1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

"یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

'اردو ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن سید, ‏21 جولائی 2009۔

  1. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,404
    موصول پسندیدگیاں:
    7,506
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    انکل آپ کے مسئلے کے حل کے لئے ایک اور تجویز ہے جب آپ اپنی تحریر مکمل کر لیں تو اسے ارسال کرنے سے پہلے اپنے براؤزر کی سب سے اوپر موجود آپشنز میں سے فائل کی آپشن میں جا کر سیو کر لیا کریں۔ اس طرح آپ کا سارا ویب پیچ آپ کے کمپیوٹر پر محفوظ ہو جائے گا۔ بعد میں آپ اسے ارسال کر سکتے ہیں۔ جب ارسال ہو جائے تو بعد میں اپنے کمپیوٹر سے چاہے تو اسے حذف کر دیں۔ اس طرح آپ کی لکھی ہوئی تحریر ضائع ہونے سے بچ سکتی ہے۔ باقی بے شک آپ تھوڑا لکھیں لیکن لکھیں ضرور۔ شکریہ
     
  2. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    اپنی اس "یادوں کی پٹاری" کے لکھنے کیلئے میں یہاں کے تمام دوستوں ساتھیوں اور بچوں کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میری ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی، اور ہر وقت میری رہنمائی بھی فرمائی،!!!! جس کی وجہ سے میں نے ہر ایک کے قیمتی مشوروں اور اصلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی کہانی کو جاری رکھا،!!!!!

    میں اللٌہ تعالیٰ کا بہت ہی شکر گزار ہوں کہ میری اپنی زندگی کی اس ناؤ کو ہر نشیب و فراز سے گزارتا ہوا، طوفان اور ہر مشکل گھڑی کو بہتر طریقے سے منزل مقصود کی طرف رواں دواں رکھا،!!!!

    آج جب میں اپنے بچپن کے حالات اور واقعات کی طرف نظر ڈالتا ہوں اور پھر اس دور کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے زمین اور آسمان کا فرق نظر آتا ہے، جب کہ وہ وقت بالکل سادہ طرز زندگی پر محیط تھا مگر بہت سکون اور راحت کا دور تھا، لوگوں کے پاس وقت تھا، اکثریت میں لوگ لالچ اور ہوس جیسی لعنت سے کوسوں دور تھے، اور وہ اپنے سے زیادہ وقت دوسرے لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے بلا معاوضہ خدمات میں صرف کرنے میں خوشی محسوس کرتے تھے،!!!!!

    میں یہ نہیں کہتا کہ اس وقت برے لوگ نہیں تھے، مگر ان کی تعداد بہت ہی کم تھی، اور وہ بھی کوئی بھی برا کام کرتے وقت بہت ڈرتے تھے، مگر وہ بھی بظاہر سب کے ساتھ بہت اچھا رویہ رکھنے پر مجبور تھے، ان کے برے کاموں پر اکثریت سمجھانے بجھانے کے ساتھ ساتھ انہیں معاف بھی کردیتی تھی، جس کی وجہ سے ایسے کافی سارے لوگوں نے اپنے برے کاموں سے توبہ کرتے ہوئے صحیح راستوں کو بھی اپنایا، ایک وجہ یہ بھی تھی کہ لوگوں کی اکثریت اس وقت ان کی برائیوں پر پردہ بھی ڈالتی تھی،!!!!!!!!!!

    ہم چونکہ اس وقت اپنے بچپن سے گزر رہے تھے، اس لئے ہمیں اتنا زیادہ دنیا داری کی طرف دھیان نہیں تھا، مگر یہ بات ضرور ہے کہ کم وسائل کے باوجود ھمارا بچپن بہت ہی خوشگوار ماحول میں گزرا جبکہ اس وقت ہم بچے بھی شرارتوں سے باز نہیں آتے تھے اور اسی روانی میں ہمیں احساس ہی نہیں ہوا ہے کہ ھم بڑے کیسے ہو گئے،!!!!! یہ وقت ہے آج سے تقریباً 50 سے پہلے کا، جب میں اپنے بچپن کے خوشگوار ماحول میں شرارت اور اٹھکیلیاں کر رہا تھا،!!!!!

    جاری ہے،!!!!!!
     
  3. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,673
    موصول پسندیدگیاں:
    16,911
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    شریر بھائی اوہ معاف کیجئے سید بھائی دیر کررہے ہیں آپ
     
  4. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    جی ہارون بھائی،!!!
    میں تو آپ کے تبصرے کے انتظار میں تھا، کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری کہانی کو دوبارہ خلاصہ کے طور پر پیش کرنے پر کہیں آپ ناراض نہ ہوجائیں،!!!!!
    اب آپ نے اپنی بے چینی کا اظہار کیا ہے تو میں شروع ہوجاتا ہوں،!!!!


    وہ واقعی کیا دن تھے، ہمیں تو یہ احساس اب جاکر ہوا ہے کہ اس وقت کا دور اور اب کے دور میں کتنا فرق ہے، اور شاید یہ قدرت کی طرف سے ہے، کہ یہ تو ہونا ہی تھا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے اعمالوں کی سزا بھگت رہیں ہوں،!!!!

    جیسا کہ میں نے پہلے بھی یہ کہا تھا کہ اس وقت بھی برائی تھی مگر برائی سے جڑے ھوئے لوگوں کی تعداد بہت ہی کم تھی، اور وہ سب اس وقت شریف اور عزت دار لوگوں سے ڈرتے تھے، لیکن اب وقت ایسا آگیا ہے کہ ہر شریف اور عزت دار شخص برے آدمیوں سے ڈرتا ہے،!!!!!

    اب آپ میری تحریر سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہوں گے، کہ اس وقت اور اس دور کی اچھائیوں اور برائیوں کا تناسب اس دور کی مناسبت سے کیا تھا،!!!!

    اچھائی پھیلتے پھیلتے اپنا ایک وقت لیتی ہے، لیکن ایک ذرا سی برائی پل بھر میں تمام اچھائیوں پر پانی پھیر دیتی ہے،!!!!

    جاری ہے،!!!!!
     
  5. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    بہت شکریہ ملک بلال جی،!!!
    میری تو کوشش یہی ہوتی ہے کہ میں پہلے کاپی کرکے محفوظ کرلوں لیکن بعض اوقات میں بلکہ اکثر میں بھول جاتا ہوں، اور بعد میں سر پکڑکر بیٹھ جاتا ہوں، بس انتظار میں اس وقت تک شش و پنج میں رہتا ہوں کہ کہیں اگر میرا لکھا ہوا سب غائب ہوگیا تو کیا پوگا،!!!! اگر پوسٹ ہوگیا تو کیا کہنے،!!!!! اور غائب ہوگیا تو بس خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہوں،!!!!!

    اب میں یہی کرونگا کہ کچھ مختصر لکھوں اور محفوظ بھی کرلوں، تاکہ پوسٹ کرتے وقت ہماری اردو کے فورم کو زیادہ زحمت نہ اٹھانی پڑے،!!!!!

    خوش رہیں،!!!!
     
  6. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا، اپنے وقت کے پرانے دور کی اچھائیوں اور برائیوں کی،!!!! اس وقت 1958 میں میرے بچپن کا دور جب میں تقریباً آٹھ سال کا تھا، اور چوتھی جماعت کو پاس کر کے بانچویں کلاس میں پہنچ چکا تھا، کیا بات تھی میرے اسکول کی،!!!!! میں اس اپنے کینٹونمنٹ پبلک اسکوٌل کو اپنی زندگی میں کبھی بھی نہیں بھول سکتا، جو راولپنڈی میں صدر کینٹ میں واقع تھا، اور ہماری رہائش بھی وہیں نزدیک ہی پشاور روڈ پر پریڈ گراونڈ جو ریس کورس گراونڈ کے سامنے تھا، اور اب قاسم مارکیٹ کے نام سے مشہور ہے،!!! وہاں ہمارا مکان تھا، والد صاحب چونکہ ملٹری میں تھے، اس لئے وہاں پر ملٹری فیملی کوارٹرز میں ہمیں ایک چھوٹا سا خوبصورت دو کمروں کا مکان ہر سہولت کے ساتھ ملا ہوا تھا، جس کا نمبر مجھے ابھی تک یاد ہے، 21/p،!!!!

    بیچ میں سڑک اور دونوں اطراف میں مکانات لائن میں بنے ہوئے تھے، وہاں میرے بچپن کے دوست بھی تھے، جن کے ساتھ ہم شام کو کھیلتے اور اکثر شام کو والد صاحب ہمیں ریس کورس گراؤنڈ میں گھمانے لے جاتے تھے،!!!!!!

    بہت اچھا ماحول تھا، ملنسار اور خوش اخلاق لوگ اور سب کا تعلق پاکستان کی افواج سے ہی تھا، !!!!!!

    جاری ہے،!!!!!
     
  7. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    اگر آپ میں سے شروع میں اگر کسی نے پڑھا ہو تو شاید اندازہ لگا ہی لیا ہوگا، کہ اس وقت کے گورنمنٹ اسکولوں کا ڈسپلن بہت ہی اچھا اور معیاری تھا، پرائیویٹ اسکول بھی تھے، لیکن ان کی فیس اس وقت کے لحاظ سے بہت مہنگی تھی، جہاں صرف افسران بالا اور بڑے کاروباری حضرات کے بچے ہی پڑھ سکتے تھے،!!!!

    ویسے بھی سرکاری رجسٹرڈ اسکولوں کا ماحول اور پڑھائی کا معیار کسی پرائیویٹ اسکول سے کم نہیں تھا، اور وہاں بھی ہمارے ساتھ کئی افسران بالا کے بچے بھی پڑھتے تھے، لیکن آپس میں کوئی اونچ نیچ کی کوئی تمیز نہیں تھی، سب کے ساتھ اساتذہ رویہ ایک جیسا ہی تھا، اور ساتھ ہی آپس میں بچے بھی حسن سلوک سے رہتے تھے، مجھے یاد ہے کہ جب تک میں اس اسکول میں رہا مجھے کوئی بھی پریشانی نہیں ہوئی، ان ماہرانہ اساتذہ کے پڑھانے کا انداز بہت ہی خوبصورت اور مخلصانہ تھا، جس کی وجہ سے ان کی کہی ہوئی بات مکمل طریقے سے ذہن میں بیٹھ جاتی تھی،!!!

    جہاں سختی کی ضرورت پڑتی تھی، وہاں پر ہلکی پھلکی سزائیں بھی دی جاتیں، تاکہ بچے اپنے اسکول کے ڈسپلن کو خراب نہ کرسکیں، لیکن ایسا بہت کم ہی ھوتا تھا، کیونکہ ہر بچہ اسکول کی قوائد و ضوابط کی پابندی کرتا تھا، اور گھر پر بھی والدین اپنے بچوں کا خیال رکھتے اور اسکول جانے سے پہلے مائیں انہیں صاف ستھرے کپڑے پہنا کر اور بستوں کو تیار کرکے اسکول بھیجا کرتیں،!!!!!!

    میں چند ہی مختصر سی وہ باتیں بتاؤں گا جس کی وجہ سے اس وقت کے اسکولوں کا تعلیمی معیار آج کل کے اسکولوں سے لاکھ درجے بہتر کیوں تھا، کہانی لکھتے وقت میں نے ان سب باتوں کا ذکر بھی کیا تھا، لیکن شاید ہوسکتا ہے کہ کسی کا روانی میں پڑھتے ہوئے اس طرف دھیان نہ جاسکا ہو،!!!!!

    ایک تو ہم صبح صبح خوشی سے تازہ دم ہوکر اٹھتے تھے، اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہمیں رات کو سونے کی لئے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے اپنے بستروں پر جلد ہی سونے کیلئے بھیج دیا جاتا تھا، چاہے وہ ویک اینڈ ہی کیوں نہ ہو،!!!! جس کی ہمیں عادت پڑچکی تھی، اور اپنے وقت پر ہی نیند آجاتی تھی، اس لئے صبح صبح مکمل نیند کے بعد ہشاش بشاش بیدار ہوجاتے، اپنے وقت پر ہمیں والدہ اپنی نگرانی میں تیار کراتیں اور بستے میں ہمارے سامنے ہی کتابیں کاپیاں لکنے پڑھنے کی ضرورت کی چیزیں قرینے سے یاد دلا کر ڈالتی،!!!!

    چونکہ ہم بچے اسوقت چھوٹے تھے، میں اور میری چھوٹی بہن جو اس وقت شاید دوسری یا تیسری کلاس میں ہوگی،!!!! اس کا تو والدہ بہت ہی زیادہ خیال کرتیں اور بہت احتیاط سے روز صبح صبح تمام باتوں کی یاددہانی کراتیں اور نصیحتیں کرکے ہمیں دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتیں،!!!!

    کبھی کبھی تو والد صاحب ہی ان کی جیپ میں ہی ہمیں لے جاتے ورنہ تو ہم اکثر پیدل ہی چلے جاتے، راستے میں دوسرے بچے بھی ہمارے ساتھ ہوجاتے، زیادہ سے زیادہ 15 منٹ سے زیادہ کی مسافت نہیں ہوگی،!!!!!

    ہمارے ساتھ گلے میں بستہ ہوتا اور ایک ہاتھ میں لکڑی کی تختی ہوا کرتی تھی، اور بستے کے ایک خانے میں کالی سیاہی اور لکڑی کا قلم بھی رکھا ہوتا تھا، لکڑی کی تختی کو ہم روزانہ رات کو ہی دھو کر ملتانی مٹی کا لیپ لگا کر اس پر دوبارہ لکھنے کے قابل بنا لیتے تھے، اور کاپی کتابوں کے علاوہ ایک کالی سلیٹ بھی تھی، جس پر ہم ایک سلیٹی یا چاک سے لکھا کرتے اور ایک صاف کپڑے سے مٹاتے،!!!!

    اس کے علاؤہ اس وقت ہمیں کاپیوں پر صرف اور صرف پنسل سے ہی لکھنے کی اجازت تھی، اس وقت یہ بال پین وغیرہ تو نہیں تھے، جبکہ فاؤنٹین پین کی بہتات ضرور تھی جسے صرف سیکنڈری اسکولوں میں ہی استعمال کرنے کی اجازت تھی،!!!!! پرائمری اسکولوں میں بالکل تو اسے چھونے کی بھی اجازت نہیں تھی،!!!!! ہاں پانچویں جماعت میں قلم دوات کو الگ انتظام کرنا پڑتا تھا، جو زیڈ کی نب کا قلم ہوتا تھا اور ایک دوات نیلے رنگ کی جس میں قلم ڈبو کر اردو لکھی جاتی تھی، اور ایک اور قلم باریک نوک والی نب کے ساتھ، اس کو دوات میں ڈبو کر انگلش لکھنے کی پریکٹس کرائی جاتی تھی، اور لکڑی کی تختی پر لکڑی کے قلم سے کالی سیاہی کی دوات میں ڈبو کر اردو میں لکھائی کرائی جاتی، جو کہ پورے دن میں ہمیں دو تین دفعہ لکھتا پڑھتا تھا، اور روزانہ ہاف ٹائم میں ہمیں اس تختی کو دوبارہ استعمال کیلئے دھو کر ملتانی مٹی کا لیپ لگا کر سکھانے کی ایک ذمہ داری بھی تھی، تاکہ وقفے کے بعد ہم اس پر دوبارہ لکھ سکیں، اس کیلئے ہمیں پندرہ منٹ درکار ہوتے اور باقی پندرہ منٹ ہم سب بچے کھیل کود میں گزارتے، جب تک تختی بھی سوکھ جاتی تھی،!!!!!!!!

    اسکول میں پڑھائی شروع ہونے سے پہلے اسمبلی کی کلاس میدان میں ہوتی تھی ہم سب اپنے بستے اپنی اپنی ڈسک پر چھوڑ کر اپنی اپنی کلاس کی لائن میں کھڑے ہوجاتے، اس سے پہلے کہ قران پاک کی تلاوت اور قومی ترانہ شروع ہو ہر کلاس کے ٹیچر اپنی کلاس کی لائن میں تمام بچوں کا ناخن اور پیچھے سے سر کے بالوں کا جائزہ لیتے کہ کہیں ناخن بڑھے ہوئے تو نہیں اور بال قرینے سے کٹے ہوئے اور کنگھی کئے ہوئے ہیں یا نہیں، اس کے علاوہ یونیفارم اور جوتے صاف ستھرے ہیں یا نہیں !!!! جو بچہ اس معیار پر گھر سے تیار ہوکر نہیں آتا، اسے الگ لائن میں سب اسکول کے بچوں کے سامنے سزا کے طور پر کھڑا کردیا جاتا، جس کی شرمندگی بچوں کو اتنی ہوتی تھی کہ بعض تو رونے لگتے تھے، اور بعد میں قران کی آیات کی تلاوت اور پھر قومی ترانہ پڑھا جاتا، پھر سب باری باری ایک لائن میں اپنی اپنی کلاسوں میں چلے جاتے،!!!!

    ایک بات اور تھی کہ جو بچہ اسکول کے قوائد و ضوابط پر پورا نہیں اترتا تھا، پہلی دفعہ تو اسے سب کے سامنے کھڑا کرکے معاف کردیا جاتا تھا، لیکن دوسری مرتبہ اگر اس نے غلطی دہرائی تو ایک ہاتھ پر تین دفعہ چھڑی لگائی جاتی، مگر تیسری بار ان کی غلطی کرنے پر ان کے والدین یا سرجو بھی سرپرست ھوں انہیں بلایا جاتا، تاکہ بچوں کی ان غلطیوں کو سدھارنے کیلئے ان سے شکائت اور مشورہ دیا جاتا اور اس بات پر اس وعدہ کے ساتھ ان کو تنبیہ بھی کی جاتی کہ اگر ائندہ اگر بچےکی طرف سے کوئی کوتاہی ہوئی تو اس کا نام اس اسکول سے خارج کردیا جائے گا،!!!! اس کا اطلاق ہر جگہ پر لاگو ہوتا تھا چاہے وہ پڑھائی میں کوئی کمی بیشی ہو یا گھر پر سے اسکول کا کام نہ کرکے لانا اور کوئی آپس میں لڑائی جھگڑا یا انکی ایسی شرارت جو ناقابل معافی ہو،!!!!

    مگر ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ کوئی اکا دکا کبھی کبھی اس سزا کا شکار ہوجاتا ہر کوئی اس کا خیال رکھتا اور ساتھ والدین بھی بہت مدد کرتے تھے،!!!!

    اس کے علاوہ اساتذہ بھی اپنے طور پر خود بھی بالکل ڈسپلن میں رہتے، کبھی ہم نے انہیں بچوں کے سامنے زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے یا آپس میں زور سے باتیں کرتے ہوئے نہیں دیکھا، ان کے لئے ایک الگ کمرہ بیٹھنے کے لئے بنا ہوا تھا، وہاں وہ آپس میں گپ شب اور ساتھ چائے کا دور بھی چلا لیا کرتے تھے،!!!!!!!

    میں نے اس وقت کسی بھی استاد کو اسکول میں سگریٹ پیتے ہوئے نہیں دیکھا، ہوسکتا ہے کہ کئی سگریٹ نوشی کے بھی عادی ہوں، اور میں نے ایک دفعہ اسکول سے باہر اپنے استاد کو سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا لیکن انہوں نے مجھے دیکھ کر فوراً ہی سگریٹ اپنے پیچھے چھپا لی، جیسے کوئی انہوں نے جرم کیا ہو اور خاموشی سے میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے نکل گئے،!!!!!!!

    جاری ہے،!!!!!
     
  8. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    بہت کچھ لکھا تھا،!!! بس نہ جانے غلطی سے کیا کچھ ہوگیا، اور سب کچھ غائب،؀!!!!!!
    خیر بہت دکھ ہوا، ساری محنت بے کار چلی گئی،!!!!! چلو پھر کوشش کرتے ہیں،!!!!! مگر ابھی نہیں بعد میں جب موڈ ٹھکانے پر آجائے،!!! آج تو گپ شپ میں بھی نہیں گیا،!!!
     
  9. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    میں نے اس وقت کسی بھی استاد کو اسکول میں سگریٹ پیتے ہوئے نہیں دیکھا، ہوسکتا ہے کہ کئی سگریٹ نوشی کے بھی عادی ہوں، مگر میں نے ایک دفعہ اسکول سے باہر اپنے استاد کو سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا لیکن انہوں نے مجھے دیکھ کر فوراً ہی سگریٹ اپنے پیچھے چھپا لی، جیسے کوئی انہوں نے جرم کیا ہو اور خاموشی سے میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے نکل گئے،!!!!!!!

    اس وقت کا ذکر میں زیادہ اس لئے کررہا ہوں کہ میں اس وقت کے ہر اچھے برے پہلو کو سامنے لانا چاہتا ہوں، کیونکہ وہ زمانہ میں کبھی بھی بھول نہیں سکتا، کم وسائل میں اس سادہ زندگی میں جہاں ہماری ضروریات بھی محدود تھیں، کیونکہ لوگوں کی اکثریت بھی قناعت پسند تھی، زیادہ لالچ اور حرص نہیں کرتے تھے، اس سادگی میں لوگ غلطیاں بھی کرجاتے تھے، جس سے نقصان بھی اٹھاتے، لیکن پھر اس سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اپنے آپ کو سنبھال بھی لیتے تھے،!!!!

    1958 میں والد صاحب کا جب تبادلہ کراچی ہوا، تو مجھے بھی مجبوراً اپنے اس بہترین اسکول سے خارج کروالیا گیا، جس کا کہ مجھے اب تک بہت زیادہ افسوس ہے، اب کراچی پہنچتے ہی والد صاحب کی سوچ میں کچھ تبدیلی آئی کیونکہ ان کی سروس کی ریٹائرمنٹ ختم ہونے میں شاید 5 سال باقی تھے اور وہ وہ چاہتے تھے کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے کچھ مزید بچت میں اضافہ کرلیا جائے،!!!!

    ان کی اسی سوچ نے میری پڑھائی پر بہت برا اثر ڈالا لیکن پھر بعد میں سنبھلے تو سہی لیکن وہ مجھ میں بہتری تعلیمی معیار پیدا نہیں کرسکے، ایک تو انہوں نے اپنے رہائش کا الاونس لینے کیلئے قریب ہی ایک کچی آبادی میں ایک کونے میں کچا سا مٹی اور گارے سے دو تین کمروں مکان اپنے ہی ہاتھوں تعمیر کیا جس میں ان کے محلے کے ساتھیوں نے بھی کافی مدد کی، وہ علاقہ گورنمنٹ سے منظور شدہ نہیں تھا، لیکن وہاں پر لوگ رہ رہے تھے، اور اس طرح کی آبادیاں اس وقت بہت زیادہ تھیں،!!!!!!!!

    شروع شروع میں تو مجھے وہ علاقہ پسند نہ آیا، کیونکہ ایک تو وہاں بجلی نہیں تھی، دوسرے کچا مکان جہاں ہمیں رہنے کی عادت نہیں‌تھی، اور وہاں کے بچوں سے ناشناسائی،!!!! خیر آہستہ آہستہ وہاں پر رہتے رہتے اپنے آپ کو عادی بنالیا اور اس ماحول میں کھو گیا، جیساکہ آپ نے شروع میں تفصیل سے پڑھا ضرور ہوگا، لیکن میری پڑھائی کا معیار بالکل گر گیا، مجھے والد صاحب نے ایک ٹاؤن کمیٹی کے پرائمری اسکول میں داخل کرادیا، ایک تو اچھے گورنمنٹ اسکولوں میں داخلہ مل نہ سکا اور دوسرے وہ کچھ بچت کے چکر میں میری پڑھائی کی طرف دھیان دینا بھول گئے، ہوسکتا ہے کہ شاید یہ میرا خیال غلط ہو،!!!!!

    وہاں میں کچھ بے راہ روی کا شکار ہوا، اس سال بس وہاں کے بچوں سے تنگ آکر اور ماسٹر صاحب کے غضب سے ڈر کر اسکول جانا ہی چھوڑ دیا، جس کی وجہ سے میرا نام اس اسکول سے خارج کردیا گیا، گھر سے تو کہہ کر جاتا رہا لیکن اسکول کے بجائے میں شہر کی سیر کرتا اور خوب گھومتا پھرتا رہا، اور خرچے پورے کرنے کیلئے والدہ سے جھوٹ پر جھوٹ بول کر ان سی کسی بھی بہانے پیسے اینٹھتا رہا، عمر آٹھ یا نو سال کی ہوگی، انہی دنوں بہت ساری چالاکیوں نے بھی جنم لیا، جس کی تفصیل سے شروع میں ذکر بھی ہے،!!! ایک تو والدہ نے بھی میری چال ڈھال سے کچھ نوٹس نہیں لیا اور دوسرے والد صاحب نے بھی ایک دن بھی اسکول جاکر میری پڑھائی کے بارے میں خبر نہ لی،!!!!!!

    کاش کہ میں سب کچھ اس وقت والد صاحب کو بتادیتا کہ میرا اسکول سے نام خارج کرکے مجھے نکال دیا گیا ہے، لیکن ان کے ہی ڈر سے میں نے خود ہی خاموشی کو بہتر جانا، اور پھر جو گھومنے پھرنے میں مزا ملا، جس کی وجہ سے میری پڑھائی میں بربادی کی چنگاری کو خوب ھوا ملی،!!!!!

    جاری ہے،!!!!
     
  10. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,404
    موصول پسندیدگیاں:
    7,506
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    انکل بہت شکریہ اپنی یادیں شیئر کرنے کا۔ جیسے جیسے آپ کی تحریر پڑھتا جا رہا تھا ویسے ویسے اپنے بچپن کے دن بھی ایک فلم کی طرح دماغ میں گھومتے چلے جا رہے تھے۔ یادیں انسان کا بہت بڑا سرمایہ ہوتی ہیں۔ تلخیاں ، محرومیاں ، خوشیاں ، دکھ ، سکھ سب قسم کے نوادرات تو ہوتے ہیں اس خزانے میں۔ اور یہ خزانہ ہمارے ساتھ بانٹنے کے لئے ایک بار پھر شکریہ۔ آخر تک آتے آتے آپ کا لہجہ کافی تلخ ہو گیا تھا۔ برا نہ منائیے گا آخر میں لکھی گئی کچھ باتیں مجھے غیر جانبدارانہ نہیں لگیں۔ بہر حال میں کیا اور میری بساط کیا۔ ماشاءاللہ آپ کی تحریر میں شگفتگی ، روانی اور برجستگی کمال کی ہے۔
     
  11. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    بہت شکریہ ملک بلال جی،!!!!

    میں اب جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں وہ میری لکھی ہوئی کہانی "یادوں کی پٹاری" کا ایک مختصر سا مگر مکمل نفع و نقصان کا جائزہ ہے جس میں ان تمام پہلوؤں کو اجاگر کررہا ہوں، جہاں میری اپنی زندگی میں گزرے ہوئے ان تمام نشیب و فراز کا ذکر ہے، جن سے چاہیں تو پڑھنے والے کچھ نصیحتیں اور سبق بھی حاصل کرسکتے ہیں، اور اپنے آئندہ مستقبل کے معماروں کے لئے ایک بہترین مشعل راہ کی بنیاد رکھ سکتے ہیں!!!!!

    یہ بھی ممکن ہے کہ میرا لہجہ کبھی خوش باش اور کبھی کچھ تلخ بھی ہوگیا ہو، جس سے میرے اپنے اندرونی کیفیت کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے، کہ میں نے اپنی زندگی میں کتنا نفع اور نقصان اٹھایا،!!!!

    میں کوئی مستند ادیب یا شاعر تو ہوں نہیں، جو بھی زباں پر آتا ہے لکھتا چلا جاتا ہوں،!!!!!لکھنے وقت اگر مجھ سے غلطی یا کسی کی دل آزاری ہوئی ہو معذرت چاہتا ہوں،!!!!

    خوش رہیں،!!!!
     
  12. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    کاش کہ میں سب کچھ اس وقت والد صاحب کو بتادیتا کہ میرا اسکول سے نام خارج کرکے مجھے نکال دیا گیا ہے، لیکن ان کے ہی ڈر سے میں نے خود ہی خاموشی کو بہتر جانا، اور پھر جو گھومنے پھرنے میں مزا ملا، جس کی وجہ سے میری پڑھائی میں بربادی کی چنگاری کو خوب ھوا ملی،!!!!!

    میرے بچپن کے پہلے اسکول کی بنیاد بہت اچھی تھی، وہاں کی پڑھائی کا انداز اور معیار بہت ہی اعلیٰ تھا، جس کا سہرا وہاں کی بہترین انتظامیہ تھی ،!!!!! جہاں میں نے بہت شوق سے محنت سے اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دی، وہاں کی خاص بات یہ بھی تھی کہ ہمیں اپنی اسلامی قدروں سے بھی مکمل طور پر روشناس کرایا گیا اور ساتھ عبادات، قران کی تفسیر و تشریح اور سیرت نبوی (ص) کی طرف بھی مکمل توجہ سے پڑھایا گیا، لیکن جیسے ہی مجھے دوسرے اسکول کی طرف جانا پڑا جہاں کا معیار بالکل بدتر اور غیر اخلاقی تھا، والد صاحب نے وہاں کا ماحول دیکھے بغیر ہی ایک سستے سے مفت پڑھائی کے چکر میں مجھے ایک غلط اسکول میں داخلہ دلادیا،جہاں کے بچے اور ساتھ استاد بھی ایک سے ایک بڑھ کر تھے، جبکہ اچھے اسکولوں کی کوئی کمی نہیں تھی،!!!!!

    میں نے اس اسکول میں اپنا ایک سال ضائع کیا لیکن جب والد صاحب نے مجھے اس سلسلے میں جو سزا دی اگر آپ اسے پڑھیں گے تو شاید حیران اور پریشان ہوجائیں، کیونکہ وہ ایسی سخت سے سخت ترین سزا تھی جسے میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا، اور اب تک اس کا اثر باقی ہے، کہ اس وقت سے لے کر اب بھی میں کبھی کبھی سوتے میں چیخ مارتے ہوئے اٹھ جاتا ہوں،جس سے سب گھر والے پریشان ہوجاتے ہیں،!!!!!

    مجھے پھر بھی والد صاحب نے وہاں پر ہی اسی اسکول میں دوبارہ سے داخل کرایا لیکن اس دفعہ انہوں نے مجھے گھر پر اپنی نگرانی میں پڑھائی کرائی، اور اسکول بھی برابر مہینے میں کم از کم دو بار ضرور چکر لگاتے رہے، جس کی وجہ مجھے ایک تو اس سزا کا خوف اور دوسرے ان کے بار بار اسکول آنے کی وجہ سے کچھ تھوڑی بہت پڑھنے کیطرف اپنے آپ کو مائل کیا، لیکن اس طرح نہیں جیسے ہونا چائے، بس سمجھیں کہ وہاں سے بس گزارے کیلئے پانچویں جماعت پاس کر ہی لی، 1960 کا زمانہ تھا، سیکنڈری اسکول میں داخلہ دلانے کیلئے انہوں نے اس دفعہ ایک اچھے گورنمنٹ اسکول کو چنا جہاں کے بارے میں سنا تھا کہ وہاں کی پڑھائی اور انتظامیہ بہت اچھی تھی،!!!!! اس اسکول میں درمیانے درجے کی محنت کی، لیکن والد صاحب کی خواہش کے مطابق میں اچھے نمبر پھر بھی نہ پا سکا، جس کی وجہ وہی دوسرے پرائمری اسکول کی تھی، جہاں کا ماحول اور تعلیمی معیار بہتر نہ تھا، مجھے نویں جماعت میں اچھے نمبر حاصل نہ کرنے کی وجہ سائنس کی جماعت میں داخلہ نہ مل سکا، بس آرٹس کی کلاس میں مجھے اور میری طرح کے لڑکوں کو بھیج دیا گیا، ہمیں تو کوئی فرق نہیں پڑا، اور نہ ہی کچھ اس میں برائی محسوس کی، مگر ایک اچھی خاصی تعداد اچھے نمبر لانے والے لڑکوں کی تھی جنہیں سائنس کی جماعت میں داخلہ ملنے کی سعادت نصیب ہوئی،!!! جس کی وجہ سے ھمارے کئی ساتھی ہم سے بچھڑ کر دوسری کلاسوں میں چلے گئے،!!!!

    اور پھر ہم سب ایک ہی مزاج کے شرارتی اور کھلنڈرے لڑکوں کی صف میں اکھٹا ہوگئے، مگر پھر بھی شرارتوں کے ساتھ ساتھ والد صاحب کی توجہ اور اساتذہ کی کوششوں سے میٹرک میں سیکنڈ پوزیشن حاصل کرہی لی، جو کہ اس وقت کے بی گریڈ کے برابر تھی !!!!

    اس وقت 1965 میں اپنے محلے میں شاید واحد لڑکا ایسا تھا، جس نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا، اس لئے اپنی ناک کچھ اونچی رہی اور ہماری خوب واہ واہ بھی رہی،!!!! اب تھا کالج میں داخلہ لینے کا مسئلہ کہ کونسا کالج بہتر رہے گا، اور اختیاری مضمون کونسا لیا جائے، مجھے تو مصوری آرٹ اور ادب سے لگاؤ تھا، اور آرٹس کونسل میں داخلہ لینا چاہتا تھا لیکن والد صاحب کے اصرار پر مجھے کامرس اور اکاونٹنگ میں ہی داخلہ لینا پڑا، وہاں پڑھائی میں کیا دلچسپی لیتا لیکن اس کالج میں تو مجھے ایک نئی آزادی ملی، نہ وہاں حاضری ہوتی تھی اور نہ کوئی پوچھتا تھا، بس مرضی تھی کسی بھی پیریڈ میں جاؤ یا نہ جاؤ، جس سے میں نے اور ہم جیسے لڑکوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور کالج کی دوسری سیاسی اور تفریحی پروگراموں میں دلچسپی لینے لگے، اور والد صاحب کی توجہ بھی میری طرفسے ہٹ گئی وہ اب سمجھ رہے تھے کہ میں شاید سدھر گیا ہوں، وہ چاہتے تھے کہ میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بنوں، اس کا یہ خواب پورا تو نہ کرسکا لیکن کسی حد تک اللٌہ تعالیٰ ہی کا بہت کرم رہا کہ اپنے پیروں پر کافی عرصہ بعد کھڑا تو ہوگیا، لیکن بہت مشکلات سے گزرنے کے بعد،!!!!

    یہاں پر میں جو اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو مشورہ دینا چاہتا ہوں، کہ اپنی بساط کے مطابق اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر مکمل دھیان دیجئے، یہی آپکی دولت اور جائیداد ہیں، اگر آپکی توجہ بچوں کے مستقبل اچھی تعلیم و تربیت کے بجائے پیسہ کمانے پر منحصر رہا تو سب کمایا ہوا بیکار چلا جائے گا، معاشی ضرورتوں کو بھی پورا کرنا ہماری ذمہ داری ہے لیکن ساتھ ساتھ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اپنے بچوں کو بہتر تربیت اور ساتھ اچھی تعلیم بھی دلانا ضروری ہے،!!!! میں نے تو یہ دیکھا ہے کہ جن بچوں کی گھر پر تربیت اچھی ہوتی ہے وہ چاہے کسی بھی اسکول میں پڑھ رہے ہوں ان کی تعلیم کا معیار ہمیشہ اچھا رہتا ہے، لیکن جہاں گھر کی طرف سے بہتر تربیت کے اگر امکان نہ ہوں تو بچوں کو اچھے سے اچھا اسکول بھی ہو تو وہ بچے اچھی اور بہتر تعلیم محروم ہوسکتے ہیں،!!!!

    بچوں کے لئے ضروری ہے کہ ان کے تمام حرکات و سکنات پر نظر رکھی جائے، لیکن بغیر کسی سختی اور دباؤ کے مخلصانہ رویہ کے ساتھ،!!! اسکول میں جاکر وہاں پر انکی پڑھائی اور اسکے رویہ کے بارے میں وہاں کے اساتذہ سے اپنی مصروفیت میں سے کچھ وقت نکال کر ضروری ہے کہ معلومات حاصل کریں، تاکہ آپکو اسکول کی کارکردگی اور اپنے بچوں کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرسکیں گے، اور جس کی مناسبت سے اپنے بچوں کی ضرورت کے مطابق تعلیمی معیار کو برقرار رکھ سکیں،!!!!

    جاری ہے،!!!!
     
  13. بزم خیال
    آف لائن

    بزم خیال ناظم سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 جولائی 2009
    پیغامات:
    2,753
    موصول پسندیدگیاں:
    334
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    سید بھائی بچپن کی کیا بات ہے ۔ سکول جانے کو تو جی ہی نہیں چاہتا ۔ کالج آزادی کی پہلی کرن دیکھاتے ہیں ۔ یہاں سے جو کھیل کود کر نکل جائیں تو زندگی بھر محنت اور پھر پچھتاوے ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے ۔ آپ کی تحریر سے ماضی کی ورق گردانی سے بھولے ہوئے واقعات یاد آ گئے ۔
    بہت خوب !!!!!!
     
  14. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    بہت شکریہ آپ کا،!!!

    اور بھی بہت کچھ یاد آئے گا، اگر شروع سے "یادوں کی پٹاری" کے پرانے ورژن کی طرف آپ تفصیل سے پڑھیں جب،!!! یہ تو جاتے جاتے کچھ اپنی کہانی کے نشیب و فراز کا خلاصہ پیش کررہا ہوں،!!!

    خوش رہیں،!!!
     
  15. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    بچوں کے لئے ضروری ہے کہ ان کے تمام حرکات و سکنات پر نظر رکھی جائے، لیکن بغیر کسی سختی اور دباؤ کے مخلصانہ رویہ کے ساتھ،!!! اسکول میں جاکر وہاں پر انکی پڑھائی اور اسکے رویہ کے بارے میں وہاں کے اساتذہ سے اپنی مصروفیت میں سے کچھ وقت نکال کر ضروری ہے کہ معلومات حاصل کریں، تاکہ آپکو اسکول کی کارکردگی اور اپنے بچوں کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرسکیں گے، اور جس کی مناسبت سے اپنے بچوں کی ضرورت کے مطابق تعلیمی معیار کو برقرار رکھ سکیں،!!!!

    بچپن میں تو ہر بچہ شرارتی ہوتا ہے، ہم نے اپنے بچپن کو دیکھا اور پھر اپنے بچوں کے بچوں کا بچپن بھی دیکھ رہے ہیں، مگر آج کل تو بچوں کی ذہنی قابلیت کچھ زیادہ ہی ہے، اب تو الٹ ہے کہ ہمیں اب بچے سکھاتے ہیں، کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے، اور اب تو ہم اپنے بچوں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتے،!!!! ایک طرح سے یہ بھی بہت اچھا ہے کہ آج کل بچے اپنے بارے میں فیصلہ کرنے یا رائے دینے یا کوئی منصوبہ بندی کرنے میں سب سے آگے ہیں، اور یہ بہت ہی اچھی بات ہے، کہ والدین کو اپنی ذمہ داریوں کے بوجھ کو نبھانے کیلئے اس طرح کچھ قدرے آسانیاں اور سہولتیں بھی پیدا ہوگئی ہیں،!!!!!

    مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں کی طرف سے بالکل غافل ہوجائیں، اب اس دور میں ہمیں اپنے بچوں میں خود ہی بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا چاہئے ان میں اپنے آپ پر بھروسہ رکھنے کے لئے انکی اخلاقی اور سماجی تربیت ایسی ہونی چائے کہ وہ ہر اقدام کو سوچ سمجھ کر اٹھائیں، ہمیں ان کی بنیاد مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، جس سے ان کی پروان بھی خود بخود ایک بہتر تعمیری انداز میں ہوگی!!!!

    بچہ ہر دور میں شرارتی رہا ہے، مگر ہر دور میں ماحول کی مناسبت سے کچھ انداز بدل سے گئے، اسی طرح تربیت دینے کے طریقہ کار میں بھی یقیناً کئی تبدیلیاں بھی ہوئیں ہیں،!!!!

    جاری ہے،!!!!
     
  16. حسن رضا
    آف لائن

    حسن رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جنوری 2009
    پیغامات:
    28,857
    موصول پسندیدگیاں:
    592
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    سید انکل جی بہت ہی خوب ص آگیا :222: :)

    ابھی سارا نہیں پڑھا :(
     
  17. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    بچہ ہر دور میں شرارتی رہا ہے، مگر ہر دور میں ماحول کی مناسبت سے کچھ انداز بدل سے گئے، اسی طرح تربیت دینے کے طریقہ کار میں بھی یقیناً کئی تبدیلیاں بھی ہوئیں ہیں،!!!!


    بچپن میں سے اگر شرارت کو الگ کردیا جائے تو بچہ کی معصومیت ختم ہوجاتی ہے، کیونکہ ہر کوئی بچوں کی ہی مّعصوم شرارتوں کی وجہ سے ہی خوش ہوتا ہے، لیکن خیال رہے کہ بچوں کی شرارتوں میں زیادتی بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے، اس لئے بچوں میں روک ٹوک بھی ایک حد تک ضروری ہے، مگر پٹائی یا ایسی سزا جس سے بجوں کے معصوم جذبات مجروح ہوتے ہوں اس سے پرہیز کرنا لازم ہے،!!!! ان کی حد سے زیادہ تجاوز کرنے والی شرارتوں‌ کی کبھی بھی حوصلہ افزائی نہ کریں بلکہ پیار محبت سے یا ہلکی سی ڈانٹ کے ساتھ اس حد درجہ شرارتوں سے تنبیہ کی جائے تو بہتر ہوگا،!!!!

    یہی دور ہوتا ھے جس میں بچوں کی صحیح طرح پرورش ہوتی ہے یا یہ کہہ لیں کہ ان کی اخلاقی تربیت کی بنیاد کو مضبوط کرسکتے ہیں، اخلاقی طور کے ساتھ ساتھ ان کی صحت اور غذا پر بھی خاص توجہ کی ضرورت ہے،!!!!!!

    اب تو بہت ساری بہتر سہولیات موجود ہیں لیکن ہماری توجہ اپنے بچوں کی تربیت اور دیکھ بھال میں وہ محبت کی مٹھاس اور احساس کا تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، کیونکہ اب ہمارے پاس بالکل وقت نہیں ہے، جس سے اکثریت میں بچے بے راہ روی کا شکار ہوچکے ہیں، اور جو ان سے آئندہ نسل آنے والی ہے اسکا تو اللٌہ ہی حافظ ہے، !!!!

    پہلے کے وقت میں لوگ اپنے بچوں کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت نکالتے تھے، زیادہ کمائی کی طرف ان کی توجہ نہیں تھی، حرص اور لالچ نام کو نہیں تھا، قناعت پسندی اور میانہ روی کو پسند کرتے تھے، اور اسی طرز زندگی میں رہتے ہوئے وہ ان کا قلیل آمدنی میں آرام سے گزارا بھی ہوجاتا تھا، ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت ہماری زندگی کی ضروریات بالکل محدود تھیں، اب کے دور میں ہم نے اپنی بہت سی ایسی ضروریات کو ایک فیشن کے طور پر بھی شامل کرلیا ہے،جس کے لئے چاہے ہمارے پاس وسائل موجود ہوں یا نہ ہوں لیکن ھم نے دوسروں کی دیکھا دیکھی بےجا خواہشات کو پورا کرنا بھی ہے،!!!!

    میں جب اپنے اس بچپن کے دور سے اس وقت کے دور کا موازنہ کرتا ہوں تو بہت زیادہ یعنی زمین اور آسمان کا فرق محسوس کرتا ہوں، جو آپ نے تفصیل سے پڑھا بھی ہوگا،!!!!!

    اس وقت ہر محلہ علاقے میں رہنے والے ایک دوسرے کے دکھ درد کو دل سے محسوس کرتے تھے، اور ہر کی کوشش یہی ہوتی تھی کہ کسی کی بھی پریشانی یا مشکل کو سلجھانے میں پہل کرنے میں وہ بازی لے جائے، تاکہ وہ لوگوں کی نظروں میں اچھی طرح عزت دار کہلانے کا مستحق بن سکے،!!!!

    میں جب اپنے بچپن میں گھر کا سودا سلف لانے کے قابل ہوا تو گھر سے نکلتے وقت میری یہی کوشش ہوتی تھی کہ اڑوس پڑوس کے لئے بھی ان کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہوئے ان سے پوچھ لوں،!!! ویسے بھی ہماری والدہ میرے سودا لینے کیلئے نکلنے سے پہلے ہی گھر سے ہی کچھ بھی کام کرتے ہوئے اڑوس پڑوس میں اعلان کروا دیتی تھیں،!!!!

    ارے سنتی ہو کچھ منگوانا تو نہیں ہے،!!!! میرا بیٹا سودا لینے جارہا ہے،!!!!!!

    اسی طرح جب کوئی پڑوسیوں کی طرفسے کوئی بازار جارہا ہو تو وہاں بھی اسی طرح کی آواز سنائی دیتی تھی،!!!!!

    میں بس جیسے ہی گھر سے نکلتا تو والدہ کی نصیحت کے مطابق اڑوس پڑوس سے پوچھتا ہوا بازار کو نکل جاتا، مگر بس اس وقت سب کی ضرورتوں کو زبانی یاد رکھتا تھا بلکہ حساب کتاب میں بھی کوئی مشکل نہیں ہوتی تھی،!!!! اس وقت تو ایک ایک پیسہ کا بھی حساب کیا جاتا تھا،!!!!!!

    بچوں میں ان کے بچپن سے ہی اچھے کام کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتا تھا، اور سب اکثریت میں اچھے اور نیک کام کرنے میں بہت زیادہ خوشی محسوس کرتے تھے،!!!!!

    شرارتیں اپنی جگہ تھیں، جس کی سزا بھی ہمیں ملتی تھی، محلے میں لوگ اپنے اپنے کام سے بہت جلد گھر واپس آجاتے تھے، صبح صبح سب لوگ اپنے وقت پر گھر سے نکل جاتے اور ساتھ ہی بچے بھی اپنے اپنے اسکولوں کی طرف،!!!! گھروں میں بس خواتین گھر کی خانہ داری میں مصروف ہوجاتی تھیں،!!!! اور دوپہر تک گھر کے تمام کام کاج صفائی ستھرائی، کھانا وغیرہ تیار کرکے فارغ ہوجاتیں، سب سے پہلے تو بچے ہی اسکول سے واپس ہوتے اور آتے ہی کھانے کی فرمائش ہوتی کیونکہ اس وقت بھوک بہت لگ رہی ہوتی تھی،!!!!!

    صبح صبح تو ہم بچوں کیلئے پراٹھا اور اس کے ساتھ چائے یا دودھ یا لسی کا گلاس جیسا بھی جو اس وقت میسر ہوجائے، انڈا روزانہ نہیں تو کم از کم ہفتے میں ایک دو بار ضرور مل جاتا تھا، اکثر گھروں میں مرغیاں پالی ہوئی ہوتی تھیں، ہمارے گھر میں تو اباجان نے مرغیوں کے ساتھ ساتھ بکریاں بھی پالی ہوئی تھی،!!!! ایک تو ہمارے گھر میں صحن بہت بڑا تھا، جس کی وجہ سے مرغیوں اور بکریوں کے لئے جگہ کی کوئی مشکل نہیں تھی، ساتھ ہی ایک طرف انہوں نے چھوٹا سا باغیچہ بھی بنایا ہوا تھا، جہاں مجھے یاد ہے کہ انہوں نے ہر موسم کی سبزیاں اگائی ہوتی تھیں، کبھی توری کی بیل پروان چڑھ رہی ہے تو کہیں کدو اور سیم کی بیل تو ایک طرف ہری مرچ دھتیاں پودینہ اور ٹماٹر اور کبھی پھول گوبھی، بھنڈی، بیگن کی کیاریاں بھی لگی دیکھیں، وہ اپنے چھوٹے سے باغیچے کا بہت ہی زیادہ خیال رکھتے تھے، ایک صحن میں درخت بھی تھا، جہاں بکریوں کے لئے جگہ بنائی ہوئی تھی، ساتھ ہی ایک بہت بڑا جال لگا ہوا پنجرہ مرغیوں کیلئے تھا جہاں اتنی جگہ تھی کہ مرغیاں آزادی سے گھوم پھر سکیں،!!!!

    دوپہر کو والد صاحب ڈیوٹی سے آنے کے بعد کچھ دیر آرام کرتے اور بعد میں عصر اور مغرب کے درمیان اپنے باغیچہ میں لگ جاتے پانی دینا اور کیاریوں صفائی وغیرہ، اس کے علاوہ ساتھ ساتھ مرغیوں اور بکریوں کیلئے بھی صبح شام ان کے چارے دانہ پانی کا انتظام کرنا بھی ان کے روزمرہ کے معمول میں شامل تھا،اور ہمیں بھی کچھ کام بانٹ دیا کرتے تھے، ہم بہن بھائی مل کر ہر روز شام کو بکریوں کو گھمانے باہر لے جاتے تھے، اکثر ہمارے گھر میں تین چار بکریاں ضرور ہوتیں، اور ان کے بچوں میں سے ہر سال ایک بچے کو والد صاحب بقراعید پر قربانی کیلئے تیار کرتے تھے، چھٹی والے دن تو وہ گھر کی مرمت اور صحن کی صفائی ستھرائی میں بلاناغہ وقت دیتے چاہے کوئی تقریب ہو یا نہ ہو،!!!!

    ہمارے والد صاحب کو اپنے چھوٹے سے باغیچے اور پالے ہوئی مرغیوں اور بکریوں اور انکے چوزوں اور بچوں سے بہت ہی زیادہ دلی لگاؤ تھا،اور جانور بھی اسی طرح ہمارے ساتھ رکھ رکھاؤ سے رہتے تھے، کبھی بھی انہوں نے ہمیں تنگ نہیں کیا ،قربانی کیلئے جو بکری کا بچہ چنا جاتا، اس کا تو وہ بہت ہی زیادہ خیال رکھا کرتے، اور گھر کا پلا ہوا بکرا جب بڑا ہوتا ہے اور وہ بھی خاص کر قربانی کیلئے تو اس کی شان ہی نرالی ہوتی ہے، قربانی والے دن تو ہم سب اس بکرے کی قربانی کی وجہ سے بہت غم زدہ بھی ہوجاتے تھے،!!!!!

    اس چھوٹے سے باغیچے میں ایک چھوٹی سی باڑ لگی ہوئی تھی، اگر کوئی بکری کا بچہ یا مرغیاں اپنے چوزوں کے ساتھ وہاں گھسنے کی کوشش کرتے تھے مگر ایک آواز کے ساتھ باز بھی آجاتے، مگر بھی کبھی کبھی مرغیاں اور چوزے چھوٹی چھوٹی کیاریوں کو نقصان بھی پہنچاتے تھے، اس لئے ان کی آزادی کیلئے صبح شام کچھ اوقات بھی مقرر تھے اور اس وقت کوئی نہ کوئی پودوں کی حفاظت کی ڈیوٹی پر مامور ہوتا تھا،!!!!!! اس کے علاوہ محلے میں تمام لوگوں نے بھی اپنے اپنے گھروں میں پودوں اور کیاریوں کا اور پالتو چرند پرند اور جانوروں کے لئے اپنے صحن کی گنجائش کے مطابق خاص اہتمام بھی کرتے تھے،!!!!

    ہمیں تو بچپن سے بڑے ہونے تک بکری کا دودھ خوب زبردستی پلایا جاتا تھا اور مرغی اور انڈوں کی بھی بہت بہتات تھی، اس سے تو ہمارے علاوہ محلے کے دوسرے آس پاس کے گھروں میں بھی انکی ضرورت کے مطابق انڈوں کی سپلائی بلامعاوضہ والد صاحب کرتے، اور بکری کے دودھ سے بھی فائدہ پہنچاتے رہے، اور ساتھ ساتھ گھر میں اگی ہوئی سبزیاں بھی محلے میں گھروں تک پہنچا کر آتے تھے، !!!!

    آج بھی جب میں اس محلے میں جاتا ہوں تو وہاں کے بڑے بوڑھے ابھی تک ہمارے والدصاحب کو بہت عزت و احترام سے یاد کرتے ہیں، اور میری خوب خاطر مدارات کرتے ہیں، وہاں کی ایک چھوٹی مسجد جو اب بہت اچھی بن چکی ہے پہلے ایک لکڑی کے تختوں سے بنائی گئی عارضی سی مسجد ہوا کرتی تھی، جہاں پر سب اس محلے کے لوگ اس مسجد کیلئے مل جل کر آپس میں جو جس کے اختیار میں ہوتا خدمت کرتے تھے، جس میں ہمارے والد صاحب بھی جو کچھ ان سے بن پڑتا وہ خوب دل سے خدمت کرتے تھے، اور مذہبی اجتماعت کا اہتمام بھی کرتے رہے، اس حوالے سے بھی انہیں اب تک جو کافی ضعیف لوگ موجود ہیں وہ بہت یاد کرتے ہیں،!!!!!

    بچپن میں ہر نماز کے وقت تمام مرد حضرات کے ساتھ ہم تمام محلے کے بچے پچھلی صفوں میں موجود رہتے، اور ساتھ ہی ہر بچہ اپنی سہولت کے مطابق اپنی خوشی سے مسجد کی صفائی ستھرائی میں مشغول دکھائی دیتا، وہاں پر عصر اور مغرب کے دوران بچے قران پڑھنے اور درس و تدریس میں حصہ بھی لیتے جہاں پر اللہ تعالیٰ کے احکامات کے ساتھ سیرت نبوی کا ذکر اور نعتوں کا خاص کر اہتمام کیا جاتا تھا،،!!!!

    ًاس محلہ میں تمام رہنے والے لوگ ایک دوسرے کو بخوبی جانتے تھے، اور ہر ایک آپس میں اخوت اور بھائی چارے کی طرح رہتے اور ایک دوسرے کی مشکلات میں ساتھ دیتے اور دکھ اور غم کے موقعہ پر ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹتے تھے، جب محلہ میں کوئی بیمار ہوتا تو سب کو معلوم ہوجاتا، اس کا اندازہ اس کی مسجد میں غیرحاضری سے ہی لگا لیا جاتا تھا، مسجد سے نماز سے فارغ ہوکر سیدھا اس کی تیمارداری کیلئے پہنچ جاتے، اگر کوئی اور وجہ ہوتی تو اس کا ذکر وہ بندہ اپنی غیر حاضری کی وجوہ پہلے سے ہی لوگوں کے گوش گزار کردیتا تھا، تاکہ اس کی نماز میں غیر موجودگی سے لوگ پریشان نہ ہوں، اس کے علاوہ ایک دوسرے کی شادی بیاہ اور دیگر خوشیوں کی تقریبات میں شریک ہوکر اپنی خدمات پیش بھی کرتے تھے،!!!!!

    ہمارے گھر کا صحن چونکہ بہت بڑا تھا، اسلئے محلے کی بیاہ شادیوں اور دوسری تقریبات کا اہتمام بھی اسی جگہ پر کیا جاتا، جس کے لئے والد صاحب اور ہم سب بچے مل کر اس صحن کو خاص طور سے سجاتے بھی تھے،!!!!!

    جاری ہے،!!!!!
     
  18. خوشی
    آف لائن

    خوشی ممبر

    شمولیت:
    ‏21 ستمبر 2008
    پیغامات:
    60,337
    موصول پسندیدگیاں:
    37
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    سید جی آپ کی تحریر کی اب کیا تعریف کی جائے کہ ہم کیا ہماری بساط کیا، خوب لکھتے ھیں حقیقت اور جذبوں سے بھرپور

    مگر ایک بات بتائیں فورم کے چال چلن کی خرابی کے باوجود کیسے لکھ لیا اتنا طویل
     
  19. ھارون رشید
    آف لائن

    ھارون رشید برادر سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏5 اکتوبر 2006
    پیغامات:
    131,673
    موصول پسندیدگیاں:
    16,911
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    اب تو یہ محبت اور خلوص کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا
     
  20. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    خوشی جی، بہت شکریہ،!!!!
    مجھے خود حیرانگی ہورہی ہے کہ ایک ہی دفعہ لکھ کر پوسٹ کیا اور پوسٹ ہو بھی گیا، ویسے احتیاطاً میں نے پہلے مسودہ کو کاپی کر لیا تھا،!!!! جس وقت بھول جاؤ تو پوسٹ کرتے وقت خود بخود لاگ آؤٹ ہوجاتا ہوں،!!!!!!

    آپ کو میری اپنی کہانی کو دوبارا سے ایک خلاصہ کے طور پر لکھنے میں کیسا لگ رہا ہے،!!!!! ضرور لکھئے گا، مگر مجھے تو اپنی لکھی ہوئی تحریر میں کوئی ایسی خوبی تو نظر نہیں آتی، لکھنا تو بہت کچھ چاہتا ہوں، لیکن میرے پاس ان اچھے الفاظ کا ذخیرہ نہیں ہے، عام فہم اپنی سادہ سی زبان میں جو بھی دل و دماغ میں آتا ہے لکھتا چلاجاتا ہوں، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ جب لکھنا شروع کرتا ہوں تو بہت ساری بھولی بسری باتیں یاد آنا شروع ہوجاتی ہیں، جو کہ میں بھول چکا ہوں، ابھی بھی دوبارا لکھتے وقت کچھ نئی یادیں جو کہ پہلے میں نہیں لکھ سکا، اب پھر سے میں اپنی اس کہانی میں ایک نصیحت کے طور پر اضافہ بھی کرتا جارہا ہوں،!!!!!

    اگر کوئی غلطی ہوجائے، تو برائے مہربانی اصلاح ضرور کرتی رہیئے گا،!!!!

    خوش رہیں،!!!!
     
  21. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    ھارون بھائی،!!!!!
    بہت شکریہ،!!!!!
    آپ کی بات بالکل صحیح ہے، اب تو ہم اپنی معاشی حالت کو سدھارنے کے چکر میں اتنا غرق ھو گئے ہیں کہ بالکل اپنے گھر والوں کے لئے بھی وقت نہیں نکال پارہے ہیں،!!!!

    اتنی محنت اور کوششوں کے باوجود بھی ہم اپنی خواہشات اور ضروریات کو پورا نہیں کر پارہے ہیں،!!!! ہر کوئی چاہے کتنا بھی کما رہا ہو لیکن وہ پھر بھی مقروض در مقروض ہوتا چلا جارہا ہے، میں بھی ان میں سے ایک ہوں،!!!!!!

    اُس وقت کے دور میں اتنی قلیل آمدنی کے باوجود بھی کچھ نہ کچھ بچا لیا کرتے تھے، یہ برکت اللٌہ کی طرف سے ہی تھی، کیونکہ اس وقت اکثریت سادہ پرخلوص اور قناعت پسند لوگوں کی تھی جو ہر وقت اپنے رب سے ڈرتے رہتے تھے، جو مل گیا اسے اپنا نصیب سمجھ لیا اور اسی چادر میں رہتے ہوئے اپنے پیروں کو کو باہر نکلنے نہیں دیا،!!!!

    اس کے باوجود وہ لوگ بلا معاوضہ اپنی خدمات پیش کرنے سے ہچکچاتے نہیں تھے، جو بھی ان کے جمع پونجی ہوتی اس میں سے بھی لوگوں کی مدد کرتے تھے بغیر کسی تحریری ثبوت کے،!!!!

    خوش رہیں،!!!!!
     
  22. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    خوش رہو،!!!! حسن جی،!!!!
    کب پڑھیں گے آپ سارا کا سارا، ابھی جو لکھا ہے اس کے بارے میں میں آپکی کیا رائے ہے،!!!!

    بہت شکریہ،!!!!!
     
  23. حسن رضا
    آف لائن

    حسن رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جنوری 2009
    پیغامات:
    28,857
    موصول پسندیدگیاں:
    592
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    بہت خوب لکھا ہے آپ بہت ہی خوب لکھتے ہیں کچھ نہ کچھ ضرور سیکھنے کو ملتا ہے آپ سے :mashallah:
     
  24. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    بہت شکریہ حسن جی،!!!!
     
  25. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    آج کل کچھ رمضان کے مہینے کی وجہ سے، دوسرے اس مہینے میں وقت بھی بہت کم ہوتا ہے، اور اتفاق سے کام بھی کچھ زیادہ ہوجاتا ہے، اس لئے کچھ مزید آگے نہ لکھ سکا، عید کے بعد پھر سے تھوڑا بہت لکھنا شروع کروں گا،!!!!!
     
  26. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    دریاب اندلسی صاحب سے درخواست ہے کہ ایک بار پھر کچھ نظر ثانی کیجئے، کیونکہ اب سابقہ ورژن نہیں کھل رہا ہے،!!!!!

    بہت بہت شکریہ اور خوش رہیں،!!!!!
     
  27. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,404
    موصول پسندیدگیاں:
    7,506
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    جی واقعی میں نے بھی کئی مرتبہ ٹرائی کیا ہے سوچا تھا اس بارے میں بات کروں گا تجاویز والے سیکشن میں لیکن ذہن سے نکل گیا۔ انتظامیہ سے درخواست ہے کہ اس مسئلہ کو حل کر دیں۔ کیوں کہ سید انکل کی تحریر پڑھ کر بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
     
  28. عبدالرحمن سید
    آف لائن

    عبدالرحمن سید مشیر

    شمولیت:
    ‏23 جنوری 2007
    پیغامات:
    7,417
    موصول پسندیدگیاں:
    21
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    بہت شکریہ بلال جی،!!!!
    خوش رہیں،!!!!
     
  29. ملک بلال
    آف لائن

    ملک بلال منتظم اعلیٰ سٹاف ممبر

    شمولیت:
    ‏12 مئی 2010
    پیغامات:
    22,404
    موصول پسندیدگیاں:
    7,506
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    ھارون بھائی اس مسئلے پر غور فرمائیں اور اس کے حل کے لیے کچھ کریں۔
     
  30. حسن رضا
    آف لائن

    حسن رضا ممبر

    شمولیت:
    ‏21 جنوری 2009
    پیغامات:
    28,857
    موصول پسندیدگیاں:
    592
    ملک کا جھنڈا:
    جواب: "یادوں کی پٹاری" نیا ورژن

    لگتا ہے انتظامیہ کو کسی نے نیند کی گولیاں کھلا دی ہیں جو ابھی تک سوئے ہوئے ہیں

    انتظامیہ سے گذارش ہے کہ نیند سے بیدار ہو جائیں اور سید انکل کا مسئلہ جلدی سے حل کر دیں شکریہ :222:
     

اس صفحے کو مشتہر کریں