1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ہمیں منزل نہیں رہنما چاہیے

'کالم اور تبصرے' میں موضوعات آغاز کردہ از ساتواں انسان, ‏10 اکتوبر 2019۔

  1. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    4,378
    موصول پسندیدگیاں:
    1,546
    ملک کا جھنڈا:
    ریاست کو اس کا انداز پسند نہیں تھا ، ریاست کو لگتا تھا وہ ان کے خلاف ہے ، ان کیلئے خطرہ ہے - لوگوں کے جذبات ابھارتا ہے ، نفرت آمیز تقریر کرتا ہے - غدار ہے - مقتدرہ نے اس کو اس حد تک زچ کیا کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر بھی مجبور ہو گیا - اس نے بغاوت کی ، وہ حقوق چاہتا تھا - وہ برابری چاہتا تھا ، مساوات چاہتا تھا - وہ پچاس کی دہائی میں کئی بار گرفتار ہوا مقدمات چلے ، سزا ہوئی ، بری ہوا - پابندی لگی - اسے تقریبات میں شرکت کرنے ، لوگوں سے ملنے اور ان سے بات کرنے سے روکا جاتا رہا - ١٩٥٦ میں اسے سنگین غداری کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا - کیس چلتا رہا ، گرفتاری ہوتی رہی ، ضمانت ملتی رہی اور پانچ برس بعد ١٩٦١ میں اس کے حق میں فیصلہ آیا - عدالت نے اسے غداری کا مرتکب نہیں پایا -
    مگر یہ خوشی دیرپا نہ تھی اگلے ہی برس اسے پھر گرفتار کر لیا گیا وہ حکومت اور حکومتی نظام کیلئے ایک خطرہ جو تھا - ریاست سے غداری ، لوگوں کو اکسانے ، ریاست کے خلاف جانے اور گوریلا جنگ کو ہوا دینے کے جرم میں اسے سزا سنائی گئی - پانچ برس قید بامشقت کی سزا ، یہ بھی کافی نہ ہوئی تو حکومت نے اس سزا کو عمر قید میں بدل دیا - منڈیلا کو عدالتی حکم پر ستائیس برس قید رکھا گیا - ستائیس سال ایک بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے - منڈیلا کے بہت سے حامی آپس میں باتیں کرتے رہے ہوں گے ، کسی نے کہا ہو گا کہ بھائی کو جیل گئے دو سال ہو گئے ، اب بھائی باہر نہیں آئیں گے ، یہ دو سال تین میں بدلے ہوں گے پھر پانچ میں ، سات ، آٹھ ، نو اور پھر دس سال بعد کسی نے کہا ہوگا کہ منڈیلا کا چیپٹر کلوز - پندرہ سال بیتے ہوں گے تو اس کا نام لینے والوں کا مذاق اڑایا گیا ہوگا - بیس سال بعد لوگوں نے کہا ہوگا کہ تم پاگل ہو جو اس کے باہر آنے کی امید لگائے بیٹھے ہو- ایک چوتھائی صدی گزرنے پر تو یہی کہا گیا ہوگا کہ پچیس سال بہت ہوتے ہیں ایک پوری نسل ہے جس نے منڈیلا کو نہیں دیکھا ، اب وہ کبھی باہر نہیں آئے گا -
     
  2. ساتواں انسان
    آف لائن

    ساتواں انسان ممبر

    شمولیت:
    ‏28 نومبر 2017
    پیغامات:
    4,378
    موصول پسندیدگیاں:
    1,546
    ملک کا جھنڈا:
    لیکن وہ واپس آیا اور اس نظام کو بدل کر رکھ دیا جس کو بدلنے کا عزم لے کر وہ چلا تھا ، غلامی کا خاتمہ کر کے دکھایا ، جس کام کو کرنے کی ٹھانی تھی وہ کر کے دکھایا - حقوق کیلئے لڑا تھا ، حقوق لے کر رہا - وہ بلند حوصلے کی مثال تھا ، ستائیس سال بعد بھی اگر وہ اثر رکھتا تھا تو اس کی دو وجوہات تھیں ، ایک یہ کہ وہ اپنے لوگوں کیلئے ہر حال میں قابل قبول تھا ، اس کا کوئی متبدل نہیں تھا ، دور دور تک نہیں تھا ، اور دوسری یہ کہ ریاست وہ محرومیاں ختم کرنے میں ناکام رہی تھی جن کی وجہ سے منڈیلا نے جہاد شروع کیا تھا -
    لیڈر جیل میں ہو ، جلا وطن ہو یا اپنے دیس میں ہو وہ لیڈر اپنے لوگوں کی وجہ سے بنتا ہے اگر لوگ اس کے ساتھ ہیں تو اس کی لیڈرشپ پر کوئی سوال نہیں اٹھ سکتا - وقت مشکل ہو سکتا ہے مگر گزر ہی جاتا ہے - آج بھائی کو لے کر بھی ایسی ہی باتیں ہوتی ہیں ، ان کے ماننے والوں کو دیوانہ ہی کہا جاتا ہے - لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ لندن میں جاری مقدمات میں انھیں سزا بھی ہو سکتی ہے - ان کے ماننے والے ان سب باتوں کے سوا ہیں ، وہ تو عدالتی فیصلوں کو بھی اہمیت نہیں دیتے - عدالتیں ہی تھیں جنہوں نے منڈیلا کو جیل میں ڈالا ، عدالت نے ہی بھٹو کو سزا دی ، عدالت سے ہی عافیہ صدیقی کو جیل بھیجا گیا ، آپ کے ہیرو غازی علم دین کو پھانسی دینے والے بھی ججز ہی تھے ، آمروں کو تحفظ بھی تو عدالتیں ہی دیتی ہیں ، پوری دنیا میں انسانوں کو غلام بنانے والے برطانیہ کے پاس بھی تو عدالتوں کی چادر تھی - لوگ اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے والوں کو یاد رکھتے ہیں ، پاکستان کے مہاجروں کیلئے یہ آواز بھائی نے اٹھائی تھی ، نہ ان کا کوئی متبادل ہے اور نہ ہی مہاجروں کی محرومیاں ختم ہوئی ہیں ، ایسے حال میں لوگ انھیں یاد کرتے ہی رہیں گے ، وہ ریلیونٹ ہی رہیں گے ، چاہے کتنے ہی سال کیوں نہ لگ جائیں چاہے کیسے ہی حالات کیوں نہ ہو جائیں ، چاہے عدالتوں سے من مرضی کے فیصلے ہی کیوں نہ آ جائیں !
    ( احمد اشفاق )
     

اس صفحے کو مشتہر کریں