1. اس فورم پر جواب بھیجنے کے لیے آپ کا صارف بننا ضروری ہے۔ اگر آپ ہماری اردو کے صارف ہیں تو لاگ ان کریں۔

ہمالیہ کے چوہے ’مرموٹ‘ کی زندگی سے پردہ اٹھانے کیلیے جینیاتی ڈرافٹ تیار

'جنرل سائنس' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏12 جنوری 2019۔

  1. زنیرہ عقیل
    آف لائن

    زنیرہ عقیل ممبر

    شمولیت:
    ‏27 ستمبر 2017
    پیغامات:
    17,939
    موصول پسندیدگیاں:
    8,607
    ملک کا جھنڈا:
    [​IMG]
    پاکستان، چین اور بھارت کے ہمالیائی چوہوں کا مکمل جینوم پڑھ لیا گیا ہے (فوٹو: فائل)

    بیجنگ: پاکستان، بھارت اور چین کے ہمالیائی علاقوں میں رہنے والے موٹے گلہری نما چوہے ’مرموٹ‘ انتہائی بلندی، سردی اور کم خوراک کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔ اس تناظر میں ان کا زندہ رہنا ماہرین کے نزدیک ہمیشہ سے ہی ایک معمہ رہا ہے اور انہی رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے اس اہم جانور کا مکمل جینیاتی ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے۔

    جرنل آئی سائنس میں 20 دسمبر کو چین میں واقع ژیان جیاؤتونگ یونیورسٹی ہیلتھ سائنس سینٹر کے پروفیسر اینقوائی لائیو اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق شائع ہوئی ہے جس میں ہمالیائی مرموٹ جینوم سے اس جانور کے انتہائی شدید حالات میں زندہ رہنے اور پھلنے پھولنے کے راز فاش ہوئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق سرد، بلند، آکسیجن کی کمی اور الٹرا وائلٹ شعاعوں کی قدرے زیادتی والے ماحول میں مزے سے رہتے ہیں جو ایک انوکھی بات ہے۔

    اگرچہ یہ جانور چھ ماہ تک سرما خوابی (ہائبرنیشن) کی کیفیت میں رہتا ہے لیکن یہ ماحول سے مطابقت اور شدید ماحول میں زندہ رہنے کی ایک انوکھی مثال ہے۔ ہمالیہ میں رہنے والے ان چوہوں کی مختلف انواع کا جینوم معلوم کیا گیا ہے۔

    جینوم سے پتا چلا کہ تقریباً 20 لاکھ سال قبل ہمالیائی مرموٹ اپنے پیش رو منگولیائی مرموٹ سے الگ ہوکر ایک نئی نسل بنے تھے۔ ماہرین نے دو ایسے جین دریافت کیے ہیں جو ان چوہوں کو سخت حالات سہنے کے قابل بناتے ہیں۔ ان میں سے ایک جین کا نام Slc25a14 ہے جو اعصاب اور دماغ کی حفاظت کرتا ہے۔ دوسرا اہم جین Aamp ہے جو انتہائی ٹھنڈ اور کم آکسیجن میں بھی اس جانور میں خون کی نئی نالیوں کی تشکیل کرتا رہتا ہے۔

    آر این اے سیکوئنسنگ سے معلوم ہوا کہ ہائبرنیشن کے دوران جینیاتی اظہار میں تبدیلی واقع ہوتی ہے جبکہ چوہے کے خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) اس کے دماغ میں خون کے لوتھڑے بننے کا عمل روکتے ہیں۔

    ماہرین نے یہ بھی دیکھا کہ یہ چوہے وُڈ چک ہیپا ٹائٹس وائرس سے شدید متاثر ہورہے ہیں اور یہ وائرس ان جانوروں سے انسانوں تک بھی منتقل ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں چینی ماہرین ان جانوروں کو بچانے کی مزید کوشش بھی کریں گے۔
     
    ھارون رشید نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں