1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

یونس گیا۔ یوسف آیا

'کھیل کے میدان' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر خیام, ‏12 نومبر 2009۔

  1. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    پاکستان کا کرکٹ ٹیم کی کپتان یونس خان نے نیوزی لینڈ کا دورہ کرنے میں معذوری ظاہر کیا ہے، اور کہا اے کہ گذشتہ کچھ میچوں میں ان کا اپنا کارکردگی معیاری نہیں رہا، اور وہ اپنی اور عوام کا توقعات پر پورا نہیں اتر رہے، اس لیے بہتر اے کہ وہ کچھ دنوں کیلئے کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کر لے، پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کا اس درخواست ، اور اس استدلال کو مان لی اے ور ان کی جگہ سیٰنر بیٹسمین محمد یوسف کو کپتان بنا دی اے۔
    خبر تو اتنا سارا ای اے لیکن اس کی پیچھے بوت سا کہانی اے۔ جو کوچھ پاکستان میں کا سیاست کی میدان میں ہوتی ے ایسا ہی کرکٹ کی میدان ، اور اس سے کہیں زیادہ کرکٹ کا پیویلین میں ہوتی اے۔ گرہ بندی نے ہمیشہ پاکستان کا کرکٹ کو نقصان پہنچائی اے۔ اس بار بھی یہی کھیل کھیلی جارہی اے۔چیمپئینز ٹرافی اور اس سی پہلے سری لنکا میں کھلی جانا والا سیریز میں ۔۔۔۔۔ اور اب نیوزی لینڈ کی خلاف ہارنے والا سیریز میں یہ بات کھل کر سامنے آگیا اے کہ ٹیم کی کچھ لوگ یونس خان کا کپتانی سے خوش نہیں تھی۔۔۔بوت باوثوق ذرائع کی مطابق کم از کم سات کھلاڑیوں نے بورڈ کو اپنی ناخوشی سے آگاہ کی تھی۔۔
    کچھ لوگ یہ بھی کہتی اے کہ ٹیم کی کھلاڑیوں میں اب بھی انظمام الحق کی اثر ورسوخ بوت اے۔ اور محمد یوسف نے کپتانی کو قبول کرنے سے پہلے اس کو فون سے بات کیا تھی۔۔۔
    یونس خان بوت محب وطن لوگ اے۔ اور وہ کھل کی دوران پورا پورا کمٹمنٹ مانگتی اے۔ وہ تیسرا اور آخری ایکروزہ میچ میں کچھ لوگ کے آؤٹ ہونے کی طریقہ سے خوش نہ تھی۔ یونس خان کی ہر جگہ یہ اعتراض رہی اے کہ وہ ٹیم ٹاک۔ ٹیم میٹنگ اور کھیل کی دوران جو ہدایات دیتی اے۔ ان کو نظر انداز کیا جاتی اے۔ اس لیے وہ سمجھتی اے کہ ٹیم کی اندر اس کی کنٹرول بوت کم اے۔ اور اس کا کمانڈ کو پورا دل سے نہیں مانا جاتی۔ اس لیے بہتر اے کہ پاکستان ٹیم کا بہتری کی واستیو ہ کچھ دیر کیلئے ایک طرف ہوجائے۔۔۔۔
    کامران اکمل کو محمد یوسف کی نائب بنایا گئی اے۔۔۔۔۔ اور ہوسکتی اے کہ شاہد آفریدی پاکستان کا ایکروزہ ٹیم اور 20/20 کی کپتان بن جائے۔۔۔۔۔ اور اگر مستقبل قریب میں انظمام الحق کو کوچ یا اسی قسم کا کوئی اور ٹیم کی اندر عہدہ دی گئ تو۔۔۔۔۔۔۔۔ کم از کم ام کو کوئی حیرت نہیں ہوگا۔۔
     
  2. حسن رضا
    آف لائن

    حسن رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جنوری 2009
    پیغامات:
    28,857
    موصول پسندیدگیاں:
    592
    ملک کا جھنڈا:
    شیئرنگ کا شکریہ
     
  3. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    خوب ھے خبر
     
  4. نعیم
    آف لائن

    نعیم مشیر

    شمولیت:
    ‏30 اگست 2006
    پیغامات:
    58,098
    موصول پسندیدگیاں:
    11,144
    ملک کا جھنڈا:
    یونس خان ایک میچور کھلاڑی ہے اور اپنے عرصہ کپتانی میں اس نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔

    میں شاہد آفریدی کا فین ہوں۔ لیکن میں ذاتی طور پر اسے کبھی بھی ورلڈ کلاس کرکٹر نہیں سمجھتا ۔ ایک لاابالی ٹلے باز اور میچور کرکٹر میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ جو کھلاڑی کی ٹیم کی صورتحال کی نزاکت کے مطابق اپنے آپ کو فٹ کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو ۔۔ وہ ٹیم کی کپتانی کا اہل کبھی نہیں ہوسکتا ۔
     
  5. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    ام نے ادر لکھتے ہوئے غلطی سے لکھ دی کہ آفریدی مستقبل میں 20/20 کی کپتان ہوگی۔ مجھے بتائی گئی اے کہ وہ پہلے ہی سے اس عہدے پر موجود اے۔۔ تھوڑا سا غلط فہمی لگا۔ اس کی واستی معذرت۔۔
    یونس خان واقعی ایک میچور اور سنجیدہ اور ورلڈ کلاس کھلاڑی اور بلے باز اے۔ لیکن جب بات کپتانی کا آتا اے تو اس کی واستی ضروری ہوتی اے کہ کپتان اپنا ٹیم کے ہر کھلاڑی کی مزاج کو سمجھے اور پھر اس کو اسی کی حساب سے کنٹرول کر کے اس کی صلاحیت کو استعمال کرے۔ یونس خان کی مسئلہ یہ اے کہ کبھی کبھی وہ بوت زیادہ جذباتی ہوجاتی اے۔ اور عمران خان بننے کی کوشش کرتی اے۔ اگر وہ اپنے آُ کو یونس خان ای سمجھے تو اسی میں اس کا اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا بہتری اے۔ ٹیم میں گروہ بندی شروع ہی سے اے۔ موجودہ صورتحال میں محمد یوسف کی کپتانی میں شعیب ملک کی ٹیًم میں موجودگی کی کتنی چانس اے، یہ وقت ہی بتائے گی۔
     
  6. زاہرا
    آف لائن

    زاہرا ---------------

    شمولیت:
    ‏17 نومبر 2006
    پیغامات:
    4,208
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    تبادلہء معلومات کا سلسلہ لائق تعریف ہے۔ :happy:
     
  7. حسن رضا
    آف لائن

    حسن رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جنوری 2009
    پیغامات:
    28,857
    موصول پسندیدگیاں:
    592
    ملک کا جھنڈا:
    خبر شیر کرنے کا شکریہ
     
  8. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    ویسے تو ام کو کبھی موقعہ نہی ملتی کہ کرکٹ کو ٹی وی پر دیکھ سکی۔لیکن اس دن اتفاق کا بات ہوگیا اور ام نے 20/20 والی میچ کی آخری چار اوور دیکھ لی۔ میچ کی بعد ام نے دیکھی کہ دس بارہ لوگ کھلاڑی لوگ کو انعام دے رہی تھی۔۔ کوئی 500 درھم دے رہی اے اور کوئی 500 ڈالر۔۔۔۔۔ اتنا دیر تک ٹی وی پر آنے کا یہ قیمت تو بوت کم اے۔۔۔اتنا دیر تک تو ٹی وی پر کمرشل کا ایڈ کلپ آئے تو زیادہ پیسہ لگ جاتی اے۔۔۔
     
  9. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یونس گیا۔ یوسف آیا

    یونس گیا، اور یوسف آیا لیکن دونوں ک پرفارمنس می کوئی فرق نہی پڑی۔ یوسف کپتان بننے سے پہلی سارا زندگی کا ٹیسٹ کرکٹ میں آٹھ بار صفر پر آؤٹ ہوا اور کپتان بننی کی بعد تین ٹیسٹ میں دو بار ہوگیا۔۔۔ کپتای کاشوق تو سب کو ہوتی اے لیکن لوگ یہ نیں سوچتی کہ اس سے زمہ داری کی بوجھ اور دوسرا بات کی سوچ بی تو بڑھ جاتی اے۔ جس کی واستی جب بیٹنگ کرنے کی واستی کپتان جاتی اے تو دوسرا سوچ سوچتی سوچتی اس کی اپنی بیٹنگ پر فرق پڑنے کی امکان کی چانس زیادہ ہوجاتی اے۔ کچھ لوگ کپتان بننے کی بعد زیادہ نکھر جاتی اے۔ لیکن اس کی واستی بوت ساری ذہنی مضبوطی کا ضرورت ہوتی۔۔ام کا دعا یوسف کی ساتھ اے۔ ام کو اس کا بیٹنگ بوت پسند اے۔ جب وہ کھیلتا اے تو لگتا اے شاید بیٹنگ دنیا کا آسان تین کام اے لیکن ام کو بوت افسوس ہوتی کہ جب وہ ٹھیک ٹھاک کھیلتا کھیلتا اچانک ایک ایسا شاٹ کھیلنے کی کوشش کرتا یا نہ کھلنے کی کوشش کرتا اور آؤٹ ہوجاتا۔ اس کی عالمی ریکارڈ بوت اچھا اے اور اس سے بوت اچھا اچھا ہوتا اگر وہ تھوڑا سا اور مزید توجہ اور دھیان دے تو۔۔۔ شاید اس کو کسی نے ابی تک بتائی نیہ کہ دنیا صرف عظیم بیٹسمین یا لوگ کو یاد رکھتی اے۔ اوسط لوگ کچھ عرصہ بعد بھلا دی جاتی اے۔۔ اور بیسٹ بننے کی واستی پسینہ کی ساتھ ساتھ خون بی مسام سے نکلتی اے۔
     
  10. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یونس گیا۔ یوسف آیا

    یونس گیا تھا۔۔ اب پھر واپس آرہا ہے۔۔۔ لیکن اب اس کو کپتان کی آفر نہیں ہوا۔۔۔
    کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ یونس کو کہیں کہ اس وقت تو تم کو دماغی تکھن ہوگیا تھا۔۔ اب ذرا سا ڈومیسٹک کرکٹ کھیلو۔۔۔۔ کچھ سکور کرو تاکہ ام کو پتہ چلے کہ وہ دماغی تھکن دور ہوا یا نہیں۔۔اس طرح جو اتنا عرصہ کرکٹ سے دور رہے ہو، اس کا زنگ بھی اتر جائے گی۔
     
  11. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یونس گیا۔ یوسف آیا

    یونس گیا۔۔۔ اور یوسف آگیا۔۔لیکن نتیجہ وہی کا وہی رہا۔۔۔
    دنیا کے کسی بھی کرکٹ کے میدان میں آخری دن اور چوتھی اننگ میں سکور کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی پانچویں دن صرف 27 اوورز میں سات وکٹوں کا گرنا افسوسناک ہے۔ اور وہ بھی ڈگ بولنگر، سڈل، واٹسن اور ہورٹز کے سامنے۔۔۔۔ جانسن کا نام اس لیے نہیں لکھا کیونکہ وہ واقعی ورلڈ کلاس باؤلر ہے۔
     
  12. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یونس گیا۔ یوسف آیا

    دس دن پہلے ام نے ایک آرٹیکل ادر لکھنے کا کوشش کی۔ آدھا لکھی تھا کہ کسی کام کی وجہ سے ام کو اٹھنا پڑ گئی۔ واپس آکر ام نے اس کو مکمل کی۔ اور جب پوسٹ کیا تو لکھا ہوئی نظر آئی کہ تم لاگ نہی اے۔ لاگ ان کرو تو پھر تم سے بات ہووئے گا۔ ام نے لاگ ان کیا۔ لیکن ام کی آرٹیکل غائب ہوگئی۔۔۔
    بہر حال مقصد اس کھوئی ہوئی آرٹیکل کا رونا نہی۔ بلکہ یہ اے کہ وہ ام نے اس واستی لکھی کہ ثابت کرے کہ پاکستان کا کرکٹ ٹیم ٹیسٹ کھیلنی کی موافق نہی اے۔ پاکستان کی بیٹنگ اور کسی حد تک بالنگ می اتنا دکل اور ہنر مندی والا بات نہی رہا کہ وہ پانچ دن تک ٹیسٹ کرکٹ کی معیار اے اس کو تکمیل تک پہنچا سکے۔ دوسرا ٹیسٹ کی تیسرا دن تک ام خوش تھا کہ چلو اچھا ہوئی کہ ام کی وہ آرٹیکل کہیں کھو گیا۔ لوگ اس کو پڑھتی اور ٹیسٹ میچ کی سکور کو دیکھتی تو ام کا بوت مذاق اڑاتی۔ لیکن ام کو کوئی خوشی نہی ہورہا کہ ام کی بات ٹھیک نکلا۔۔
    پاکستان می ٹیسٹ کرکٹ کا جو کمی اے۔ اس کا نتیجہ اب سامنے آرہی اے۔ کھلاڑی لوگ می تجربہ اور خود اعتمادی کا بوت کمی اے۔ مینیجمنٹ اور کپتان کی پاس ایسا جادو نہی رہی کہ وہ کھلاڑی کو ایک یونٹ کی مافک کھلا سکے۔ اور ہر وکٹ جدوجہد کرتی رہے ۔ سکور بنے یا بنے لیکن اپنا وکٹ ایسے نہ پھینکے کہ ناتھن ہورٹز جیسی کھلاڑی جس نے اس سیریز سے پہلے کبھی بھی ایک اننگ می پانچ وکٹ نہی لیا تھا، اس سیریز کی دونوں میچ میں اس نے یہ کارنامہ دکھا دی۔۔جبکہ اس کی مقابلے می دانش کنیریا جو ڈھائی سو وکٹ لے چکا اے کو دوسری اننگ می چار وکٹ کی واستی پچاس اوور کرانا پڑی۔۔
    ام نے لکھی تھا کہ پاکستان کی دومیسٹک کرکٹ می خرابی اے۔ ہر وقت اپنے قدرتی ٹیلنٹ کی بل بوتے پر دو چار کھلاڑی آجاتی اے اور پاکستان کبھی اچھا رزلٹ دکھا جاتی اے۔ لیکن محمد یوسف کی بعد سوائے عمر اکمل کے ام کو کوئی اور کھلاڑی نطر نہی آرہی۔۔۔ نہ بیٹنگ می، اور نہ ہی بالنگ می۔۔ جہاں تک بیس بیسی کرکٹ اور ایک روزہ کرکٹ کی سوال اے۔ وہ چھوتا دورانیے کی کرکٹ ہیں۔ ان می شاید پاکستان بہتر کارکدرگی دکھاتی رہے لیکن ٹیسٹ کرکٹ۔۔۔!!!! ام کو اندھیرا ہی نظر آتی اے۔۔۔۔ اور اندھیرا بھی دھند کی ساتھ۔۔
     
  13. عمر خیام
    آف لائن

    عمر خیام ممبر

    شمولیت:
    ‏24 اکتوبر 2009
    پیغامات:
    2,188
    موصول پسندیدگیاں:
    1,308
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یونس گیا۔ یوسف آیا

    کامران اکمل بھی شاید کل نہ کھیل سکے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی گیا۔ اس کی جگہ کراچی کے نوجوان وکٹ کیپر سرفراز احمد کے کھیلنے کے امکان ہیں۔ یاد رہے کہ کل ۔۔یا یوں کہہ لیں کہ آج شام کو پاکستان کا آسٹریلیا سے تیسرا ٹیسٹ ہوبارٹ میں شروع ہورہا ہے۔
     
  14. محبوب خان
    آف لائن

    محبوب خان ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جولائی 2008
    پیغامات:
    7,126
    موصول پسندیدگیاں:
    1,499
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یونس گیا۔ یوسف آیا

    آسٹریلیا دو سو اکتیس رن سے جیت گیا

    آسٹریلیا نے پاکستان کو ہوبارٹ ٹیسٹ میں دو سو اکتیس رن سے ہرا کر مسلسل چوتھی سیریز تین صفر سے جیت لی ہے۔ چار سو اڑتیس رن کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے پاکستان کی ٹیم دو سو چھ رن پر آؤٹ ہو گئی۔

    باقی تفصیل کے لیے کلک کریں
     
  15. محبوب خان
    آف لائن

    محبوب خان ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏28 جولائی 2008
    پیغامات:
    7,126
    موصول پسندیدگیاں:
    1,499
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: یونس گیا۔ یوسف آیا

    برِسبین میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ایک روزہ سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان کے کپتان محمد یوسف نے نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلے کیا۔

    یہ بین الاقوامی ایک روزہ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ ہے اور اس میں پاسکتان کے سابق کپتان یونس خان کو ٹیم میں واپس لایا گیا ہے۔

    تفصیل کے لیے کلک کریں
     

اس صفحے کو مشتہر کریں