہیں تھا اس نے اپنی ماں کو غلام بنا رکھا تھا اور بعد میں ماں کے خون سے بھی ہاتھ رنگے۔
    مورخ ''تیسی تس‘‘ نے تردید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ '' روم میں آتشزدگی کے وقت نیرو 30 میل دور''آتیم‘‘ میں واقع اپنے قلعے میں تھا۔ آتشزدگی کی خبر اسے وہیں ملی۔
    سیب نیوٹن کے سر پر گرا
    بلاشبہ نیوٹن اپنے وقت کا عظیم ترین سائنس دان تھا، بلکہ نیوٹن اور آئن سٹائن میں مقابلہ جاری ہے کہ ان میں سے بڑا سائنسدان کون ہے؟لیکن یہ بات سچ نہیں ہے کہ اس نے اپنے سر پر سیب گرنے کے بعد کشش ثقل کو دریافت کیا تھا۔نیوٹن کے اولین بائیوگرافر ولیم سٹکلے کے مطابق سچ تو یہ ہے کہ ''1666ء میں یونیورسٹی آف کیمبرج کو کسی وباء کے باعث بند کر دیا گیا تھا۔لہٰذا نیوٹن اپنے گھر واقع لنکا شائر میں چھٹیاں منانے پہنچ گیا۔ میں اور نیوٹن1726ء میں درخت کے سائے میں چائے کی چسکیاں بھر رہے تھے۔ وہیں نیوٹن نے بتایا تھا کہ وہ اس درخت کے نیچے اکثر ہی بیٹھا کرتا تھا، وہ دیکھتا تھا کہ سیب ہمیشہ زمین کی طرف آتا ہے اوپر کی جانب کبھی نہیں گیا، شائد زمین کے مرکز کی جانب بڑھنے کی کوشش میں نیچے گرتا ہے۔یہیں اس نے کئی عشرے قبل کشش ثقل کا فارمولہ دریافت کیا تھا‘‘ ۔
    نیوٹن بہت اچھا کہانی نویس تھا، وہ اپنے دوستوں کو بار بار سیب گرنے کی کہانی سناتا ۔بدلتے وقت کے ساتھ کہانی بھی بدل گئی اور کہانی کار کے مطابق سیب زمین پرگرنے کی بجائے نیوٹن کے سر پر گرنے لگا۔

     

اس صفحے کو مشتہر کریں